Logo
Nirala Saajan
26 Episodes
Nirala Saajan EP 12
Episode 12

نرالہ ساجن 12

Nirala Saajan


بارواں حصہ - 12th Part

 

علی کے مالک کی بیٹی شوخ وچینچل اور خوش مزاج تھی۔ اسے علی سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ ہینڈسم تھا۔ اس کے والدین اس کا رشتہ کروانے کے لیے کوشاں تھے۔ 

آخر مالک کی بیوی نے صبا سے بات کی وہ جانتی تھی کہ اس گھر میں صبا کو بہت اہمیت حاصل ہے اور صبا ایک مخلص لڑکی ہے۔ اسے اس پر اعتماد تھا کہ وہ ان لوگوں کا خاص طور پر علی کا بھلا چاہتی ہے۔ اس لیے اس نے اس َسے ایسے بات کی جیسے وہ اس کی بہن ہو۔ اس نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا 

"دیکھو بیٹا تم بھائی کو سمجھاؤ، اس رشتے سے اس کو بھی فائیدہ حاصل ہو گا۔ ہم جہاں پر بھی بیٹے کی شادی کریں گے ہماری تمام دولت کا وہ بھی برابر کا حصےدار ہو گا۔ ہماری بیٹی کے رشتے آ رہے ہیں اور ہم کم از کم رشتہ کردینا چاہتے ہیں۔ شادی کے لئے ابھی وقت ہے کیونکہ وہ ابھی پڑھائی کر رہی ہے اور جب تک مکمل ہو گی ہم اس کی شادی کی تیاریاں مکمل کر لیں گے۔ اگر ہم اس کی شادی کسی اور سے طے کرتے ہیں تو ہمیں علی سے ہو سکتا ہے جاب چھڑوا کر اسے پارٹنر بنانا یڑے۔ تم اس کے والدین کو سب سچویشن بتاؤ، اگر وہ راضی ہوں تو تمھارے انکل امام دین بھائی صاحب سے خود بات کر لیں گے۔" 

اس نے حامی بھر لی کہ وہ بات کر کے بتائے گی اور ایک ہفتے کے بعد جواب دے گی۔

صبا نے پرانی سم آن کر لی۔ کرن جو اکثر فارغ وقت میں صبا کا نمبر ٹرائی کرتی رہتی تھی وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہے، وہ صبا کو مس کیوں کرتی ہے۔ جبکہ وہ بلند خیالات کی مالک تھی۔ اس نے قسمت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا اس کے سسرال والے اس کو بہت اہمیت دیتے اور زبردستی بیٹے کو مہینے میں کرن کو فون کرنے کا آرڈر دیتے۔ ساس خود بھی کرتی اور چکر بھی لگاتی رہتی اس کے لیے گفٹ بھی لاتی۔ وہ منع کرتی تو کہتی 

"میرا ایک ہی تو بیٹا ہے میں َاس کے ارمان پورے کرتی ہوں۔" 

اسکے بیٹے کو دوبئی میں جاب مل گئی تھی وہ زور وشور سے شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ اور بیٹے کے چھٹی آنے پر جلد دھوم دھام سے شادی کر دینا چاہتی تھی۔ طیب کی ماں کرن کی پسند سے شاپنگ کر رہی تھی۔ وہ اس کو بازار ساتھ لے جاتی۔ کرن کی ماں بھی ساتھ جاتی اور کرن کے لیے شاپنگ کرتی۔ کرن ماں کو سمجھاتی کہ بھائی کی شادی کی تیاری بھی ساتھ کر لیتے ہیں اور زبردستی اس کی کسی اچھی لڑکی کے ساتھ شادی کر دیتے ہیں اس لیے وہ ساتھ بھائی کی بھی شاپنگ کرنے لگی۔

کرن کو مدثر کی ماں بہت پسند آئی تھی، وہ مخلص عورت تھی۔ کافی حد تک انہوں نے شادی کی شاپنگ مکمل کر لی تھی۔ اسے طیب کی سلجھی اور سنجیدہ عادات پسند تھی وہ اللہُ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی کہ اس نے اب کی بار اچھے لوگوں سے رشتہ جوڑا۔ وہ بھائی کے بہتر مستقبل کے لئے بھی بہت دعائیں کرتی۔ اور رشتے والی سے کوئی بھائی طیب کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔ وہ کہتی 

"ہم پہلے تصویر دیکھ کر اور طیب کو پسند کروا کر پھر لڑکی والوں کے گھر جائیں گے۔"

اسے جا جا کر بےچاری لڑکیوں کو ریجیکٹ کرنا سخت ناپسند تھا، خود ان پر بیت چکی تھی۔ کافی فوٹو کچھ کرن کے گھر والوں کو پسند بھی آ گئے تھے مگر طیب نہ مانتا گھر والوں نے سختی سے وارننگ اسے دے دی تھی کہ کرن سے پہلے اس کی شادی کرنی ہے تاکہ کرن کے جانے کے بعد اس گھر میں بہو آ جائے۔ وہ مسلسل انکار کرتا اس کو اب یقین تھا کہ گھر والے اب ٹلنے والے نہیں تو وہ یہ بہانہ کردیتا کہ اسے تصویر پسند نہیں آئی۔ 

چندہ نے کرن کو فون کیا اور اپنی شادی پر انوائیٹ کیا مگر کرن نے اخلاق کا دامن نہ چھوڑا اور اس سے اچھے طریقے سے بات کی اور مبارکباد دی تو وہ حیران اور شرمندہ سی رہ گئی۔ کیونکہ اس نے تو فون جلانے کے لیے کیا تھا کہ اس کی شادی ساجد سے ہو رہی ہے اور وہ اپنے پیار کو پا کر بہت خوش ہے۔ کرن نے گھر والوں کو بتایا تو طیب غصے سے اٹھ کر باہر چلا گیا اور ماں بدعائیں دینے لگی کہ اس نے میرے بچوں کی زندگی تباہ کی۔ وہ دیکھنا کھبی خوش نہ رہ پائے گی۔ شوہر نے اسے کول کیا اور معاف کرنے کا کہا 

"معاف کرنے سے اپنے گناہ بھی جھڑتے ہیں۔ اس نے ہمیں اچھے اچھے کھانے بھی پکا کر کھلائے ہیں۔ کرن کی قسمت سنور گئی ہے اور بیٹے کی بھی انشاءاللہ اچھی ہو گی ہم نے کھبی کسی کا برا نہیں چاہا اس لیے ہمارے ساتھ بھی نہیں ہو گا بیٹے کو اچھی لڑکی ملے گی تو سب بھول جائے گا۔ تم فکر نہ کرو۔ بس اچھی لڑکی ڈھونڈنے کی کوشش جاری رکھو۔"

کرن شاپنگ کرنے گئی ساتھ میں ماں ساس اور طیب تھا اچانک ادھر مال میں صبا مل گئی جو علی کے چھوٹے بھائی کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی تھی۔ کرن اسے دیکھ کر جوش و خوشی سے نہال ہو گئی، دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔ دونوں بہت خوش ہوئیں اور باتوں کا تبادلہ ہوا۔ کرن نے ساس سے تعارف کروایا تو صبا نے سلام کیا۔ اس نے آہستگی سے جواب میں ہونٹ ہلا دیے۔ صبا بولی 

"ہاں میں نے شادی پہ انہیں دیکھا تھا مبارک ہو بہت۔" 

صبا حیرت میں تھی تو کرن سمجھ گئی اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ صبا افسوس کرنے لگی۔ کرن کی ماں صبا سے پیار سے باتیں کر رہی تھی۔ اس کا کزن طیب سے ہاتھ ملا کر خاموش کھڑا تھا، کرن کا بھائی بھی خاموش تھا۔ کرن کی ساس بے زار شکل بنا کر کھڑی تھی۔ کرن نے اس سے فون نمبر مانگا تو اس نے بتایا 

'اس نے پرانا نمبر ان کردیا ہے۔" 

کرن نے کہا 

"میں نے کافی بار ٹرائی کیا مگر بند ملتا تھا۔" 

کرن کی ماں نے علی کا پوچھا تو صبا نے بس اتنا کہا 

"جی وہ بھی ٹھیک ہے۔ اس کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔" 

کرن کی ساس نے کہا 

"مگر وہ تو کھسرا تھا" 

