Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodesآٹھواں حصہ - Part 8
شاہ صاحب گھر بیٹھے بہت پریشان ہو رہے تھے عدن کی خیر خبر رانی مسلسل دے رہی تھی اور انکا حوصلہ بھی بڑھا رہی تھی.
شاہ صاحب نے طیب کو بھی عدن کی طبیعت کا بتا دیا تھا وہ بھی پریشان ہو گیا تھا.
طیب کی ماں نے جب شاہ صاحب سے فون پر بات کی تو شاہ صاحب نے آج کی ساری تفصیل بتا دی پہلے تو وہ کافی حیران ہوئی اور بعد میں سراہتے ہوئے بولی
"یہ آپ نے اچھا کیا دوبارا رانی کو اپنا کر. اب تو وہ لوگ اس گھر کی ضرورت بن چکے ہیں انہوں نے اپنی جڑیں اس گھر میں گاڑھ لی ہیں اب تو ہم ان سے نہ ہی رشتہ توڑ سکتے ہیں نہ ہی انہیں گھر سے نکال سکتے ہیں بس قسمت کے کھیل نرالے ہیں."
طیب جو ماں کی اسپیکر آن ہونے کی وجہ سے ساری گفتگو سن رہا تھا غصے سے بھرا بولا.
"اس شفیق کو تو میں شادی کے بعد گھر سے دھکے دے کر نکالوں گا, رانی کو تو نہیں نکال سکتا. وہ تو اب شاہ صاحب کی عزت بن چکی ہے اور عدن کے لئے ہیلپ فل بھی ہے. مگر شفیق کو میں دیکھنا بھی نہیں چاہتا."
ماں نے فون بند کر کے کہا
"تم کول رہو کیا کرتے ہو. تمھیں اپنا بھی تو پتا ہے کہ کیا ہوا. تمھارا باپ کیا تھا. امریکہ میں ایک معمولی فیکٹری ورکر. نہ ہی اتنی تعلیم تھی. بس اس کے نام کے ساتھ امریکہ کا نام جڑا ہوا تھا، جس سے سب متاثر ہوتے تھے. میں بھی ہو گئی اور شاہ صاحب سے رشتہ طے تھا مگر گھر والے جب تمھارے پاپا کارشتہ آیا تو لالچ میں آ گئے اور مجھے بھی سمجھانے لگے۔ میں جو تمھارے پاپا کے رشتہ لانے پر بہت خوش تھی کہ جہاز کی سیر کروں گی امریکہ دیکھوں گی تو میں نے بھی ہاں کر دی اور جب شاہ صاحب اور ان کے گھر والوں نے سنا تو کوئی ناراضگی نہ دکھائی اور کہا کہ اچھا ہے آپ لوگوں نے خود ہی انکار کر دیا ورنہ ہم انکار کرنے والے تھے کہ ہمارے بیٹے کو عدن کی ماں جو اس وقت میری فرسٹ کزن اور بیسٹ فرینڈ تھی وہ پسند ہے. پھر وہ جلد ہی عدن کی ماں کو بیاہ لائے. عدن کی ماں خوش ہو گئی اور ہم دونوں کی دوستی میں کوئی فرق نہ آیا. میں امریکہ آ کے خوش تھی اور وہ شاہ صاحب کو پا کر. کیونکہ وہ ان کو پسند کرتی تھی. مگر میرے ساتھ دوستی میں کچھ بول نہ سکتی تھی. اب مجھے اپنے شوہر کی قدر آتی ہے جو اتنے اچھے انسان تھے مجھ سے کم پڑھے لکھے تھے اور نکاح سے پہلے انہوں نے مجھے اپنی ساری سچائی بتادی کہ گھر والوں کو مت بتانا اگر تو قبول ہے تو سر آنکھوں پر. ہاں اگر قبول نہیں ہے تو میں بلکل برا نہیں مناؤں گا.میں کوئی بہانہ کر کے انکار کر دوں گا آپ پر الزام نہیں آنے دوں گا. میں نے کہا کہ مجھے سب قبول ہے تو بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میرے دل میں اب تمھاری قدر بہت بڑھ گئی ہے اور اب تمھیں کھبی شکایت کا موقع نہیں دوں گا اور واقعی انہوں نے سب نبھایا. اور میں سمجھتی ہوں کہ تعلیم کا لیول برابر نہ بھی ہو تو تب بھی اچھی نبھ سکتی ہے. اچھی زندگی کے لیے تعلیم کا معیار یا دولت کا ہم پلہ ہونا ضروری نہیں. بس انسان ایک دوسرے کی عزت کرے اس کے جزبات کا خیال رکھے. ان کے پیاروں سے پیار کرے تو اچھی بسر ہو گی."
طیب کی ماں بولتی رہی
"اگر تم امریکہ سیٹ ہونے کے لئے جولی سے شادی نہ کرتے تو کیسے جانتے کہ تم باپ نہیں بن سکتے اور جولی تمہیں آئینہ نہ دیکھاتی اور چھوڑ کر طلاق دے کر چلی نہ جاتی تو ہم پاکستان واپس کیسے جاتے اور دل امریکہ سے اچاٹ کیسے ہوتا اچھا ہے اب امریکہ سے زیادہ ہمیں اپنے ملک میں فائیدہ مل رہا ہے تو ہم اس ملک میں کیوں رہیں. اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے کتنا سکون ملتا ہے اب تم عدن سے شادی کرو گے تو اولاد بھی مل جائے گی اور ساری مال ودولت بھی. بس عدن مجھے بہت پیاری ہے، تم جانتے ہو…"
طیب بات کاٹ کر بولا
"ماما مجھے اس کے پیسے سے کوئی غرض نہیں ہے مجھے تو غیرت آتی ہے. میں اپنے بل بوتے پر کچھ کر کے عدن کو اپنانا چاہتا تھا اسی لیے جولی سے عارضی شادی کی تھی مگر وہ بھی چالاک نکلی اور بولی کہ اسے تمھارے ساتھ ہمیشہ رہنا ہے اور تمھارے بچوں کی ماں بننا ہے مگر جب اس نے اپنے اور میرے ٹیسٹ کروائے تو اسے اور خود مجھے بھی اپنے نقص کا علم ہوا کچھ علاج کارگر نہ ہوَا اور جولی مجھے چھوڑ گئی. اب آپ کی بات درست ہے شاید میری قسمت میں دوسرے کی اولا د پالنا لکھا تھا۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں اس کی اولاد کو اپنی اولاد سمجھ کر پالوں گا اور عدن تو میرا بچپن کا پیار ہے. مجھے اس کی دولت نہیں صرف عدن کا ساتھ چاہیے."
ماں نے پیار کرتے ہوئے کہا
"تو نیک اور شریف باپ کا بیٹا ہے، اس کی قبر کی مٹی کو گندہ نہ کرنا. سنا ہے عدن کے جڑواں بچے ہیں ایک بیٹا ایک بیٹی. اب تم اپنے بچے سمجھ کر ان کے لئے خوب شاپنگ کرو اور شفیق سے اپنے رویے کی معافی مانگو پہلے فون پر مانگو، پھر جا کر مانگنا.اس نے اپنے بچے تمھیں دے کر قربانی دینی ہے. بس غربت کی وجہ سے وہ بےبس ہے اس کی بدعا نہ لگ جائے…"
طیب غصے سے بات کاٹ کر بولا
"عدن اور اس کا کوئی میل ہے یہ بات وہ بھی اچھی طرح جانتا ہے. اس کے بچے ٹھاٹ سے پلیں گے. اس میں اس کا بھی تو فائیدہ ہے."
طیب کی ماں نے کہا
"بیٹا قسمت کے فیصلے نرالے. ہم قسمت سے نہیں لڑ سکتے. سب کچھ اچانک ہو گیا ورنہ ہم عدن کو اپنانے جا ہی رہے تھے. شاہ صاحب نے رشتہ دے دیا تھا. چلو اس میں بھی کوئی خدا کی بہتری لکھی ہے. تم اب اس فیصلے کو دل سے قبول کر لو اور عدن کے دل میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرنا تاکہ زندگی سکھی گزر سکے. وہ شفیق کو آسانی سے نہیں چھوڑے گی۔ شفیق نے اپنے رویے اور اچھی عادتوں کی وجہ سے شاہ صاحب اور عدن کے دل میں جگہ بنا لی ہے. اب تم نے بجائے جیلسی کے اس کو کھبی زندگی میں طعنے نہ دینا اور جیلسی ختم کرو اور خوشی مناؤ اور شاہ صاحب کو بھی بچوں کی مبارک باد دینا. ان کو خوشی ملے گی اور وہ عدن کی جلدی طلاق کروا دیں گے اور تم اپنی عدن کو پا لو گے."
طیب نے ہلکا سا اثبات میں سر ہلایا.
ماں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دیں.
طیب نے کہا
"جس کام کو ہم آسان سمجھ رہے ہیں وہ کافی مشکل ہے. عدن ایک نیک دل اور شوہر پرست اور رشتوں کو نبھانے والی ہے. اس نے مجھے فون اور میسج کرنے سے سختی سے منع کر دیا تھا جب ہم نے شفیق کو اس کے روم سے نکلوایا تھا اس کی مرضی نہ تھی، اس نے کہا کہ جب میں تمھارے نکاح میں آ جاؤں تب بات کرنا. اب وہ میچور ہوتی جا رہی ہے اور شفیق کی عزت کرتی ہے. اب تو وہ اس کے بچوں کا باپ بھی بن گیا ہے."
طیب کی ماں نے کہا
"تم نے اب صبر سے کام لینا ہے اور شادی کی جلدی اور طلاق کی نہ ڈالنا میں خود شاہ صاحب سے بات کر لوں گی کہ جب وہ مناسب سمجھیں تو فیصلہ کریں ہم انتظار کریں گے کیونکہ اب رانی کی پوزیشن بھی وہاں مضبوط ہو گئی ہے اور عدن اور اس میں خوب دوستی ہو چکی ہے مجھے خوشی سے عدن سب بتاتی رہتی ہے اور میں اس کی خوشی میں خوش ہوتی ہوں اب بس دعا کرو کہ عدن تمہیں مل جائے. مجھے نہیں لگتا کہ آسانی سے عدن اب شفیق کو چھوڑے گی وہ اس کے ساتھ خوش ہے."
طیب بولا
"یہی تو مسئلہ ہے کہ مجھے اب عدن کو پانا مشکل لگ رہا ہے۔ کوئی بات نہیں میں اب اسے کسی سے نہیں خدا تعالیٰ سے مانگوں گا اور شفیق سے بھی معافی مانگوں گا، آخر اس میں اس کا کیا قصور. اس نے تو میری عدن کی خودکشی سے جان بچائی ہے اور مجھے اولاد دینے کی آس لگائی ہے. اللہ مجھے معاف کرے میں ابھی شفیق کو فون کر کے معافی مانگتا ہوں."
ماں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور دعائیں کرنے لگی کہ میرے بیٹے کو جلد عدن کا ساتھ نصیب ہو جائے.
وہ حج کا فریضہ ادا کر چکے تھے اب واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے کیونکہ عدن کی ڈیلیوری بھی نزدیک تھی۔ طیب نے جب شفیق سے معافی مانگی تو اس نے کہا
"میں ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں کہ عدن کی آنکھوں میں کھبی آنسو نہ آئیں."
طیب نے کہا
"شفیق صاحب وہ میرا بچپن کا پیار ہے. میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں."
شفیق نے کہا
"ٹھیک ہے میرا دل تو پہلے بھی آپ کی طرف سے مطمئن تھا کیونکہ ایک سچا عاشق ہی اتنا جزباتی ہو سکتا ہے اور آپ نے ثابت کر دیا ہے. میں تو قسمت سے آپ دونوں کے درمیان آ گیا تھا اب ڈلیوری ہوتے ہی آپ دونوں کی زندگی سے نکل جاؤں گا. آپ فکر نہ کریں آپ لوگوں سے دور چلا جاؤں گا."
جب طیب اور اس کی ماں پاکستان پہنچے تو رانی نے ان کی خاطر مدارت کے لئے بہت اہتمام کیا ہوا تھا اور وہ اتنی گریس فل لگ رہی تھی کہ طیب کی ماں بھی اسے عزت دینے پر مجبور ہو گئی.
اب وہ پہلے کی طرح اس پر رعب جما کر بات نہ کر سکتی تھیں کیونکہ شاہ صاحب اس کو بہت عزت دے رہے تھے اور عدن تو اسے ماما کہتی نہ تھکتی تھی جبکہ رانی اسے مائی ڈارلنگ، مائی سویٹی گرل اور مائی کیوٹ ڈاٹر جیسے الفاظ استعمال کر کے دونوں باپ بیٹی کا دل جیت رہی تھی.
رانی نے طیب کی ماں کو بتایا کہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور ڈاکٹر کے مطابق دونوں نارمل ہیں.
عدن کافی ایکٹیو لگ رہی تھی، چلنا پھرنا مشکل تھا مگر وہ پھر بھی ہمت دکھاتی تھی اور گھر کے انتظام میں پوری ایکسپرٹ ہو گئی تھی کیونکہ رانی شاہ صاحب کے ساتھ صبح آفس چلی جاتی تھی اور عدن ملازموں سے اپنی نگرانی میں کام مکمل کرواتی. شفیق اس کا ساتھ دیتا.
رات کو عدن نے طیب کے نمبر پر کال ملائی ابھی سب کو سونے کے لیے گئے ایک گھنٹہ گزرا تھا کہ عدن گھبراتے ہوے طیب سے بولی
"شفیق صاحب کی طبیعت سخت خراب ہے جلدی آؤ."
شفیق ایمرجینسی میں تھا ادھر عدن کو لیبر پین شروع تھے اسے بھی ہاسپٹل لے جایا گیا اور قدرت کی رحمت سے دونوں بچے نارمل پیدا ہوئے تو رانی نے بھی شکر ادا کیا.
سب حیران تھے کہ آجکل کے زمانے میں جبکہ ایک بچہ بھی بڑے آپریشن سے ہو رہا ہے تو اس کا کیسے نارمل کیس ہوا تو عدن نے بتایا
"اس کا کریڈیٹ رانی اور شفیق کو جاتا ہے۔ آجکل کی لڑکیاں الٹی کے ڈر سے بھی اور ویسے بھی کھانا پینا چھوڑ دیتی ہیں اور ڈاکٹر کی ہدایت پر طاقت کی دوائیں لیتی ہیں مگر جو طاقت روٹی اور فریش کھانے میں ہے، وہ ان دوائیوں میں کہاں. پھر زیادہ آرام کرتی ہیں، گھبرا جاتی ہیں اور اسے بڑی بیماری کی طرح سر پر سوار کر لیتی ہیں اور ٹینشن میں رہتی ہیں."
رانی نے عدن کو کہا
"اس کو نارمل لو پریشان نہ ہو اور روٹی کھاؤ. غریب عورتیں صرف روٹی سالن کھاتی ہیں اور گھر کے سارے کام بھی کرتی ہیں تو ان کے آپریشن نہیں ہوتے."
عدن کو واک بہت کروائی گئی. اس نے بھی کام میں دلچسپی لی اور اپنی خوشی سے کام والی ماسی کو کہتی میں برتن واش کروں گی. کھبی روٹی پکانی سیکھ رہی ہے اور اپنے آپ کو کام سیکھنے میں مصروف رکھتی۔ جس سے اسے کام کرنے میں لطف آنے لگا۔ کھبی کپڑے دھونے کا شوق پورا کرتی، کھبی استری. شاہ صاحب دیکھ کر خوش ہوتے اس طرح اس کا مشکل وقت بھی گزرنے لگا اور واک لازمی کرتی ہر کام میں شفیق ساتھ ہوتا.
رانی نے کہا
"اس وقت تک مختلف کام کرتی رہو، جب تک تھک نہ جاؤ۔ جب تھکو گی تو تب سمجھو بہتری ہوئی اور بھوک لگے گی."
امیر باپ کی بیٹی تھی مگر اس نے ان غریبوں یعنی رانی اور شفیق کی ہدایات پر عمل کیا اور اپنے آپ کو بہت فائدہ مند پایا کہ غریب روٹی کھا کر بھی ڈھیروں کام کاج کر سکتے ہیں. جو طاقت روٹی میں ہے وہ دوائی میں نہیں. رانی اکثر اسے شوربے والے سالن بنا کر دیتی تاکہ وہ نرم کر کے روٹی کھا سکے اور زبردستی کھلاتی اور کہتی زائقہ تو نہیں آتا مگر دوا سمجھ کر کھا لو یہی سمجھو کہ دوا کھانی ہے جو بہت ضروری ہے.
عدن جلد ہی چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی تھی۔ شفیق ٹھیک ہو کر گھر آ گیا تھا۔ رانی اسے اپنے ساتھ والے روم میں لے آئی تھی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی. عدن کے ساتھ خالہ سوتی تھی اور بچوں کو بھی دیکھتی تھی، ساتھ قالین پر ملازمہ کی ڈیوٹی تھی جس کا کام ساری رات جاگنا اور بچوں کی ڈیوٹی دینا تھا۔ دن کو اسے چھٹی مل جاتی تھی. عدن کھبی شفیق کو دیکھنے چلی جاتی کھبی اس کے لیے سوپ بھی بنا کر لے جاتی. وہ چل پھر نہیں سکتا تھا.
طیب نے شفیق سے معافی مانگ لی تھی اور رانی سے بھی معزرت کر لی تھی. طیب کی ماں نے بھی رانی سے معزرت کر لی تھی اب ان کے بیٹے کی خوشی کا دارومدار رانی پر بھی تھا۔ اب اس کی حیثیت میں فرق آ چکا تھا. شاہ صاحب اس کے دیوانے بنے ہوئے تھے.
عدن ابھی تک شفیق کی ہمدردی میں لگی ہوئی تھی. اس کی دوا کی بھی فکر کرتی ایسے میں طیب کی ماں اور بیٹا طلاق کا مطالبہ کرنے سے ہچکچاتے تھے. چند ایک بار شاہ صاحب نے سرسری سا ذکر کیا تھا کہ اب انہیں شادی کی تیاریاں کر دینی چاہیے. جبکہ طیب کی ماں باہر سے بری بنا کر لے آئی تھی. تقریباً پندرہ دن بعد اچانک شفیق کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ ہاسپٹل جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا.
عدن بلک بلک کر روئی، رانی کی بھی بری حالت تھی. عدن رو رو کر کہہ رہی تھی
"میں دنیا میں ایک مخلص شخص سے محروم ہو گئی ہوں جو میرا بہت بڑا سہارا تھا۔ میرے بچے یتیم ہو گئے، ایک نیک اور اچھے باپ کے سائے سے محروم ہو گئے. اب انہیں اتنا پیار کون کرے گا میرا خیال کون رکھے گا."
طیب نے جب عدن کو فریاد کرتے سنا تو اسے اپنے دل پر شرمندگی محسوس ہوئی. وہ جو اس سے بچپن سے پیار کے دعوے کرتا تھا اور شفیق اسے اتنے تھوڑے عرصے میں اتنا پیار دے کر گیا کہ طیب کو یقین ہو گیا ہ عدن اسے ساری زندگی نہیں بھول پائے گی اب اسے اپنے پیار کا احساس دلانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی. طیب کو بچوں پر شدید ترس آیا اس نے اسی وقت ان کو پیار کیا اور دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ ان بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر پالے گا اور باپ کی کمی کھبی محسوس نہیں ہونے دے گا
شفیق کو یاد کر کے عدن روتی رہتی. سب اس پر حیران ہوتے. آخر رانی نے ہی اسے سمجھایا کہ میں جانتی ہوں کہ تم میرے پاپا سے بہت پیار کرتی تھی مگر وہ تو اب چلے گئے اور تمھارے بچے اب سوتیلے باپ کے رحم و کرم پر ہیں.
عدن بولی
"میں شادی ہی نہیں کروں گی."
رانی نے اسے پیار سے ڈانٹ کر سمجھاتے ہوئے کہا
"خبردار منہ سے ایسی بات نکالی تو تمھارے سر پر اور بچوں کے سر پر مرد کا مضبوط ہاتھ کا ہونا ضروری ہے. ہمارا معاشرہ اکیلی عورت کو جینے نہیں دیتا. اور بچے بھی بگڑ جاتے ہیں اور ان کی شخصیت ادھوری رہ جاتی ہے. تمھارے سامنے ایک شاندار مستقبل کھڑا ہے، طیب کی شکل میں. جو مجھے لگتا ہے کہ وہ تمہیں چاہتا ہے اس لئے وہ اور تمھاری خالہ بھی تمھاری محبت میں تمھیں قبول کر رہی ہیں. شاہ صاحب بھی بوڑھے ہیں وہ تمھارے بچوں کا سہارا نہیں بن سکتے ہیں. اس گھر میں ایک مخلص شخص کی ضرورت ہے. اور وہ طیب اور اس کی ماں ہیں. تم اب شادی شدہ دو بچوں کی ماں ہو اگر طیب تم سے منہ موڑ لے تو تمھیں کوئی اس جیسا ہنڈسم کنوارا لڑکا نہیں ملنے والا. شکر کرو وہ لوگ تمہیں قبول کر رہے ہیں. خالہ تمھارے بچوں پر جان دیتی ہے اور طیب بچوں سے کتنا پیار کرتا ہے آفس سے آتے ہی بچوں کی طرف آتا ہے۔ ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اب عدت ختم ہونے والی ہے تو میرے باپ کے لیے رونادھونا چھوڑو اور اپنے ہونے والے شوہر کی فکر کرو۔ اس کا دل خوش کرنے کی کوشش کرو یہ نہ ہو کہ وہ تم سے متنفر ہو جائے اور پھر تم پچھتاتے ہوئے ساری زندگی اسے اپنی محبت کا یقین دلاتے گزار دو. طیب کو رشتوں کی کیا کمی ہے کنواری لڑکیوں کے لئے اس کے لیے ڈھیروں رشتے آس لگائے بیٹھے ہوئے ہیں کچھ لوگ خالہ کو آفر دے رہے ہیں. ان کا بیٹا امیر ہے امریکہ پلٹ ہے. ایسا رشتہ والدین اور لڑکیوں کا خواب ہوتا ہے. اب اپنی شادی کی خوشی سے تیاری شروع کرو. خالہ کا اکلوتا بیٹا ہے وہ اس کی شادی دھوم دھام سے کرنا چاہتی ہیں تم ان کی خوشی کو مٹی میں نہ ملاؤ. شاباش دو دن بعد عدت ختم ہے اور تمھارا نکاح اس سے اگلے دن ہے۔ پھر تم طیب کے ساتھ مل کر شاپنگ کرنا ہنی مون پر جانا بچے ہم گھر میں رکھیں گے. طیب کو اب موقع نہ دینا کہ اس کو لگے کہ تم مجبوراً مان رہی ہو اور شادی سے خوش نہیں ہو. اسے خوش رکھنا اور ہنی مون پر بچوں کا رونا نہ روتی رہنا. بچے سیف ہاتھوں میں ہیں. ویسے بھی ابھی وہ چھوٹے ہیں اور ہم سب سے مانوس ہیں آسانی سے رہ لیں گے. طیب میں سب سے بڑی خوبی اس کی غیرت ہے. شاہ صاحب بھی متاثر ہیں اور وہ کام بھی ایمانداری سے کرتا ہے اب اس نے کہا ہے کہ وہ آدھا سرمایہ خود لگا کر آپ کے ساتھ بزنس پارٹنر بنے گا اور اس کی اس بات سے شاہ صاحب بہت خوش ہیں. اس نے کہا کہ میں تو ویسے بھی بزنس مین بننا چاہتا تھا اور سرمایہ لگا کر کاروبار شروع کرنا چاہتا تھا آپ سے مدد نہ لیتا مگر میں نے دیکھا کہ آپ کو بیٹے جیسے داماد کی ضرورت ہے اس لئے میں آپ کے ساتھ بزنس پر راضی ہوا ہوں."
عدن نے رانی کی باتوں کا اثر لیا اور سوچا کہ واقعی وہ بےوقوفی کر رہی تھی اگر طیب نے کسی اور لڑکی سے شادی کر لی تو وہ اور اس کے بچے کہاں جائیں گے۔ وہ اکیلے کیسے انہیں پالے گی، خالہ کتنے پیار سے ان کو پال رہی ہیں جیسے وہ ان کی سگی دادی ہیں۔ وہ خود کو ان کی دادی ہی کہتی ہیں. اب میں طیب کے سامنے شفیق کا نام دفن کر لوں گی بھلا طیب جیلس نہ ہوتا ہو گا اگر وہ کسی لڑکی کو اہمیت دے تو اس سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس نے آفس کے لیے لڑکیوں کے انٹرویو کرنے تھے تو عدن کو دل میں طیب کی طرف سے فکر لگ گئی تھی اور دل میں جیلس ہو رہی تھی. اس نے سوچا اب وہ بوڑھے باپ کی خوشی بھی خراب نہیں کرے گی اور ان کے دل میں مجھے بیاہنے کے سو ارمان ہوں گے وہ ان کی خوشی خراب نہ کرے گی انشاءاللہ.
عدن کا نکاح طیب سے ہو گیا. شادی دھوم دھام سے ہوئی. عدن بھی شادی کے ہنگاموں میں خوش ہو گئی. سب چاند سورج کی جوڑی کہنے لگے.
ہنی مون پر بھی دونوں نے خوب انجوائے کیا. بچوں کی روز فون پر خیریت پوچھ لیتے. واپسی پر ان کے لئے ڈھیروں شاپنگ کی.
بچے جوان ہو گئے شاہ صاحب اور طیب کی ماں یکے بعد دیگرے گزر گئے. رانی بچوں کو نانو کہلواتی. ان پر جان چھڑکتی. طیب نے وعدہ سچ کر دکھایا اور ان پر باپ کی شفقت نچھاور کی. شفیق کی قبر پر بھی فاتحہ خوانی پر جاتا اس کی برسی پر خوب خیرات کرتا. بچے سمجھتے تھے کہ وہ ان کی نانو کا باپ ہے. بیٹی کی اچھے خاندان میں شادی ہو گئی اور بیٹے کی بھی اسی گھر سے دولہن لے آئے. کراس میرج کی. طیب بیمار رہنے لگا بیٹا اب بزنس سنبھال رہا تھا طیب کو دل میں ظمیر ملامت کرتا ایک دن اس نے سب کو بلا کر جولی سے لے کر شفیق کی حقیقت بتا دی. اور رو کر عدن اور بچوں سے معافی مانگنے لگا. بچے بہت حیران تھے۔ انہوں نے پھر بھی اس کو شرمندہ نہ ہونے دیا اور بولے
"ہم آپ کے رحم وکرم پر تھے اگر آپ ہمیں اعلیٰ تعلیم نہ دلاتے بھر پور پیار وتوجہ نہ دیتے تو آج ہم اس مقام تک نہ پہنچتے. آپ ہمارے پیارے پاپا ہیں اور ہم آپ کے بچے."
طیب پرسکون ہو گیا.
بیٹی بولی
"اسی لئے میں سوچتی تھی کہ یہ نانو کے پاپا جیسا بھائی کیوں لگتا ہے. جبکہ میں ماما جیسی ہوں. دونوں بچے شفیق کی قبر پر گئے اور خوب روئے.
چند دن بعد طیب کا انتقال ہو گیا. بچے بہت تڑپے روئے. عدن بھی بہت روئی تو بیٹا قریب آیا اور ماں سے بولا
"ماما آپ کا بیٹا آپ کا سہارا ہے اپنے آپ کو کھبی اکیلا نہ سمجھنا."
بہو نے بھی کہا
"آنٹی ہم سب آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں آپ کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رہے"
داماد اور بیٹی بھی دلاسے دے رہے تھے اور وہ اپنے بچوں کی طیب کی بے لوث تربیت کرنے پر دل سے اس کی مشکور ہو رہی تھی.
پلیز اسے لائک، شیئر اور فرینڈز کو کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ.
ناول نگار عابدہ زی شیریں
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.