Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodesچھٹا حصہ - Part 6
طیب کی ماں خوش ہو کر بولی
"شکر ہے میری پنشن اوکے ہو گئی اور ادھر سے حج کا فریضہ بھی ادا کر سکیں گے. چلو چل کر سب کو خوشخبری سناتے ہیں."
وہ لوگ شاہ صاحب کے پاس لاؤنج میں بیٹھ گئے اور خالہ خوشخبری سنانے لگی.
طیب نے شاہ صاحب سے کہا
"انکل مجھے اور ماما کو پرسوں کی فلائیٹ سے امریکہ جانا ہے وہاں پر ماما کی پنشن کی فارمیلٹی پوری کرنی ہے…"
خالہ بات کاٹتے ہوے بولی
"ارے مجبوری نہ ہوتی تو میں اپنی پیاری بیٹی کو اس حالت میں چھوڑ کر نہ جاتی اور طیب نے بھی ساتھ جانا ہے میں جانتی ہوں آپ کے آفس کے کام کا حرج ہو گا مگر آپ ہماری مجبوری سمجھتے ہوئے ہمیں معاف کر دیں جوں ہی کام ختم ہوا اور اس کے بعد حج کی سعادت حاصل کر کے فوراً واپس لوٹ آئیں گے انشاءاللہ. پھر ادھر سے بھی ڈلیوری کے بعد فوراً…"
شاہ صاحب نے بات کاٹتے ہوے کہا
"آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں مانتا ہوں طیب بیٹے نے بزنس بہت اچھا سنبھال لیا تھا مگر وہ بھی مجبوری میں جا رہا ہے اور اسی نے ہی فیوچر میں سب سنبھالنا ہے. میری بیٹی کا سہارا بننا ہے اس کے بچے کو باپ کا نام دینا ہے."
خالہ وثوق سے بولی
"انشاءاللہ بھائی صاحب ایسا ہی ہو گا. بس ہمیں اجازت دیں جو ہم پیکنگ وغیرہ کر لیں پرسوں صبح کی فلائیٹ ہے."
شاہ صاحب بولے
"جی ضرور آپ عدن کی فکر نہ کریں میں ایجنسی سے ملازم منگوا لوں گا."
عدن نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور بولی
"بالکل خالہ آپ سکون سے جائیں میں اپنا خیال خود بھی رکھنے کی کوشش کروں گی اور میرے پاس اتنے لوگ، خیال رکھنے والے افراد موجود ہیں."
خالہ نے اسے پیار کیا اور اتنے میں رانی چائے لے کر آ گئی اور شفیق نے آ کر شاہ جی کو کہا
"سر گاڑی سروس کے لئے دے دی ہے."
شاہ جی نے کہا
"ٹھیک ہے."
طیب نے شفیق کو سپاٹ انداز میں دیکھا اور سوچوں میں گم ہو گیا.
ماں نے کہا
"بیٹا چائے جلدی پیو کام بہت ہے."
آج طیب لوگوں نے جانا تھا شفیق ان کو چھوڑنے ائیر پورٹ جا رہا تھا۔ طیب ضد کر رہا تھا کہ اوبر یا کریم کی گاڑی بلا لیتا ہوں لیکن خالہ کہہ رہی تھی
"وقت کم ہے اور ہم کسی اور گاڑی کا رسک نہیں لے سکتے ہیں. مجبوراً طیب کو شفیق کے ساتھ جانا پڑا."
طیب سارا رستے منہ پھلائے رہا.
جاتے ہوئے خالہ نے پھر شفیق سے بیٹے کے رویے کی معزرت کر لی. شفیق بڑے ادب سے بولا
"بس آپ حج پر جب جائیں تو میری بیٹی رانی کے لئے دعا کرنا کہ اس کا گھر بس جائے اور وہ میرے بعد سکھی زندگی گزارے."
خالہ نے کہا
"شفیق تم بہت اچھے انسان ہو فکر نہ کرو میں ضرور دعا کروں گی اور آ کر اس کے گھر بسانے کی کوشش کروں گی انشاءاللہ سکھی رہے گی. تم فکر نہ کرو."
شفیق نے بہت دعائیں دیں.
عدن لاؤنج میں بیٹھی باپ کے ساتھ گپ شپ کر رہی تھی۔ اس کو منانے کی کوشش کر رہی تھی
"بجائے میرے پاس کسی ملازمہ کو رات کو دیکھ بھال کے لئے رکھنے، شفیق کو میرے روم میں واپس بھیج دیں۔ مجھے اس پوزیشن میں اس سے بہتر کوئی نہیں لگتا، جو میری ہلکی سی آہ پر سوتے ہوئے جاگ کر بیٹھ جاتا تھا. مجھے پیاس لگے تو ایک آواز پر جاگ جاتا تھا. الٹی آئے تو اپنے ہاتھوں پر کروا دیتا تھا. بھوک لگے تو فریش کچن میں کچھ نہ کچھ بنا کر جلدی سے لے آتا تھا جبکہ اور کوئی بھی ساتھ سوئے تو مجھے بڑی پرابلم ہو جاتی ہے. رانی کو بھی جھنجھوڑ کر جگانا پڑتا تھا وہ فوراً اٹھ تو جاتی اور پورا خیال رکھتی جبکہ خالہ تو سوئی رہتی تھی اور اگر مجھے کچھ چاہیے ہوتا تو بمشکل نیند سے اٹھتی پھر کہتی میں بوڑھی ہوں اگر جلدی اپنے ٹائم پر نہ سوؤں اور رات کو جاگنا پڑے تو پھر ساری رات آنکھ نہیں لگتی ہے. پھر نیند پوری نہ ہو تو طبیعت خراب ہو جاتی ہے. پھر انہوں نے ملازمہ کو نیچے قالین پر سلانا شروع کر دیا کہ اگر رات کو ضرورت ہو تو ملازمہ کو جگا لینا تو ایک دن مجھے پیاس لگی ملازمہ کو آوازیں دیتی رہی وہ نہ جاگی۔ خالہ جاگ گئی اور ملازمہ کو ڈانٹا تو وہ اٹھی پھر خالہ کا وہی رونا کہ اب نیند اڑ گئی. پلیز پاپا شفیق سب سے بیسٹ ہے میرا خیال رکھنے کے لئے اس سے بہتر کوئی نہیں ہے."
عدن ابھی باتیں کر ہی رہی تھی اسی وقت شفیق اندر آیا گاڑی کی چابی دینے اس نے عدن کی باتیں سن لیں.
عدن گلے میں ہر وقت بڑا سا ایپرن پہنے رکھتی تھی خالہ کی ہدایت پر، تاکہ الٹی ہو تو کپڑے بچ جائیں.
اسی وقت عدن کو الٹی آ گئی اور شفیق تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے عدن کے منہ کے نیچے اپنے ہاتھ رکھ لیے اور اپنے ہاتھوں پر الٹی کروائی. پھر تیزی سے گیا اور ہاتھ جلدی سے دھو کر عدن کا منہ ٹشو اور واہپس سے صاف کروایا اور ایپرن اتارا۔ رانی کو آواز دی اور دوسرا ایپرن منگوایا اور اسے ادھر ہی کشن رکھ کر لٹا دیا. اور پوچھنے لگا کھانا کھایا تھا.
عدن نے نفی میں سر ہلایا اور کہا
"جوس پیا تھا"
وہ فکرمندی سے بولا
"کھانا نہیں کھایا تو انرجی کیسے آئے گی."
عدن پھر آہستہ سے بولی
"دل نہیں چاہ رہا تھا."
شفیق نے رانی کو ڈانٹا کہ تم نے کھانا کیوں نہیں دیا.
وہ بولی
"عدن نے منع کر دیا تھا."
شفیق نے کہا
"تو بار بار پوچھتے ہیں اور کوئی دوسری چیز آفر کر دیتے ہیں کتنا وقت ہو گیا ہے تم نے دوبارا نہیں پوچھا."
رانی بولی
"سوری میں زرا کچن میں بزی تھی کھانا بنا رہی تھی شاہ صاحب کا."
شاہ صاحب نے کہا
"آج سے میں کوکنگ کے لیے باورچی بلا رہا ہوں شام تک آ جائے گا۔ تمھیں اب کھانا بنانے کی ضرورت نہیں ہے اور شفیق! تم اپنا سامان عدن کے روم میں لے آؤ۔ ڈلیوری تک تم اس کے ساتھ رہو گے.
شفیق نے حیران ہو کر عدن کو دیکھا تو وہ مسکرا دی.
شاہ صاحب نے شفیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"رات کے کھانے کے بعد تم رانی کو لے کر ادھر آنا اور عدن کو بھی لانا میں نے تم سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے.
پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں شکریہ.
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.