Dil ke Darling
6 Episodesدوسرا حصہ - Part 2
زینب کا باپ بھابھی کے اس فیصلے سے بہت دل برداشتہ ہوا جا کر اداس کمرے میں بیڈ پر سیدھا لیٹ کر خاموشی سے چھت کو گھورنے لگا.
بیوی روتے ہوئے بیٹوں کو فون پر بتانے لگی
"اب تمہارے بابا اپنے دوست کو کیا جواب دیں گے. کس قدر سبکی ہو گی وہ اس شادی کو لے کر خوشی سے پاگل تھے کہ اپنے اتنے پیارے بچھڑے دوست سے رشتہ جڑنے جا رہا ہے. کیسے انکا مان ٹوٹا ہے. اب میں ان کو کیسے تسلی دوں، مجھے بتاو تو سہی"
وہ بھی بہت دکھی اور پریشان تھے. انہوں نے بھی ہمیشہ زینب اور نمرہ کے لیے ایک جیسے گفٹ بھیجے تھے. اب بھی وہ اسے سگی بہن کی طرح رخصت کرنا چاہتے تھے. انہیں بھی اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا.
انہوں نے ماں کو تسلی دی اور باپ سے بات کرانے کا کہا۔
بیوی نے کہا،
"پہلے میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کرتی ہوں. ابھی وہ کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں."
بیوی کمرے میں گئی تو وہ بغیر لائٹ کے لیٹے ہوئے تھے مغرب کا وقت ہونے والا تھا. بیوی نے لائٹ جلا کر کہا،
"اٹھیں وضو کر لیں نماز کا وقت ہونے والا ہے. اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے. اس میں بھی کوئی بہتری ہی ہو گی فکر نہ کریں."
وہ بمشکل اٹھے اور بولے،
"بیگم آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے. ہماری زینب بھی جوان ہے اٹھارہ سال کی ہے. اگر ہم یہ رشتہ اس کے لیے کر لیں. اتنا اچھا رشتہ ہے. پڑھنے کے بعد اکثر بچیوں کی عمر گزر جاتی ہے پھر لڑکا اگر چالیس کا بھی ہو تو لڑکی کم عمر ہی ڈھونڈتے ہیں. اس طرح میں دوست کے آگے بھی سرخرو ہو جاؤں گا. اب تو ویسے مجھے ڈر سا لگنے لگا ہے. میں نے تینوں لڑکوں کی شادی اپنی مرضی سے اچھے گھروں میں کی، مگر تم بیٹی سے پوچھ لو اگر وہ مان جائے تو."
بیوی بڑے وثوق سے بولی،
"بےشک وہ عمر میں چھوٹی ہے مگر سمجھداری میں نمرہ سے بھی زیادہ ہے.وہ کھبی انکار نہیں کرے گی جس سے بھی کی. مجھے تو نمرہ کی طرف سے فکر لگی ہوئی تھی. کیونکہ اسے ماں نے گھرداری کچھ نہیں سکھائی تھی. کچن کا کام، ہانڈی روٹی اسے نہیں آتی. لاڈلی ہے. لیٹ سو کر اٹھتی ہے. فیشن کی دلداده ہے، فضول خرچ ہے. کسی کی خدمت خاطر کا اسے سلیقہ نہیں. اس نے جو آپ کی ساری زندگی بےعزتی کروانی تھی، اس سے اب کی بےعزتی بہتر ہے. ہماری بیٹی بھی تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے مگر کتنی صابر ہے. بھائی باہر سے گفٹس بھیجتے تو پہلے نمرہ پسند سے اٹھاتی پھر وہ لیتی. بعض اوقات اس کے بھی لے لیتی اور وہ خوشی سے دے دیتی. اسے بڑی بہن کا درجہ دیتی. یہ سب ہماری تربیت ہے کہ میں نے بچوں کو بھی سارے گھر کے کام کرنے کی عادت ڈالی کہ وہ کسی کے بھی محتاج نہ رہیں. ورنہ لڑکے تو گھر میں بادشاہ بنے رہتے ہیں اور اٹھ کر خود پانی تک نہیں پیتے۔ ماں بہنوں اور بیوی کے محتاج رہتے ہیں. اگر کھبی خود کرنا پڑے تو انہیں عزاب لگتا ہے."
شبیر صاحب گلوگیر لہجے میں بولے،
"میرے بیٹے کہتے تھے کہ ہم ساری زندگی چچا کی کفالت کریں گے ان کا بیٹا نہیں ہے تو ہمارے اوپر ان کی فیملی بھاری نہیں ہے."
زینب کی ماں دکھ سے آہ بھر کر بولی،
"وہ بہت ہرٹ ہوئے ہیں."
شبیر صاحب دکھ سے بولے،
"بیگم آپ بتائیں، میں نے کہاں بھائی کا حق مارا یا کوئی کسر رکھی ہے. باپ کی طرف سے پانچ مرلے کا گھر وراثت میں ملا. جب منیر کی بیوی نے حصے کا مطالبہ کیا تو میں نے درگزر کیا اور قریب یہ پانچ مرلے کا گھر خرید کر پورا دے دیا. اور گھر کے پیچھے سے دروازہ نکال دیا کہ میرا بھائی جب چاہے آ جا سکے اور تم روز ڈونگے بھر بھر کے کھانے بھیجتی تھی. میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے تم جیسی شریک حیات ملی جو اتفاق سے سب کو جوڑ کر رکھنا چاہتی ہے. اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اچھی بہویں دی ہیں جو ادھر بھی اتفاق سے رہتی ہیں. دو بہنیں ہیں اور ایک کزن."
بیوی نے سرد آہ بھر کر کہا،
"اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ہے کہ اس زمانے میں بھی ہمیں ایسی فرمانبردار اولاد اور اچھی بہویں ملیں."
شبیر صاحب دکھی لہجے میں بولے،
"کاش میرا بھائی اتنا بزدل انسان نہ ہوتا، اور اسے اچھے برے کی پہچان ہوتی."
زینب کی ماں بولی،
"میری دیورانی کچے کانوں کی ہے. آپا کی باتوں کا اثر لیتی ہے. خود دماغ سے نہیں سوچتی. میرا اس کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں تھا مگر میں نے ہمیشہ اسے چھوٹی بہن سمجھا."
شوہر تائید والے انداز میں گردن ہلا کر بولا،
"بےشک"
وہ پھر بولی،
"اتفاق میں رہنے سے گھر میں برکت رہتی ہے خوشحالی آتی ہے. جبکہ لڑائی جھگڑے اور منہ بنا کر رہنے سے گھر میں نحوست آتی ہے. پریشانی اور مصیبت آتی ہے. میں تو یہی سوچ کر اس کی غلطیوں کو درگزر کر دیتی تھی کہ بات نہ بڑھے، جب ایک جگہ رہنا ہے تو خوبیوں، خامیوں سمیت صبر سے رہنا پڑتا ہے. صبر کا بھی بہت اجر و ثواب ملتا ہے. انسان خطاء کا پتلا ہے. غلطی ہو بھی جاتی ہے اور اس کو لمبا کرنے سے دل میں کدورتیں جنم لیتی ہیں اور یہ دشمنیاں چنگاری سے شعلہ بن جاتی ہیں اور نسلیں برباد ہو جاتی ہیں."
شوہر نے کہا،
"بلکل سچ کہا ہے مگر میں بھائی اور بھابھی کو راہ راست پر لانے کے لئے ان کی طرح بن کر انہیں احساس دلانا چاہتا ہوں اور اس معاملے میں تم اور بچے میرا ساتھ دیں گے تب ہی میرے بھائی کو اپنی کوتاہی کا احساس جاگے گا اور شاید اس میں جرات پیدا ہو جائے."
بیوی صدق دل سے بولی،
"آمین."
وہ بولی،
"بس دونوں ہی بےوقوف ہیں کیا کریں"
شوہر نے کہا،
"وقت کا انتظار. بس اب دعا کرو کہ زینب بھی مان جائے اور وہ لوگ بھی برا منائے بغیر اس رشتے کو قبول کر لیں. آپ جاؤ اور زینب سے عندیہ لے کر مجھے بتاؤ تاکہ میں پھر انہیں فون کر کے ساری صورتحال بتا سکوں."
بیوی زینب کے کمرے میں گئی تو وہ اپنی بکس کھولے خیالوں میں گم تھی.
ماں نے تحمید باندھنے کی کوشش کی تو زینب بولی،
"ممی آپ پریشان نہ ہوں اگر بابا مجھے کسی نوکر سے بھی شادی کرنے کا کہیں گے تو میں انکار نہیں کروں گی. جانتی ہوں ڈاکٹر بننا میرا خواب تھا مگر اس وقت اس سے بڑھ کر میرے بابا کی عزت کا سوال ہے. جو میرے خواب سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے."
ماں نے روتے ہوئے اس گلے لگا کر کہا،
"اللہ تعالیٰ تمہارے سارے خواب پورے کرے گا انشاءاللہ. تم ہمارا غرور ہو. میں جانتی ہوں تم عمر میں چھوٹی ہو مگر سب سے زیادہ سمجھدار بھی ہو اور مجھے قوی امید ہے کہ تم ان لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرو گی."
پھر ماں اسے چومتی اور دعائیں دیتی، روتی ہوئی شوہر کو بتانے چل پڑی.
شبیر صاحب نے سنا تو بہت خوش ہوئے اور جا کر زینب کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہوئے روندھی ہوئی آواز میں بولے،
"شاباش بیٹا تم واقعی میرا غرور ہو. اللہ تعالیٰ تمہارا نصیب اچھا کرے."
پاس کھڑی بیوی آنسو صاف کرتے ہوئے جزبات سے بولی،
"آمین ثم آمین"
اس کے بھائیوں کو پتا چلا تو وہ پریشان ہو گئے کہ وہ تو ابھی بہت چھوٹی سی ہے اور اس کی پڑھائی بھی مکمل نہیں ہوئی. مگر ماں نے تسلی دی
"پڑھائی سے زیادہ اچھا رشتہ ملنا نعمت ہے."
وہ چپ ہو گئے.
رات کو جب اچانک ہی ان کے دوست کا خود ہی فون آگیا تو شبیر صاحب نے جھجکتے ہوئے ساری تفصیل بتا دی.
دوست نے کہا،
"یار یہ تو اس سے بھی اچھی بات ہے تو فکر نہ کر، تیری بیٹی اب میرے بیٹے کی ہی دولہن بنے گی."
شبیر صاحب نے کہا،
"وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تو اپنے بیٹے اور گھر والوں کی رائے بھی معلوم کر لو، پھر مجھے صبح بتانا. ابھی تم مشورہ کر لو. یار اگر جواب ہماری منشاء کے مطابق نہ بھی ہوا تو میں اس قسمت کا فیصلہ سمجھ کر بغیر برا منائے قبول کر لوں گا."
وہ تھوڑا سوچتے ہوئے بولا،
"ویسے مجھے امید ہے کہ ہماری منشاء کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا انشاءاللہ. پر چلو دیکھتے ہیں. ویسے تم نے مجھے بھی خدشات میں ڈال دیا ہے."
رات کو کھانا کھانے کا کسی کا دل نہیں کر رہا تھا. زینب نے سینڈوچ بنا لیے کہ بابا نے میڈیسن بھی کھانی ہے.
رات کو وہ سونے لیٹے تو دوست کا فون آ گیا. جسے سنکر وہ کافی حیران ہوئے. بیوی نے اشارے سے پوچھا مگر انہوں نے جواب نہ دیا.
عشق مثل شمع ہے قطرہ قطرہ پگھلنا ہے
آہستہ آہستہ جلنا ہے خود کو ختم کرنا ہے.
#شاعرہ عابدہ زی شیریں #abidazshire

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.