Meri Sar Phiri
Episodes
آٹھواں حصہ - 8th Part
ہمشا اس شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی. مگر یاسمین نے کہا،
"آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے."
یہ کہہ کر فون بند کر دیا. ہمشا پریشان ہو گئی. سوچنے لگی ضرور دال میں کچھ کالا ہے. ہمشا کو اس لیے بھی شک گزرا کہ وہ اسے دیکھ کر چونک سا گیا تھا اور جلدی وہاں سے چلا گیا. مگر ہمشا بھی اتنی مصروف ہو گئی شادی کی وجہ سے کہ بابا سائیں نے شاپنگ کرنے کی زمہ داری اسے سونپ دی.
چچا سائیں نے بھی اسے کہا،
"میری بیٹی کی شاپنگ بھی وہی کرے گی."
سب کو لگتا تھا کہ چھوٹی آپا احتجاج کرے گی مگر اسے بچہ نہ پیدا کرنے کا سنکر ایسا غم لگا کہ وہ کھوئی کھوئی اور اداس رہنے لگی. سواے بڑی آپا کے کوئی اس کے غم کو نہ جانتا تھا. ایک طرح سے سب نے اس کے دخل اندازی نہ کرنے پر شکر ادا کیا. بڑی آپا اسے بہت تسلیاں دیتی کہ حوصلہ رکھ اور قسمت کے لکھے پر شاکر رہ. دیکھنا تجھے صبر کا کتنا اچھا پھل ملے گا.
بابا سائیں نے بازل کو حکم صادر کر دیا
"دونوں گھروں کی شاپنگ اپنی دونوں بہنوں کو اور استانی کو ساتھ لے جا کر شاپنگ کرو. سب کچھ استانی کی پسند سے ہونا چاہیے. وہ شہری چھوری ہے اچھا ہی لے گی. اور اسے بھی گھر کی عورتوں کے ساتھ اتنے ہی کپڑے لتے لے کر دینا. وہ بڑے کام کی چھوری ہے."
بازل نے بہت احتجاج کیا
"اسے ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے وہ ملازمہ ہے اسے اس کی اوقات سے بڑھ کر اہمیت نہ دیں."
مگر بابا سائیں نے ڈانٹ کر منع کر دیا.
ہمشا کو اسے ملازمہ کہنے پر بہت غصہ آیا. اس نے موقع پا کر کہا،
"وہ اب شاپنگ پر ساتھ نہیں جائے گی."
بازل نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا،
"کیوں تم اپنی سوکن کی شاپنگ کرنے سے جیلسی فیل کر رہی ہو کیا؟"
ہمشا غصے سے بولی،
"جیلس ہوتی ہے میری جوتی. اب میں ضرور جاؤں گی اور ہر چیز اپنی پسند سے لوں گی."
وہ پھر طنزیہ انداز میں مسکرا کر بولا، کہیں تمہیں مجھ سے محبت وبت تو نہیں ہو گئی.
وہ غصے سے بولی،
"شکل دیکھی ہے کھبی اپنی. مجھے تم سے نفرت ہے شدید نفرت. تم نے مجھے اپنوں سے دور کیا. میری زندگی برباد کر دی."
وہ پھر زور سے ہنسا.
وہ اس کے ہنسنے سے چڑ کر بولی،
"تم کیا سمجھتے ہو کہ تم نے مجھے برباد کر دیا اور میں ساری زندگی روتی دھوتی تمہارے رحم و کرم پر پڑی رہوں گی تو یہ تمہاری بھول ہے. میں بہت جلد تم سے خلع لے کر چھٹکارا حاصل کر لوں گی انشاءاللہ."
وہ پھر ہنسا،
"خواب دیکھتی رہو. ان پر کوئی پابندی نہیں."
یہ کہہ کر وہ چل پڑا.
بڑی آپا اور چھوٹی آپا دونوں ساتھ شاپنگ پر گئیں. بازل خود گاڑی ڈرائیور کر رہا تھا. بڑی آپا آگے بیٹھی ہوئی تھی. چھوٹی آپا اور ہمشا پیچھے. بازل سپاٹ چہرہ بناۓ اسے غصے سے دیکھتا. ہمشا پرواہ ہی نہ کرتی. چھوٹی آپا نے کوئی چیز اپنی پسند سے نہ لی. سب ہمشا نے پسند کیا. بڑی آپا تعریفیں کرتی رہیں.
بازل کے کپڑے بھی ہمشا نے پسند کیے اور گھر کے مردوں کے بھی. بازل کو اندر سے اس کا اپنے لیے چیزیں پسند کرنا اچھا لگ رہا تھا مگر بظاہر احتجاج کر رہا تھا. وہ کافی حیران ہو رہا تھا کہ وہ اس کی پسند کے مطابق پسند کر رہی تھی. اس کی چوائس اس سے کافی میچ کھا رہی تھی. کوئی بھی ایسی چیز اس نے پسند نہ آئی ہو. وہ دل میں اس کی پسند کی داد دے رہا تھا. ایک دن شاپنگ کے دوران اسے اپنی پڑوسن نظر آ گئی. وہ اس سے چھپتی چھپاتی نکلنے لگی. بازل نے وجہ پوچھی تو اس نے اشارے سے آہستہ سے بتایا کہ وہ اس کی پڑوسن ہے.
بازل پڑوسن کو دیکھ کر حیران ہوا کہ اس گلی محلے میں اتنی امیر سی عورت رہتی ہے کیا. جو ڈھیروں شاپنگ اٹھائے باہر نکل رہی تھی. چند دنوں میں شاپنگ مکمل ہو گئی.
وہ پہلے شہر والے گھر جاتے پھر وہاں سے جاتے۔ گاؤں سے ملازم وہاں رکھے ہوئے تھے جو کھانا وغیرہ تیار کر دیتے. بازل کا روم دیکھ کر ہمشا نے سوچا، ویسے اس بندے کی چوائس تو اچھی ہے. ہمشا وہاں پر ملازموں کو ہدایتیں دیتی. ملازم اس کی سنتے. جو وہ کھانا کہتی، وہ وہی پکا کر رکھتے. کھانے میں بھی ہدایتیں دیتی. صفائی ستھرائی اور میلے کپڑے دھلوا کر استری کا حکم دیتی. اس نے بازل کے کافی کام سنوار دیے تھے.
بڑی آپا اسے دیکھ کر سوچتی، کاش یہ میرے بھائی کی دولہن ہوتی. پھر سرد سانس بھر کر دل میں ہنستی، بھلا ایسا ممکن ہو سکتا ہے کیا.
شادی سادگی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا. بازل کو سر پر سے وار کر پیسے پھینکنا اور پھر انسانوں کا فرش سے چننا انسانیت کی توہین وتزلیل لگتا تھا. وہ اسے تکبر میں شمار کرتا تھا. سب کو کہتا.
"سر پر وارنے کا مطلب ہے سر کا صدقہ دیا. یعنی خیرات کی تو صدقہ اور خیرات ایسے دیں گے تو کیا وہ تکبر میں شمار نہ ہو گا. اسی لیے تو مصیبتوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے. توبہ کرنی چاہیے. فائرنگ اور آتش بازی سے کئ مرتبہ حادثے ہوئے ہیں. ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے. ایک بچی کی آنکھ ضائع ہو گئی تھی."
بابا سائیں کو اپنے اس لاڈلے بیٹے اور لاڈلی بیٹی کی قسمت کا بہت دکھ تھا. وہ اندر سے دکھی تھے. وہ سوچتے تھے کہ بازل سائیں شاید ٹھیک ہی کہتا ہے. میری بیٹی کی زندگی برباد ہو گئی.
شاید بڑے بیٹوں کی شادیوں پر انہوں نے اسی طرح نوٹ پھینکے تھے. اس وقت بھی وہ منع کرتا تھا مگر اس کی وہ سنتے نہ تھے. اب وہ اس کی سننے پر مجبور تھے.
استانی بچوں کو ایسی باتیں سمجھاتی تھی کہ وہ بھی ہماری طرح کے انسان ہیں. اگر ہم ان کی جگہ ہوتے تو ہمیں کتنا بُرا لگتا. اگر وہ غریب پیدا ہوئے ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور. اگلی زندگی جہاں ہمیشہ رہنا ہے وہاں پر عزت و مرتبہ پانے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ زندگی تو عارضی ہے.
جن غریبوں کو امیر حقیر سمجھتے ہیں. ہو سکتا ہے وہ قیامت والے دن اونچے مقام پر فائز ہوں اور امیر زلت میں مبتلا ہوں. اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں کرتے، وہ غریبوں کو امیروں سے کئ ہزار سال پہلے جنت میں بھیجیں گے. اگر کوئی غریب اپنی غربت پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے صبر کا بہت زیادہ اجر و ثواب ملے گا. جو واویلا کرتا ہے اور گلے کرتا ہے تو وہ اس ثواب سے محروم ہو جاتا ہے. اگر کوئی امیر نیکی کے راستے پر چلتا ہے تو اس کے لئے دونوں جہانوں میں اجر ہے. شرط یہ ہے کہ نیکی کے راستے پر چلا جائے. کسی کو کمتر نہ سمجھا جائے.
ہمشا جان بوجھ کر بھی ان کو سنانے کے لیے بھی ایسی باتیں کرتی تھی. اسے اندازہ تھا کہ وہ اس کی باتیں دھیان سے سنتے ہیں اور اب عمل بھی کرنے لگے ہیں. پہلے وہ نوکروں سے سیدھے منہ بات نہ کرتے تھے اب وہ ان سے نرم لہجے میں گفتگو کرنے لگے ہیں. حتکہ ایک بہت بوڑھے ملازم کو کرسی پر بیٹھنے کا حکم دیا. وہ نہ مانا تو زبردستی کہا کہ بوڑھے ہو آرام سے بیٹھو.
چچا سائیں نے آ کر اسے ڈانٹا تو اسے منع کرتے ہوئے بولے، او ویر سائیں بےچارہ بڈھا ہے. نیچے مشکل سے بیٹھ رہا تھا. اب سب بوڑھوں کو کام نہیں کروانا. ان کو اسی طرح اجرت ملتی رہے. جس طرح پنشن ہوتی ہے.
ساری زندگی ان لوگوں نے ہماری خدمتوں میں زندگیاں وقف کر دیں. بدلے میں ہم کیا دیتے ہیں زلت و حقارت. یہ بھی انسان ہیں ان کا بھی دل کرتا ہو گا اچھا کھانے کو اچھا پہننے کو. ان کی بھی ہزاروں خواہشیں ہوں گی.
ہمشا حیران رہ گئی وہ ساری باتیں اس کی دھرا رہے تھے.
چچا سائیں بھی متاثر ہوئے
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں. اب میں بھی ایسا ہی کروں گا.
ہمشا بازل کی ہونے والی بیوی کے گھر بڑی آپا کے ساتھ شاپنگ کا سامان دینے گئی تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی.
وہ موٹی اور سانولی تھی. ہمشا کو دھچکہ لگا. مگر جب اُس سے ملی تو کافی حیران ہوئی. وہ بہت بااخلاق عورت تھی. اُس سے بہت تپاک سے ملی، بہت سمجھدار اور دور اندیش عورت تھی. اُس نے اس کی شاپنگ کی بہت تعریف کی اور بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسے سب بہت پسند آیا ہے. اُس نے اُس کی بہت آؤ بھگت کی. اُس نے کہا
"آؤ میرے ساتھ میرے کمرے میں بیٹھو."
وہ اسے اپنے کمرے میں لے گئی. اس سے التجایا لہجے میں آنکھوں میں آنسو بھرے دکھی لہجے میں بولی،
"تم ایسا کچھ گُر بتاؤ کہ میں اپنے شوہر کو خُوش کر سکوں. نہ میں خوبصورت ہوں نہ گوری چٹی، نہ ہی پڑھی لکھی. کاش ہمارے والدین اپنی اولاد کے لیے ڈھیروں جائیدادیں بنانے کے بجائے ان کو تعلیم دلواتے. یہاں لڑکیاں بےچاریوں کو کیا لڑکوں کو بھی تعلیم کی طرف راغب کرنے کا شعور نہیں ہے. جو اپنی مرضی سے جتنا پڑھتا رہے کافی ہے."
اتنے میں ملازمہ چائے وغیرہ لے کر آ گئی.
ہمشا نے کہا
"تم بہت سمجھدار خاتون ہو. اتنا کہوں گی کہ اپنے بچوں کو تعلیم ضرور دلوانا. رہا شوہر کا سوال تو وہ تمہیں گاؤں میں رکھ کر والدین کے لئے لانا چاہتا ہے. اپنے ساتھ شہر میں شاید نہ رکھے گا."
وہ جھٹ بولی،
" نہیں مجھے گاؤں میں ہی رہ کر اُن کی خدمت کرنی ہے. میں اسی میں خوش ہوں کہ بس وہ مجھ سے شادی کر رہا ہے. ورنہ میں اُس کے قابل کہاں تھی. وہ آسمان کا چاند ہے اور میں زمین کی دھول. وہ مجھ سے شادی کے لئے ہاں بول کر میری اہمیت کو بڑھا رہا ہے. ورنہ اُس جیسا گھبرو جوان تو پورے خاندان کی لڑکیوں کا خواب تھا وہ تو مجھ پر رشک کر رہی ہیں."
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس سے رازداری والے انداز میں پوچھنے لگی،
"کیا تُم بازل سائیں کی پسند ہو."
ہمشا نے حیرت سے اُسے دیکھا. وہ اُس کا ہاتھ پیار سے سہلاتے ہوئے بولی،
"تم پریشان نہ ہو، یہ ایسے ہی نہیں اپنی حویلی تمہیں لایا ہے. تُم مجھے بہت پسند آئی ہو اگر ایسی بات ہے تو مجھے خوشی ہو گی کہ اُس نے تُم جیسی اچھی لڑکی کو چنا. اُس نے مجھ پر تو اکتفا کرنا نہیں. سچائی اگر مجھے بتا دو تو ہم آپس میں بہت اچھا وقت گزاریں گے. کیونکہ تمہارے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وہ استانی بازل سائیں کی رکھیل ہے."
ہمشا کا یہ لفظ سن کر خون کھول گیا اور غصے سے اُس نے اُسے ساری سچائی بتا دی. اُس نے دکھ سے لمبی سانس بھری اور کہا،
"مجھے بہت افسوس ہوا. مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ یہ ایک نیک اور شریف النفس انسان ہے. اب تربیت ایسی ہوئی، ماحول ایسا ملا تو وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا. وہ تُم سے پیار کرتا ہے اسی لیے نکاح کیا."
ہمشا نے صفائی دیتے ہوئے کہا
"وہ پیار میں اسے نہیں لایا ضد میں لایا تھا. جو لڑکی اسے لوٹ رہی تھی، اسے سبق سکھانے کے لیے. اُس نے تو کھبی اُسے دیکھا تک نہیں تھا."
وہ بڑی رسانیت سے بولی،
"مگر اب وہ تمہیں پیار کرتا ہے. اور تُم بھی. میں تُم دونوں کے درمیان آ رہی ہوں، پر یقین مانو میں تم سے کھبی مقابلہ بازی نہیں کروں گی. میں اسی میں شکرگزار رہوں گی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا جیون ساتھی بنا کر سارے خاندان میں عزت بخش دی. ورنہ تو میں سمجھتی تھی کہ خاندان کے لوگ مجھے اپناتے نہیں تھے. میری تو کھبی شادی ہی نہیں ہو گی. تُم دونوں کا آپس میں اچھا جوڑ ہے."
ہمشا نے اسے دوٹوک الفاظ میں کہا،
"نہ تو وہ مجھ سے پیار کرتا ہے، میرا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا. میں تو اس سے نفرت کرتی ہوں. جلد اس سے خلع لے کر چلی جاؤں گی. اپنی زندگی برباد نہیں کروں گی."
وہ وثوق سے بولی
"تم غصے میں ہو اس لیے تمہیں احساس نہیں ہے کہ تم اسے پیار کرتی ہو. مہربانی کر کے اسے چھوڑنا نہ. تم بھی اس کے بغیر نہیں رہ پاؤ گی."
جاری ہے

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.