Dil ke Darling
6 Episodesچوتھا حصہ - Part 4
نمرہ کو سسرال لے جا کر کمرے میں بٹھا دیا گیا اور اونچی آواز میں ڈیک لگا دیا گیا. دولہے کے دوست اس کے روم کو سجانے لگ پڑے. آفس کے ساتھی گھر چلے گئے. محلے کے چند دوست اور چند قریبی رشتے دار جو ساتھ گئے تھے وہی موجود تھے. چھوٹی بچیاں ڈانس کر رہی تھیں.
نمرہ تھک چکی تھی. اس کی ماں خالہ کے ساتھ لگ کر بریانی کی دیگ جو پکی پکائی لائے تھے وہ کھانا سرو کرنے لگی.
نمرہ کو پیاس لگی. اس نے ایک چھوٹی بچی سے پانی لانے کا کہا۔ وہ بھاگ کر گئی اور ایک سٹیل کے پرانے سے گلاس میں پانی لے آئی.
نمرہ نے گلاس دیکھا اور بولی،
"جاؤ دولہے انکل کو بلا لاؤ.
وہ باہر صحن میں کھڑا کھانا سرو کر رہا تھا. وہ کمرے میں آیا اور کمرے میں مہمانوں کو دیکھ کر شرما کر واپس چلا گیا.
نمرہ کو بہت غصہ آیا. اس نے بچی سے کہا،
"میری ماما کو بلا لاؤ."
وہ گئی اور بلا لائی. ماں دوڑی آئی.
نمرہ نے ماں کو ادھر ہی قدرے دھیمی آواز میں سنانا شروع کر دیا
"مجھے اتنی دیر سے پیاس لگی ہے. مجھے منرل واٹر لے کر دیں."
ماں اس کے غصہ دیکھانے پر قدرے شرمندہ سی ہو گئی کیونکہ کچھ خواتیں مسکرا رہی تھیں.
ماں تیزی سے باہر گئی اور داماد سے بولی،
"کچھ دولہن کی بھی فکر کر لو اسے کب سے پیاس لگی ہوئی ہے پانی کی بوتل لے کر دو اسے."
خالہ نے دیکھا بہن داماد سے باتیں کر رہی ہے. جلدی سے باہر آ کر بیٹے کو ڈانٹنے لگی
"جلدی کام کرو کیا کر رہے ہو."
نمرہ کی ماں نے بہن سے کہا،
"آپا نمرہ بے چاری کو کب سے پیاس لگی ہے"
مگر اس نے سنی ان سنی کر دی. نمرہ کی ماں بہن کے رویے سے تھوڑی حیران ہوئی.
پھر اس نے اس کی نند کو جا کر احساس دلانے کی کوشش کی
"بھابھی کو بھی کھانا پانی پوچھ لو."
وہ بولی،
"خالہ میں بچے کو زرا دیکھ لوں پھر جاتی ہوں."
نمرہ کی ماں نمرہ کی بےقدری پر کافی حیران و پریشان تھی. اتنے میں داماد ساس کو پانی کی نئی بوتل پکڑا رہا تھا کہ ماں نے دیکھ کر پھر اسے زور سے آواز دے کر بلا لیا.
نمرہ کے گھر پر نیٹ لگا ہوا تھا اور اس نے موبائل پر پیکج نہیں کیا تھا. اتفاق سے اس کے پاس بیلنس بھی کم تھا. وہ بور ہو رہی تھی. کیونکہ رشتے دار عورتیں اپنی باتوں میں مگن تھیں.
اس کا شوہر اس کی بات نہیں سن رہا تھا نہ ہی کال اٹھا رہا تھا. نمرہ کی ماں کو رعب سے بہن نے کام پر لگایا ہوا تھا.
پھر بھی وہ موقع پا کر بیٹی کو دیکھ جاتی تھی. رشتے دار عورتیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں مگر آوازیں نمرہ تک آ رہی تھیں.
عورتیں کہہ رہی تھیں
"بےچاری کتنی لاڈلی تھی پر قسمت دیکھو، کن لوگوں سے جڑی. بےچاری کے نصیب پھوٹ گئے"
نمرہ تھوڑی حیران ہونے لگی اور سوچنے لگی کیا واقعی میرے نصیب پھوٹ چکے ہیں. وہ خالہ کے رویے سے سوچنے پر مجبور ہو چکی تھی. وہ پہلے بھی خالہ کے گھر آتی جاتی تھی مگر اس نے اس کے بیٹے سے پیار کرتے وقت دور کی نہیں سوچی کہ یہ خستہ حال گھر اب اسکا مقدر ہے. عورتیں اس کی قسمت پر افسوس کر رہی تھیں.
نمرہ کو تایا کا خیال آ گیا اس نے سوچا کہ وہ باپ سے فون کر کے تایا کا حال پوچھ لے. اس نے فون کیا تو باپ نے کہا،
"وہ اب کافی بہتر ہیں اور گھر آ چکے ہیں"
اور ان کے رویے کا بھی بتایا اور کہا،
"ان سب کی وجہ، میرے بھائی کو مجھ سے دور کرنے والی تم ماں بیٹی ہو. تم لوگوں کی خالہ، تایا اور باپ کی عزت سے زیادہ عزیز ہے. تایا کو دوست کے آگے ذلیل کروا دیا. اب کان کھول کر اچھی طرح سن لو، ادھر کھبی روٹھ کر مت آنا. اور نہ ہی رہنے کے لیے. تھوڑی دیر کے لیے آؤ، رات کو اپنے گھر واپس اور اگر تمہارا شوہر یا خالہ مکان کا مطالبہ کریں تو یاد رکھنا، وہ میں جیتے جی خود بےگھر ہو کر ان کو نہیں دے سکتا. اگر زبردستی کی تو تمہاری ماں کو بھی طلاق دے کر ادھر ہی بھیج دوں گا. اپنے گھر میں دل لگانے کی کوشش کرو. کاش میں یہ سب پہلے کرتا تو تم ماں بیٹی آج اپنی من مانی نہ کرتی. تم اس دلدل میں نہ پھنستی. تم نے اپنے لیے یہ سزا خود چنی ہے. اب خالہ کا حکم مانتی رہو گی تو قدرے سکھی رہو گی. اس سے اختلاف کیا تو ہر لمحہ دوزخ بن جائے گا. اسے اب اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر کے ادھر ہی دل لگانے کی کوشش کرنا، کیونکہ اب وہ پرانا وقت دوبارہ کھبی لوٹ کر نہیں آئے گا. اب نئے وقت کو اچھا بنانے کی کوشش کرو. شوہر کی عزت کرو اور خالہ کو اپنی خوشیوں کی دشمن سمجھنے کی بجائے ماں سمجھ کر گزارا کرو.
تمہارے باپ کے پاس آمدن کا کوئی زریعہ معاش نہیں ہے. میں بھائی کے زیر سایہ مگن تھا مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا. اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں. مگر اب میں بھائی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا. بھوکا رہ لوں گا مگر عزت کی زندگی اور غیرت کی زندگی گزاروں گا. تمہاری ماں کے دل میں بھی لالچ تھا اور میں بھی سست اور کام چور تھا. اب ہمیں زریعہ معاش کے لیے کچھ کرنا پڑے گا. کھبی بھی دوسرے کے پیسے پر نظر نہیں رکھنی چاہیے. وہ اپنا نہیں ہوتا. تم میری بیٹی ہو، مجھے تمہاری قسمت کا بہت دکھ بھی ہے. میں اگر تمہیں روکنا بھی چاہتا تو تم اور تمہاری ماں رکنے والی نہ تھیں. اب تم سسرال کے مسئلے ادھر مت لے کر آنا نہ ہی ماں کو پریشان کرنا. کیونکہ تمہاری وجہ سے اب وہ تنگ دستی کی زندگی بسر کرنے والی ہے. اس کی مشکلات میں اور اضافہ نہ کرنا. میں تمہارے لیے دعا بھی کروں گا. جلد تمہیں ان سب چیزوں کی عادت بھی پڑ جائے گی. دوسروں سے شکوہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے بہتری کی دعا کرنا. اللہ تعالیٰ ضرور سنیں گے اور مشکلات سے نکل جاؤ گی انشاءاللہ."
نمرہ نے فون بند کیا اور آنسو اس کی آنکھوں سے مسلسل بہنے لگے. اسے اب اپنی بری قسمت سامنے نظر آنے لگی. وہ پچھتانے لگی مگر پھر باپ کی نصیحت یاد آنے لگی کہ اب اسے یہ سب اکیلے ہی بھگتنا پڑے گا. اگر وہ اپنے دکھ والدین سے شئیر کرے گی تو اپنے ساتھ ان کی زندگی میں بھی دکھ بھر دے گی. اس لئے اس نے دل میں ٹھان لیا کہ وہ اپنے کمزور سے دبلے پتلے باپ کو دکھ نہیں دے گی اور ماں جو بہن کی محبت میں اتنی آس سے اسے ادھر لائی ہے اسکا مان نہیں توڑے گی. اسے اپنے باپ کی یاد شدت سے ستانے لگی جس کی اس نے کھبی خدمت نہیں کی تھی اس کو کھبی سیریس نہیں لیا تھا. اس کو کھبی اہمیت نہیں دی تھی. وہ اپنے شوق پورے کرنے میں مگن رہی. اب اس کے بابا اس سے بہت دور ہو چکے تھے اب چاہ کر بھی وہ ان کے پاس نہیں رہ سکتی تھی. اسے تایا تائی، زینب اور اس کے بھائی بھی یاد آنے لگے جو اس کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے. وہ اب ان سب پیارے رشتوں کو کھو چکی تھی. اس نے سوچا، جن کے لئے اس نے ان سب کو کھویا ہے اب ان کو بھی اگر کھو دیا تو پھر کچھ نہ بچے گا. اب وہ دوبارہ تایا اور ان کی فیملی کے دل میں وہ مقام نہیں بنا سکتی، اگر دوبارہ وہ اس کی طرف مڑے بھی تو وہ پہلے والی بات نہ ہو گی. کتنی سیلفش بن گئی تھی وہ کہ ان لوگوں سے مل کر بھی نہ آئی. وہ مسلسل روتی رہی. رشتے دار عورتیں اسے دلاسے دینے لگیں
"اب جی ادھر ہی لگانا پڑے گا اب یہی اصلی تمہارا گھر ہے."
سب کھانا کھا کر آہستہ آہستہ رخصت ہوئے تو گھر میں اب خالہ، نند اسکا شوہر اور بچے اور ماں تھی.
ماں نے نمرہ سے کہا،
"فون ملا کر دے پوچھوں تیرے باپ نے کھانا کھایا، بےچارہ بہت اداس ہو رہا تھا."
نمرہ نے فون ملا کر دیا تو وہ بولے،
"ہاں کھا لیا ہے اور اب دوائی کھا کر سونے لگا ہوں"
نمرہ کا دولہا بہت خوش تھا، سارا وقت اس کے چہرے پر مسکراہٹ رہی.
خالہ نے کمرے میں نیچے بستر لگا دیے تھے. سب کھانا کھانے لگے، نمرہ سے صیح طرح کھایا نہیں جا رہا تھا.
سب لیٹ گئے تو نمرہ کی نند اسے اس کے سجے ہوئے روم میں چھوڑ آئی. جب نمرہ نے روم سجا دیکھا تو اس کی ہنسی نکل گئی. رنگ بھرنگی جھنڈیاں آڑی ترچھی لگی ہوئی تھیں.
اسکا دولہا کمرے میں آیا اور اس کو دیکھا وہ الماری کے پاس کھڑی اپنا سامان الماری میں رکھ رہی تھی اور رات کو سونے کے لیے کوئی کاٹن کا سوٹ ڈھونڈ رہی تھی. وہ اپنے کپڑوں کا ایک بیگ چند جوڑے اور کچھ سامان ساتھ لائی تھی. ماں نے کہا تھا کہ باقی بعد میں لے جانا. شادی والا گھر ہے گم نہ ہو جائیں چیزیں.
وہ مسکرا کر بولا،
"یہ کیا میں نے سوچا تھا کہ تم گھونٹ نکالے بیڈ پر بیٹھی میرا ویٹ کر رہی ہو گی"
وہ مسکرا کر بولی،
"ایسا فلموں میں ہوتا ہے."
پھر وہ پاس آ کر اسے پیار سے دیکھتے ہوئے بولا،
"کیا کر رہی ہو"
وہ بولی،
"کپڑے نکال رہی ہوں. چینج کرنے کے لئے. بہت تھک گئی ہوں."
اس نے جیب سے انگوٹھی کی ڈبیا نکال کر اسے پہناتے ہوئے کہا،
"شادی مبارک"
وہ بولی،
"خیر مبارک"
پھر وہ اس سے معزرت کرنے لگا
"اس کی شادی دھوم دھام سے نہ کر سکا. مگر وعدہ ہے کہ جب بھی حالات اچھے ہوئے، پہلے مہندی اور پھر ولیمہ کروں گا دھوم دھام سے اور تم نے کھانا بھی ٹھیک طرح سے نہیں کھایا..
وہ بولی،
"کیا چائے مل سکتی ہے سر بھاری ہو رہا ہے کوئی پین کلر بھی لے لوں."
وہ بولا،
"میں نیچے مارکیٹ سے اچھی سی ہوٹل سے چائے بنوا لاتا ہوں ساتھ میں برگر لے آتا ہوں."
وہ چلا گیا اور وہ الماری سیٹ کرنے لگی. الماری بھی پرانے زمانے کی تھی. اس نے کاٹن کا سوٹ پہن لیا، اتنے میں اسکا شوہر آ گیا.
دونوں چائے اور برگر کھانے لگے. نمرہ کو چائے بہت اچھی لگی. برگر بھی مزے دار لگا. اس نے پین کلر بھی کھا لی،
اس کا شوہر اس کے رویے پر کافی حیران ہو رہا تھا. وہ سمجھتا تھا کہ آج ساری رات لڑتے گزرے گی. مگر وہ تو کول تھی اور ہر بات مان رہی تھی. نمرہ اس کے پیار بھرے رویے سے کافی بہل گئی اور غم کم ہو گیا.
وہ تو سمجھ رہا تھا کہ نمرہ خوب نخرے دیکھاے گی لڑے گی جھگڑے گی مگر وہ تو کول رہی.
صبح نمرہ کو چائے کی طلب بڑھی تو وہ کچن کی طرف گئی سب سو رہے تھے. آواز سے خالہ اٹھ گئی اور نمرہ نے مسکرا کر سلام کیا تو وہ حیران ہوئی کہ اسے لگتا تھا کہ اس کو سدھارنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی. اس کے نخرے برداشت کرنے پڑیں گے. مگر وہ تو خود چائے بنانے آئی تھی.
نمرہ نے خالہ سے پوچھا،
"آپ بھی چائے پیں گی."
وہ ایکدم بولی،
"کیا میں روزہ رکھوں گی ظاہر ہے پیوں گی."
اتنے میں نمرہ کی ماں بھی اٹھ چکی تھی. اس نے بہن کے لہجے کو محسوس کیا اور سوچنے لگی کہ وہ کل سے بیٹی کی بےقدری دیکھ رہی تھی.
اتنے میں نمرہ کا شوہر عادل بھی مسکراتا ہوا اٹھ کر آ گیا اور نمرہ سے بولا،
"تم کچن میں کیا کر رہی ہو"
نمرہ کی جگہ ماں نے طنزیہ جواب دیا،
"شہزادی صاحبہ سب کے لیے چائے بنا رہی ہیں."
وہ مسکرا کر بولا،
"شہزادی تو ہے وہ اس گھر کی."
اتنے میں بہن اٹھ کر آ گئی اور کچن میں نمرہ کو دیکھ کر کافی حیران سی ہو گئی. اس کا شوہر بھی اٹھ کر آ گیا اور نمرہ کو کچن میں دیکھ کر بیوی سے بولا،
"تم جاؤ کچن میں. وہ ابھی دولہن ہے"
نمرہ کی نند شوہر سے بولی،
"آپ پھر بچوں کو دیکھیں."
وہ بولا،
"میں دیکھ لیتا ہوں."
بہن نے نمرہ کو زبردستی بھیج دیا اور کہا،
"آپ جا کر تیار ہو جائیں. کوئی نہ کوئی محلے کی عورت آ جائے گی."
اتنے میں نمرہ کا شوہر عادل ناشتہ نان چنے لے کر آ گیا.
نمرہ تیار ہو کر کمرہ سمیٹ رہی تھی کہ عادل اسکا اور اپنا ناشتہ کمرے میں لے کر آ گیا اور ناشتے کے بعد نمرہ سے بولا،
"پلیز میری امی کی باتوں کا برا نہ منانا وہ دل کی بری نہیں ہیں. میں نے زبردستی رخصتی کروا لی اس لیے تھوڑی خفا ہیں لیکن امید ہے کہ ٹھیک ہو جائیں گی."
نمرہ نے کہا،
"عادل آپ پریشان مت ہوں میری ماں ہیں وہ جو مرضی بولیں میں برا نہیں مانوں گی"
عادل نے حیرت سے اسے دیکھا، تو نمرہ سمجھ گئی اور بولی،
"پتا ہے عادل جب میرا رشتہ ہوا تو تائی اماں ہر وقت مجھے اچھی باتوں کی نصیحت کرتی رہتی تھی۔ اس وقت میں خاص دھیان نہیں دیتی تھی مگر اب ان باتوں پر غور کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ وہ بلکل ٹھیک کہتی تھیں. ہم لوگ دنیا کے آدھے سے زیادہ غم خود پیدا کر لیتے ہیں. پہلے دن میں بہت اپ سیٹ تھی. موبائل میں نیٹ ورک بھی نہ تھا. میں نے ماما کو بھی سنا دیا. وہ پریشان ہو کر چل پڑیں. پھر بابا کو فون کیا تو ان کی طرف سے دل بہت خفا ہوا. اب اگر میں قسمت کا رونا روتی رہوں گی تو اپنے ساتھ سب کو بےسکون کروں گی خود بھی بےسکون رہوں گی. کیا ہوا جو میرا مہندی کا فنکشن نہیں ہوا. آج میرے ہاتھوں پر مہندی تو لگی ہے ناں. آپ نے کہا تھا میں نے لگا لی. ہم پھر کھبی کوئی اور فنکشن سیلیبریٹ کر لیں گے. اب ہمیں حالات کے مطابق سوچ سمجھ کر وقت گزارنا ہے."
وہ بولا،
"میں بہت خوش ہوں. اور تمہیں بھی خوش رکھنے کی کوشش کروں گا. میں تم سے پیار کرتا ہوں."
وہ بولی،
"جناب میں بھی تو کرتی ہوں. مجھے تائی کی بھی تربیت ملی ہے جو اب میرے کام آ رہی ہے. اس وقت تو میں اکڑ میں دھیان نہیں دیتی تھی مگر اب ان کی ہر بات کو فالو کروں گی انشاءاللہ."
اس نے اپنے کپڑوں میں سے ایک سوٹ نکالا جو نیا تھا اس نے یوز نہیں کیا تھا. کیونکہ گھر آ کر وہ اسے پسند نہ رہا تھا. اس نے وہ سوٹ نند کو دینے کے لیے نکال لیا. سوٹ مہنگا تھا.
اتنے میں نند کی بیٹی ان کے کمرے میں آ گئی تو نمرہ نے اسے نیل پالش لگائی اور میک اپ کیا.
اتنے میں اس کی نند، بیٹی کو ڈھونڈتی آئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہ نمرہ کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی. نمرہ نے اسے سوٹ نکال کر دیا اور کہا،
"باقی سب کے گفٹس ادھار ہیں."
وہ اتنا پیارا سوٹ دیکھ کر بہت خوش ہوئی، اسے گلے لگا کر بہت پیار کیا اور دعائیں دیں اور نم آنکھوں سے بولی،
"تم نے سسرال میں میری عزت بڑھا دی"
نمرہ نے اس کو پانچ ہزار دیے کہ یہ بچوں کے لیے ہیں. اتفاق سے پیچھے اسکا شوہر بھی اور ساس بھی آ گئے تھے انہوں نے بھی نمرہ کو دیکھ لیا دیتے ہوئے. شوہر کو عادل نے کہا،
"آئیں بھائی آ جائیں."
بیوی خوشی سے اسے سوٹ دکھانے لگی. نمرہ کی ساس حیران تھی. نمرہ کی نند کے شوہر نے کہا،
"اتنا گفٹ کافی ہے پیسے واپس کرو."
نمرہ نے انکار کر دیا. نمرہ سے نند دل سے خوش ہو گئی. نمرہ کو تائی اماں کی بات یاد آ گئی کہ تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے.
اس کو یاد آیا کہ تائی اماں اپنی نند کو بہت تحفے دیتی تھیں کہ اس طرح وہ فخر سے سسرال میں بتاتی ہیں کہ یہ ہمیں میکے سے ملا ہے.ان کی عزت سسرال میں بڑھ جاتی ہے اور ویسے بھی بہنوں کو گھر سے کھبی خالی رخصت نہیں کرنا چاہیے. بہنوں کو جتنا دو اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں اور بہت برکت آتی ہے.کمی نہیں ہوتی.
نمرہ کو تائی نے ایک گر کی بات بتائی تھی کہ اگر کسی کو خوش کرنا ہو تو جسے وہ پیار کرتا ہے اس کو خوش کرو، وہ خود ہی خوش ہو جائے گا.
نمرہ دل میں تائی کو دعائیں دینے لگی اور سوچنے لگی کہ وہ سب سے معافی مانگ لے گی.
نمرہ کی ماں کو بہن نے برتن دھونے پر لگا دیا. نمرہ کی نند نے دیکھا اور جلدی سے بولی،
"خالہ آپ چھوڑیں."
وہ بولی،
"بس تھوڑے رہ گئے ہیں، تم جا کر بچوں کو دیکھو."
نمرہ کی ماں، بیٹی کو مطمئن اور سمجھدار دیکھ کر حیران ہونے لگی.
نمرہ نے کہا،
"ماما اگر ہم تایا کے ساتھ نہ رہ رہے ہوتے تو میں کچھ اور ہوتی. اب تک میں آپ کے ساتھ روٹھ کر میکے جا چکی ہوتی. اور ساری زندگی دو گھروں کا سکون برباد رکھتی. ماما آپ میرے بارے میں بلکل پریشان مت ہونا، میں عادل جیسے پیار کرنے والے شوہر کو پا کر بہت خوش ہوں."
ماں نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولی،
"میں اب گھر چلتی ہوں، تیرے باپ کی فکر ہو رہی ہے"
عادل بولا،
"خالہ کیسے جائیں گی. ٹھہریں میں بائک پر چھوڑ آتا ہوں."
ماں نے کچن سے آواز لگائی،
"عادل ادھر آ بات سن."
وہ
"اچھا آتا ہوں خالہ کو چھوڑ کر"
اور جلدی سے خالہ کو چلنے کا اشارہ کیا.
وہ اس کے ساتھ چل پڑی۔ چاہتی تھی کہ عادل سسر سے مل لے. اسے بیٹی کے ساتھ عادل میں بھی بدلاؤ نظر آ رہا تھا. عادل نے راستے سے سسر کے لیے ناشتہ بھی لے لیا. جانتا تھا کہ وہ بھوکا ہو گا.
جب گھر پہنچے تو وہ چائے بنا رہے تھے. عادل نے ادب سے سلام کیا تو وہ اسے دیکھ کر اور ہاتھ میں ناشتہ دیکھ کر بڑے حیران ہوئے.
وہ بولا،
"انکل میں آپ کے لیے ناشتہ لے کر آیا ہوں."
وہ دعائیں دینے لگے.
بیوی چائے بنا کر لے آئی.
عادل نے چائے پیتے ہوئے کہا
"انکل اور خالہ میں آپ دونوں سے بہت معزرت کرتا ہوں کہ میں رخصتی کروا کر لے گیا. میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں اور اسے بہت خوش رکھوں گا انشاءاللہ. میں اسے اپنے آفس میں جاب دلوا دوں گا، تاکہ وہ امی کے عتاب سے بچی رہے. امی کو کام کاج کے لیے ملازمہ رکھ دوں گا. میں جانتا ہوں امی سخت مزاج کی ہیں مگر میں، ان کو تو نہیں بدل سکتا. نمرہ میں بہت چینج آیا ہے. وہ تائی کو کریڈٹ دیتی ہے."
دونوں نے ہاں میں ہاں ملائی.
نمرہ کے باپ نے چائے پیتے ہوئے کہا،
"بس بیٹا اب مجھے تسلی ہو گئی ہے کہ تم میری بیٹی کو شیلٹر دو گے اسے خوش رکھو گے."
وہ بولا،
"میں چلتا ہوں"
ہنستے ہوئے بولا،
"ابھی گھر جا کر ماں کی ڈانٹ کے لڈو بھی کھانے ہیں."
وہ تیزی سے اٹھ کر چل پڑا کہ گھر سے فون آ رہے تھے.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.