Bay Zabaan Phool
Episodes
سعد کی بھابھی افسوس کرتے ہوئے بولی، کتنے افسوس کی بات ہے رملہ بےچاری کا رشتہ ٹوٹ گیا۔
سعد نے پلٹ کر بھابھی کو دیکھا، وہ موبائل چارجنگ پر لگا رہا تھا۔
سعد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، موبائل ہاتھ سے چھٹ کر نیچے گر گیا۔
سب نے چونک کر اسے دیکھا، سب گھر والے الاونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔
سعد نے کہا بس تھوڑا سا ٹوٹ گیا ہے میں اسے ٹھیک کروا کر لاتا ہوں۔
بڑے بھائی نے کہا، ارے اس پرانے موبائل کی جان چھوڑ دو۔ جا کر اچھا سا خرید لو۔
اب آفس جاتے ہو، امپریشن خراب پڑتا ہے یار۔
سب نے زور دیا تو وہ جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اسکا بھتیجا جو موبائل پر گیم کھیل رہا تھا، جلدی سے بولا، چاچو میرے لیے نیا بائل لے کر آنا۔
ماں نے ڈانٹا، بچوں کو بڑے ہو کر موبائل ملتا ہے سمجھے۔
اس نے منہ بنا لیا۔
سعد نے کہا، جب میں نیا لوں گا تو پرانا آپ کو دے دوں گا۔
بچے نے منہ بنا کر کہا، نہیں وہ اچھا نہیں ہے۔
سب ہنسنے لگے۔
بڑے بھائی نے ہنس کر کہا، اب تو شرم کر لو، بچہ بھی اسے قبول نہیں کر رہا۔
بھابھی نے چائے دی تو بولا، ابھی جا رہا ہوں دیر ہو جائے گی۔
وہ باہر نکل گیا۔
سعد کی بہن،بھابھی اور ماں الاونج میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ بچہ دادا کے ساتھ پارک چلا گیا۔
سعد کا بھائی اپنے روم میں لیب ٹاپ کھول کر بیٹھا تھا۔
سعد کی بہن بولی، امی ویسے اسد انکل کی فیملی ہے بہت اچھی، ڈیسنٹ سی فیملی،
بھابھی نے بھی ہاں میں ہاں ملائ۔
سعد کی بہن بولی، امی کیوں نا ہم شیما کا رشتہ سعد سے کر دیتے ہیں۔
بھابھی ہنستے ہوئے مزاحیہ انداز میں بولی، ارے سعد تو اسے بیٹا بلاتا ہے۔
ماں غصے سے بولی، ہر جوان لڑکی کو بیٹا کہہ دیتا ہے جس کا اس کے ساتھ رشتے کا سوچ رہی ہوتی ہوں۔ ہر کسی کا دادا بنتا ہے۔
ماں نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، کہ بچی تو واقعی بہت اچھی ہے مگر ڈاکٹر نہ بن رہی ہوتی تو اچھا ہوتا۔ کیونکہ ہمیں بیٹے کے لیے نوکری کرنے والی لڑکی نہیں چاہیے۔ وہ لڑکی تو کہتی ہے کہ اس نے تو ابھی بہت پڑھنا ہے سرجن بننا ہے۔
سعد کی بہن بولی، امی ویسے جتنی بھی لڑکیاں ہم نے دیکھیں تو ان سب میں یہی گھرانہ سب سے عمدہ لگا، لڑکی بھی اچھی اور گھر والے بھی اچھے۔
کاش رملہ گونگی نہ ہوتی تو ہم جھٹ اس کی شادی سعد سے کر دیتے۔ سعد بھی فوراً مان جاتا کیونکہ وہ بھی ان لوگوں کی بہت تعریف کرتا ہے ورنہ اس نے کھبی کسی کی تعریف نہیں کی۔
سعد کی بہن ازراے مزاق بولی، کہیں ہمارے بھائی کو وہ گونگی تو پسند نہیں آ گئ۔
بھابھی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے ہوئے کہا کیا پتا، ان کو پروٹوکول بہت دیتا ہے اب تو راستہ بھی صاف ہے۔
ماں نے بے اختیار انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا، بکواس نہ کرو، نہ اول فول منہ سے نکالو۔
میرا بیٹا اتنا بے وقوف نہیں ہے۔
بہن ہنستے ہوئے بولی، امی اچھا ہے ناں، وہ تنگ نہیں کرے گی بول بول کر، جیسے یہ بہو آپ کا دماغ کھاتی ہے اور آپ کو اسے ڈانٹنا پڑتا ہے۔ اور آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے۔
ماں نے غصے سے اسے گھورا۔
بھابھی مسکرا رہی تھی۔