صبا بولی 

"جی وہ لڑکا تھا بس حالات کی مجبوری کے تحت ایسا کرنا پڑا۔" 

کرن کی ساس بولی 

"مگر یہ تو فراڈ ہوا نا۔" 

"چلیں فراڈ ہی مان لیتے ہیں مگر اس میں وہ کسی کو نہیں نقصان تو نہیں پہنچاتے صرف انہیں انٹرٹین کرتے ہیں، بدلے میں وہ انہیں اجرت قدموں میں روندھ کر دیتے ہیں۔ وہ یہ رقم فکس کر کے عزت سے بھی دے سکتے ہیں، آخر وہ بھی انسان ہیں غربت ان کا جرم بن جاتا ہے جس کی سزا وہ امیروں سے زلت کی صورت میں بےقصور ساری زندگی بھگتتے رہتے ہیں۔ قانون بھی صرف امیروں کا ہوتا ہے وہ جرم کر کے بھی باعزت بری ہو جاتے ہیں اور غریب معمولی جرم کی پاداش میں بڑی سزا کے حقدار ٹہراے جاتے ہیں۔ اور کڑی سزا پاتے ہیں۔"

کرن کی ساس لاجواب ہو گئی اور کرن کو چلنے کا کہا۔ کرن نے اچھا کہا۔ کرن کی ماں نے قریب جاکر اس سے پیار سے پوچھا 

"علی کا تو ہو گیا اور تمھارا؟" 

صبا نے نظریں جھکا کر جواب دیا 

"نہیں ابھی نہیں ہوا۔" 

وہ اسے پیار کر کے چل پڑی۔ صبا نے کرن کی ساس کو بھی خدا حافظ کہا مگر اس نے جواب نہ دیا اور اگنور کر کے چل پڑی۔

کرن کی ساس نے کرن سے کہا 

"دیکھو بیٹا تم ایک اعلیٰ اور عزت دار گھرانے کی بہو بننے جا رہی ہو۔ ان میراثی ٹائپ لوگوں سے دوستی تمہیں زیب نہیں دیتی۔ اسے آئندہ مت ملنا نہ ہی فون کرنا۔ اسے مہندی لگوانے یا میک اپ کروانے کی ضرورت نہیں میں تمھارا بہت مہنگے پارلر سے تیار کرواؤں گی۔" 

کرن نے دل میں افسوس کرتے ہوئے کہا 

'انٹی اللہُ تعالیٰ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں اور تقویٰ کی بنیاد پر۔۔۔" 

ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی کہ ساس نے ٹوکتے ہوئے کہا 

'بس کرو یار یہ لیکچر آگے اس میراثن نے فضول باتیں کر کے دماغ خراب کر دیا۔ تم لوگوں نے انہیں بہت سر پر چڑھا رکھا ہے۔ ان لوگوں سے فاصلے میں رہنا چاہیے۔ میں تو ملازموں کو منہ نہیں لگاتی ہوں۔ توبہ ہے کتنی لمبی زبان ہے اس لڑکی کی۔" 

سب خاموش تھے کرن اداس رہی۔ اس کی ماں اور بھائی بھی خاموش خاموش تھے کرن کی ساس ڈرائیور کے ساتھ آتی تھی اس کو کرن کے گھر چھوڑتی اور خود ان لوگوں کے ساتھ شاپنگ پر جاتی۔ تاکہ اچھی شاپنگ ہو سکے کرن کی چوائس اچھی تھی، اسے لیٹسٹ فیشن کا بھی پتا تھا۔ نیٹ پر بھی دیکھتی رہتی۔ جبکہ اس کی ساس کو ان چیزوں کا کوئی شعور نہ تھا۔ وہ سال پرانے ڈیزائن کو بڑا پیارا بولتی تو کرن بولتی آنٹی یہ سال پرانا فیشن ہے۔ تو وہ شرمندہ ہو جاتی۔ آج وہ رکی نہیں اور سب کے موڈ کے پیش نظر جلد چلی گئی ورنہ وہ چائے پی کر جاتی تھی۔ کسی نے اسے رکنے اور چائے پینے کا بھی نہ پوچھا۔ آج اس کا یہ روپ دیکھ کر سب حیران و پریشان تھے۔


جاری ہے



Continue Reading
Episode 13
نرالہ ساجن 13

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry