Logo
Kismat ke Faislay Niralay
9 Episodes
Kismat ke Faislay Niralay EP 3
Episode 3

قسمت کے فیصلے نرالے3

Kismat ke Faislay Niralay

تیسرا حصہ - Part 3


عدن نے جب خودکشی کی دھمکی دی تو رانی کے باپ نے مجبور ہو کر کہا 

"ٹھیک ہے آپ کی زندگی سے قیمتی کچھ نہیں ہے مجھے منظور ہے"

رانی کے باپ کے ساتھ عدن نے کورٹ میرج کر لی کورٹ میرج والا بھی حیران ہو کر پوچھنے لگا 

"آپ پر کوئی زبردستی تو نہیں کی جا رہی ہے" 

تو عدن نے غصے سے پوچھا 

"کیوں آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ اپنا کام کریں"

اس نے نکاح کے بعد اچھے ہوٹل میں کمرہ بک کروا دیا اور باپ کو میسج کر دیا 

"میں نے رانی کے باپ شفیق سے نکاح کر لیا ہے اور اب ہوٹل میں مقیم ہوں" 

اور فون آف کر دیا. 

رانی کے باپ نے َایک جگہ اسٹاپ پر پھولوں کے گجرے خرید لیے. کمرے والے بھی ایک روم کا سن کر حیران دیکھ رہے تھے. عدن کمرے میں آئی تو ویٹر کو فون کر کے کھانے کا آرڈر دے دیا. رانی کا باپ خیالوں میں گم تھا کہ اس کا موبائل بجا، اس نے یس کیا تو عدن نے شفیق سے کہا 

"رانی کو بتا دو کہ ہم نے نکاح کر لیا ہے اور آج ہماری سہاگ رات ہے کوئی بار بار فون نہ کرے اور فون آف کر دیں" 

وہ اتنا چلا کر بول رہی تھی کہ رانی کو اس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی رانی کے باپ نے رانی کی ڈانٹ سن کر بغیر جواب دیے فون آف کر دیا.

رانی کے باپ نے پیار سے عدن کو زبردستی کھانا کھلایا اور کھانے کے بعد ویٹر برتن لے گیا. 

عدن کانوں میں ہیڈفون لگا کر موبائل یوز کرنے لگی۔ اچانک ایک پوسٹ پر اس کی نظر پڑی جس میں شوہر کے حقوق کے حوالے سے لکھا تھا اور لکھا تھا کہ شادی سب قسمت کے فیصلے ہیں۔ جس کے ساتھ لکھی ہو اسی کے ساتھ ہوتی ہے اور جو شوہر کے حقوق وفرائض میں کوتاہی کرے گی وہ دوزخ کی آگ میں جلے گی اور جو شوہر سے بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرے گی وہ بھی دوزخ کا ایندھن بنے گی.

عدن پڑھ کر کانپ گئی اس نے تو شادی کو بدلے کی آگ کی وجہ سے ایک مزاق سمجھا تھا اب وہ پھنس چکی تھی. اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا جو اپنے سستے موبائل میں گیم کھیل رہا تھا، بظاہر لاپروا بنا ہوا تھا مگر اندر سے دھیان اس کی طرف تھا.

عدن سوچنے لگی کہاں وہ اپنے سے چھ ماہ بڑے لڑکے سے بھی شادی پر راضی نہ تھی اور کہاں اب وہ اپنے سے دگنے بڑے شخص کی بیوی بن چکی تھی. جو قد میں بھی تقریباً اس کے برابر تھا قدرے موٹا، سانولی رنگت اور موٹے نقوش اور موٹے موٹے ہاتھوں اور پاوں والا، چند کلاسیں پڑھا ہوا تھا.