دونوں نند بھابھی میں بہت دوستی تھی، دونوں کزن بھی تھیں، فرینڈ بھی تھیں اور ایج فیلو بھی تھیں۔
اتنے میں دادا پوتا بھی واپس آ چکے تھے اور دادا نے بھی باتیں سن لی تھیں۔
وہ بھی مزاق میں مسکراتے ہوئے بولے، ارے بیگم صاحبہ ایسی بہو تو ساسیں ڈھونڈتی ہیں جو ان کے آگے زبان نہ چلا سکتی ہو۔ جلدی سے رشتہ مانگ لو کہیں کوئی اور عقلمند ساس اس کو نہ لے اڑے اور تم بیٹھی پچھتاتی رہو۔
اتنے میں بچے نے شور مچایا چاچو چاچو آپ کی شادی رملہ آنٹی سے کریں گے۔
سعد کے کانوں میں بھی باپ کی باتیں پڑھ چکی تھیں۔
سعد بولا، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
بھائی نے بیوی کو آواز دی کہ بچی اٹھ گئی ہے۔
وہ تیزی سے اندر چل پڑی۔
سعد کی بہن سعد کے پاس بیٹھی اس کا نیا فون دیکھ رہی تھی۔ اس کا بھتیجا چاچو کے لائے ہوئے کھلونے پکڑے اندر بہن کو دینے جا رہا تھا اور بہت خوشی سے سب کو بتا رہا تھا۔
ماں نماز کے لیے اٹھی تو بہن سعد سے بولی، چل میرا بھائی مجھے گھر چھوڑ آ، آج تیرے موبائل کے انتظار میں لیٹ ہو گئی۔
سعد نے اس کے بچے کو اٹھا لیا اور وہ اس کا لایا ہوا کھلونا اور بے بی بیگ اٹھا کر سب کو تیزی سے خدا-حافظ کہتی جانے لگی تو ماں نے آواز دے کر یاد دلایا، ارے وہ فرج سے سالن کا ڈونگا تو لیتی جاو، جو لے جانے کے لیے رکھا تھا۔
سعد باہر نکلا تو رملہ اور اس کی ماں گاڑی سے اتر رہی تھیں۔
سعد نے رملہ کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملیں۔
رملہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
سعد اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
سعد نے رملہ کی ماں کو بڑے ادب سے سلام کیا۔
انہوں نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور کاکے کو جو سعد کی گود میں تھا اسے پیار کیا۔
سعد کی بہن بھی کھڑی ہو کر ان سے باتیں کرنے لگی۔
اتنے میں شیما بھی آ گئ اور کاکے کو پیار کرنے لگی۔ اس نے سعد سے کہا، بھائی آپ مکرونی کھاتے ہیں میں نے بنائی ہے۔
سعد کی بہن جھٹ بولی، یہ اتنے شوق سے نہیں کھاتا، میں بہت شوق سے کھاتی ہوں۔
وہ خوشی سے بولی، پھر میں آپ کے لیے لے کر ابھی آتی ہوں۔
وہ بند ڈبے میں ڈال کر لے آئی۔
رملہ بھی بس سر جھکائے ان کے ساتھ کھڑی رہی۔
رملہ اور شیما رات کو اپنے بیڈ پر سونے آئیں تو شیما نے رملہ سے اشارے سے پوچھا کہ بہت اچھا سیریز ہے کیا تم نے دیکھنا ہے۔
رملہ نے اشارے سے ہاں کی گردن ہلا دی۔
شیما بولی، رملہ آپی ایک طرح سے اچھا ہی ہوا کہ آپ کی منگنی ٹوٹ گئی مجھے تو وہ لوگ سخت برے لگتے تھے۔
آنٹی تو خرانٹ سی تھی۔ اور انکا بیٹا ٹھڑکی سا بے غیرت مجھے بھی ایسے بھرپور نظر سے دیکھتا تھا زرا بھی جو شرم حیا ہو۔
ایک سعد بھائی ہیں پہلی بار ہی ملنے پر مجھے بیٹا کہہ کر مخاطب ہوئے۔ مجال ہے جو فالتو نظر بھی ڈالیں، اگر کھبی دیکھیں بھی تو بزرگوں والی نظر سے دیکھتے ہیں،
مجھ سے چند سال ہی بڑے ہوں گے۔
مگر کتنے سوبر سے ہیں۔ لڑکوں والی کوئی بات ہی نہیں ہے ان میں۔ گھر میں سب سے چھوٹے ہیں مگر ان کی بہن کہتی ہے کہ سب کے دادا بنتے ہیں۔
ویسے آپی ایک بات ہے،( رملہ خاموشی سے دلچسپی سے غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔)
شیما نے مسکرا کر شوخی بھرے لہجے میں کہا، مجھے لگتا ہے کہ سعد بھائی تمہیں پسند کرتے ہیں۔ ان کی نظروں میں تمہارے لیے بہت محبت چھلکتی ہے۔
رملہ نے اسے جواب میں شوخی سے گھور کر دیکھا تو وہ بولی، تم لاکھ چھپاو تم بھی انہیں پسند کرتی ہو۔
رملہ نے تکیہ اس کو دے مارا۔
شیما پھر بھی باز نہ آئی میں تم دونوں کو ملوا کر رہوں گی۔
رملہ نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بول نہیں سکتی۔
شیما نے پریقین انداز میں کہا، ارے آپی وہ لوگ بہت اچھے ہیں۔
رملہ ایک سرد آہ بھر کر اشارہ کرتے ہوئے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے اشارہ کرنے لگی کہ اس کے گھر والے کھبی نہیں مانیں گے۔
شیما نے پراعتماد لہجے میں کہا، دیکھنا سعد بھائی اس بات کو اہمیت نہیں دیں گے اور گھر والوں کو منا کر جلد رشتہ بھیجیں گے انشاءاللہ۔
رملہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔
شیما نے کہا، ارے سیریز نہیں دیکھنی کیا۔؟
رملہ نے اشارہ کیا کہ وہ سونے لگی ہے۔
ساجد صاحب کی بیوی شوہر سے مخاطب ہو کر بولی، سنیے جی، کیا پتا ہماری رملہ کا رشتہ سعد کے گھر سے آ جاے۔
وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولے، بیگم لوگوں سے امیدیں لگانا چھوڑ دو۔
ابھی کتنا عرصہ ہوا ہے ہمیں ان لوگوں سے ملے۔ جو تم رشتے کی آس لگا کر بیٹھی ہو۔ ارے گونگی لڑکی کو کون قبول کرتا ہے بھلا۔
میرے جگری دوست نے گھر والوں کی باتوں میں آ کر رشتہ توڑ دیا۔
بیوی غصے سے بولی، میرا منہ نہ کھلوائیں، ان کی مرضی ہوتی تو بھلا گھر والے کیا جرات کر سکتے تھے۔
اسد صاحب نے کہا، انکا بیٹا نہیں مان رہا تھا کہ جو بول نہ سکے بےشک سن سکتی ہے، مگر مجھے قبول نہیں۔
اتنے میں سعد کے ابو جہانگیر صاحب کا فون آیا کہ شام کو ایک چھوٹی سی پوتے کی سالگرہ رکھی ہے۔ ہم گھر والے ہی مناتے ہیں مگر اس بار میری فیملی آپ لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ تو آپ سب ضرور آئیے گا۔ ویسے گھر کی کوئی خاتون بھی انواہیٹ کرنے آئے گی۔
اسد صاحب نے مزاق میں کہا، جی کیا میں بھی انواہیٹ ہوں۔
وہ بولے اگر آپ فیملی ممبر ہیں تو آ سکتے ہیں اگر نہیں۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولے، جہانگیر صاحب مجھے تو اب گھر والے آپ کے گھر کا فیملی ممبر سمجھنے لگے ہیں۔ ارے وہ سب تو ہلہ گلہ کرنے میں مصروف ہوں گے اور میں اور آپ chess کھلیں گے پچھلی بار آپ نے مجھے ہرا دیا تھا اس بار میں آپ کو نہیں جیتنے دوں گا۔
اسد صاحب بولے، جناب ہم تو پہلے ہی آپ کی محبت میں ہارے ہوئے ہیں۔
دونوں نے زوردار قہقہہ لگایا اور فون بند کر دیا۔
سعد کی بھابھی، ساس سے مخاطب ہو کر بولی، میں زرا جلدی سے جا کر ان لوگوں کو خود بھی انواہیٹ کر آتی ہوں۔
وہ ان کے گھر گئ تو رملہ گاڑی نکال رہی تھی بازار جانے کے لیے۔ ماں بھی چادر اوڑھ کر کھڑی تھی۔
بھابھی نے کہا، رملہ ہم لوگ بھی بازار ہی جارہے ہیں ہمارے ساتھ چلی چلو۔
اسد صاحب جو قریب کھڑے تھے۔ بولے بیگم آپ پھر رہنے دیں، رملہ ان کے ساتھ چلی جائے گی۔
سعد کی بھابھی اور بہن سعد کے ساتھ جا رہی تھیں۔
رملہ کچھ شرمانے لگی۔
سعد کی بہن نے بچے کو اٹھایا ہوا تھا۔
بہن سعد کے ساتھ آگے بیٹھ گئی۔
رملہ اور بھابھی پیچھے بیٹھ گئی۔
سعد کی دل کی کلی کھلنے لگی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.