Loading...
Logo
Back to Novel
Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
Uff Woh Laraztay Lamhaat

اف وہ لرزتے لمحات 2

From Uff Woh Laraztay Lamhaat - Episode 2

شازمہ خوف سے کانپ رہی تھی کہ اسامہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور بولا، ماما باہر کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔


تب شازمہ کو احساس ہوا کہ یہ آوازیں اصلی ہیں۔


اسامہ نے کہا، ماما پاپا تو نہیں آ گئے۔


شازمہ بولی، مگر انہوں نے تو دو تین دن بعد آنا تھا۔


وہ ہمت کر کے اٹھی۔ اسامہ بھی ساتھ چل پڑا۔


شازمہ نے کپکپاتی آواز میں پوچھا کون۔


باہر سے دانیال کی آواز آئی، یار دروازہ کھولو کب سے کھٹکھٹا رہا ہوں۔


شازمہ نے دروازہ کھولا۔


سامنے دانیال بیگ اٹھائے کھڑا تھا۔ قدرے غصے سے بولا، دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر بولا، کیا ڈر گئی تھی کہ شاید کوئی جن بھوت آ گیا ہے وہ مزاق اڑانے والے انداز میں بولا۔


شازمہ اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے بولی، جی نہیں جی۔


جن بھوت سے زیادہ انسانوں سے خوف آتا ہے۔


دانیال نے کہا، میں چوکیدار کا بندوبست کر آیا ہوں۔ شام تک آ جاے گا اور تمہارے بھائی کے گھر کے قریب ایک گھر تعمیر ہو رہا ہے دو ڈھائی ماہ تک مکمل ہو جائے گا۔ تم اس وقت تک رہ کر اپنا شوق پورا کر لو اور مجھے کراچی جانا پڑ رہا ہے تقریباً دو ماہ لگ جائیں گے۔ شام کو نکلنا ہے۔


اب مجھے سونا ہے ساری رات کا جاگا ہوا ہوں۔ تم ٹھیک رہی ناں۔ ڈر تو نہیں لگا۔ پھر خود ہی جواب دیا، ارے بابا تم کہاں ڈرنے والی ہو۔ جن بھوت کوئی آئے بھی تو تم سے ڈر کر بھاگ جاے گا۔ دیکھو میں بھی تم سے کتنا ڈرتا ہوں۔


شازمہ نے مکا دیکھایا۔


وہ اسامہ کو لپٹاے ہوئے چلتے ہوئے بولا۔ بیٹا پاپا بہت تھکے ہوئے ہیں۔ اس کے گال پر پیار کیا۔ اور سونے چلا گیا۔


شازمہ نے ناشتہ پوچھا تو بولا، سنیکس کھا لیے تھے۔


شازمہ پریشان ہو گئ کہ دانیال بھی جا رہا ہے اور پھر اسے اتنا وقت ڈر ڈر کر گزارنا پڑے گا۔ چلو چوکیدار تو آ رہا ہے دل کو تھوڑی تسلی ملی۔


ڈراونی رات پھر آ چکی تھی۔


دانیال جا چکا تھا۔


چوکیدار بابا باریش بزرگ تھے بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے۔


شازمہ نے ان سے باتوں باتوں میں آسیب زدہ چیزوں کے بارے میں پوچھا تو وہ بڑے پر اعتماد طریقے سے سمجھاتے ہوئے بولے، بیٹا انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اور جنات کا زکر ہمارے قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ بس ایسا کچھ نظر آئے یا محسوس کرو تو آیات ہی اسکا توڑ ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور اکثر لوگ ایسی باتوں کا زکر کرتے رہتے ہیں بس خوف دل سے نکال دو۔ اور ڈرو نہیں۔ ڈرنے سے اکثر چیزیں حاوی ہو سکتی ہیں۔


ایک بلی بھی اگر اسے بند کمرے میں پکڑنے لگو تو وہ بھی اس وقت اپنی جان بچانے کے لیے انسان پر جھپٹ پڑتی ہے۔


میں اپنی جوانی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک دوست کے پاس گیا اس کے دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے اگلے کمرے میں اس نے مرغیوں کی دوکان ڈال رکھی تھی پچھلے میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کو ادھر بڑے بڑے چوہوں نے بہت تنگ کر رکھا تھا۔ میں نے بہادری سے کہا، ہٹو یار تمہارے کمرے سے میں پکڑ کر مارتا ہوں۔


میں نے کمرہ بند کیا تو چوہا اچھل کر سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا اور میری طرف دیکھنے لگا۔ مجھے خوف محسوس ہوا اور میں نے ڈر کر جلدی سے دروازہ کھول کر باہر دوڑ لگا کر اسے کہا، توبہ یار وہ تو مقابلے پر اتر آیا تھا۔


شازمہ نے بابا جی کی باتوں سے یہ lesson لیا کہ وہ جو بھی حالات ہوں وہ اپنا گھر مکمل ہونے تک ادھر ہی رہے گی اور بلکل نہیں ڈرے گی۔ اور بچوں کو بھی بہادر بناۓ گی ورنہ پھر اسے گھر بننے تک رشتے داروں کے ہاں رہنا پڑے گا جہاں پر بچے تنگ پڑتے ہیں اور اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔ نہ اپنی مرضی سے بچوں کو کچھ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔


رات کا وقت تھا اس نے بچوں کو کل والا واقعہ سنایا تو وہ کافی حیران ہوئے۔


شازمہ نے سمجھایا کہ اگر تم لوگوں کو ایسا کچھ نظر آئے تو کلمہ طیبہ پڑھنے لگ جانا، انشاءاللہ کچھ نہیں ہو گا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔


رات کو بچوں کو وہ آیتیں پڑھ کر سونے کی ہدایت کرتی تھی اور دعائیں بھی۔ کہ یااللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے سارا دن نعمتوں سے بھرا خیر و عافیت سے گزارا۔ سارا دن میں جو جانے انجانے میں گناہ سرزرد ہوئے ان کی معافی چاہتی ہوں۔ اور مجھ سے جو کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی اس کی معافی مانگتی ہوں اور جس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی اسے اپنے حبیبِ خدا کے صدقے معاف کرتی ہوں۔ کیونکہ کسی کو معاف کرنا بہت اجر و ثواب کا کام ہے۔ جس سے اپنے گناہ بھی جھڑتے ہیں۔


اسامہ بولا، ماما میں بھی آج جاگ کر سنوں گا۔ یامین بولی، ماما میں نے بھی سننا ہے۔


سب کو نیند آنے لگی۔


رات گہری ہونے لگی۔ بچے سو گئے۔


شازمہ کی آنکھیں بھی بوجھل ہونے لگیں وہ اونگھ میں چلی گئی۔


کروٹ بدلتے ہوئے اس نے سامنے دیکھا تو دانیال کا ہم شکل لیکن قد بہت اونچا سا پاوں کی طرف کھڑا اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔


شازمہ ڈر گئی مگر اس کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھیں۔


وہ پھر سو گئی۔


صبح ازان کی آواز سے اٹھی تو اس واقعے پر غور کرنے لگی۔ کہ دانیال کی شکل میں کسی چیز نے آ کر اسے ڈرانے کی کوشش کی تھی۔


باہر ایک پرانا درخت تھا اس پر ایک جھولا لگا تھا۔ وہ بچوں کے ساتھ باہر آئ۔ اور خوبصورت پہاڑوں کے حسین منظر سے لطف اندوز ہونے لگی۔


بچے جھولا کھولنے لگے۔


باباجی سامنے کرسی پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے ساتھ ساتھ مسکرا کر بچوں کو دیکھ رہے تھے۔


شازمہ مطمئن ہو کر کھانا بنانے چلی گئی کیونکہ ایک بجے بابا جی کو کھانا دینا ہوتا تھا۔


بچے باہر سے آئے تو بہت خوش تھے۔ شازمہ نے انہیں شام کو پڑھایا۔


پڑھنے کے بعد بچے پھر باہر کھیلنے کی ضد کرنے لگے۔


مغرب کی ازان ہونے لگی تو اندر سے ہی اس نے بچوں کو آواز دی وہ تھکے ہوئے مگر خوش واپس آئے۔


آ کر انہوں نے بتایا کہ باہر ان کے تین دوست بن گئے تھے۔


اسامہ نے جوش سے بتایا کہ ماما وہ بہت بہادت تھے مجھے جھٹ اٹھا لیتے تھے۔ اور درخت پر بھی فوراً چڑھ جاتے تھے۔


یامین افسوس سے بولی، مگر ماما ان بے چاروں کے انگوٹھے نہیں تھے۔


اسامہ جھٹ بولا، اور پاوں بھی الٹے تھے۔


شازمہ کا حیرت سے برا حال ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے پوچھا، بابا جی کدھر تھے۔


اسامہ نے بتایا کہ بابا جی واش روم چلے گئے تھے۔


شازمہ کا تو جیسے سانس ہی رک گیا۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔


شعر


اپنوں کی جدائی کو جب سہنا پڑتا ہے


تب ہی زیست کا ادراک ہوتا ہے۔


#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen


#اف_وہ_لرزتے_لمحات


#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں


#abidazshireen


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books