عدن دھاڑیں مار مار کر ماں کو یاد کر کے رونے لگی. اس کا شوہر شفیق تڑپ کر اس کے پاس آیا اور اسے پیار سے تسلیاں دینے لگا اور پیار سے اس کو پھولوں کے گجرے پہنائے اور کہا 

"تم ٹینشن نہ لو، اس شادی سے میں جانتا ہوں کہ تم خوش نہیں ہو مگر فکر نہ کرو میں جانتا ہوں کہ میں تمھارے لائق نہیں پھر بھی تم جب چاہو مجھ سے طلاق لے کر اپنی زندگی سنوار سکتی ہو."

عدن اس کی بات سن کر پریشان ہو کر سوچنے لگی اس مخلص شخص کے علاوہ اس کا اب اس دنیا میں کون بچا ہے اپنا جان نچھاور کرنے والا باپ بھی پرایا ہو چکا ہے تو اس نے پیار سے شفیق کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ خوش ہو گیا اور رانی کو جیسے اس کی قربت میں سکون محسوس ہوا.

صبح وہ ناشتے سے فارغ ہو کر پارلر چلی گئی اور مہندی لگانے لگی اس نے شفیق کا نام اپنے ہاتھ پر لکھوایا جس سے وہ نہال ہو گیا. گھر پہنچ کر اس نے ڈائننگ ٹیبل پر شفیق کے ساتھ سیلفیز لینی شروع کر دی.

باپ آیا اور حیرت اور دکھ سے اسے دیکھنے لگا مگر بولا کچھ نہیں.

رانی باہر آ کر چلانے لگی 

"تم کیسے میری ماں کی جگہ لے سکتی ہو." 

عدن لاپروائی سے اپنا مہندی والا ہاتھ دیکھانے لگی کہ اس پر شفیق کا نام لکھا ہوا ہے. رانی باپ کا گریبان پکڑ کر بولی 

"بابا میں نے آپ کو خوشحالی دینے کے لیے بوڑھے شخص سے شادی کی اور آپ نے اس کے بدلے میری ماں کی جگہ کسی اور کو دے دی۔ میں اپنی ماں کی جگہ کسی اور کو آپ کے ساتھ بلکل برداشت نہیں کر سکتی ہوں، آپ فوراً اسے طلاق دیں."

شفیق نے کہا 

"بیٹی تم نے بھی تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا."

رانی غصے سے چنگھاڑتے ہوے بولی 

"تو کیا آپ نے اس کا بدلہ لینے کے لئے اس کے ساتھ شادی کی ہے۔ کیا آپ کو احساس نہیں کہ مجھے کتنا دکھ ملے گا۔ میری ماں کی روح پریشان ہو گی، آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے تھے۔ آپ اس چڑیل کی باتوں میں کیسے آ سکتے ہیں یہ تو آپ کو کھلونا سمجھ کر صرف استعمال کر رہی ہے۔ آپ کو شوہر نہیں سمجھے گی کھبی ساتھ نہیں دے گی۔ بس نوکر ہی سمجھے گی، کھبی آپ کی عزت نہیں کرے گی۔ آپ اسے فوراً طلاق دیں۔ میں نے بھی سنتے ہی خلع کا کیس دائر کر دیا ہے۔ اب ہم ادھر نہیں رہیں گے روکھی سوکھی کھا لیں گے مگر ان محل کے مقیموں سے نجات حاصل کر لیں گے۔ ادھر کوئی سکون نہیں ہے۔ مجھ سے اب، اس بڈھے سے جھوٹا پیار جتایا نہیں جاتا۔ بہت چالاک ہے یہ اس نے اپنا سب کچھ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ سب کچھ بیٹی کے نام کیا ہے اور تاحیات اس کے نام رہے گا اس کا باپ بہت کنجوس بھی ہے۔ مجھے نقلی زیورات دے کر اصلی بتاتا رہا اور میں وہ بیچ کر تمھیں ساتھ لے کر ادھر سے جانا چاہتی تھی کہ اب میں مزید ادھر رہ کر اپنا وقت برباد نہیں کر سکتی۔ چلو زیورات ہی مل جائیں مگر وہ بھی نقلی نکلے۔ جب جیولرز کو دیکھائے تو ایک چھلا تک سونے کا نہ تھا اور جو اس نے پہلے دن مجھے ہیرے کی انگوٹھی بتا کر دی تھی، وہ بھی نقلی تھی مگر یہ ایسی ایکٹنگ کرتا تھا کہ یہ بہت قیمتی زیورات ہیں۔ انہیں لاکر میں رکھوایا تو میں نے بڑی تگ ودو سے لاکر سے نکلوائے مگر سب نقلی نکلے افسوس کہ میں نے اس کے ساتھ نکاح کیا۔ ارے اس سے اچھا تو وہ آفس کا مینجر تھا، جو مجھے قیمتی گفٹس دیتا تھا اور ایک یہ ہے کہ چالاک انسان اپنی بیوی کے کپڑے دے کر مجھے اموشنل کر کے کہتا، ان کو پہنو بہت مہنگے ہیں میں بہت پیار سے لایا تھا تاکہ اس کو مجھے نیے نہ دلانے پڑیں."

عدن کے باپ نے مسکرا کر کہا 

"میں وقتی طور پر تم پر فدا ہوا تھا مگر تمھیں پرکھنے کے لئے میں نے ایسا کیا ہے اور تمھارے طلاق کے کاغذات ابھی وکیل آ رہا ہے۔ میں نے تمھیں طلاق دے دی ہے اور اب تمیں اور تمھارے باپ کو اس گھر سے جانا ہو گا۔ اس کمبخت بڈھے سے تو میں بیٹی کو چھڑوا ہی لوں گا."

شاہ صاحب آگے بڑھ کر اسے مارنے لگے تو عدن بیچ میں آ گئی اور سختی سے باپ سے مخاطب ہو کر بولی 

"آپ بھلے اسے اب طلاق دے دیں آپ نے جو میرے دل کو چوٹ پہچانی تھی اب اس کا مداوا ممکن نہیں. اب آپ میرے شوہر کی انسلٹ نہیں کر سکتے، اگر آپ نے ایسا کچھ کیا تو میں شوہر کو لے کر اس گھر سے ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں گی."

شاہ صاحب نے روتے ہوئے کہا 

"اسے معاف کر دو. اور اس سے طلاق لے لو. تمھاری خالہ جلد طیب کے ساتھ آ رہی ہیں اور وہ طیب کے ساتھ تمھاری شادی کرنے پر راضی ہیں. اب میں تمھیں مزید برباد نہیں ہونے دوں گا"

عدن نے کہا 

"جب تک شفیق زندہ ہے میں اس کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی. میں نے اپنے آپ کو برباد کر کے اس دل کو سکون پہنچایا ہے اور میرے دل کو آپ کے تڑپنے سے سکون مل رہا ہے. جیسے آپ نے رانی کی چاہ میں مجھے یکسر فراموش کر دیا تھا میں اکیلی ہر پل تڑپی، روئی میرا کوئی دوست کوئی غمگسار نہ تھا۔ اس وقت شفیق نے میرے درد کو سمجھا اور مجھے مورل سپورٹ دی، ورنہ یا تو میں خودکشی کر لیتی یا پاگل ہو جاتی. اس جیسے مخلص اور نیک نیت انسان نے بیٹی کو بھی نہ دیکھا اس کے اس اقدام کو بھی برا جانا اور اسے سرزش کی. اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی نظروں کے سامنے رہوں تو بس اب آپ مجھے شفیق کے ساتھ دیکھ کر برداشت کریں جیسے آپ نے میرے صبر کا امتحان لیا تھا."

وہ شفیق کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں چل پڑی.

رانی کو طلاق مل چکی تھی اور عدن نے رانی کو اگنور کیا ہوا تھا رانی کو اس گھر کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے کو جگہ ملی تھی اور کچن کے کام کی ذمہ داری تنخواہ کے عوض اسے سونپ دی گئی تھی.

رانی کا باپ رانی کو سمجھاتا کہ ہماری حیثیت یہی تھی 

"عدن مجھے نہیں چھوڑ رہی اور میں بھی اسے اب اکیلا دکھی دل کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتا وہ اندر سے دکھی ہے جب تک وہ سنبھل نہ جائے اور اسے اس کے درد کا ساتھی نہ مل جائے میں اس کے ساتھ ہوں ہاں اگر وہ خود جب بھی مجھے چھوڑنا چاہے گی میں اسی وقت اس کی بقا کے لئے اس کی زندگی سے نکل جاؤں گا۔ میں اپنے ساتھ اس کی زندگی برباد نہیں رہنے دوں گا اس کے ساتھ اس کا کوئی میل کا ہم عمر مل جائے تو مجھے سکون آ جائے پھر ہم دونوں باپ بیٹی ادھر سے چلے جائیں گے. تب تک تم حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھو اور سکون سے اپنی زمہ داریاں نبھاؤ۔ اب یہی ہماری قسمت ہے. قسمت پر شاکر رہو."

رانی نے باپ کی وجہ سے اس گھر میں رہنا اور ملازمہ کی حیثیت سے رہنا قبول کر لیا. وہ صرف ایف اے پاس اور بی اے فیل تھی سوائے کسی فیکٹری ورکر کے، اسے اب آفس کی نوکری نہ مل سکتی تھی۔ اب باپ نے بھی اسے سدھرنے اور باہر نوکری کرنے سے منع کر دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اس نے اس کی نصیحت پر عمل نہ کیا تو وہ اسے منہ موڑ لے گا.

رانی اب جلد بازی میں سچ اگل کر اور طلاق لے کر پچھتا رہی تھی باپ نے اسے منع بھی کیا تھا کہ وہ اب اس کا شوہر ہے اس کی نیک نیتی سے گھرداری سنبھالے اور عزت سے رہے ورنہ پچھتائے گی. مگر وہ نہ کر سکی. اب وہ ایک آیا بن کر اس گھر میں رہ رہی تھی۔ باقی ملازم جو پہلے اس کی عزت کرتے تھے، اب انہوں نے بھی اس کی عزت کرنی چھوڑ دی تھی اور طنزیہ مسکراتے اور کھبی اس کو سنانے کے لئے طنز کا تیر چلا جاتے. صفائی والی ملازمہ تو اسے دیکھ کر فقرہ کستی چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ہے. شروع میں اس نے ان پر چیخا تو شاہ صاحب نے اس کے باپ کو بلا کر سامنے اسے ڈانٹا اور کہا 

"وہ اس گھر کا سکون اور بیٹی کو برباد کرنے کی ذمہ دار ہے اگر اس نے اس گھر کا ماحول برباد کیا اور کسی سے جھگڑا فساد برپا کیا تو وہ اسے اس گھر سے نکال دیں گے."

رانی کے باپ نے شاہ صاحب سے معزرت کی اور بیٹی کو بری طرح لتاڑا اور کہا 

"اس گھر کی بربادی کی تم ذمہ دار ہو. اب اگر تم نے غلط روش اپنائی تو میں اپنے آپ کو بے اولاد سمجھوں گا اور تم سے ہمیشہ کا ناطہ توڑ دوں گا. میں ویسے بھی تم سے متنفر ہوں. تم جیسی آوارہ بیٹی کا باپ ہونا میرے لیے باعثِ شرم کا مقام ہے. آجر عدن بھی تو ہے جس کے پاس آزادی، دولت سب کچھ تھا مگر اس نے شرافت نہ چھوڑی اور باپ کا سینہ فخر سے بلند رکھا. مجھے تو کسی کو تمھیں بیٹی بتاتے ہوئے ہی شرم آتی ہے اور سر ندامت سے جھک جاتا ہے. اب میں تمھیں اس وقت بیٹی مانوں گا جب تم شرافت کی زندگی اپناؤ گی" 

یہ کہہ کر وہ کمرے میں چل پڑا۔ عدن اور شاہ صاحب اس کی باتوں پر حیرت زدہ رہ گئے.

رانی کو پہلی بار اپنی غلط روش کا احساس ہوا اور اپنے کرتوتوں پر شرمندگی محسوس ہوئی. اس نے سوچا کہ ایک انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے. پیٹ بھرنے کے لیے روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے لباس. جب یہ کام سستے میں بھی ہو سکتا ہے سادہ خوراک عزت سے ملے اور سستا لباس تن پر ہو تو کیا مزائقہ ہے. طرح طرح کے کھانے بھی ہوں تو بھی پیٹ میں اتنا ہی جائے گا جتنی بھوک ہو. اگر حرام کا ہو گا تو کھانا نہیں دوزخ کو بھر رہا ہے جو قیامت تک پہاڑ بنی ہو گی جس میں اسے جلنا ہو گا اور اس وقت بچانے کوئی نہیں آئے گا۔ جن کی خاطر وہ کرتا ہے ہر کسی کو دوزخ کا منظر دیکھ کر صرف اپنے نفس کی پڑی ہو گی. وہ سوچنے لگی میں نے اپنی عیاشی اور باپ کے لیے سب کیا مگر اس کا نتیجہ دنیا میں ہی سامنے آ گیا اور اس کا دنیا میں واحد سہارا اس کا باپ اس کا پیار اس کا اعتماد اس سے چھن گیا۔ جس کو وہ دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتی تھی اور دنیا میں رسوائی الگ سے ملی. اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ اب شرافت کی زندگی بسر کرے گی.

اس نے اب اپنا کام ذمہ داری سے سنبھال لیا اور سادگی کو اپنا لیا۔ دوسروں کی طنزیہ باتوں کی طرف دھیان دینا اور پلٹ کر جواب دینا چھوڑ دیا. کچھ ملازم اس پر طنز کرتے جو اس سے جلتے تھے اور جن سے وہ برا سلوک کرتی تھی کہتے سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی مگر رانی نے صبر کرنا سیکھ لیا تھا.

عدن اس سے مخاطب نہ ہوتی اگر کوئی کام ہوتا تو دوسری ملازمہ کو کہہ دیتی. باپ بھی نہ بلاتا. شاہ صاحب بھی اگر کوئی کام ہوتا تو اسے ڈانٹ پھٹکار کے بعد ہی کہتے اور اسے بیٹی کی بربادی کا ذمہ دار بھی ٹھہرا جاتے. وہ جواب میں اب چپ رہتی. ذلت برداشت کرتی دوسروں کے سامنے اپنی توہینِ محسوس ہوتی اور آنکھوں میں نمی اتر جاتی.

عدن کی ماں کی کزن اور اس کا بیٹا طیب آ چکے تھے. طیب کو کافی عرصے بعد عدن نے دیکھا تھا. وہ کافی ہینڈسم ہو چکا تھا اس کو دیکھ کر عدن نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ اس نے جلدبازی سے کام لیا اور اپنی قسمت پھوڑ لی اس بڈھے کے ساتھ. جہاں جاتی ہے شرمندگی محسوس ہوتی ہے. لوگ اسے یا تو اسے اس کا نوکر سمجھتے ہیں یا باپ. وہ شرمندہ ہوتی رہتی. اگر وہ انتقام کی آگ میں نہ جلتی تو آج طیب کی بیوی ہوتی. اب تو شاہ صاحب نے بھی اسے زبردستی مخاطب کرنا شروع کر دیا تھا اور وہ مختصر جواب دیتی. آخر باپ تھا اور وہ پگھلتی جا رہی تھی. طیب کی ماں نے ڈھیروں پیار کرنے کے بعد اسے ڈانٹا بھی تھا اور اسے اب اس سے جلد طلاق کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں.

طیب نے بھی اس کی معصوم صورت دیکھ کر اسے شوہر سے طلاق لینے اور اس سے شادی کی پیشکش کر دی تھی. وقتی طور پر وہ خالہ کی توجہ اور پیار اور طیب کی باتوں سے بہل گئی تھی اور شفیق سے الجھن محسوس کرنے لگی تھی۔ اب بات بات پر اسے ڈانٹ بھی دیتی تھی. وہ صبر کر کے بغیر برا منائے اس کی خدمت میں کمی نہ چھوڑتا تھا. خالہ کے آ تے ہی شفیق کو اس کے بیڈ روم سے نکال کر بیٹی کے پاس سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کر دیا گیا تھا اور عدن خالہ کے آ گے کچھ بول نہ سکی تھی اور شاہ صاحب نے سکھ کا سانس لیا تھا اور خالہ نے عدن کو شفیق سے طلاق پر راضی کر لیا تھا. 

شفیق نے کہا تھا کہ اگر عدن نے خود کہا تو وہ طلاق دے کر اس گھر سے بیٹی کو لے کر چلا جائے گا. اس کو ڈرائیور کے کام پر معمور کر دیا گیا تھا اب وہ بیٹی سے بھی راضی ہو گیا تھا.

شاہ صاحب نے اپنے خاندانی وکیل سے رابطہ کیا تو وہ عمرے پر جا رہا تھا اس نے کہا 

"وہ عمرے سے واپسی پر اس کام کو سر انجام دے گا."

شاہ صاحب نے خالہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا 

"ٹھیک ہے اب عدن بھی راضی ہے تو کیا مسلہ ہے کچھ دن کی بات ہے انتظار کر لیتے ہیں."

خالہ نے ادھر مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور شاہ صاحب نے طیب کو اپنے آفس کی ذمہ داری سونپ دی تھی، جسے وہ بخوبی نبھا رہا تھا اور شاہ صاحب بھی اس کے کام کی کارکردگی سے مطمئین تھے.

خالہ کے ساتھ عدن کا دل لگ چکا تھا اور اب اس نے شفیق کو بھی بھلا دیا تھا۔ بلا ضرورت بات نہ کرتی وہ بھی اب اپنے کام پر دھیان دیتا اور بیٹی کو کھبی لے کر کچھ دیر کی چھٹی لے کر بیوی کی قبر پر بیٹی کے کہنے پر چلا جاتا۔ وہاں وہ اپنے پرانے محلے داروں سے بھی ملتے مگر اپنے حالات واقعات کسی کو نہ بتاتے.

عدن کی طبیعت سخت خراب ہو گئی اور گھر پر طیب بھی موجود نہ تھا شفیق کو بلا کر خالہ اسے شفیق کے ساتھ اسے اپنے خاندانی ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئی. اس کے وہاں سب ٹیسٹ ہوئے اور اسے دوا دے کر گھر بھیج دیا گیا. ٹیسٹ کی رپورٹس اگلے دن آنی تھی.

شفیق جلدی سے رانی کو کہہ کر اس کے لیے سوپ بنوا کر لے آیا تھا.

خالہ اس کی پھرتی سے کافی حیران تھی. وہ اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا.

شاہ صاحب پریشان حال بیٹی کے پاس کرسی ڈالے بیٹھے ہوئے تھے اور شفیق کو منع بھی نہ کر رہے تھے جو اسے دوا بھی کھلا رہا تھا.

طیب آفس سے آیا کھڑے کھڑے اس کا حال احوال پوچھا اور معزرت کرتے ہوئے فریش ہونے کا کہہ کر چل پڑا.

اگلے دن رپورٹس آنی تھی. دوسرے دن پھر عدن کو چیک اپ کے لئے جانا تھا اور طیب تیار ہو کر آفس چلا گیا تھا.

خالہ عدن کو شفیق کے ساتھ ہاسپٹل لے گئی.

 

پلیز اسے لائک،کمنٹ اور اپنے فرینڈز کے ساتھ شئیر کرنا نہ بھولیں شکریہ.

ناول نگار عابدہ زی شیریں



Continue Reading
Episode 4
قسمت کے فیصلے نرالے4

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry