Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodesساتواں حصہ - Part 7
کھانا کھانے کے بعد سب لاؤنج میں شاہ صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے. رانی عدن کے پاس قالین پر بیٹھی ہوئی تھی اور شفیق کو عدن نے اپنے پاس صوفے پر بٹھایا ہوا تھا. عدن نے رانی کو اوپر بیٹھنے کا نہ بولا.
شاہ صاحب نے رانی کو مخاطب کر کے کہا اوپر بیٹھو تو وہ بولی
"نہیں سر میں نے اپنی حیثیت پہچان لی ہے."
شاہ صاحب نے ایک سرد آہ بھر کر اسے دیکھا اور بولے
'نہیں تمھاری حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑا تم اب بھی اس گھر کا حصہ ہو."
عدن کو دیکھ کر بولے
"میری بیٹی میں تمھیں یہ شاکنگ نیوز نہیں دینا چاہتا تھا مگر اب مجبوری آن پڑی ہے امید ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی. بات دراصل یہ ہے کہ طیب کے آ جانے سے میں آفس اور بزنس کی طرف سے غافل ہو گیا تھا۔ مجھے ریلیکس مل گیا تھا مگر اب مجھے اس کے آنے تک دوبارہ آفس جواہن کرنا ہے۔ اس کے لیے مجھے کسی ایکسپرٹ سیکرٹری کی ضرورت ہے اور رانی اس کام کی کافی ماہر ہے اور میں اسے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں."
رانی حیران ہو کر بولی
"میں اب کیسے ساتھ کام کر سکتی ہوں."
عدن نے کہا
"کاش پاپا آپ نے طلاق نہ دی ہوتی."
رانی نے اداس شکل سے عدن کو دیکھا. شفیق نے لمبی سانس بھری.
شاہ صاحب نے کہا
"رانی کو نقلی طلاق نہ دیتا تو اس کو سدھرنے کا احساس کیسے ہوتا. عدن کے ساتھ رانی اور شفیق بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگے.
شاہ صاحب مسکرائے اور کہا
"رانی کو میں نے محض ڈرانے کے لئے نقلی طلاق دی تھی اور سوچا تھا کہ اسے ایک موقع دے کر دیکھتا ہوں۔ اگر سدھر گئی یا تم نے اسے قبول کر لیا تو بتا دوں گا۔ اگر نہ سدھری تو پھر اصل طلاق دے دوں گا۔ اب فیصلہ تمھارے اوپر ہے کہ تم اسے ماں کی جگہ دیکھ سکتی ہو ورنہ میں اب تمھیں مزید دکھ نہیں دینا چاہتا ہوں."
رانی خوشی اور جوش سے تیزی سے اٹھی اور شاہ صاحب کے پاوں پڑ کر زاروقطار روتے ہوئے فریاد کرنے لگی
"خدارا آپ مجھے طلاق نہ دیں میں کھبی بھی کچھ نہیں مانگوں گی، ہمیشہ نوکرانی کی حیثیت سے رہوں گی سرونٹ کوارٹر میں ساری زندگی بتا دوں گی۔ عدن کے بچے کو سنبھالنے اور کچن کے کام بدستور اسی طرح کرتی رہوں گی۔ عدن کی ملازمہ بن کر رہوں گی۔ بس طلاق کا داغ نہ دیں میں کوئی حق نہیں جتاؤں گی حتکہ کسی کو آپ کا اور اپنا رشتہ بھی ظاہر نہیں کروں گی۔ بس ہم باپ بیٹی کو اس گھر میں ملازمت کی حیثیت سے رکھ لیں۔ عدن جی کی شادی طیب سر کے ساتھ ہو جائے تب بھی میرے بابا کو اس گھر سے دور مت کیجیے گا۔ وہ اسی طرح ڈرائیور کی حیثیت سے رہتے رہیں گے ہمارا اب آپ لوگوں کے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہماری دنیا اب آپ لوگ ہی ہیں."
شاہ صاحب نے بمشکل اس سے اپنے پاوں چھڑائے اور اس سے کہا
"اب فیصلہ میری بیٹی کے ہاتھ میں ہے، وہ اگر تمھیں ماں کی جگہ پر رکھ سکتی ہے تو ٹھیک ورنہ میں مجبور ہوں."
رانی عدن کے پاوں پڑ گئی اور منت کرنے لگی. عدن نے بمشکل اس سے پاوں چھڑائے اور کہا
"ماں کی جگہ قدموں میں نہیں دل میں ہوتی ہے. مجھے اتنی خوشی ملی ہے یہ سن کر کہ آپ میری لیگل ماں ہیں اور میرے پاپا کی بیوی. اب میں آپ کی ایک ماں کی طرح عزت کروں گی. اس گھر کو اور میرے پاپا اور میرے بچے کو بھی آپ کی ضرورت ہے. کیوں دیں گی نا ہمارا ساتھ، بنیں گی نا میری ماما."
رانی نے روتے ہوئے مشکور نظروں سے عدن کو دیکھا اور پاس بیٹھ کر اسے گلے لگاتے ہوئے بولی
"کیوں نہیں میری گڑیا میری بچی میں اب تمھاری ماں بن کر دیکھاؤں گی آج مجھے لگتا ہے کہ میں صاحب اولاد ہو گئی ہوں"
اور اسے پیار کرنے لگی.
عدن نے بھی اسے
"ماما میری پیاری ماما آپ نے مجھے تم کہہ کر بلانا ہے اور میں آپ کو عزت سے بلاؤں گی۔ آپ نے مجھے ماں کی طرح ڈانٹنا ہے تب مجھے لگے گا کہ آپ نے میری ماں کی کمی پوری کر دی ہے."
وہ روتے ہوئے بولی
"مجھے ماما کے پیار کی ڈانٹ کی ضرورت ہے اور ماما ماما کہہ کر زور زور سے رونے لگی."
رانی نے اسے زور سے بھینچتے ہوئے کہا
"نہ رو میری شہزادی میں تمھیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی. بس کرو ورنہ۔ میری خوشی کو سیلیبریٹ کرو اور اب رونا دھونا بند کرو۔ آج تمھاری ماں کے لئے بہت بڑا خوشی کا دن ہے. اٹھو اور اچھی طرح تیار ہو جاؤ ورنہ ڈانٹ پڑے گی."
عدن نے گلے لگاتے ہوئے کہا
"اوکے مائی سویٹ ماما جانی."
باپ کو وارننگ دیتے ہوئے بولی
"آپ نے اب ان کی عزت کرنی ہے وعدہ کریں."
شاہ صاحب اٹھ کر قریب آئے اور عدن کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہا
"شکریہ میری گڑیا."
عدن نے رانی کا ہاتھ شاہ جی کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے کہا
"آپ فوراً ان کا سامان اپنے روم میں شفٹ کریں۔ اس کے بعد سب اچھے سے تیار ہو جائیں آج ہم سب پہلے شاپنگ کریں گے پھر آئسکریم کھائیں گے۔ آپ ماما کو ان کی پسند کے ڈریسز لے کر دیں گے اور میں شفیق صاحب کو اور کل سے ماما آپ کے ساتھ آفس جائیں گی اور آپ کے کام میں ہیلپ کریں گی گھر کی فکر نہ کریں میں آپ کو فالو کرنے کی کوشش کروں گی اور گھرداری سیکھوں گی. انشاءاللہ."
شفیق شاہ صاحب کے قریب آیا اور ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولا
"سر آپ نے آج مجھے دلی سکون پہنچا دیا ہے اب میں سکون سے مر سکوں گا."
عدن بولی
"اللہ نہ کرے"
شاہ صاحب نے اس کی کمر تھپکائی اور مسکراتے ہوئے رانی کو آواز دینے لگے.
رانی بچت کر رہی تھی اور شاپنگ سے منع کر رہی تھی جبکہ مہنگے کپڑوں پہ بھی احتجاج کر رہی تھی تو عدن نے دھونس جماتے ہوے پیار سے کہا
"آپ شاہ صاحب کی بیگم ہیں سمجھی. کل ان کی بیگم کی حیثیت سے آفس جائیں گی تو کم از کم کپڑے تو اچھے ہونے چاہیے میری ماما کے."
وہ بار بار اسے ماما ماما پکار رہی تھی جیسے اس لفظ کو ادا کرنے کے لیے ترسی ہوئی ہو.
رانی نے سوچا کتنی معصوم اور پیاری اور سادہ اور پیارے دل کی مالک ہے. آج اس کی وجہ سے اس کا گھر دوبارا بس گیا ہے وہ اس کی دل سے مشکور تھی اگر وہ انکار کر دیتی تو شاہ صاحب اسے اپنانے سے گریز کرتے. اب وہ دوبارہ اپنی بیٹی کو دکھ نہیں دینا چاہتے تھے اور وہ مجبور ہو جاتے اور اسے طلاق دے دیتے. انہوں نے اچھا کیا جو اسے احساس دلانے کے لئے ایسا کیا تب اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی نادان تھی جو اپنی جنت کی قدر نہ کی. اتنے نام والے شخص کی بیوی بنی. اتنے بڑے خوبصورت گھر کی مالکن بنی. نہ پیسے کی کمی نہ عزت کی کمی. اس نے دل میں معصم ارادہ کر لیا کہ وہ اب اس جنت کی قدر کرے گی اور گناہ کے راستے پر نہیں چلے گی۔ شوہر کو دل سے قبول کرے گی اور اس کی بیٹی کو سگی ماں کی طرح چاہے گی. خدا نے نہ جانے کس نیکی کے طفیل اس کو معاف کر دیا شاید اس نے سچے دل سے رب سے معافی مانگی تھی تو وہ تو بڑا غفور ورحیم ہے وہ اپنے بندوں کو ضرور معاف فرماتا ہے.
رانی نے سوچا اب وہ ان نعمتوں کی قدر کرے گی اور ناشکری نہیں کرے گی. شاہ صاحب تو اسے نیک نیتی سے نبھانے کے لیے بیاہ کر لائے تھے اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا تھا پھر اس کا خیال کرتے ہوئے کہ وہ کہاں جائے گی کدھر رہے گی اسے جھوٹی طلاق کا لفافہ پکڑایا اور منہ سے کچھ نہ بولے تھے اور اس کی جیب خرچ کے طور پر اسے کچن کے کام کا معاوضہ بھی دگنا دیتے تھے. اب وہ دل سے ان کی قدر کرے گی اور انہیں اور عدن کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دے گی اور عدن کی ماں کی قبر پر جائے گی اور اس کی برسی پر اس کے ایصال ثواب کا انتظام بھی کرے گی. انشاءاللہ.
وہ پرعزم ہو کر عدن کو پیار سے دیکھنے لگی عدن بھی اس کی آنکھوں میں اپنے لیے سچا پیار دیکھ کر مسکرا دی. کیونکہ اگر کسی کی سچائی جاننی ہو تو اس کی آنکھوں کو پڑھو. کیونکہ زبان جھوٹ بھی بولے مگر آنکھیں کھبی جھوٹ نہیں بولتی ہیں.
سب خوش خوش واپس آئے اور سونے اپنے کمروں میں چلے گئے. ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ عدن کو پیٹ میں شدید درد اٹھا اور وہ رونے لگی شفیق نے عدن کے نمبر سے رانی کو فون کیا کیونکہ اس کے موبائل میں بیلنس نہیں تھا. رانی اور شفیق اسے ہاسپٹل لے گئے. شاہ صاحب کو رانی نے منع کر دیا کہ آپ پہلے ہی تھکے ہوے ہیں اس حالت میں درد ہو جاتا ہے آپ فکر نہ کریں.
عدن کو ڈاکٹر ایمرجنسی میں لے گئے اور کہا کہ ان کے ٹیسٹ ہوں گے اور الٹرا ساونڈ بھی ہو گا. عدن کو الٹراساونڈ کے لئے لے گئے جب اس کی رپورٹ آئی تو سب پریشان ہو گئے.
پلیز اسے لائک، کمنٹ اور فرینڈز کو شیئر کرنا نہ بھولیں شکریہ.
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.