Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodesچوتھا حصہ - Part 4
عدن کو لیکر جب خالہ ہاسپٹل سے واپس آئی تو شاہ صاحب انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے تڑپ کر بولے کیا ہوا میری بیٹی کو؟
خالہ نے کہا
"وہ پریگننٹ ہے"
"کک کیا…"
شاہ صاحب حیرت سے بولے.
"کیا آپ نے ڈاکٹر صاحب کو اس مصیبت سے جان چھڑوانے کا نہیں کہا"
خالہ نے دکھ اور اداسی سے بتایا کہ اس نے ڈاکٹر صاحب سے بہت کہا مگر کوئی بات نہ بن سکی۔ وقت زیادہ گزر چکا ہے. اب تو کچھ نہیں ہو سکتا اگر شروع میں پتا چل جاتا تو شاید کچھ ہو سکتا تھا مگر اب نہیں.
عدن زور زور سے رونے لگی اور خالہ سے بولی
"پلیز خالہ میری اس مصیبت سے جان چھڑوا دو. میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی مجھے خوف آتا ہے."
خالہ نے اسے پیار سے تسلی دی اور اسے چپ کرایا اور کہا
"فکر نہ کرو میں ہر لمحہ تمھارے ساتھ ہوں تم فکر نہ کرو اور پریشان نہ ہو اب تو تھوڑا وقت رہ گیا ہے. تمھیں الٹیاں نہیں ہوتی تھیں جس کی وجہ سے تمہیں احساس نہ ہوا اور تم نے دھیان نہ دیا اب تو پانچواں ماہ شروع ہو چکا ہے اور اب بس کم وقت رہ گیا ہے اللہ تعالیٰ کی شاید یہی مرضی تھی۔ اب اسی میں ہمیں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے. تم بس صبر سے کام لو رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا بس زہنی کوفت ہی بڑھے گی، بس آنے والے بچے کی تیاری میں مصروف ہو جاؤ اس کی شاپنگ کرو. فکر نہ کرو ہم بہت پیار سے اسے اپنا بچہ سمجھ کر پالیں گے. اس بڈھے سے طلاق لیں گے اور طیب سے تمھاری دھوم دھام سے شادی ہو گی۔ تم اس کے ساتھ اپنی شادی کی بھی تیاری کرو اپنے لئے اچھے اچھے لباس خریدو، زیور خریدو اس طرح تم مصروف بھی رہو گی اور یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا. تمھارا بچہ ہوتے ہی ہم شفیق سے طلاق لے کر شادی کی تاریخ فکس کر دیں گے اور پھر کوئی ٹینشن نہیں ہو گی. رانی بھی تمھارے باپ کی زندگی سے نکل چکی ہے ان کو بھی اب نصیحت ہو چکی ہے، اب رانی کو بھی انہوں نے اس کی اوقات دکھا دی ہے. بس اب اس معصوم بچے کی آنے کی خوشی مناؤ. وہ تمھارا بچہ ہو گا ہم شفیق کا سایہ بھی اس پر پڑھنے نہ دیں گے۔ طیب باپ بن کر اسے پالے گا اور میں اس کی دادی بھی بنوں گی اور نانی بھی. ویسے بھی اولاد بہت بڑی نعمت ہے کچھ لوگ اس کے لئے ترستے ہیں اور تمھیں بن مانگے مل رہی ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی معصومیت سے تم خوش رہو جو اب اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی، وہ تمھارے لے خوشیوں کا پیغام لائے اور تم سب کچھ بھول جاؤ. بس اب اسے خدا کی رضا سمجھ کر کھلے دل سے اپنانا چاہیے اور اسے قدرت کا تحفہ سمجھنا چاہیے."
عدن کے ساتھ شاہ صاحب بھی طیب کی ماں کی باتوں سے مطمئن ہو گئے اور بولے
"آپ ٹھیک کہتی ہیں اب ہمیں اس کی صحت کی فکر کرنی چاہیے اور اس کا ریگولر علاج کروانا ہے."
طیب کی ماں بولی
"آپ بالکل بھی فکر نہ کریں میں ہاسپٹل کی قابل ڈاکٹر سے سب معاملات طے کر آئی ہوں، فکر نہ کریں جب چیک اپ کے لئے جانا ہو گا وہ خود بھی فون کر کے یاددہانی کروا دیا کرے گی، بس اب اس کی ڈاہیٹ کا خیال رکھنا ہے."
عدن خالہ کے کندھے پر سر رکھ کر بولی
"تھینکس خالہ جانی آپ نے مجھے مطمئن کر دیا ہے میں سمجھی تھی کہ آپ اور طیب اسے نہیں اپنائیں گے"
خالہ جھٹ بولی
"کیوں نہیں اپنائیں گے آخر ہماری عدن کا بچہ ہے. اس بڈھے کا سایہ بھی ہم اس پر نہیں پڑنے دیں گے بس اب وہ ہمارا ہو گا"
عدن مسکرانے لگی.
خالہ نے شفیق اور رانی کو بلا کر کہا
"وہ لوگ اپنی زبان بند رکھیں گے اور اس بچے کے ساتھ رشتے کی کوئی بات کھبی بھی ساری زندگی منہ سے نہیں نکالیں گے، اگر کسی کو کچھ بتایا تو تم لوگوں کو اس گھر سے بےعزت کر کے نکال دیا جائے گا۔ میرے بیٹے اور عدن کے درمیان اب تم لوگ نہیں آؤ گے ڈیلیوری کے بعد عدت ختم ہوتے ہی، ہم ان دونوں کی شادی کر دیں گے اور وہ بچہ اب ان دونوں کا ہو گا۔ تم اگر خاموشی سے ادھر ملازمت کرتے رہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور تم لوگوں کی تنخواہ بھی بڑھا دیں گے۔ تم ان کی خدمت کرتے رہو اور ادھر خاموشی سے رہتے رہو.
رانی کا باپ بولا
"جی میم ہم تو پہلے ہی سے اپنی اوقات جانتے ہیں وہ تو عدن جی کی ضد تھی…"
خالہ اسے ڈانٹ کر روکتے ہوے بولی
"اچھا بس بس، اب پچھلی باتیں مت دہراؤ۔ شاید یہ ہماری قسمت میں لکھا تھا خیر."
رانی نے معافی مانگتے ہوئے کہا
"مجھے معاف کر دیں یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے"
پھر وہ عدن کے پاس آ کر ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے معافی مانگنے لگی تو عدن نے کہا "ٹھیک ہے معاف کیا"
رانی خوش ہو کر بولی
"اب میں آپ کا بہت خیال رکھوں گی بہت خدمت کروں گی، شاید اس طرح میرے گناہوں کا کفارہ ادا ہو سکے."
شفیق بولا
"آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہمیں منظور ہے بس آپ لوگوں سے ایک التجا ہے کہ میں نہ جانے کب تک جیوں، بس آپ میری بیٹی کو نہ نکالنا میرے بعد اس کا اس دنیا میں کوئی آسرا نہیں ہے."
رانی تڑپ کر بولی
"پاپا اللہ نہ کرے کہ آپ کو کچھ ہو میں کہاں جاؤں گی."
طیب کی ماں بولی
"تم لوگ اگر ہمارے خیر خواہ رہے تو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہو گے ہاں جہاں تم لوگ بدلے تو پھر اس گھر سے بھی جاؤ گے اور سزا بھی پاؤ گے۔ اب یہ تم لوگوں پر منحصر ہے کہ گھاٹے کا سودا کرنا ہے یا ادھر تنخوا بھی اچھی دے رہے ہیں اور رہنے کو ٹھکانہ بھی"
رانی اور اس کے باپ نے یقین دہانی کرائی اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہنے اور خدمت کرنے کا وعدہ کیا.
رانی اسی وقت عدن کے لئے فریش جوس لے کر آ گئی.
عدن کمرے میں جا کر لیٹ گئی اور سوچنے لگی
"کیا طیب اس کے بچے کو خوشی سے اپنائے گا؟ کیا وہ اس کو سگے باپ کا پیار دے سکے گا؟ اس نے جلد بازی میں اپنے ساتھ کتنا برا کر دیا. ساری زندگی کے لیے ایک ٹینشن سر پر ڈال لی. نہ تو اب وہ اس بچے کو چھوڑ سکے گی نہ ہی طیب۔ یہ سوچتے ہی وہ دل کو جھوٹی تسلی دینے لگی کہ خالہ ہیں نا وہ سب طیب کو سمجھا دیں گی. مگر کیا وہ سمجھ جائے گا ایک عورت بھی اکثر سوتیلے بچوں کو قبول نہیں کرتی ہاں کوئی بڑے دل والی ہو تو سگی اولاد کی طرح سمجھتی ہے تو کیا طیب دل بڑا کرے گا. وہ اسے طعنے تو نہیں دے گا.
اسے یاد آیا جب وہ آیا تھا تو اس سے کتنا لڑا تھا. اسے تو علم ہی نہ تھا کہ وہ اسے بچپن سے پیار کرتا ہے اسے تو اس کے پیار کا کھبی احساس ہی نہ ہوا. وہ ناراضگی کے باوجود اس کو میسج کرتا رہا مگر اس نے کھبی جواب نہ دیا. ان سب باتوں کا کیا مطلب تھا کہ وہ اسے شدت سے چاہتا ہے. عدن کو تو علم ہی نہ تھا کہ وہ لوگ کب سے عدن کا رشتہ مانگ رہے تھے۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے ناراضگی کے بعد اپنی خواہش کا اظہارِ کیا تھا تو باپ بیٹی کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لیے اس کا ہم عمر ڈھونڈ رہا تھا وہ سمجھتا تھا کہ طیب اس سے ڈھائی سال بڑا ہے تو عدن کھبی بھی نہیں مانے گی اس لیے اس نے اس رشتے کے بارے میں بیٹی کو بتانا ضروری نہ سمجھا کہ وہ مانے گی ہی نہیں.
عدن سوچوں میں گم تھی اسے یاد آ رہا تھا کہ جب خالہ نے اس کی شادی کا سنا تو وائس میسج میں خوب ڈانٹا اور فوراً پاکستان آنے اور اس کی طلاق کروا کر بیٹے سے شادی کروانے کا بتایا تو وہ کافی حیران ہوئی کہ طیب سے شادی. پھر شاہ صاحب نے بھی بتایا کہ ان کی ناراضگی طیب لوگوں سے ختم ہو چکی ہے اور اب وہ لوگ آ رہے ہیں اور تمھاری طلاق کروا کر طیب سے شادی کریں گے اور انہوں نے اس رشتے کے لئے ہاں کر دی ہے.
عدن کو طیب نے ڈانٹ بھرا میسج کیا، جانتا تھا کہ وہ کال نہیں اٹھاتی. پہلے اسے خوب ڈانٹا پھر بڑے دکھ بھرے الفاظ سے محبت کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ بچپن سے اسے پسند کرتا تھا اس کی ماں اور میری ماں نے آپس میں بچپن میں ہی ان دونوں کی شادی کا پکا ارادہ کر لیا تھا اور طیب کو زرا بڑے ہونے پر بتا بھی دیا تھا تب سے وہ اس کے خواب دیکھ رہا تھا. مگر اس کے باپ کے مرنے پر عدن کے باپ کی شرکت نہ کرنے کی وجہ سے ان کی آپس میں لڑائی پڑ گئی. مگر وقت گزرنے کے ساتھ طیب کی ماں کو عدن کے باپ کی مجبوری سمجھ آ گئی کہ انہوں نے سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک بڑا پروجیکٹ شروع کیا تھا اور اس سلسلے میں جس دن طیب کے والد کی وفات ہوئی، اس دن وہ اس کام کے سلسلے میں اہم میٹنگ میں مصروف تھے جسے وہ چھوڑ نہیں سکتے تھے، اس لیے وہ نہ جاسکے. اگر وہ اس میٹنگ کو چھوڑ کر چلے جاتے تو اس پروجیکٹ کا وہ خواب دیکھتے آئے تھے عین ممکن تھا کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کسی اور کو مل جاتا اور وہ برباد ہو جاتے.
جب عدن نے نکاح کیا اور ان کے سر سے رانی کا بھوت اترا تو انہیں ہوش آیا تو اس وقت انہیں طیب اور اس کی ماں کی یاد آئی کہ وہ ہی اب ان ماں بیٹی کو اس چنگل سے نجات دلا سکتی ہیں تو انہوں نے واہس میسج کر کے سارے حالات بتائے اور اپنے گزشتہ رویے کی معافی مانگی اور بات کلیئر کی اور بیٹی کے رشتے کی ہاں کر کے مدد چاہی. طیب اور اس کی ماں کو میسج فارورڈ کر دیا.
طیب کی ماں نے جب سنا کہ شاہ صاحب نے رشتہ دینے پر ہاں کر دی ہے تو وہ بہت خوش ہو کر طیب کو خوشخبری سنانے لگیں.
ویسے بھی وہ لوگ امریکہ سے بور ہو چکے تھے اور واپس آنے کی تیاریاں کر رہے تھے طیب تو بہت خوش ہوا اور جلدی سب سمیٹنے کی کوشش کرنے لگا.
طیب لوگ واپس آ گئے تو طیب نے عدن کو خوب لتاڑا
"یہ کیا بےوقوفی ہے"
عدن اس کے رویے پر حیران تھی اسے اس کی باتوں سے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ اس کو اتنا چاہتا ہے. وہ سدا کی بےوقوف اور بھولی لڑکی اس کی چھپی محبت کو نہ سمجھ سکی. عدن کو اب اپنے کیے پر پچھتاوا بھی ہو رہا تھا. سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا رانی اس کے باپ کی زندگی سے نکل کر کافی سدھر چکی تھی اور اب اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی.
طیب نے شفیق کو بھی بہت برا بھلا کہا تھا اور بےنقد سنائی تھیں اس کو مارنے لگا تھا مگر اس کی ماں نے اسے روک دیا تھا کہ بوڑھا ہے.
شاہ صاحب نے بھی اس کی ماں کی بات کی تائید کی تھی کہ وہ اسے کوڑے مارتے مگر جس طرح عدن جزباتی لڑکی تھی کوئی بعید نہ تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھتی، ایک طرح سے اس نے عدن کی جان بچائی تھی.
عدن ڈر رہی تھی کہ جب طیب کو پتا چلے گا کہ وہ پریگننٹ ہے تو وہ کیا ری ایکٹ کرے گا کیونکہ وہ اسے آتے جاتے کہتا تھا
"بس وکیل صاحب آ جائیں تو طلاق کا مسئلہ جلدی حل ہو اس سے اب اس سے دور رہنا گوارا نہیں."
مگر اب تو اس کا انتظار اور طویل ہو جائے گا.
طیب کی ماں بھی پریشان تھی کہ طیب سن کر کیا کرنے والا ہے سب گھر میں اس کی واپسی کا پریشانی سے انتظار کر رہے تھے کہ طیب کی گاڑی پورچ میں آ کر رکی.
پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں سے شیئر کرنا نہ بھولیں شکریہ.
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.