Logo
Dil ke Darling
6 Episodes
Dil ke Darling EP 3
Episode 3

دل کی ڈارلنگ3

Dil ke Darling

تیسرا حصہ - Part 3


زینب اپنے روم میں بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ وہ تو آپی کی شادی کے خواب دیکھ رہی تھی. رشتے والے دن جب دونوں کو اکھٹا بٹھایا گیا تو دونوں کی جوڑی کتنی پیاری لگ رہی تھی. ان کی نند تو بار بار آپی کی تعریفیں کر رہی تھی اور بہت سے فوٹوز لے رہی تھی. سب آپی کی خوبصورتی کی کتنی تعریفیں کر رہے تھے اور شایان جسے وہ شایان بھائی کہتی تھی. اب وہ کیسے اس نئے رشتے کو قبول کرے گا. اس کے دل ودماغ کی جنگ جاری تھی.

وہ ابھی بھی نیک نیتی سے دعائیں کر رہی تھی کہ کاش یہ رشتہ دوبارہ جڑ جائے تو کتنا اچھا ہو جائے.

اسے آپا کا خالہ کا بیٹا زرا بھی اس کے مطابق نہ لگا تھا. وہ شایان جیسا ہینڈسم بھی نہ تھا. نہ جانے آپی کو کیا ہوا ہے. جو اتنے گریس فل پرسنیلٹی والے شخص کو چھوڑ کر اس کزن کی طرف راغب ہو گئی ہیں.

ان کی خالہ کا گھر ایک بھرے بازار میں ہے. جہاں خالہ کے گھر کے نیچے دوکانیں ہیں اور اوپر خالہ کی رہائش. گھر بھی پرانے زمانے کا ہے. ٹوٹی پھوٹی گلیاں، رش، شور شرابہ توبہ آپی کیسے اس گندے سے محلے میں رہ پائیں گی. وہ لوگ اتنے خوشحال بھی نہیں ہیں اور آپی تو برینڈ کی چیزیں استعمال کرتی ہیں. اگر ان لوگوں نے بھی انکار کردیا تو. بابا تو اندر سے ٹوٹ جائیں گے. کہاں میں اور کہاں خوبصورت آپی. شایان نے بھی تو ایک خوبصورت لڑکی کے خواب دیکھے ہوں گے اور تعبیر بھی مل گئی تھی. وہ کتنے ہرٹ ہوں گے. ان کی بہن جو بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ جتنی بھی لڑکیاں دیکھی تھی ان میں سب سے خوبصورت آپی ہیں. وہ بھلا مجھے گھاس ڈالیں گی. اف خدایا ہم سب کس مشکل میں پھنس گئے ہیں. یا اللہ ہم سب کو اس آزمائش سے نکال اور آسانیاں پیدا فرما، آمین ثم آمین. وہ ہر طرح سے سوچ رہی تھی اس نے اپنا اور آپی کی خوبصورتی کا موازنہ کیا تو آپی کا پلڑا بھاری لگا. وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی. وہ سوچنے لگی کہ وہ گندمی رنگت والی، اور آپی سفید دودھیا رنگت والی، آپی جب بھی کسی فنکشن میں جاتی، سب اس کے حسن کی تعریفیں کرتے. چاچی اتراتی پھرتی.

کوئی کہتا، 

"ایک بہن اتنی خوبصورت اور دوسری کم صورت"

تو چاچی جھٹ کہتی 

"ارے یہ میری بیٹی نہیں جیٹھ کی بیٹی ہے. میری ہوتی تو بہن کی طرح خوبصورت ہوتی"

وہ ان کی باتوں سے ہرٹ بھی ہوتی مگر درگزر کر جاتی. حالانکہ اس کی ممی دونوں کو اپنی بیٹیاں بتاتیں.


نمرہ کی ماں نے جیٹھ کو جواب دیتے ہی آ کر بہن کو خوشخبری سنائی 

"انہوں نے تو کوئی اعتراض نہ کیا نہ لڑے جھگڑے نہ کوئی سمجھانے بیٹھے"

وہ بولی. 

"ظاہر ہے وہ میرے بچے کے گنوں کو بھی جانتے ہیں بچپن سے. ماشاءاللہ پڑھا لکھا برسر روزگار ہے پھر اکیلا گھر ہے. ایک نند وہ بھی بیائی ہوئی. ساس اور بیٹا بس گھر میں دو افراد. ارے ایسے رشتے تو نصیبوں والوں کو ملتے ہیں پھر میں نمرہ کی سگی خالہ اور کیا چاہیے انہیں اپنی بیٹی کے لئے. وہ نمرہ اور زینب میں فرق نہیں رکھتے. دیکھنا کتنی دھوم دھام سے شادی کریں گے اپنی نمرہ کی."


نمرہ کا جب سے رشتہ ہوا تھا خالہ کا بیٹا پیچھے پڑ گیا تھا 

"میں تمہیں بچپن سے پسند کرتا ہوں. تم ادھر انکار کر دو."

غرض وہ اس کی میٹھی باتوں میں آ گئی. جب ماں نے آ کر خوش خبری سنائی تو وہ بہت خوش ہوئی اور اب دن رات کزن سے فون پر پیار بھری باتوں میں لگی رہتی.

خالہ نے سنا اور کہا 

"میرا بیٹا کہہ رہا ہے آج جمعرات ہے. اس Monday کو ہم رشتہ پکا کرنے آئیں گے تیاری کر لینا. ہم مختصر لوگ ہی ہوں گے."

نمرہ کی ماں اور نمرہ تیاری کرنے لگ گئی، گھر کو اچھی طرح صاف ستھرائی کرنے لگیں. کیونکہ اس کو کزن نے بتایا تھا کہ اس کے آفس کے چند لوگ بھی ہوں گے تم اچھی سی تیاری کر لینا.

ادھر نمرہ ماں کے ساتھ ملکر گھر کو خاص طور پر ڈرائنگ روم کو سجانے لگی.

اس دوران نمرہ کی ماں نے شوہر سے کہا، 

"آپ خود سے بھائی کے گھر نہ جانا جب تک رشتہ پکا نہ ہو جائے. کیونکہ آپا نے کہا تھا کہ رشتے والے دن ان لوگوں کو بتانا، یہ نہ ہو کہ وہ پھر نہ انکار کر دیں ہمیں."

نمرہ کی ماں پھر تڑخ کر بولی، 

"ایسے کیسے انکار کر دیں. میری بیٹی ہے."

پاس کھڑی نمرہ کپڑے سے جھاڑتی ہوئی بولی، 

"خالہ سے کہیں فکر نہ کریں. اگر ایسا کچھ ہوا تو میں انکار کر دوں گی."

وہ بولی، 

"جیتی رہو."

سنڈے والے دن وہ لوگ صبح ہی اٹھ گئے.

نمرہ نے کہا، 

"ماما خالہ سے کہیں ناں میرا سوٹ تو بھیج دیں."

اس نے کہا، 

"بیٹی تیری خالہ کہہ رہی ہے اس کے پاس بہت اچھے اور قیمتی جوڑے ہیں ابھی وہی پہن لے. ان لوگوں نے تو وہ نہیں دیکھے ہوئے ہیں. ابھی وقت نہیں ہے بازار جانے اور سلوانے کا. بعد میں تم سارے اپنی پسند سے لے کر سلوا لینا."

نمرہ چپ کر گئی.

صبح جب نمرہ کے باپ سے بھائی کے گھر جانے کے لیے بیوی نے کہا 

"ان کو بتا آؤ کہ آج نمرہ کا رشتہ پکا ہونے والا ہے. تو وہ لوگ جلدی آ جائیں اور زینب کو کہیں آج چھٹی کر لے."

جب شوہر نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ بند ملا حالانکہ وہ کھبی بند نہیں کیا گیا تھا. آج بند تھا.

دونوں حیران سے ہو گئے.

بیوی بولی، 

"گیٹ پر سے چلے جائیں اور جلدی آ جانا بیٹھ نہ جانا، گھر میں بہت کام پڑا ہے."

وہ گیٹ پر گیا اور کافی بیلز کے بعد دروازہ کھلا، سامنے شبیر صاحب سپاٹ سا چہرہ لیے خاموشی سے دروازہ کھول کر کھڑے ہو گئے.

منیر احمد کا حلق خشک سا ہو گیا، کھنکار کر بولا، 

"وہ آج نمرہ کی خالہ رشتہ پکا کرنے آ رہی ہے."

انہوں نے اچھا کہا اور گیٹ بند کر دیا.

منیر احمد ان کے سپاٹ رویے سے بہت پریشان ہوا. اسے ان کے اس رویے کی توقع نہ تھی.

وہ دکھی دل کے ساتھ گھر واپس آیا. بیوی پر دل میں شدید غصہ آیا. جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑا.



شبیر صاحب نے زینب سے کہا، 

"تم آرام سے یونیورسٹی جاؤ. میں تمہاری ماں کو لے کر اپنے ڈاکٹر دوست کے کلینک پر جا رہا ہوں. بہانہ یہ کرنا ہے کہ میری اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی تو مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑا اس وجہ سے ان کے فنکشن میں شریک نہ ہو سکے. تم ویسے بھی شام تک آؤ گی.

شام تک ویسے بھی فنکشن ختم ہو جائے گا. پھر ہم گھر واپس آ جائیں گے. کیونکہ ہم نے ان کو اکیلا چھوڑنا ہے تاکہ انہیں احساس ہو کہ اب ہم ان کا ساتھ نہیں دے سکتے."



خالہ جب آئی تو ساتھ مولوی صاحب کو بھی لے آئی کہ نکاح پڑھوانا ہے. نمرہ کی ماں تھوڑی سٹپٹا سی گئی مگر بہن کے آگے نہ چل سکی.

نمرہ کے باپ نے بیوی سے کہا، 

"جب ادھر ہی رشتہ کرنا ہے تو کیا منگنی اور کیا نکاح، جو مرضی کرو."

اس نے بھائی کے گھر کے باہر جاکر دیکھا تو لاک لگا پایا، کیونکہ مہمان آ چکے تھے اور وہ لوگ ابھی تک آئے نہ تھے.

منیر احمد نے بھائی کو کال کی مگر وہ پک نہیں کر رہے تھے. پھر اس نے بھابھی کے نمبر پر کی تو اس نے بتایا 

"ان کے شوہر کا موبائل سائلنٹ پر ہے. ان کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی اس لیے لانا پڑا۔ شکرالحمدوللہ کہ کوئی مسئلہ بڑا نہیں ہے. اب ان کو ڈرپ لگی ہے اور وہ غنودگی میں ہیں. ڈاکٹر نے کہا ہے کہ شام کو گھر لے جا سکتے ہیں."

منیر احمد سے بھابھی نے نمرہ کی منگنی کے حوالے سے کوئی بات نہیں پوچھی نہ ہی سرے سے ذکر کیا.

منیر احمد نے بیوی کو ان کے بدلے رویے کے بارے میں بتایا تو وہ کافی حیران ہوئی. پھر اکڑ سے بولی، 

"میری آپا ہی کافی ہے ساتھ دینے کے لیے" 

اور پھر مصروف ہو گئی.

نمرہ کا نکاح ہو گیا. ماں نے کسی سہیلی کو بھی نہیں بلانے دیا. وہ خود ہی میک اپ کر کے تیار ہوئی. نکاح میں بھی اس نے اپنا استعمال شدہ جوڑا پہنا، ورنہ وہ جو ایک سوٹ کسی فنکشن میں پہن لیتی تھی دوبارہ نہیں تھی پہنتی. آج اتنے اہم دن پر اس نے پرانا سوٹ پہنا، بےشک وہ بلکل نیا تھا. مگر پھر بھی نمرہ کا دل دکھ سے بھر آیا.



زینب کے لیے ادھر سے ہاں ہو چکی تھی اور وہ اگلے اتوار کو سادگی سے نکاح کرنے آنے والے تھے. اور پھر تقریباً بمشکل ایک ماہ بعد شادی کرنے والے تھے.

رف ڈیٹ فون پر ہی فکس کر دی تھی کیونکہ زینب کے بھائیوں نے یوکے سے آنا تھا. 

جب شایان کے گھر والوں کو سب بات کا پتا چلا تو وہ سب کہنے لگے کہ وہ بچی تو بہت معصوم اور خوش اخلاق تھی اور کافی سمجھدار بھی لگ رہی تھی اور اس کی ماں بھی بہت اچھی نیچر کی تھی.

جبکہ نمرہ کی صرف خوبصورتی ہی تھی اس کے علاوہ وہ قدرے اکڑو سی لگی تھی. اس کی ماں بھی انہیں خاص پسند نہ آئی تھی. مگر وہ مروت میں نمرہ کے باپ کے اخلاق کے آگے خاموش ہو گئے تھے.

شایان کی بہن بہت خوش تھی کہ اس کے بھائی کے جوڑ کی لڑکی ملی تھی. اس نے جب سنا تو کافی واویلا مچایا اور زینب کی بہت برائیاں کیں کہ وہ ایک تو بہت چھوٹی ہے دوسرے اتنی پیاری بھی نہیں ہے.

شایان نے سنا تو حیران ہو کر بولا، 

"وہ تو ابھی بے بی سی ہے اتنے بڑے خاندان کو کیسے سنبھال سکے گی، زرا بڑی عمر کی لڑکی ہو تو بہتر ہے. 

مگر ماں نے ڈانٹ کر چپ کروا دیا 

"وہ زیادہ اچھی نیچر کی ہے اور ہمیں کوئی اعتراض نہیں." 

لاچار وہ چپ ہو گیا.

شایان کی بہن نے سب کو کہنا شروع کر دیا 

"بھائی کی مرضی نہیں ہے. گھر والے زبردستی کر رہے ہیں."

وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے سسرال میں بڑے فخر سے سب کو نمرہ کی فوٹو دیکھا کہ داد وصول کر رہی تھی. اب اسے سبکی محسوس ہو رہی تھی کہ زینب کی فوٹو یا زینب دیکھیں گے تو کیا امپریشن پڑے گا.

اس نے شایان کے موبائل میں منگنی کی فوٹو سینڈ کیں تو شایان نے کہا، 

"جب تک وہ میرے نکاح میں نہ آ جائے میں اس کی فوٹو اپنے موبائل میں رکھنا پسند نہیں کرتا. اس نے سب ڈیلیٹ کر دیں.



منگنی والے دن وہ لوگ انگوٹھی لے کر نہیں گئے تھے کہ ہمارے ہاں نکاح میں انگوٹھی نہیں پہناتے ہیں. بہن نے زبردستی بھائی کو نمرہ کے پاس بٹھا دیا تھا وہ سمٹ کر بیٹھا. پھر جلد ہی فون کرنے کا بہانہ کر کے گاڑی میں بیٹھ گیا اور کافی دیر بعد آیا جب نمرہ اٹھ کر جا چکی تھی.

زینب اسے آگے بڑھ چڑھ کر کھانے کی چیزیں پیش کر رہی تھی۔ ساتھ ساتھ چھیڑ بھی رہی تھی.

جواب میں وہ صرف مسکرا رہا تھا. جب شایان کی بہن کی نہ سنی گئی تو اس نے بھائی کو منانا چاہا.

وہ بولا، 

"یار زینب میں کوئی کمی نہیں ہے بہت گڈ نیچر لڑکی ہے. بس اس کی عمر کم ہے اس وجہ سے میں کہہ رہا تھا."

شایان کو گھر والوں نے سمجھا دیا 

"زینب بھی باپ کے اس رشتے پر راضی ہے. اس نے کہا ہے کہ باپ جس سے مرضی شادی کروا دیں اور پڑھائی سے زیادہ باپ کی عزت اور حکم اہم ہے" 

تو وہ یہ خیالات سنکر اس کی سمجھداری کا دل میں قائل ہو گیا اور اس رشتے پر راضی ہو گیا اور بہن کا منہ بن گیا. بہن نے ماں کو سمجھانا چاہا 

"دنیا میں اور بھی بہت لڑکیاں خوبصورت موجود ہیں ضروری ہے کہ ہم مجبور ہو کر اسی گھر سے رشتہ لیں جو بے جوڑ ہو."

ماں نے جواب دیا 

"اس لڑکی سے اچھی اور کوئی لڑکی ابھی تک نہیں ملی اور اس گھرانے سے زیادہ اور کوئی اچھا گھرانہ نہیں."

بہن لاجواب ہو گئی.


نمرہ کا نکاح ہو گیا اور وہ دل میں سب کو زینب کو مس کرنے لگی. جب اسے پتا چلا کہ تایا کی طبیعت خراب ہو گئی ہے تو وہ فکرمند ہو گئی. اسے ان سب کی کمی شدت سے محسوس ہوئی.

 خالہ کے بیٹے نے ماں سے ڈیمانڈ کر دی کہ رخصتی بھی ابھی کرنی ہے. اب وہ میری بیوی بن چکی ہے اور میں اپنی خوبصورت بیوی کو ادھر اکیلے نہیں چھوڑ سکتا. خالہ نے بیٹے کو بہت سمجھانے کی کوشش کی 

"ابھی ایسا کرنا جلدبازی ہے." 

مگر وہ بولا، 

"میں اب اس کے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ میں اس سے پیار کرتا ہوں."

نمرہ کی ماں نے بھی اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی، کیونکہ وہ ابھی ذہنی طور پر بیٹی کو رخصت کرنے پر تیار نہ تھی.

اس نے نمرہ کے باپ سے فریاد کی تو وہ بولا، 

"اب قانونی طور پر وہ اس کی بیوی ہے وہ چاہے تو لے کر جا سکتا ہے. اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں."

ادھر خالہ کی بیٹی بھی چاہتی تھی کہ آج ہی رخصتی ہو جائے اور ماں کا اکیلا پن بھی دور ہو اور شادی کا خرچہ بھی بچے.

اس نے دیکھا کہ ماں رضامند نہیں ہے تو اس نے پرے جا کر ماں کو یہ ساری باتیں سمجھائیں تو وہ نیم رضامندی سے بولی، 

"ویسے کہتی تو، تو ٹھیک ہے پر جہیز کا کیا ہو گا. اس کے تایا اس کو بہت سا جہیز دیں گے."

بیٹی بولی، 

"اماں ہوش کے ناخن لو، لالچ میں آ کر اپنے سر پر شادی کا خرچہ نہ بڑھاؤ. ان لوگوں کو اب بھول جاؤ، جو نکاح میں شامل نہ ہوئے وہ اب آگے بھی کچھ نہیں کرنے والے. ان لوگوں نے ان کو دوست کے آگے ذلیل کروایا ہے اس میں زیادہ ہاتھ آپ کا ہے."

ماں بولی، 

"چل ٹھیک ہے یہ گھر تو بیٹی کو ہی ملے گا ناں اکلوتی جو ہے."

نمرہ رخصتی کے وقت کافی روئی. ماں نے پیار سے سمجھایا 

"تو اپنی خالہ کے گھر جا رہی ہے. فکر نہ کر کل میں آؤں گی."

شوہر نے کہا، 

"ابھی ساتھ جاؤ تاکہ بیٹی کو تسلی رہے."

وہ بھی ہمراہ چل پڑی.



Continue Reading
Episode 4
دل کی ڈارلنگ4

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry