Logo
Uff Woh Laraztay Lamhaat
10 Episodes
Uff Woh Laraztay Lamhaat EP 8
Episode 8

اف وہ لرزتے لمحات 8

Uff Woh Laraztay Lamhaat


آٹھواں حصہ - Part 8

 

شازمہ کے بھائی نے جب دکھ بھرے لہجے میں بیوی کو بتایا کہ جب اسامہ کا فون آیا تو میں تو بہت پریشان ہو گیا۔ وہ دونوں بھی بظاہر پریشان ہو گئیں۔

مجھے اسامہ نے بتایا کہ خون بہت زیادہ بہہ رہا تھا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ شاید خون کی ضرورت پڑے۔ میں جانتا تھا کہ دونوں بہنوں کا خون میری بیٹی کے خون سے میچ کرتا ہے۔ میں سمجھا کہ وہ سنکر فوراً واپس چل پڑیں گی مگر وہ دونوں اندر چل پڑیں۔

میں خیرت زدہ رہ گیا اور انہیں آواز دے کر پوچھا 

"چلنا نہیں ہے ہاسپٹل، شاید خون کی ضرورت پڑے اور اسکا خون بھی نایاب ہے اگر ضرورت پڑی تو اچھا ہے اپنی خالہ کا لگے۔"

مگر دونوں نے بہانے بنانے شروع کر دیے کہ ہم کیسے جا سکتی ہیں، ہمارا جہاز چلنے والا ہے۔ ویسے بھی اس وقت ہماری ضرورت سے زیادہ ڈاکٹر کی ہے۔ جو اسامہ نے بتایا کہ وہ لوگ ہاسپٹل لے گئے ہیں۔ ہم بہت پریشان ہیں اور اس کے لیے منتیں مان رہے ہیں، دیکھنا وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی ا انشاءاللہ۔ اچھا ہم لیٹ ہو رہے ہیں، بھائی بھی ائرپورٹ پہنچنے والا ہے۔ فکر نہ کریں ہم بہت دعائیں کریں گے" 

یہ کہہ کر وہ اندر چل پڑیں اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

بھائی جب تک پہنچتا، شازمہ نے خون کس بندوبست کر لیا تھا اور اسکا آپریشن کامیاب ہو گیا تھا اور اب وہ خطرے سے باہر تھی۔

بھابھی نے شوہر کو روتے ہوئے بتایا کہ شازمہ نے میری سگی بہنوں سے بڑھ کر میرا ساتھ دیا ہے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری سگی بہنیں ایسا کریں گی۔ میری بیٹی زندگی اور موت کے درمیان میں تھی اور انہیں جہاز میں جانے اور اپنا شوق پورا کرنے کی جلدی تھی۔

حد تو یہ ہے کہ میری اپنی سگی ماں نے کہا کہ تم میری کنواری بیٹیوں سے خون دلوا کر انہیں کمزور کرنا چاہتی ہو۔ ابھی ان کی شادیاں کرنی ہیں انہوں نے بچے پیدا کرنے ہیں۔

میرے اپنے بھائی نے بھی سب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ تم لوگ پیسے والے ہو۔ خرید لو۔ مل ہی جاتا ہے زرا سی کوشش کی جائے تو اور سب سے ضروری بات اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا ہے۔ امی مسلسل تسبیح پڑھ کر دعائیں کر رہی ہیں بہت پریشان ہیں۔ بھائی نے کہا، ہمیں اس کی صحت کے بارے میں بتاتی رہنا۔

بھائی نے بیوی سے کہا، 

"میں جانتا تھا کہ شازمہ کچھ نہ کچھ کر لے گی اس لیے مجھے تسلی تھی۔ جس نے میری بیٹی کو وقت پر ہاسپٹل پہنچا دیا۔ اور خون کا بھی ارینج کر لیا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسی بہن سب کو دے۔"

بھابھی نے زور سے پرجوش لہجے میں کہا 

"آمین ثم آمین۔"

شازمہ کے بھائی نے روتے ہوئے شازمہ کو گلے لگا کر پوچھا، 

"بیٹا تم نے ہم سب پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔"

وہ ناراض ہوتے ہوئے بولی، 

"احسان کیسا، کیا آپ کی بیٹی میری بیٹی نہیں ہے کیا؟"

شازمہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کھبی بھی کسی کی نیکی کو رہیگاں نہیں جانے دیتے۔

میں نے گھر اپنا گھر بنانے والوں کی مدد کی۔ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو اس مشکل گھڑی سب پہنچ گئے اور ان میں سے ایک کا خون میچ ہو گیا۔ دینے کو سب تیار تھے۔ مجھے امید تھی کہ ادھر سے خون ضرور مل جائے گا۔

ان لوگوں نے خون کے پیسے بھی لینا گوارا نہ کیا۔ غریب لوگوں کا دل اتنا بڑا ہوتا ہے۔

شازمہ کا بھائی دل میں شرمندہ ہونے لگا کہ اس نے تو ان بے چاروں کو کھبی پانی تک نہ پوچھا تھا اتنے قریب ہوتے ہوئے۔ ان کو جا کر رعب ہی جھاڑا تھا اور انہوں نے جواب میں اس کے ساتھ کیا کیا۔

اس کی بیٹی کی زندگی بچانے کے لئے بےلوث ہو کر خون تک دے دیا، جبکہ اس کی بیٹی کی سگی خالائیں دامن بچا کر نکل گئیں۔ جن کو اس نے دل کھول کر شاپنگ کروائی تھی سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا تھا۔

دانیال بار بار فون کر رہا تھا۔ دانیال ہمیشہ شازمہ کے بھائی کی بڑے بھائی کی طرح عزت کرتا۔ وہ شازمہ سے اکثر کہتا کہ، 

"اس دنیا میں ہمارا کون ہے۔ بس ہم دونوں بھائی ہی ہیں۔"

جبکہ شازمہ کی بھابھی اس کو زیادہ لفٹ نہ دیتی نہ ہی شوہر کو ان کے زیادہ قریب ہونے دیتی۔

شازمہ کا بھائی بیوی کی بہت سنتا۔ اسے زیادہ اہمیت نہ دیتا۔ کیونکہ بیوی نے ان لوگوں کے خلاف شوہر کے خوب کان بھرے ہوئے تھے کہ وہ لوگ لالچی، کنجوس اور مطلب پرست ہیں۔ اگر ایک آبائی گھر کو بھائی کے لیے چھوڑ دیتے تو کیا فرق پڑتا۔

شازمہ کی بھتیجی ٹھیک ہو کر جس دن گھر آئی، شازمہ نے اسی دن واپسی کا پروگرام بنا لیا۔

بھابھی جو اب مسلسل شازمہ پر واری صدقے جا رہی تھی اس نے بہت روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رکی۔ بھائی نے پیار سے وجہ پوچھی تو شازمہ نے کہا، کہ وہ گھر کو زیادہ دیر اکیلا دوسروں کے بھروسے نہیں چھوڑ سکتی۔

شازمہ نے بچوں کو پیار سے سمجھا دیا کہ اب جتنا وقت ہمیں مری رہنا ہے خوب بہادر بن کر رہنا ہے کسی چیز سے ڈرنا نہیں ہے۔ جو ڈرتے ہیں وہی مرتے ہیں۔ آج تک ہم ڈرے نہیں تو کسی چیز سے نقصان نہیں پہنچا۔ اب آگے بھی بہادر بن کر رہنا ہے۔

شازمہ نے چوکیدار بابا کو فون کرکے اپنے آنے کی اطلاع کر دی تھی اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر پر ہے راستے میں اسے لے جائے۔

شازمہ حیران ہوئی کہ ایک ویک کے بعد وہ آئی ہے تو بابا جی گھر کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ حالانکہ اس نے بہت تاکید کی تھی کہ بلا ضرورت مت جانا اور جانا تو اسے فون کر کے بتا دینا۔ وہ اسے بیلنس بھی کافی کروا کر دے گئی تھی۔

جب وہ اس کی بیٹی کے گھر پہنچی تو گاڑی سے نہیں اتری کہ سخت دیر ہو رہی ہے۔ اس کی بیٹی بہت خوش ہوئی اور بہت روکا مگر وہ نہ رکی۔ چلتے وقت اس کی بیٹی کو کچھ پیسے دے آئی۔

یامین کو شازمہ نے آگے بٹھا دیا اور اسامہ اور بابا جانی کو پیچھے۔ سارے راستے وہ سوچتی آئی کہ بھابھی نے روتے ہوئے بیٹی کو شازمہ کی ہیلپ اور اپنی خالاوں کی بےحسی کے بارے میں بتایا۔ بچی بہت حیران ہوئی۔

شازمہ کی بھابھی نے بتایا کہ وہ شازمہ اور اس کے بچوں سے شدید نفرت کرتی تھی مگر اب اس کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور اسے پتا چل گیا ہے کہ کون سجن ہے اور کون لالچی اور مطلب پرست۔

اس کے دل میں شازمہ کے لیے شدید محبت جاگ گئی اور اپنے رویے پر شرمساری ہوئی۔ وہ پچھتانے لگی کہ وہ میکے کی محبت میں اندھی ہو کر دونوں ہاتھوں سے ان پر لٹانے لگی اور وہ بھی اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہے۔ اب بھی اس کی بہنوں کے آنے پر اسکا اچھا خاصا خرچہ ہو گیا تھا۔ وہی پیسہ اس کے اپنے بچوں کے کام آتا۔ وہ پچھتانے لگی۔

وہ میکے والوں سے ناراض نہ ہوئی مگر اب ان کی باتوں کے جال میں نہ آنے کا سوچ لیا۔ اس کی بہنیں بڑھا چڑھا کر بتا رہی تھیں کہ ان لوگوں نے بہت منتیں مانی تھیں بہت دعائیں کیں تھیں جس سے وہ ٹھیک ہوئی ہے۔

شازمہ راستے سے گھر پکانے کھانے کا ضروری سامان لے آئی تھی۔ اس نے بچوں کو سامان اندر لے جانے کا بولا۔

اچانک بچوں نے خوف زدہ لہجے میں ماں سے کہا 

"ماما، وہ سامنے پڑوسن آنٹی کھڑی ہے۔"

چوکیدار بابا تو مغرب کی نماز کا بتا کر کہ لیٹ ہو رہی ہے جلدی سے اپنے کوارٹر میں چلے گئے تھے۔ شازمہ نے دیکھا پڑوسن دور کھڑی مسکرا مسکرا کر ہاتھ ہلا رہی تھی۔

شازمہ نے اگنور کرتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں بچوں کو جلدی سامان لے کر اندر جانے کا بولا۔ اتنے میں دروازہ بجا۔

شازمہ نے سوچا کہ بابا جی ہوں گے مگر یہ دیکھ کر اسکا سانس رک سا گیا کہ سامنے پڑوسن کھڑی مسکرا رہی تھی۔ پیچھے سے بچوں نے دیکھا تو یکدم ڈر کر چیخنے لگے۔


جاری ہے۔

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔

شعر۔

عشق مثل شمع ہے قطرہ قطرہ پگھلنا ہے

آہستہ آہستہ جلنا ہے خود کو ختم کرنا ہے۔

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen


Continue Reading
Episode 9
اف وہ لرزتے لمحات 9

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry