Dil ke Darling
6 Episodesپانچواں حصہ - Part 5
نمرہ کی ماں اب نمرہ کی بہن کے گھر شادی کر کے بہت پچھتا رہی تھی. وہ اب اس کی نیت جان چکی تھی کہ پیار سب دکھاوا تھا. وہ اپنے جیٹھ جٹھانی سے بھی معافی مانگنا چاہتی تھی. ان کے ساتھ تعلق تھا تو اس کی خاندان بھر میں ایک اہمیت تھی مگر ان سے بگاڑ کر اس کی ساری اکڑ نکل چکی تھی. اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ اس کو کتنے فائیدے دیتے تھے.
ان کے ساتھ ہوتے ہوئے اس کی جیب سے ایک آنہ بھی خرچ نہ ہوتا تھا. اب بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے بھی اس کا کافی خرچہ ہو چکا تھا. وہ ان سے معافی مانگنے جانا چاہتی تھی. بڑی مشکل سے میاں کو راضی کر کے لے کر گئی. وہ لوگ اکھڑے سے ہی رہے.
زینب سلام کر کے اندر چلی گئی. زینب کی ماں نے زینب سے کہا،
"زینب چائے بنا کر لاؤ."
نمرہ کے باپ نے کہا،
"نہیں بھابھی ہم پی کر آئے ہیں"
زینب کے باپ نے کہا،
"میں زرا آرام کر لوں"
وہ اندر چل پڑے. نمرہ کی ماں کا موڈ تھا کافی دیر بیٹھنے، چاے وغیرہ پینے اور پرانی روش پر انہیں لانے کا. مگر وہ تو لفٹ ہی نہیں کرا رہے تھے. نمرہ کے باپ نے بیوی کو چلنے کا اشارہ کیا.
وہ خاموشی سے اٹھ کر چل پڑی. گھر آ کر نمرہ کے باپ نے غصے سے کہا،
"اب بھگتو ساری زندگی اپنی کرنی، انہوں نے معاف کر کے بھی نہیں کیا، کہاں تم اس گھر میں دندناتی جب جی چاہا چل پڑتی تھی. حالانکہ تم نے ان سے علیحدہ رہنے کا مطالبہ کیا، سوچو وہ کتنے دکھی ہوئے ہوں گے، لیکن پھر بھی انہوں نے تمہاری خواہش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے درگزر کیا. اور تمہیں اسی طرح مان دیتے رہے. نمرہ کی فرمائشیں اسی طرح پوری کرتے رہے، مگر تم ماں بیٹی نے انہیں کتنا دکھ دیا. اب درمیانی دروازہ ہر وقت لاک رہتا ہے."
نمرہ کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بہن کو کوسنے لگی
"وہ ہر وقت جب بھی آتی مجھے ان لوگوں کے خلاف بھرتی رہتی."
شوہر نے کہا،
"کیا تم میں سوجھ بوجھ، عقل نہیں تھی."
وہ روتے ہوئے بولی،
"کاش میں عقل سے کام لیتی. کیسے اتنا اچھا خاندانی، امیر رشتہ چھوڑ کر اپنی ہیرے جیسی بیٹی کو اس گندے محلے کے اس خستہ حال گھر میں ہمیشہ کے لیے جھونک دیا."
شوہر نے کہا،
"اچھا اب بس چپ ہو جاؤ، میں جانتا تھا کہ تم کچے کانوں کی بےوقوف عورت ہو. جس کو انسانوں کی پہچان نہیں ہے. چلو اب آئندہ کے لیے سنبھل جاؤ، مجھے یقین ہے کہ میرا بھائی ابھی بہت دکھی اور غصے میں ہے. وقت کے ساتھ بہتر ہوتا جائے گا. پہلے جیسا شاید نہ رہے مگر وہ سارے بہت نیک فطرت اور رحم دل لوگ ہیں. زیادہ عرصہ ناراض نہیں رہیں گے. اب چپ کر جاؤ اور صبر سے کام لو، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور اب بیٹی کا نصیب سمجھ کر سمجھوتہ کر لو. اسی میں اس کی بھی بھلائی ہے. اب اسکا دل سسرال، سے شوہر سے اور ساس سے برا نہ کرنا. ورنہ تباہی آ جائے گی، اب وہی اس کا نصیب ہے. ورنہ اسکا دل سسرال میں نہیں لگے گا. ادھر اسے رات رکنے کا نہ کہنا. اگر ساس اسے کام کاج میں سختی کرے تو تم نے دخل اندازی نہیں کرنی. بیٹی کو سختیاں جھیلنے دینا، اسے کندن بننے دینا، اسے شہہ نہ دینا ورنہ اس کی ساس سے کھبی دوستی نہیں ہو سکے گی. اگر تم نے اسے خراب کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا، میں تم سے بہت نالاں ہوں اور مجھے بھائی سے فاصلے بڑھانے والی، الگ رکھنے والی تم ہو، یہ نہ ہو کہ میں اگلی پچھلی کسریں نکال دوں. میں نے تمہارے پیار میں تمہاری ہر جائز ناجائز خواہش پوری کی ہے. میں عورت پر ہاتھ اٹھانا بزدلی سمجھتا ہوں. کیونکہ عورت بہت نازک سی ہوتی ہے. اس لئے شدید غصہ آنے کے باوجود میں نے تم پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا. مگر یاد رکھنا، اب میں بیٹی کی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گا. تم نے میری باتوں پر عمل نہ کیا تو میں طلاق دینے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا. اسے محض دھمکی نہ سمجھنا. کیونکہ میرا دل تم سے میلا ہو چکا ہے."
یہ کہہ کر وہ کمرے میں چل پڑا.
بیوی ہکا بکا اسے جاتا دیکھتی رہی. اس کے بدلے رویے پر وہ حیران تھی. اب وہ اس سے فالتو بات تک نہیں کرتا تھا.
زینب نے ماں سے پوچھا،
"ماما کیا میں نمرہ آپی کو شادی کی مبارک باد کا میسج کر دوں."
اس کے بابا جو ادھر سے گزر رہے تھے جھٹ بولے،
"نہیں ضرورت. انہیں احساس ہونے دو."
شایان نے شرط رکھ دی کہ نکاح سے پہلے وہ پانچ منٹ کے لئے زینب سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہے.
گھر والے پریشان ہو گئے مگر وہ اپنی ضد پر اڑ گیا. اس کے باپ نے زینب کے باپ کو فون پر بتایا تو وہ بولا،
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے."
سب لوگ زینب کے گھر پہنچے. شایان کی بہن کا منہ قدرے بنا ہوا تھا. اسے بھائی کے لیے اتنی خوبصورت بھابھی ہاتھ سے جانے کا بہت غم تھا.
شایان نے ساس سسر کے روم میں زینب سے بیٹھ کر بات شروع کی. زینب بہت پر وقار طریقے سے صوفے پر بیٹھ گئی.
شایان اس کے پر اعتماد انداز پر تھوڑا حیران سا ہوا. کیونکہ پچھلی بار جب وہ آیا تھا تو اس وقت وہ بلکل چھوٹی سی بچی کی طرح behave کر رہی تھی. بات بات پر خوشی سے ہنس رہی تھی. اسے جیجا جی جیجا جی بار بار کہہ کر خوب چھیڑ رہی تھی. مگر اب بلکل سنجیدہ سی اور سمجھدار سی لگ رہی تھی جیسے اس سے پوچھ رہی ہو کہ ایسی کیا بات ہے کہ آپ مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں. اگر آپ اس رشتے سے ناخوش ہیں تو کوئی بات نہیں ہے. میں زبردستی کی قائل نہیں. کیونکہ یہ عمر بھر کا ساتھ ہے چند دن کی بات نہیں.
شایان جھٹ بولا،
"دیکھو گڑیا، میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے عمر میں بہت چھوٹی ہو. ابھی تمہاری پڑھائی بھی نامکمل ہے. اگر تم اس وجہ سے کسی دباؤ میں آ کر ہاں کر رہی ہو کہ پہلا رشتہ ٹوٹ گیا تو بدلے میں تم مرؤت میں اپنی زندگی داؤ پر لگا دو تو یقین مانو، میں سب سنبھال لوں گا تم اتنا بڑا قدم مت اٹھاؤ. اپنی پڑھائی مکمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں وقت آنے پر تمہاری ایج کا جوڑ ضرور مل جائے گا انشاءاللہ."
زینب نے ایک لمبی سانس بھری اور ادھر ادھر دیکھ کر بولی،
"پہلی بات یہ ہے کہ میرے والدین صرف میری وجہ سے اپنے بیٹوں، پوتے پوتیوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں. وہ عمرہ کرنے نہیں جا سکتے. میرا فرض ادا کرنے کی ہر والدین کی طرح فکرمند رہتے ہیں. ان کے مسائل کے آگے میرا ڈاکٹر بننے کا شوق کوئی معنی نہیں رکھتا. بابا نے بہت مان سے میرا رشتہ آپ کی طرف کیا ہے. تو میں ان کا غرور بننا چاہتی ہوں انہیں دکھ دینے، مان توڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی. رہی عمر کی بات تو آپ مجھ سے بیس سال بھی بڑے ہوتے یا بابا مجھے کسی انپڑھ سے بھی شادی کا کہتے تو میں انکار نہ کرتی. والدین دنیا میں وہ واحد ہستی ہیں جو کم از کم اپنی اولاد کا برا نہیں سوچ سکتے. باقی اگر اس کی اپنی قسمت خراب ہو تو والدین کو زمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے. حالانکہ کھبی لو میرج بھی ناکام ہو جاتی ہے. باقی میں شادی تک ڈاکٹری پڑھ رہی ہوں. اس کے بعد میں نام بھی نہیں لوں گی. اور گھر داری ویسے مجھے میری ماما نے سب سکھائی ہے پھر بھی میں سب کو خوش رکھنے کی پوری کوشش کروں گی. ویسے میں آپی نمرہ کی طرح بہت خوبصورت نہیں ہوں، اگر آپ کسی خوبصورت ہمسفر کی تلاش میں ہیں تو بے شک انکار کر دیں. آپ کے انکار سے وہ اتنے ہرٹ نہیں ہوں گے جتنا میرے انکار سے."
شایان نے لمبی سانس کھینچی اور پیار سے دیکھ کر بولا،
"میں نہیں جانتا تھا، میری گڑیا رانی کا دل بھی اتنا خوبصورت ہے جتنی وہ خود ہے اور مجھے ایسی ہی سمجھدار سی، سب کو مان دینے والی، عمدہ سوچ کی لڑکی چاہیے تھی جو تم اس پر فٹ آتی ہو. بس مجھے اب کوئی اعتراض نہیں میری ٹینشن ختم ہو چکی ہے. پانچ منٹ سے شاید زیادہ وقت گزر گیا ہے اس لئے میں اب اپنی گڑیا رانی کو ہمیشہ کے لیے اپنانے جلدی سے جا رہا ہوں. اوکے."
وہ یہ کہہ کر تیزی سے خوش خوش سمائل دیتا ہوا آیا، گھر والے سب پریشان انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے.
اسے خوش دیکھا اور جب اس نے معزرت کرتے ہوئے کہا،
"مولوی صاحب نکاح جلدی شروع کریں، تو سب کے چہرے کھل گئے.
نمرہ کے صرف ماں باپ نکاح میں شامل ہوئے اور شرمندہ شرمندہ سے رہے. مگر شایان کے گھر والے ان سے بہت تپاک سے ملے.
نمرہ ادھر زینب کے نکاح کا سن کر بہت تڑپ رہی تھی. زینب نے اسے شادی کی مبارک کا میسج کیا تھا. نمرہ رو پڑی تھی. اسے زینب بہت یاد آ رہی تھی. وہ باتھ روم میں جا کر چھپ چھپ کر روتی رہی تھی. کیونکہ اگر سامنے روتی تو خالہ نے طعنے دینے تھے کہ وہ پچھتا رہی ہے.
اسے تائی کی نصیحت آمیز باتیں اکثر یاد آ جاتی تھیں جن پر عمل کر کے وہ قدرے ایزی ہو جاتی تھی. تائی کہتی تھیں کہ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے جو بھی قسمت میں ملا ہو. چاہے شوہر ہو. غربت ہو، یا کوئی اور مسئلہ، سب پر شکر کرنا چاہیے. اگر ہم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ناشکری کرتے ہیں تو اکثر وقتی طور پر اللہ تعالیٰ اس نعمت کو ہم سے دور کر دیتے ہیں اور اگر تھوڑی تکلیف پر صبر نہ کیا جائے تو وہ تکلیف بڑھ بھی جاتی ہے اور لمبی بھی ہو جاتی ہے. اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھ کر صبر کیا جائے تو وہ تکلیف جلد ختم ہو کر خوشیوں میں بدل جاتی ہے.
وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگی کہ عادل تو اس کے ساتھ بہت اچھا ہے. اس نے سوچا کہ بجائے ساس کی ڈانٹ پھٹکار سن کر کام کاج کرنے سے بہتر ہے کہ وہ خود ہی گھر کے کاموں میں دلچسپی لے.
عادل نے اپنے آفس میں اس کی جاب کی کوشش شروع کر دی تھی. مگر ابھی تین چار ماہ بعد ملنے کی امید تھی. نمرہ نے عادل سے کہا کہ وہ اسے نیٹ پیکج کروا دے تاکہ وہ نیٹ پر سے دیکھ کر کوکنگ کر سکے.
وہ پڑھی لکھی تھی. ساس اس کی کمزوریوں پر نظر رکھتی تھی اور خوب طعنے دیتی تھی. عادل اگر سامنے ہوتا تو اس کی فیور لے کر ماں کو ٹوک دیتا. ساس اس کے جانے کے بعد اس سے خوب بدلے لیتی.
وہ کہتی
"تو نے اپنی چٹی چمڑی سے میرے شریف اور بھولے بھالے بیٹے کو پھنسا لیا تھا. جہیز میں بھی کچھ نہ لائی. غریب جھگی والے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتے ہیں مگر تمہارے والدین تو بہت چالاک نکلے. میں نے سوچا تھا کہ تایا خوب دھوم دھام سے ڈھیروں جہیز کے ساتھ رخصت کرے گا مگر وہ تو لاتعلق ہی ہو کر بیٹھ گئے. سلامی تک نہ دی. اپنی بیٹی کے نکاح پر بھی بلانے کی زحمت گوارا نہ کی. ہماری کوئی عزت نہیں ہے ان کی نظر میں. میرا بیٹا تو ان کے گھر کا داماد تھا. رشتے سے انکار تیری ماں نے کیا تھا، ہمارا کیا قصور، میرے بیٹے کا کیا قصور."
عادل گھر آ کر پوچھتا کہ امی نے کچھ کہا تو وہ کہتی
"نہیں"
وہ ماں کو جانتا تھا کہ وہ باز آنے والی نہیں.
مگر نمرہ نم آنکھوں سے کہتی،
"نہیں کچھ نہیں کہا"
اور چل پڑتی تاکہ عادل اس کے آنسو نہ دیکھ سکے.
نمرہ نے آج کپڑے دھونے والی مشین لگائی ہوئی تھی. ساتھ میں اس کی طبیعت بھی خراب تھی. مگر پھر بھی وہ کام میں لگی رہتی،
اسے دوائی کھانا سخت برا لگتا تھا، اس لیے اپنی خراب صحت کے بارے میں عادل کو کچھ نہ بتاتی.
پڑوس میں ایک خالہ آ جاتی تو اس کا دل بہل جاتا. وہ کافی ہمدرد تھی. اس کو کہتی،
"بیٹی، حاملہ عورت جتنی گھر کے کاموں میں ایکٹیو رہتی ہے اتنی اس کی بھوک کھلتی ہے اور وہ آپریشن سے بچ جاتی ہے. بس بھاری چیزیں وزن نہ اٹھانا، اور فروٹ اور اپنی خوراک پر دھیان دینا."
وہ اسے ساس سے چوری فروٹ کھانے پینے پر زور دیتی. نمرہ کی نند بھی بہت اچھی تھی. وہ آتی تو اس کے لیے کوئی چٹ پٹی چیز لے کر آتی.
چار ماہ اس نے ساس اور عادل سے چھپائے رکھا کہ وہ زبردستی اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا اور پھر اسے زبردستی دوائی کھلائے گا.
صرف نند کو اصل وجہ بھی بتا دی. وہ بہت خوش ہوئی اور بولی،
"بھابھی میں خود آپ جیسی ہوں. میرے بچے الحمد للہ نارمل پیدا ہوئے، کہ میں نے اپنی خوراک کا خاص خیال رکھا. تم زبردستی کھایا کرو، شکر کرو تمہیں الٹیاں نہیں ہوتی، ورنہ کمزوری بڑھ جاتی. دل متلی ہوتا ہے تو پھر بھی الٹی نہ ہونے سے جسم میں طاقت تو رہتی ہے."
نمرہ نے ماں سے بھی چھپایا کہ وہ خالہ کو بتا دیں گی. خالہ اب بےفکری ہو کر گاؤں چلی جاتی، کھبی رشتے داروں کے گھر چلی جاتی. نمرہ سکون سے کام سیکھتی اور کرتی. مگر اس کے آتے ہی سارا ماحول خراب کر دیتی. بیٹی کو ڈانٹ کر اسے اس سے دور رہنے کا کہتی. اس کی بہت برائیاں کرتی. بیٹی فیور لیتی تو بیٹی کو طعنے دیتی کہ تجھے ماں سے بڑھکر ہو گئی ہے.
آجکل عادل ایک نئ نوکری کی تلاش میں تھا. اس کی کوششوں میں لگا ہوا تھا. بہت اچھی نوکری تھی جو گاڑی بھی دے رہے تھے. اس سلسلے میں وہ انٹرویو کی تیاریاں بھی کرتا تھا اور میل ملاپ کے لوگوں سے بھی اس سلسلے میں ملتا تھا. وہ بہت بزی تھا، گھر لیٹ آتا تھا.
اسے نئی نوکری مل گئی اور ٹریننگ کے لیے اسے کم از کم بیس دن کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا. اس نے سوچا کہ نمرہ کی جب سے شادی ہوئی ہے وہ میکے نہیں گئی تو اسے والدین کے گھر چھوڑ دیتا ہوں اور بہن آ کر ماں کو دیکھ لے گی ویسے بھی اس محلے میں اکیلے کوئی ڈر نہ تھا، ماں پہلے بھی اکیلی رہتی تھی جب اسے کھبی جانا ہوتا.
مگر ماں نے قیامت برپا کر دی کہ وہ اس لیے بہو کو بیاہ کر لائی تھی کہ وہ اسے اکیلے چھوڑ کر چل پڑے. بیٹی نے بھی بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی، نمرہ نے خود ہی جانے سے انکار کر دیا. تو عادل سانس بھر کر بولا،
"میں تمہیں کوئی سکھ نہ دے سکا"
نمرہ نے کہا،
"آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ناں، میں اکیلے کیوں چھوڑ کر جاؤں انہیں."
نمرہ کی ساس جو ان کی باتوں کی طرف کان لگائے رکھتی تھی کافی حیران ہوتی تھی کہ آخر اس لڑکی کو عقل کیسے آ گئی ہے. وہ تو بہن سے جلتی تھی اور اس حسد میں اس کی بیٹی سے بدلے لینا چاہتی تھی کہ بہن خوشحال کیوں ہے. مگر بیٹی تو کوئی گلہ ہی نہیں کرتی تھی.
اب وہ تھوڑی اس سے نرم پڑتی جا رہی تھی مگر پھر بہن کی ٹھاٹھ کا سوچ کر دل تنگ کر لیتی کہ جس خوشحالی کے لئے وہ ساری زندگی ترستی رہی وہ اسے کیوں نصیب نہ ہوئی. اس کا شوہر بھی اس پر فدا رہتا، اس کی ہر بات مانتا،
جبکہ اس کا شوہر اس کی بری عادتوں کی وجہ سے غصہ دیکھاتا رہتا. اس کی ناجائز باتوں پر ٹوکتا، اس سے نالاں رہتا. اور اس سے سیدھے منہ بات نہ کرتا. اس کی لالچی طبیعت کی وجہ سے اسے مارتا بھی. مگر وہ اپنی روش سے باز نہ آتی. سب کے سامنے اس کی بےعزتی کر دیتا.
جبکہ نمرہ کا باپ بیوی کو عزت دیتا. نمرہ ماں کو فون کر کے خیریت معلوم کر لیتی اور عادل کی بہت تعریف کرتی. ساس کی بھی تعریف کر دیتی کہ وہ بہت خوش ہے. ماں سب جانتی تھی اپنی بہن کے رویے کو بھی. مگر وہ کچھ نہ بولتی کہ شوہر نے بہت سخت دھمکی دی تھی. دانیال بہت مصروف تھا بہت کم فون کرتا.
نمرہ نے اپنے آپ کو گھر کے کاموں میں کافی تاک کر لیا تھا. سوائے روٹی گول پکانے کے. جس کی وجہ سے ساس کے طعنے سننے پڑتے.
نند کہتی،
"امی یہ تو سوچیں اس نے کتنی جلدی سارے کام سیکھ لیے ہیں. اگر روٹی گول نہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے."
نمرہ کو تایی، تایا سب لوگ بہت یاد آتے. اپنے کزنز جو بھائیوں سے بڑھ کر اس کے لاڈ اٹھاتے تھے.
ادھر اب زینب کی شادی کی تیاریاں شروع تھیں اور اس کے بھائی اپنی فیملیز کے ساتھ پاکستان آ رہے تھے۔ چھ ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھی گئی تھی کہ اس کے بھائیوں کو چھٹی نہیں مل رہی تھی.
ساس نے نمرہ کو صاف منع کر دیا تھا کہ اگر شادی پر وہ بلائیں گے بھی تو وہ نہیں جائے گی نہ ہم جائیں گے. نند نے کہا بھی تھا
"امی زینب اس کی بہن جیسی ہے ایک ہی گھر میں اکھٹی دونوں پلی بڑھی ہیں. آپ اس کے ساتھ یہ ظلم نہ کریں. شادی ایک بار ہی ہو گی اور اس کو خلش ساری زندگی رہے گی. مگر وہ نہ مانی."
عادل واپس آ چکا تھا تین ماہ بعد اسے گاڑی ملنے والی تھی. اس کا ارادہ گھر چینج کرنے کا تھا کہ گاڑی گھر گلی میں کھڑی کرنے کی جگہ نہیں ہے.
اس کی بہن بہت خوش تھی. بولی،
"بھائی نکلو اس رش والے علاقے سے. کسی سوسائٹی میں گھر لے لو. اس گھر کو بیچ کر پلاٹ لے لو اچھی جگہ پر، اور پھر گھر بنانے کی کوشش کرنا."
دانیال نے گھر دیکھنا شروع کر دیا اور گھر بیچنے کی کوشش کرنے لگا. ماں نے بہت واویلا مچایا مگر وہ نہ مانا.
وہ بیٹی کو حصہ دینے کے حق میں بھی نہ تھی. مگر دانیال اور نمرہ اسے دینا چاہتے تھے.
بہن منع کر رہی تھی.
آخر ہزار طعنوں کے باوجود بھی اس کی نہ چلی. نمرہ ہر بات کے جواب میں خاموش رہتی. وہ الزام تراشی بھی کرتی. مگر وہ سنی ان سنی کر دیتی کہ وہ اس کی زبان نہیں پکڑ سکتی تھی.
اس کی نند اس سے معزرت کرتی رہتی. اس کے بچے نمرہ سے بہت اٹیچ ہو چکے تھے. دانیال نے سسرال کے کافی قریب گھر رینٹ پر لے لیا.
اتنا قریب کہ اسے تایا کا گھر بھی چھت پر سے نظر آتا تھا. نمرہ نے ماں کو بتایا تو وہ خوش ہونے کی بجائے پریشان ہو گئی. اس بات کی سمجھ نمرہ کو نہ آئی.
نمرہ نے ماں سے فون پر پوچھنے کی کوشش کی تو وہ ٹال گئی. نمرہ اپنے گھر کی چھت پر ڈیلی چڑیا اور کوؤں کو باجرہ پانی وغیرہ یاد سے ڈالتی تھی. اب ادھر آ کر بھی وہ ایسا ہی کرتی۔
اس کی نند بہت امپریس ہوتی. کہتی
"ان بےزبانوں کی بہت دعائیں لگتی ہیں. دیکھنا اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا کتنا اجر دے گا"
نند نے کہا، اس کی دیکھا دیکھی اس نے بھی ڈالنا شروع کر دیا ہے.
"حالانکہ اتنا کوئی مشکل کام نہیں ہے مگر ہم لوگ اس طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور آپ کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ آپ غریب لوگوں کی بہت ہمدردی کرتی ہیں."
اکثر امی سے چوری غریب محلے والوں کی مدد کرتی رہتی ہیں.
نمرہ بولی،
"تائی اماں کہتی تھیں کہ ہم بڑے شاپنگ مال پر فالتو ٹپ بھی دے آتے ہیں مگر ان غریب ریڑھی والوں سے بھاؤ تاؤ کم کرواتے ہیں. بلکہ ان کو تو فالتو دینے چاہئیں. کیونکہ یہ کسی سے مانگتے نہیں ہیں. سخت محنت کے باوجود کم کما پاتے ہیں."
جہاں گھر بن رہے ہوں وہاں بھی میں کھانا پیک کروا کر کھبی بانٹتی تھی. اور برقعہ پہن کر جاتی تھی. کیونکہ تائی اماں ساتھ کسی ملازم کو بھیج دیتی تھیں وہ خود بھی یہ کام کرتی تھیں. میں نے انہیں سے سیکھے تھے.
میرے ایسا کرنے سے وہ بہت خوش ہوتی تھیں. اور بہت حوصلہ افزائی کرتی تھیں.
عادل نے گھر تو لے لیا اور پرانا سامان کافی سارا پھینک دیا. ماں بول بول کر تھک گئی. اس نے گھر سیل کیا، شرعی طور پر جو حصہ بہن کا تھا اسے دیا وہ بہت خوش ہوئی، بہت دعائیں دیں.
عادل کا گھر خالی تھا، کیونکہ وہ پرانا کافی سامان پھینک آیا تھا. مگر پھر بھی کہتا تھا کہ پہلی سیلری پر ڈرائنگ روم سیٹ کروں گا.
دانیال کو نئے گھر میں آ کر نمرہ نے خوش خبری سنائی تو وہ کافی حیران بھی ہوا اور خوش بھی. اس کے برعکس خلاف توقع ساس تو خوشی سے دیوانی ہو گئی.
نمرہ کو بہت پیار کیا، اور گلے لگا کر بہت دعائیں دیں. وہ شکرانے کے نفل پڑھ کر مٹھائی منگوائی اور بہن کے گھر چل پڑی.
گھر اب کافی قریب تھا. دروازہ کھلا تھا کیونکہ ان کی پرانی کام والی نکل رہی تھی. سلام دعا کے بعد نمرہ کی ساس نے اسے بھی مٹھائی کھلا کر خوشخبری سنائی. جب نمرہ کی ساس اندر داخل ہوئی تو بہن کچن میں کافی سارا کھانا پکا رہی تھی.
وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی یہ کیا ہے کیونکہ پاس کھانے کے خالی ڈسپوزیبل ڈبے پڑے تھے. اور نمرہ کا باپ ان میں کھانا بھر رہا تھا.
دونوں نظریں چرانے لگے. نمرہ کی ساس سمجھ گئی اور روتے ہوئے بولی،
"میری بہن اس قدر تنگدستی میں ہے اور اس عمر میں اتنا محنت طلب کام کر رہی ہے. اس سب کی ذمہ دار میں ہوں. مجھے معاف کر دو."
نمرہ کا باپ بولا،
"نہیں یہ سب ہمارے کرموں کا پھل ہے. آپ کا قصور نہیں ہے. ہم نے دوسرے کے پیسے پر بہت آرام طلبی کر لی تھی. قیامت کے دن ہم سے اس وقت کے ایک ایک منٹ کا حساب لیا جائے گا کہ ہم نے اسے کس طرح بے مقصد گزارا ہے. اب محنت کر کے کمانے سے بہت سکون کی نیند سوتے ہیں کہ وقت برباد تو نہیں کر رہے."
وہ کافی متاثر ہوئی اور بولی،
"میں نے بھی ساری زندگی امیری کے خواب دیکھے سب سے حسد کیا مگر کچھ نہ ملا۔ جب اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی شروع کی تو بیٹے کو اچھی نوکری مل گئی، گاڑی مل گئی اور بے شک کرائے کا ہے مگر پیارا گھر ہے. اس علاقے میں رہنے کو میں ترستی تھی. اب اللہ تعالیٰ نے سن لی."

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.