Meri Sar Phiri
Episodes
نواں حصہ - 9th Part
ہمشا کو رکھیل والی بات پر سخت غصہ آ رہا تھا. وہ رات کو لیٹی، سوچتی رہی کہ اس نے تو لڑکوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود کھبی کسی کی طرف دھیان نہیں دیا، نہ کسی سے دوستی کا سوچا. اب اتنا بڑا الزام اُف توبہ. وہ واپس اپنے گھر بھی کیسے جائے. ویسے وہ آرام سے ادھر سے نکل تو سکتی ہے سب اب اس پر بھروسہ کرتے ہیں. بازل بھی مطمئن ہو گیا ہے. بازار سے بھی میں آرام سے جا سکتی تھی. مگر گھر والے بھی تو قبول کریں. اسے خلع دلوانے میں اُس کی مدد کریں.
یاسمین باجی نے بھی کسی دوسرے فون سے فون کر کے مختصر کہا،
"اب وہ اس سے بات نہیں کر سکتی. تائی کو شک ہو گیا ہے پلیز مجھے اس گھر میں رہنے دو."
اور اس لڑکے کا بھی کچھ نہ بتایا جو اُس کے شوہر کا ہم شکل تھا. دوبارہ وہ بھی نظر نہیں آیا. ہمشا نے سوچا، صرف نکاح نامہ پرس میں رکھے اور موقع پا کر ہی یہاں سے نکل جائے. وہ رو دھو کر تایا کو منا لے گی.
شادی اگرچہ سادگی سے ہو رہی تھی صرف قریبی رشتے داروں کو ہی مدعو کیا گیا تھا. وہ بھی اتنے زیادہ تھے کہ رش لگا ہوا تھا۔ مہندی کا فنکشن نہیں کرنا چاہتا تھا، بازل. ویسے کافی دنوں سے ڈھولک بج رہی تھی. اور خوب رونق تھی. کافی رشتے دار گھر میں موجود تھے. ابھی تک ہمشا کو نکلنے کا موقع میسر نہیں آیا تھا. باہر بہت مرد تھے.
صبح ہوئی. آج بازل کی بارات تھی. دولہن کو تیار کرنا تھا. ہمشا اس کو تیار کرنے چلی گئی. اُس کی سکھیاں اُسے خوب چھیڑ رہی تھیں اور اُسے خوش قسمت کہہ رہی تھیں. ہمشا نے دولہن کو تیار کیا. مگر نہ جانے کیوں اُسے سب کا چھیڑنا بُرا لگ رہا تھا. وہ تیار ہو کر کافی بہتر لگ رہی تھی. سب تعریف کر رہے تھے.
بازل اور اسکا نکاح ہوا. ہمشا کو دل میں افسوس ہو رہا تھا کہ اسے کتنی اہمیت دی جا رہی ہے بازل کی بیوی کی حیثیت سے. ایک وہ ہے جو ایک فالتو چیز کی طرح بے وقعت سب کام کر رہی ہے ایک ملازمہ کی حیثیت سے. صلے میں اسے کپڑے لتے اور بابا سائیں کی طرف سے ایک نوٹوں کی گڈی ملی.
اُس نے ایک دوسری چادر، ماسک اور عینک اور ایک سادہ سوٹ قدرے بڑے پرس میں ڈال دیا کہ وہ موقع پا کر نکل جائے گی. بارات والے گھر سے قدرے سڑک نزدیک تھی. اُس نے ان کے گھر کا گھر دیکھنے کے بہانے جائزہ لے لیا تھا کہ وہ کہاں سے بھاگے گی. بازل سے سامنا ہوتا تو وہ اُس کی طرف مسکرا کر فتح یاب نظروں سے دیکھتا.
کھانا شروع تھا اور عورتوں کے کھانے کا انتظام گھر سے قدرے دور کھلی جگہ ٹینٹ لگا کر کیا گیا تھا. وہ سب کے ساتھ ادھر آئی. بڑی آپا ملنے ملانے میں مصروف تھی. اُس نے انہیں مطمئن کر دیا کہ وہ ٹھیک ہے آپ فکر نہ کریں. اکثر گاوں کی عورتیں اُسے نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھیں اور آپس میں چہ میگوئیاں بھی کر رہی تھیں. کچھ کی آوازیں اُس کے کانوں میں بھی پڑ رہی تھیں. کچھ کہہ رہی تھیں. اُس موٹی کالی بھینس سے بہتر تو یہ استانی تھی. اس سے کر لیتا. دونوں کا جوڑ بھی تھا.
ایک آہ بھر کر بولی،
"برادری سے باہر کرتے جو نہیں."
ہمشا کھانے کے دوران ایک قریبی گھر والوں سے باتھ روم کا پوچھ کر کپڑے بدلنے چلی گئی. وہ گھر والے اسے عزت دے رہے تھے. چائے کی آفر کر رہے تھے. اُسے کپڑے بدلتے دیکھ کر حیران ہوئے.
ہمشا نے کہا،
"وہ شادی والے کپڑے زیادہ دیر تک نہیں پہن سکتی."
اتنے میں کسی نے اُسے چائے کا کپ پکڑا دیا. اُس نے جلدی سے پکڑ لیا اور جلدی جلدی پینے لگی. سر رات کے جاگنے کی وجہ سے بھاری ہو رہا تھا. ادھر سے ہی وہ موقع لگا کر نکل سکتی تھی. بازل کے گھر کے سارے ملازم اُسے جانتے تھے. وہ چائے پی رہی تھی. گاوں کی بچیاں اُسے پُرشوق نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں. وہ مسکرا کر جوابی انہیں دیکھ رہی تھی.
اتنے میں ایک ٹین ایج کا لڑکا اپنی موٹر سائیکل نکال رہا تھا. ہمشا نے کپ جلدی سے بچی کو پکڑا کر پوچھا،
"سنو بیٹا کدھر جا رہے ہو."
وہ تھوڑا حیران ہوا اور بولا،
"وہ دادی کی شُگر کی دوائی ختم ہے. وہ لازمی چاہیے."
"ٹھہرو مجھے بھی ساتھ لے چلو. آجکل نقلی دوائی بھی ملتی ہے مجھے اصلی کی پہچان ہے."
پاس کھڑی اُس کی ماں بولی،
"ہاں لے جا انہیں."
وہ بولی،
"میں نے بھی اپنی لانی تھی اچھا ہے."
ایسا ہے
"بڑی آپا وغیرہ کسی کو نہ بتائیے گا. وہ پریشان ہو جائیں گی. میں جلدی سے آ جاوں گی واپس."
اُس نے ماسک پہنا. عینک لگائی جو کالی اور بڑی تھی. باقی جسم اور منہ چادر میں لپیٹ لیا. پرس چادر میں چُھپا لیا.
اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولی،
"راستے میں کسی سے ملنے رکنا نہیں. جلدی چلو میں نے دوائی کھانی ہے جو ابھی لینی ہے."
وہ اُس کے ساتھ جا رہی تھی کچھ لوگ اُسے اشارے سے پوچھ رہے تھے کدھر، مگر وہ اُس کی ہدایت کے مطابق کچھ نہ بولا.
وہ راستے میں اُس سے پوچھنے لگی،
"سنو ادھر سے کوئی رکشہ یا ٹیکسی مل سکتا ہے. وہ دوائی لگتا ہے بڑے شہر سے ملے گی. کیا تم کوئی بندوبست کر سکتے ہو."
پھر اُس نے چند ہزار کے نوٹ اس کو پکڑا کر کہا،
"جتنی جلدی ہو سکے مجھے کسی بس اسٹاپ پر ہی پہنچا دو اور کسی کو کچھ مت بتانا.
لڑکے نے کچھ حیران ہو کر خوشی سے نوٹ پکڑ لیے. اس نے کہا
"میں آپ کو بس اسٹاپ پر پہنچا دیتا ہوں."
وہ بولی،
"جلدی کرو شاباش."
وہ تیز اسپیڈ سے چلانے لگا. جلد ہی بس اسٹاپ آ گیا. ساتھ ہی کچھ رکشے والے کھڑے ہوئے تھے. ایک دو سے اس نے پوچھا مگر وہ اتنی دور جانے کے لیے نہ مانے. بس میں جانا خطرہ تھا. وہ دل میں بہت دعائیں کر رہی تھی. اتنے میں اُسے وہی یاسمین باجی کے شوہر کا ہم شکل نظر آ گیا جو رکشہ لیے کھڑا تھا.
وہ جلدی سے بغیر کچھ بولے بیٹھ گئی اور پرس سے پن نکال کر چادر کے اندر سے اُس کی گردن پر پیچھے سے رکھتے ہوئے بولی،
"جلدی چلو ورنہ میں شور مچا دوں گی کہ تُو نے مجھے چھیڑا ہے. میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گی بس جلدی سے مجھے شہر لے چلو. اس کام کا تمہیں بہت معاوضہ ملے گا."
پھر اسے دوسرے ہاتھ سے چند ہزار کے نوٹ پکڑا کر بولی،
"تسلی رکھو."
وہ جو پہلے ڈرا ہوا تھا پھر قدرے آرام سے بیٹھتے ہوئے بولا،
"جی باجی آپ جدھر کہیں گی میں پہنچا دوں گا. آپ یہ گردن سے پسٹل تو ہٹا دیں."
ہمشا نے مسکرا کر پن پرس میں ڈال دیا. رکشہ چل رہا تھا.
ہمشا نے پوچھا،
"پٹرول تو کافی ہے نا."
وہ بولا
"جی جی فل ہے مگر شہر کے لیے ناکافی ہے. راستے میں ڈلوانا پڑے گا."
ہمشا نے کہا،
"فکر نہ کرو میں ڈلوا دوں گی پٹرول. واپسی کا خرچہ بھی دوں گی."
اتنے میں اسکا فون بجا.
ہمشا نے کہا،
"کوئی کال نہیں اٹھانی."
وہ بولا،
"ٹھیک ہے باجی میں فون ہی بند کر دیتا ہوں."
اگے پٹرول پمپ آیا اور ہمشا نے اسے پھر چند ہزار کے نوٹ پکڑا کر کہا،
"یہ لو اور باقی کوئی جوس اور چپس وغیرہ لے آؤ میرے اور اپنے لئے."
وہ خوشی سے چل پڑا. چند جوسز اور چپس وغیرہ لا کر شاپر اسے پکڑا کر بقایا پیسے دینے لگا تو ہمشا نے کہا،
"رہنے دو."
اس نے خوشی سے جیب میں ڈال دیے.
جوں ہی اس نے رکشہ اسٹارٹ کیا، ایکدم ہمشا نے اسے پوچھا،
"تُم یاسمین باجی کے ساتھ کیوں دھوکہ کر رہے ہو."
رکشہ رش سے گزر رہا تھا. یکدم جیسے وہ چونکا اور رکشہ سلو کر دیا.
ہمشا نے اُسے دھمکی دیتے ہوئے کہا
'اگر تُم نے سب سچ نہ بتایا تو میں شور مچا دوں گی اور الزام لگا دوں گی. جو پیسے دیے سب واپس لے لوں گی. اگر سچائی بتا دو گے تو کچھ نہیں کہوں گی اور مزید رقم دوں گی."
وہ بولا،
"آپ یاسمین کو کیسے جانتی ہیں."
ہمشا نے کہا،
"اُسے میرے تایا لائے تھے اور وہ ہمارے گھر میں ملازمت کرتی ہیں."
وہ ایک لمبی سانس کھینچ کر بولا،
"دیکھیں باجی اگر آپ کے تایا کو پتا لگ گیا تو میری خیر نہیں."
ہمشا نے کہا،
"اگر تُم نہ بتاو گے تو تمہاری خیر نہیں. بھروسہ رکھو میں کسی کو نہیں بتاؤں گی بس جلدی سے سچ بتا دو اب."
وہ ایک آہ بھر کر بولا،
"ہم غریبوں کو اپنے گھر والوں کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے. آپ کے تایا کے آفس میں ایک گارڈ ملازم تھا. تایا اسے کافی اچھا سمجھتے تھے. ایک دن تایا نے اُس سے پوچھا کہ تمہارے گاؤں میں سے کوئی ایسی عورت مل سکتی ہے جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو. مجھے ایک تو بیٹے کے لیے اُس سے خفیہ نکاح کرنا ہے اور اُسے گھر میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ رکھنا ہے. اگر کوئی ایسی مل سکے. گارڈ نے یاسمین باجی کے باپ سے بات کی اور سب بتایا. وہ اور یاسمین اکیلے رہتے تھے. ماں فوت ہو چکی تھی. اس کا باپ بیمار رہتا تھا. بیٹی باپ کے لیے شادی نہیں کر رہی تھی. عمر گزر رہی تھی تیس سے اوپر کی ہو چکی تھی. کوئی ایسا رشتے دار بھی نہ تھا جو اُسے رکھ سکتا. باپ نے یاسمین کو سمجھا بجھا کر کہ شہر کے ایک بڑے گھر میں چلی جائے گی. اگر وہاں ساری زندگی ملازمہ بن کے بھی رہی تو تب بھی تسلی ہو گی کہ اپنے گھر میں ہے. یاسمین بہت سلجھی ہوئی اور سمجھدار عورت ہے. مان گئی. میں ان کا دور کا رشتے دار تھا. یہ فیصلہ ہوا کہ مجھے کچھ رقم کے لالچ میں اُس کا شوہر بنایا گیا کہ وہ اُسے شہر چھوڑنے جائے گا پھر اُس کے مرنے کا ڈرامہ ہو گا. آپ کے تایا نے اُس سے نکاح کیا اور جب تک بچہ کنفرم نہ ہو جائے وہ باپ کے گھر ہی رہے گی. آپ کے تایا اُدھر نکاح کر کے جاتے اور انہیں سپورٹ کرتے. تایا نے یاسمین کو اپنی مجبوری بتا دی تھی کہ میری بیوی میری ماں کی بھانجی ہے اور وہ اُس سے بہت پیار کرتی ہیں اور شروع سے ہی میری ماں کا گھر پر راج رہا ہے. باپ کے بجائے ماں کا حکم چلتا ہے. میری دو ہی بیٹیاں ہیں. ڈاکٹر نے بتا دیا کہ میری بیوی اب ماں نہیں بن سکتی. لوگ اکثر میری ماں کو کہتے ہیں کہ بیٹے کی دوسری شادی کروا دو مگر وہ نہیں مانتیں. مجھے بھی بہت لوگ کہتے ہیں اور رشتہ بھی دینے کو تیار ہیں مگر مجھے ایسی بیوی چاہیے جو میری مجبوری کو سمجھے. یاسمین نے اُن کو تسلی دی کہ وہ ساری زندگی کھبی کوئی حق نہیں مانگے گی ایک ملازمہ کی حیثیت سے ہی رہے گی اور زبان نہیں کھولے گی. بس بچے کو پڑھانے کا شوق ہے. جو باپ کی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرے. آپ کے گھر کا سکون تباہ نہیں کروں گی. بچے کو بھی نہیں بتاوں گی. میرے لیے اُس گھر میں پناہ ہی کافی ہے."
رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے.
جب بچہ کنفرم ہو گیا اور ڈاکٹر نے بیٹا بتایا تو پلان کے مطابق مجھے اُس کا شوہر بنا کر گھر لایا گیا. اور میں اُسے چھوڑ کر کام کا بہانہ کر کے آ گیا. دو دن بعد اُس کا باپ مر گیا اور سب کو بتایا گیا کہ اُسکا شوہر مرا ہے. اُسے باپ کا بتا دیا گیا. آپ کے تایا اُسے گاؤں لے کر آئے شام تک تدفین کے معاملات پورے کرنے کے بعد اُس کے گھر کو میرے حوالے کر کے اُسے واپس لے آئے.
ہمشا نے روتے ہوئے کہا،
"کیا یاسمین باجی میری تائی ہیں اور اُن کا بیٹا میرا تایازاد بھائی ہے. میرا اپنا خون ہے."
ہمشا خوشی سے پاگل ہو رہی تھی. اُس نے اُسے کہا کہ راستے سے مٹھائی لینی ہے.
وہ ڈر کر بولا،
"او باجی ایسے خوشی منائیں گی تو اُن کو شک ہو جائے گا اور یاسمین باجی کی زندگی اجیرن ہو جائے گی."
ہمشا نے حیرت سے کہا
"باجی کہہ رہے ہو."
وہ زرا شرمندہ ہو کر بولا،
"وہ تو ایک جھوٹ تھا ڈرامہ تھا میں تو ہمیشہ انہیں باجی کہتا ہوں اور بہن سمجھتا ہوں. اس کام کے لیے انہیں میرے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں تھا. گاؤں میں کسی کو علم نہیں کہ میں اُن کا نقلی شوہر بن کر گیا تھا. ویسے باجی آپ اُدھر کیسے."
ہمشا نے اُسے کہا،
"اس بات کو تُم رہنے دو."
جلدی سے گھر پہنچوں، سخت تھکن ہو رہی ہے. گھر کے قریب پہنچ چکی تھی. وہ اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کر رہی تھی کہ وہ اُن کے چنگل سے نکل چکی ہے. اب آگے بھی کامیابی ملے وہ دعائیں کرنے لگی. گھر پہنچ کر گھر کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئی. کانپتے ہاتھوں سے اُس نے بیل کی.
رکشے والے سے کہا،
"تُم اب جاؤ دیر ہو جائے گی. اُسے پیسے دیے."
اُس نے کہا،
"باجی رہنے دیں. مگر اُس نے زبردستی اُسے پکڑا دیے."
اتنے میں دروازہ کھلا اور تایا کی چھوٹی بیٹی اُسے دیکھ کر حیرت سے ماں کو زور زور سے آوازیں دیتے ہوئے بولی، ماما ماما دیکھیں کون آیا ہے.
جاری ہے

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.