Dil ke Darling
6 Episodes"میری پھولوں جیسی نازک سی نمرہ بھلا اتنے بڑے خاندان کو سنبھال سکے گی بھلا"
نمرہ کے باپ نے بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا،
"بھائی جان نے اپنے دوست کو زبان دے دی ہے. ان کی بےعزتی ہو جائے گی اگر ہم نے انکار کیا تو."
نمرہ کی خالہ جو پاس بیٹھی ہوئی تھی لقمہ لگایا
"بھائی صاحب آپ نے کھبی کوئی حق نہیں جتایا، ہمیشہ سے ہی بھولے ہی رہے ہیں. آپ کی بیٹی کی شادی کا فیصلہ وہ کر رہے ہیں اور آپ گونگے بن کر بیٹھے ہوئے ہیں."
بیوی نے گلہ بھرے لہجے میں کہا،
"یہی بات آپا، میں ان کو سمجھاتی ہوں مگر ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا."
شوہر نے بیوی کی طرف دیکھ کر بےچارگی والی شکل بنا کر کہا،
"آپا آخر میرا بڑا بھائی ہے وہ ہمیں سپورٹ کرتا ہے"
سالی تنک کر بولی،
"سپورٹ کرتا ہے تو کیا ہوا، تھوڑی آمدن ہے اس کی خاندان بھر میں سب سے امیر کبیر ہے. اتنا تو وہ صدقہ دے تو بھی کم ہے."
وہ پھر ڈھٹائی سے بولی،
"دیکھو تمہیں میں نے ہمیشہ اپنا چھوٹا بھائی مانا ہے."
پھر ٹسوے بہاتے ہوئے بولی،
"میں نے بچپن سے کہتی آ رہی ہوں کہ نمرہ میری بیٹی ہے مگر آپ نے میرا خیال بھی نہ کیا اور میرا مان توڑ دیا. یہ آپ نے میرے بیٹے کے ساتھ اچھا نہیں کیا، ارے بہت امیر گھروں سے میرے بیٹے کے رشتے آ رہے ہیں جو لاکھوں کا جہیز، گاڑی اور پلاٹ وغیرہ دینے کی آفر کر رہے ہیں. میری جان کھا رہے ہیں. آپ کو پتا ہے کہ مجھے جہیز کا لالچ نہیں ہے. جب سے میرا بیٹا اچھی نوکری لگا ہے جلد ہی وہ لوگ گاڑی بھی دے رہے ہیں، دوبئی بھی فیملی کے ساتھ بھیجیں گے. ہم ماں بیٹا ہیں صرف. آپ نے میرے بیٹے کو دیکھا ہوا ہے سگریٹ نوشی تک نہیں کرتا. شریف ہے."
نمرہ کی ماں نے لقمہ لگایا،
"بالکل آپا دیکھا بھالا گھر کا بچہ ہے."
پھر وہ نمرہ کو آوازیں دینے لگی
"نمرہ خالہ کے لیے پانی لے کر آ"
پھر وہ اس کے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی،
"آپا رو مت، میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر ان کی جرات نہیں ہے، بھائی کو انکار کرنے کی تو میں خود ان کو صاف لفظوں میں کہہ دوں گی کہ اتنے بڑے خاندان میں جہاں تاے چاچے وغیرہ ایک ہی بڑے گھر میں اکھٹے رہتے ہیں،"
پھر نقل اتارتے ہوئے بولی،
"جی ہم میں اتفاق ہے."
"بھاڑ میں جائے ایسا اتفاق، میری پھول سی نازک بیٹی بھلا اتنے لوگوں کے کام کر سکتی ہے بھلا، بےشک ملازم بھی ہوں، اتنے لوگوں کی ناشتے کی چائے بناتے بناتے میری بیٹی ہلکان ہو جائے. نہ بابا نہ. میں اپنی نازوں پلی بیٹی کو ساری زندگی کے لیے کھپا نہیں سکتی."
آپا مسکا لگا کر بولی،
"ماں اور ماسی میں بھلا کیا فرق ہے. اسے میں اپنے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھوں گی."
نمرہ پانی لے کر آئی تو خالہ نے خوب بلائیں لیں.
نمرہ کی ماں شوہر کی طرف دیکھ کر وثوق سے بولی،
"دیکھا بھلا ایسا پیار کوئی اور کر سکتا ہے بھلا."
شوہر نے ایک سرد آہ بھر کر کہا،
"ٹھیک ہے آپا جیسے آپ کی مرضی."
آپا کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی اور بولی،
"بس میں نے جلد شادی کرنی ہے اور جہیز بنانے کی ضرورت نہیں. میرے گھر میں سب چیزیں موجود ہیں. میں اب چلتی ہوں. جب مسئلہ حل ہو جائے تو فون کر دینا، میں بات پکی کرنے آ جاؤں گی."
یہ کہہ کر وہ تیزی سے چل پڑی.
شبیر اور منیر دونوں بھائی تھے اور ایک ان کی بہن دوسرے شہر بیاہی ہوئی تھی.
شبیر صاحب کے چار بیٹے اور ایک سب سے چھوٹی بیٹی زینب تھی. شبیر صاحب کے تینوں بچے یوکے میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے. تینوں شادی شدہ تھے اور بہت خوشحال تھے. والدین کے بھی فرمانبردار تھے.
منیر احمد کی ایک ہی بیٹی نمرہ تھی جو گوری چٹی اور کافی خوبصورت تھی.
اس کے برعکس شبیر احمد کی بیٹی زینب قدرے کم خوبصورت تھی مگر معصوم سی شکل کی تھی.
شبیر احمد اپنے بھائی منیر کا بہت خیال رکھتے تھے. اس کے گھر کا سارا خرچہ وہ اٹھاتے تھے. منیر احمد گھر کے کوئی چھوٹے موٹے باہر کے کام کر دیتا تھا.
دونوں کے باپ نے اپنے پیچھے ایک پانچ مرلے کا مکان چھوڑا تھا.
شبیر صاحب نے اس مکان کے آگے پیچھے والے پلاٹ خرید کر ایک خوبصورت بڑا مکان بنا کر بھائی کو پاس رکھ لیا تھا.
شبیر صاحب کی بیوی بہت نیک فطرت عورت تھی جو دیور اور دیورانی کا بہت خیال رکھتی تھی.
جبکہ منیر احمد کی بیوی کچے کانوں کی عورت تھی جو اپنی شاطر بہن کے بہکاوے میں بہت آتی تھی.
بڑی بہن جسے سب آپا جی کہتے تھے چھوٹی بہن کی خوشحالی سے حسد کرتی تھی. اس کا گھر پرانے زمانے کا بنا ہوا تھا.
نیچے والے حصے میں دوکانیں تھیں. چار مرلے کا گھر تھا. دو دوکانیں تھیں جن کا کرایہ آتا تھا. محلے میں گھر تھا. اوپر والا پورشن اس نے اپنی رہائش کے لیے رکھا ہوا تھا۔ ایک اسکا بیٹا اور ایک بیٹی تھے. بیٹی بیاہی ہوئی تھی اور گھر کے قریب ہی رہتی تھی. وہ لاکھ کوشش اور چالاکیوں کے باوجود نہ ہی امیر ہو سکی، نہ ہی امیروں میں بیٹی بیاہ سکی.
اب بیٹے سے آس لگی تھی اس نے ایم بی اے کیا تھا اور ابھی نئی جاب لگی تھی کہ ماں اس کا رشتہ لے کر آ گئی کیونکہ بیٹے کی بہت مرضی تھی۔ جس کے ضد کرنے اور دھمکانے پر وہ مجبور ہو کر آ گئی تھی. وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتی تھی.
جب سے اس نے نمرہ کے رشتے کا سنا تھا مجنون بنا پھر رہا تھا.
اس نے نمرہ کو بھی اپنی محبت کا یقین دلا دیا تھا. جو اب اس کی طرف مائل تھی اور ماں سے اس رشتے سے انکاری تھی.
منیر احمد کا بھائی سے بات کرنے کا حوصلہ نہ پڑ رہا تھا مگر بیوی کے مجبور کرنے اور بیٹی کی خوشی کے لیے شام کو چل کر بات کرنے کی حامی بھر لی تھی.
شبیر صاحب شام کی چائے پیتے ہوئے بڑے خوشگوار موڈ میں بیوی سے اس رشتے کے متعلق بات کر رہے تھے. ان کا پرانا دوست جب اچانک ملا تو وہ اس سے بھتیجی کا رشتہ جوڑ کر بہت خوش تھے. ان کی اپنی بیٹی ابھی چھوٹی تھی وہ میڈیکل کالج میں پڑھ رہی تھی.
شبیر صاحب چائے پیتے ہوئے بیوی سے خوشی سے بھرپور مسکراتے ہوئے گویا ہوئے.
"بیگم، میں نمرہ بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کروں گا کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا."
بیوی بولی،
"انشاءاللہ جی ضرور ایسا ہی کریں گے."
وہ سرشار لہجے میں بولے،
"میں نے بیٹوں کو بھی کہہ دیا ہے کہ چچا کی اکلوتی بیٹی کے لئے خوب سے خوب تر کرنا ہے. اب یہ جو دونوں بہنوں کے لیے ایک جیسے گفٹ بھیجتے ہو. اب نمرہ بہن کی پسند سے گفٹ لانے ہیں. پتا ہے وہ کیا کہتے ہیں، آپ بابا جان فکر نہ کریں، ہم نے چھٹیاں بھی پلان کر لی ہیں. اور نمرہ کے لیے مہنگی شاپنگ بھی شروع کر دی ہے. اور سب کچھ ہم واٹس ایپ کر دیا ہے. چیک کر کے بتانا"
شبیر صاحب کی چھوٹی بیٹی زینب شوخی اور خوش مزاجی کی مثال تھی.
وہ تیزی سے آئی اور موبائل دیکھاتے ہوئے بولی،
"یہ دیکھیں ممی بابا یہ وڈیو شاپنگ کی جو ان لوگوں نے یوکے میں کی ہے. کتی پیاری چیزیں ہیں. میں نمرہ آپی کو بھی خود دکھا کر تاثرات دیکھنا چاہتی ہوں کہ ان کو پسند آئیں. ورنہ میں وٹس ایپ کر دیتی. اللہ جی کتی پیاری شاپنگ ہے."
ماں مسکراتے ہوئے چائے کا سپ لیتے ہوئے بولی،
"فکر نہ کرو تمہاری شادی پر بھی ایسی ہی شاپنگ کریں گے انشاءاللہ."
وہ شوخی سے بولی،
"مگر مجھے ابھی چاہئیں ناں. دیکھیں میرے لیے کھبی ایسی چیزیں نہیں لیں."
ماں محبت سے بولی،
"ابھی تمہاری بہن کی باری ہے ناں."
وہ بولی.
"میں تو جوک کر رہی تھی اللہ تعالیٰ میری نمرہ آپی کو نصیب فرمائے."
ماں باپ دونوں نے اکھٹا بولا،
"آمین ثم آمین."
وہ بولی،
"ابھی میں نے ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے رات کو نمرہ آپی کو دیکھاؤں گی. ویسے ممی شایان بھائی کتنے گریس فل سے ہیں ناں اور ان کی فیملی کے سب لوگ کتنے پیار کر رہے تھے نمرہ آپی کو. سچ میں بہت لکی ہیں نمرہ آپی. شایان بھائی بھی بہت ہینڈسم ہیں اور نمرہ آپی بھی بہت خوبصورت ہیں. دونوں کی جوڑی خوب سجے گی."
شایان بھائی کی بہن نمرہ آپی پر تو فدا ہو رہی تھی. بار بار تعریف کر رہی تھی کہ نمرہ آپی بہت خوبصورت ہیں.
اتنے میں شبیر صاحب بولے،
"بیگم میں سوچ رہا ہوں کہ منیر کو بلا کر ابھی سے شادی کی پلاننگ کرتا ہوں. آج شایان کے باپ کا فون آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ انہوں نے جلد از جلد شادی کرنی ہے. اور دھوم دھام سے کرنی ہے تو اس حساب سے تیاری بھی تو کرنی ہے ناں."
بیوی بولی،
"ہم ابھی سے تیاری شروع کرتے ہیں تاکہ وقت پر سب کام نمٹا لیں. میں نمرہ کی ماں کے ساتھ کل سے کپڑوں کی شاپنگ شروع کر دیتی ہوں تاکہ درزی وقت سے سی سکے."
شبیر صاحب بولے،
"بیگم ساری شاپنگ نمرہ کی پسند سے کرنا اسے ساتھ لے کر جانا ویسے بھی وہ آجکل پڑھائی سے تو فارغ ہے"
بیوی بولی،
"ایسا ہی کروں گی ورنہ وہ روٹھ جاتی ہے."
اتنے میں منیر احمد اور اس کی بیوی آ گئے.
شبیر صاحب خوش ہوتے ہوئے بولے،
"آؤ آؤ بھائی منیر، میں ابھی تمہارا ہی زکر کر رہا تھا."
منیر کی بیوی قدرے منہ پھلائے ہوئے تھی. شبیر صاحب کی بیوی نے انہیں بڑے تپاک سے چائے پیش کی تو دونوں بولے،
"نہیں پینی ہم پی کر آئے ہیں."
ویسے تو وہ تقریباً روز ہی پیتے تھے. شبیر اور ان کی بیوی ان کو تھوڑے حیرت سے دیکھنے لگے.
منیر نے پہلو بدل کر بیوی کی طرف دیکھا، بیوی نے آنکھ سے اشارہ کیا.
شبیر صاحب پوچھنے لگے
"سب خیریت ہے ناں"
منیر کی بیوی قدرے اونچی آواز میں بولی،
"بھائی صاحب میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہماری بیٹی کی زندگی کا فیصلہ ہم سے پوچھے بغیر خود ہی کر دیں۔ شادی ہے زندگی بھر کا معاملہ ہے اتنا بڑا خاندان ہے. میری نازک سی لاڈلی بچی ہے. آپ نے جھٹ اتنے بڑے خاندان میں بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی. میں یہ رشتہ قبول نہیں کر سکتی. کیونکہ میں نے بچپن سے ہی اسکا رشتہ آپا کو دیا ہوا تھا. آپ نے مجھے اس کے آگے ذلیل کر دیا ہے. وہ ابھی مجھ سے گلے کر کے روتی رہی ہے تو میں نے اسے تسلی دی کہ ابھی صرف رشتہ ہوا ہے، میں تمہیں ہی دوں گی. صاف بات ہے کہ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح میری بہن مجھ سے دور ہو جائے گی اور میں بہن کو دور نہیں کر سکتی. اگر آپ کو دوستی بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو آپ زینب کا رشتہ کر دیں. جوان تو وہ بھی ہے."
دونوں میاں بیوی ہکا بکا اس کو دیکھنے لگے.
منیر احمد ڈبڈبائی آنکھوں اور بےبسی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا. اس میں بھائی سے نظریں ملانے کی ہمت نہ تھی.
زینب جو موبائل اٹھائے بھائیوں کی وڈیو کال پر بات کروانے آئی تھی. اس نے بھی یہ سب سن لیا اور زینب سکتے کے سے عالم میں موبائل اٹھائے کھڑی رہ گئی.
زینب کی ماں نے سمجھاتے ہوئے کہا،
"یہ آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کیا نمرہ میں اور زینب میں ہم نے کھبی فرق رکھا ہے."
شبیر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا اور چپ کا اشارہ کیا. پھر قدرے نم آنکھوں سے تحمل سے بولے.
"ٹھیک ہے جیسے تم لوگ چاہو."
منیر کی بیوی شوہر کو اشارہ پا کر تیزی سے اٹھ کر چلی گئی.
شعر.
اپنی زات سے بڑھ کر جن پر اعتبار ہوتا ہے
اکثر دھوکے کا تحفہ بھی انہیں سے وصول ہوتا ہے.
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.