Logo
Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodes
Kismat ke Faislay Niralay EP 5
Episode 5

قسمت کے فیصلے نرالے5

Kismat ke Faislay Niralay

پانچواں حصہ - Part 5


طیب گھر میں داخل ہوا تو سب پریشان بیٹھے ہوئے تھے ملازم نے پانی دیا اس نے پانی پی کر سب کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا بات ہے سب اتنے خاموش سے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں.

سب نظریں چرانے لگے.

اچانک اس کی نظر سامنے پڑی رپورٹس پر پڑی اور اس نے جب اسے پڑھنا شروع کیا تو اس کے چہرے کا رنگت بدلنے لگی.

شاہ صاحب نے ملازموں کو پہلے ہی ریڈی رکھا ہوا تھا.

طیب نے اٹھا کر رپورٹس دور پھینکی اور زور زور سے چلا کر عدن پر چلانے لگا 

"تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو کہ تم کسی اور کے بچوں کی ماں بن جاؤ. میں بچپن سے اب تک تمھارے خواب ہی دیکھتا آیا ہوں اور وہ شفیق کو آوازیں دینے لگا."

شاہ صاحب نے ملازموں کو الرٹ کر دیا.

طیب تیزی سے شفیق کو مارنے دوڑا اسے مارنے لگا اس پر جھپٹ پڑا. اسے نیچے گرا کر مارنے لگ پڑا.

عدن چلانے لگی. رانی رو رو کر واسطے دینے اور طیب کی منتیں کرنے لگی.

طیب کی ماں چلا کر اسے ڈانٹنے لگی 

"بیٹا تم میرے اکلوتے بیٹے ہو یہ مر گیا تو کیا کروں گی."

شاہ صاحب نے ملازموں کو اشارہ کیا تو انہوں نے بمشکل اسے چھڑایا.

طیب گاڑی لیکر تیزی سے باہر نکل گیا. شاہ صاحب نے ملازم کو بھی اس کے تعاقب میں بھیج دیا.

سب طیب  کی طرف سے پریشان ہو رہے تھے.

رانی باپ کی سکائی کرتے ہوئے رو رو کر معافی مانگ رہی تھی 

"یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے."

عدن اسے دیکھ کر دل میں اس کے لیے ہمدردی محسوس کر رہی تھی. وہ رانی سے بولی

"سارا قصور تمھارا نہیں ہے، میرا بھی ہے. میں اپنے آپ کو پرفیکٹ سمجھتی تھی کہ اس کے لئے رشتوں کی کمی نہیں ہے. اتفاق سے رشتے آ بھی بہت رہے تھے اور میں سوچتی تھی کہ بلکل اپنی ایج کے لڑکے سے شادی کروں گی. نہ جانے کیوں لڑکیاں اپنے سے دو سال، چار سال، چھ سال حتکہ دس سال بڑے  لڑکے سے بھی شادی کر کے کہتی ہیں اتنا کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اتنا بڑا بھی نہیں ہے. تو میں سوچتی تھی کہ میں ان کی طرح بےوقوفی نہیں کروں گی. پھر جب وہ بڑی عمر والے لڑکے ان کو رعب میں رکھتے ہیں تو وہ عمر کے لحاظ کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتی ہیں. میں اپنے ایج فیلو سے کروں گی تو اس کا رعب مجھ پر نہیں چلے گا. مگر ہائے ری قسمت. سچ ہے کہ نصیب لکھنے والا اوپر بیٹھا ہے. میں بھی اپنے غرور کی سزا پا چکی ہوں. قسمت کے فیصلے نرالے.میں کہتی تھی کہ شادی کے بعد چند سال میں بچہ بھی پیدا نہیں کروں گی یہ کیا ادھر شادی ہوئی ادھر اگلے سال بچہ گود میں۔ اس کی ذمہ داری میں لگ جاؤ. انسان کچھ سال تو شادی کی لائف کو انجوائے تو کرے گھومے پھرے. اور جب پاپا کسی لڑکے کی فوٹو دیکھاتے تو میں سوچتی یہ اتنا بھی ہینڈسم نہیں ہے. میں کسی خوبصورت، ہینڈسم لڑکے سے شادی کروں گی تاکہ بچے پیارے ہوں. اب دیکھو میرا شوہر کیسا ہے. ملازموں سے سیدھے منہ بات بھی کرنا توہین سمجھتی تھی۔ اب ایک ملازم کو اپنا سب کچھ بنا لیا. یہ سب میرے غرور کا انجام ہے ورنہ شفیق جیسے سادہ اور سہمے ہوئے شخص کی اتنی جرات ہوتی کہ وہ مجھ سے شادی کر سکتا."

اس نے رانی سے کہا 

"تم نے دولت کا لالچ کیا اور میں نے غرور کیا. اب اپنے رب سے صرف اپنے گناہوں کی معافی ہی مانگ سکتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس کی ذات بڑی غفور و رحیم ہے۔ وہ ضرور معاف فرمائے گی اور سب اچھا کر دے گی."

رانی نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا 

"سچ ہے جس نعمت کی ناشکری کی جائے وہ چھن جاتی ہے مجھے بابا سمجھاتے تھے کہ تم نے اگر شادی کر لی ہے تو اب نیک نیتی اور شکر سے اسے نبھاؤ. شاہ صاحب کو سکھ دو ان کی قدر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری دولت مند ہونے کی خواہش پوری کر دی ہے. بڑے گھر کے خواب دیکھتی تھی وہ بھی مل گیا ہے عزت والا  شوہر ملا ہے تو شکر کرو ناشکری نہ کرو یہ نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے. اب میں پچھتا رہی ہوں کاش مجھے قسمت دوبارہ ایک موقع دے تو میں شکر بجا لاؤں اور مگر اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے." 

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی.

طیب کی ماں طیب کے لئے دعائیں کر رہی تھی. اس نے بھی شفیق سے بیٹے کے اس اقدام کی معافی مانگی.

شفیق نے کہا 

"ہو سکتا ہے میں بھی اپنی اوقات بھول بیٹھا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے میری اوقات یاد دلا دی ہے. مجھے عدن جی کو بچانے کے لئے نکاح کی حد تک نہیں جانا چاہیے تھا۔ کوئی چالاکی کر کے آپ کو اطلاع کر دینی چاہیے تھی....."

عدن نے بات کاٹتے ہوئے کہا 

"آپ کا قصور نہیں بس قسمت میں لکھا تھا اور سوری، میری وجہ سے آپ کو اتنا جبر سہنا پڑا."

شفیق نے کہا 

"آپ سوری نہ بولیں مجھے بلکل برا نہیں لگا. طیب صاحب آپ سے پیار کرتے ہیں ان کے خواب ٹوٹے ہیں انہوں نے غصہ دیکھانا ہی تھا ان کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا"

شاہ صاحب افسوس کرتے ہوئے بولے 

'کاش میں نے پہلے ہی طیب کے رشتے کی ہاں کر دی ہوتی تو شاید آج ایسا نہ ہوتا میں نے تو رانی سے ہمدردی کی جو بعد میں دوسرے رشتے میں بدل گئی اور اس کی سزا میری معصوم بچی بھگت رہی ہے."

رانی شرمندہ ہو کر اٹھ کر چلی گئی.

عدن نے پانی کے لئے ملازمہ کو آواز دی جو اس نے نہیں سنی تو شفیق لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور اسے پانی لا کر دیا اور اپنے سرونٹ کوارٹر میں چلا گیا.

شاہ صاحب وقفے وقفے سے ملازم سے طیب کی خیریت دریافت کر رہے تھے اور اسے فون مسلسل آن رکھنے کا حکم دیا تھا. وہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک پارک میں چلے گئے ہیں اور سوچوں میں گم بیٹھے ہوئے ہیں. کافی دیر بیٹھے رہنے کے بعد اب وہ ویسے ہی روڈ پر چلے جا رہے ہیں. رات پڑنے پر طیب گھر واپس آ گیا.

طیب کی ماں اس کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگی تو وہ بہتر ہو گیا اور کھانا کھانے پر آمادہ ہو گیا.

ماں نے کمرے میں اپنے ہاتھوں سے اسے بمشکل اصرار کر کے چند نوالے کھلائے اور وہ سونے کے لئے لیٹ گیا ماں نے زبردستی اسے نیند کی گولی کھلا دی.

طیب کی ماں کمرے میں سے واپس آ کر شاہ صاحب کو اور عدن کو تسلی دینے لگی.

عدن روتے ہوئے بولی 

"پاپا مجھے معاف کر دیں آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا بلکہ شادی کی تھی. مجھے دل بڑا کر کے آپ کے اس عمل کو سراہنا چاہیے تھا کہ اچھا ہے میری شادی کے بعد آپ اکیلے رہ جاتے اور اس عمر میں ہی زیادہ سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. اچھا ہے کہ آپ خوش تھے مجھے خود غرض بن کر نہیں سوچنا چاہیے تھا بلکہ آپ کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے تھا. ماما کی ڈیتھ کے بعد اتنے عرصے کے بعد آپ اپنی زندگی جینے لگے تھے ورنہ تو آپ نے ماما کے بعد کھبی شادی کا نہ سوچا حالانکہ خاندان والے اصرار کرتے رہے مگر آپ نہ مانے. کاش میں آپ کی خوشی میں خوش ہوتی. کتنا مشکل ہوتا ہے کسی کی خوشی میں خوش ہونا اور اس کی نسبت کسی کے دکھ پر دکھی ہونا زیادہ آسان ہوتا ہے."

وہ رونے لگی تو طیب کی ماں اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے بولی 

"میری جان قسمت کے کھیل نرالے. تم ٹینشن نہ لو سب کچھ اچھا ہو جائے گا. بچے کو ہم پیار سے پالیں گے۔ طیب اس کو اپنی اولاد سمجھے گا۔ اس کا اور تمھارا سہارا بنے گا اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بچے کو اپنا نام دے گا. ڈیلیوری کے فوراً بعد طلاق لے کر ہم تم دونوں کی دھوم دھام  کی شادی کریں گے۔ بس اب تم حوصلہ رکھو اپنی صحت کا خیال رکھو اور خوشی خوشی اس ننھے منے وجود کی آمد کی خوشی مناؤ، اس کے لئے شاپنگ کرو."

عدن نے معصومیت سے پوچھا 

"مگر کیا شاپنگ کروں کیسے پتا چلے گا کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے."

طیب کی ماں ہنسنے لگی بولی 

"جو تمھارا جی چاہتا ہے خرید لو جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا. میں کل ہی مٹھائی منگوا کر بانٹتی ہوں اور اس کی خیرات کرتی ہوں."

دوسرے دن خالہ نے پورے گھر کو مٹھائی کھائی اور شاہ صاحب کو نانا بننے کی مبارک باد دی. غریبوں میں خیرات کی اور عدن کو بھی ڈھیروں مبارک دے کر تسلی دی.

طیب یہ سب خاموشی سے دیکھتا رہا اور مٹھائی نہ کھائی. شاہ صاحب طیب کی ماں کے مشکور ہونے لگے.

عدن بھی مطمئن ہو گئی اور آنے والے بچے کے لئے دل میں پیار محسوس کرنے لگی اور خالہ کے ساتھ بیٹھ کر اس کی شاپنگ کی باتیں کرنے لگی.

شفیق دل میں سکون محسوس کرنے لگا اور عدن کی سلامتی کی دعائیں کرنے لگا.

طیب ماں کے پاس آیا اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ پکڑا ہوا تھا اس نے ماں کو بلا کر کاغذ کے 

متعلق کچھ بتایا تو ماں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی.


پلیز اسے لائک، کمنٹ اور اپنے فرینڈز کے ساتھ شیئر ضرور کریں شکریہ.

ناول نگار عابدہ زی شیریں.



Continue Reading
Episode 6
قسمت کے فیصلے نرالے6

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry