Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
شازمہ نے خوف پر قابو پاتے ہوئے بچوں کو سچائی بتانے کا ارادہ کیا،
اس نے تھوک نگلتے ہوئے بچوں کو جنات کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا کہ قرآن مجید میں بھی ان کے وجود کا زکر موجود ہے۔ ہم بس کلام اللہ پڑھنے لگیں گے تو انشاءاللہ ان سے اور ہر آفت سے محفوظ رہیں گے انشاءاللہ۔
بس کسی بھی چیز کا خوف ہو تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے کلمہ طیبہ وغیرہ پڑھنے سے ہم محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر کلام میں برکت ہے۔
ان چیزوں سے خوفزدہ ہوکر ڈرنا نہیں چاہیے۔
بچے پہلے تو حیرت سے ماں کی گفتگو سنتے رہے پھر اسامہ نے بہادری سے بازو دکھا کر کہا، ماما آپ پریشان نہ ہونا میں آپ کے ساتھ ہوں۔
شازمہ نے مسکرا کر اسے گلے لگا کر کہا، شاباش میرا بہادر بیٹا۔
یامین فوراً بولی، ماما میں بھی brave ہوں۔
شازمہ نے اسے بھی گلے لگا کر پیار کیا اور کہا، گڈ۔
اگلے دن سنڈے تھا شازمہ نے دیکھا بریڈ، انڈے وغیرہ ختم ہیں اس نے بچوں کو ساتھ لیا اور مال روڈ پر ایک جگہ گاڑی پارک کی اور سامان خریدا۔
بچوں نے ناموں والے key chain خریدنے میں دلچسپی لی۔
شازمہ نے مسلسل انہیں جلدی ڈالی کہ ابھی کچھ کھانا پینا بھی ہے اور شام ہونے سے پہلے گھر بھی واپس جانا ہے۔
دانیال کا فون آ گیا بچوں نے خوشی سے بتایا کہ انہوں نے کیا شاپنگ کی۔
برگر وغیرہ لے کر شازمہ نے کہا، بچوں گاڑی میں کھا لینا۔چلو جلدی سے گھر چلتے ہیں۔
ایک جگہ اسامہ نے امرود دیکھ لیے۔ ماں سے بولا، ماما میں نے امرود لینے ہیں۔
ایک بچہ امرود کی ٹوکری کے پاس بیٹھا بیچ رہا تھا۔
شازمہ نے اسامہ کو پیسے دیے اور زرا فاصلے پر گاڑی روک کر بولی، جاو جا کر لے آو۔
اسامہ امرود کا شاپر پکڑے واپس آیا اور بولا، ماما اس کے پاس چینج نہیں ہے۔
اسامہ کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ کر شازمہ خود پرس سے چینج نکال کر جب اسے دینے گئی تو بچے نے جب اسے دیکھا تو شازمہ کو اس کی آنکھیں خوفناک سی لگیں۔ جب وہ اسے پیسے پکڑانے لگی تو اس نے دیکھا، اس بچے کے ہاتھوں کے انگوٹھے نہیں تھے۔
شازمہ سخت خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ پڑھنے لگی۔ اور تیزی سے گاڑی کی طرف بھاگی۔ اسامہ کے ہاتھوں سے امرود کا شاپر لیکر باہر پھینک کر بچوں سے خوف سے بولی، جلدی سے بولی، بچو گاڑی لاک کرو، شیشے چڑھاو وہ بچہ انسان نہیں ہے۔
بچے بھی ڈر کر کلمہ طیبہ پڑھنے لگے۔ اور جلدی جلدی سے گاڑی کو لاک کر کے شیشے چڑھانے لگے۔
وہ جگہ بھی ویرانی تھی۔ کوئی ٹریفک نہ تھی۔
شازمہ نے کہا، بچو، مڑ کر پیچھے نہ دیکھنا، کیونکہ بچے کے پیچھے سے پکارنے کی آوازیں آ رہی تھیں اسامہ، یامین رکو مت جاو۔
بچے حیران تھے کہ اس کو ہمارے نام کیسے پتا چلے۔
شازمہ کا گھر قدرے ویرانے میں اور شہر سے کافی دور فاصلے پر واقع تھا۔ پہنچتے پہنچتے مغرب ہونے لگی تھی۔
شازمہ سوچ رہی تھی کہ گھر میں پناہ کہاں ہے وہاں بھی تو ایسی چیزوں کا سامنا ہے۔
سامنے چوکیدار بابا ٹہل رہے تھے۔
شازمہ نے جب بابا جی کو دیکھا تو کافی حوصلہ ملا۔
بچے بھی سخت گھبراے ہوئے تھے۔
بچے گھر کے اندر چلے گئے۔
اتنے میں پیچھے سے کسی عورت کی آواز سنائی دی۔
شازمہ خوفزدہ ہو گئ۔
بابا جی نے پکارا، شازمہ بیٹی، یہ پڑوس سے آئی ہیں۔
شازمہ نے دیکھا، پڑوسن ایک ڈونگہ پکڑے کھڑی مسکرا رہی تھی۔
شازمہ نے ڈرتے ڈرتے اسکا جاہزہ لیا،
وہ عورت قریب آئ اور سلام کر کے خوش دلی سے بولی، میں نے کڑھی پکائی تھی یہ اسپیشل ہمارے علاقے کی خاص ڈش ہے۔
شازمہ کے قدرے اوسان بحال ہوئے اور مسکرا کر ڈونگہ پکڑ کر شکریہ کہا،اور اسے اندر آنے کا کہا،
اسے عزت سے بٹھایا اور کچن میں برتن خالی کر کے دھو کر واپس لے آئی۔
وہ کڑھی دیکھ کر حیران ہو گئی۔ جس میں پکوڑے سرے سے موجود ہی نہ تھے۔ اس میں شلجم، مولی، گاجر وغیرہ سبزیاں پڑی ہوئی تھیں۔
بچے بھی اس عورت کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
بڑی ملنسار عورت تھی، بچوں سے بھی پیار سے باتیں کر رہی تھی۔
ان کی پڑھائی کے متعلق کچھ سوالات کر رہی تھی۔
وہ جانے لگی تو شازمہ نے زبردستی اسے چاے کے لیے بٹھا لیا۔
بچے بھی اس سے باتیں کر کے خوش ہو رہے تھے۔
شازمہ چاے کے ساتھ چپس بنا کر لے آئی۔
عورت نے مروت دکھاتے ہوئے کہا کہ اس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔
جب عورت سے اسامہ نے سوال کیا کہ آنٹی آپ کتنا پڑھی ہوئی ہیں۔
یامین جھٹ بولی، ہماری ماما نے تو بی اے کیا ہوا ہے۔
شازمہ بچوں کے سوال سے دل میں شرمندہ ہونے لگی۔
کیونکہ عورت بہت سادہ سی اور لب و لہجے سے دیہاتی اور پینڈو سی انپڑھ لگ رہی تھی۔
شازمہ نے ہلکہ سا بچوں کو گھور کر وارننگ دی کہ ایسے سوالات نہیں کرتے۔
وہ عورت مسکرا کر بولی، میں نے انگلش میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔
بچے حیرت سے بولے، آپ کو انگلش آتی ہے کیا۔
شازمہ الگ سے حیران تھی کہ وہ اس سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ تھی۔
وہ عورت بچوں سے انگلش میں باتیں کرنے لگی اور شازمہ شرم سے کام کا بہانہ کر کے اٹھ گئی۔ بچے اس کے ساتھ فر فر انگلش بول رہے تھے اور وہ بھی فر فر جواب دے رہی تھی۔
جبکہ شازمہ کی انگلش اچھی نہ تھی اسے زیادہ نہ آتی تھی۔ اسکا شوہر اور بچے شازمہ کی انگلش کا مزاق اڑاتے تھے۔
شازمہ اس عورت کے جانے کے بعد دل میں اس کے آگے سبکی سی محسوس کرتی رہی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
ان کی باغ میں قدم بوسی کے لیے
تیز ہوائوں نے پتیاں بکھیر دیں۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen
#اف_وہ_لرزتے_لمحات
#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں
#abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.