Logo
Nirala Saajan
26 Episodes
Nirala Saajan EP 9
Episode 9

نرالہ ساجن 9

Nirala Saajan


نواں حصہ - 9th Part


چندہ شوہر سے لڑنے لگی اور کہا 

"تم تو کہتے تھے کہ بہن کو اتنا پیسہ دوں گا کہ اس کی زندگی سکھی گزر جائے۔ اب تم مکر نہیں سکتے ورنہ یہ شادی نہیں ہو سکے گی پہلے ہی اس کی دو منگنیاں ٹوٹ چکی ہیں سوچو کتنی بدنامی کا باعث بنے گی۔ انکل بیٹے کو سمجھائیں نا۔" 

وہ جواب میں خاموش رہے۔ پھر اس نے ساس سے کہا ساس نے بیٹے کو دیکھا۔ 

وہ بولا 

"ماما میں ان لالچی لوگوں کو کچھ بھی نہیں دوں گا اگر ان کے دل میں لالچ نہیں ہے تو ثابت کریں اور اس کو اسی طرح قبول کریں۔" 

دولہے نے چندہ کو گھورا اس کے والدین بھی اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ چندہ نے اسے لبھانے والے انداز میں کہا 

"جانو زرا ادھر کمرے میں آؤ میں نے ضروری بات کرنی ہے۔" 

وہ بولا 

"میں ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا چاہے کچھ بھی کہو۔"

وہ غصے میں بولی 

"تم مجھے آنٹی انکل کے سامنے شرمندہ کرا رہے ہو۔ ان کی بے عزتی خاندان بھر میں ہو گی۔" 

وہ بولا 

"اگر خاندانی ہوئے تو واہ واہ کریں گے کہ جہیز کے بغیر لائے۔"

چندہ روہانسی ہو کر بولی 

"مگر اتنا پیسہ تم کرو گے کیا۔ بزنس میں لگاؤں گا۔" 

"بہن کے پیسے سے بزنس کرو گے تم لالچ کر رہے ہو۔" 

اس نے جواب دیا 

"میں بےوقوف ہوں اتنا پیسہ لوگوں کو دے دوں۔ تم اچھی بھابھی ہو نند کو جہیز دینے کے لیے اتنا لڑ رہی ہو۔ تم چلو اور کچھ نہ دو اپنے زیور دے دو چلو جاو جاکر شاباش لے آؤ۔" 

وہ تڑخ کر بولی 

"میں کیوں دوں۔" 

اس نے کہا 

"تم لاکھ کوشش کرو میں فیصلہ نہیں بدلنے والا" 

"تم تو مجھ سے بڑے پیار کے دعوے کرتے تھے۔ اب میری بات نہ مان کر مجھے شرمندہ کر رہے ہو۔"

دولہا چندہ پر برس کر بولا 

"ان وعدہ خلاف لوگوں میں شادی نہیں کرنی۔" 

چندہ نے دہائی دی" وہ جانے لگا ہے لڑکی کی بارات واپس چلی جائے تو اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ اس سے کوئی شادی نہیں کرتا۔" 

وہ بولا 

"کچھ بھی ہو بارات شوق سے لے جائے۔"

چندہ نے دیکھا اب کوئی صورت نہیں تو اس نے گھر چھوڑنے اور طلاق لینے کی دھمکی دی۔ کرن کا بھائی بولا 

"چندہ پلیز ایسے نہ کہو۔ اچھا ہے نا وہ پیسہ ہمارے کام آئے گا اور میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔" 

وہ غرورِ سے بولی 

"پھر میری بات مان لو" 

وہ بولا 

"یہ نہیں مان سکتا۔" 

وہ بولی 

"پھر مجھے طلاق چاہیے" 

کرن کا بھائی چلا کر بولا 

"کیا" 

وہ بھی جوابی چلا کر بولی

"مجھے طلاق چاہیے" 

کرن کے بھائی نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 

"آپ لوگ سن رہے ہیں یہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے۔" 

"ہاں میں چلی جاؤں گی تمہیں چھوڑ کر۔" 

کرن پاس آ کر ہاتھ جوڑ کر بولی 

"پلیز بھابھی، بھائی آپ سے بہت پیار کرتے ہیں وہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے۔" 

وہ غرور سے بولی 

"پھر بھائی سے کہو بات مان لے۔" 

کرن بولی 

"مجھے کچھ نہیں چاہیے۔" 

چندہ بولی 

"مگر ہمیں چاہیے۔" 

کرن نے کہا 

"پلیز بھابھی۔"

دولہا کھڑا ہو کر چندہ سے بولا

"یہ تو کسی صورت نہیں مان رہا ہے۔ اب تم طلاق کے کاغذات پر سائن کرواؤ اس طرح نہیں تو اس طرح تو یہ پیسے دے گا نا۔ اس نے طلاق کے عوض 5 لاکھ دینا ہے۔" 

کرن کا بھائی بولا 

"چندہ تم 5 لاکھ کے لیے مجھے اپنے پیارے گھر اچھا سسرال اور جان وارنے والے شوہر کو چھوڑ دو گی۔ میرے پاس رہو۔"

دولہا بولا 

"چندہ اب دیر نہ کرو طلاق کے کاغذات اسے دکھاؤ اور 5 لاکھ لو اور چلو۔" 

دولہے کے والدین نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ 

چندہ بولی 

"میں ابھی لائی طلاق کے کاغذات جن پر تم سائن کر چکے ہو۔" 

کرن کے بھائی نے کہا 

"ٹھہرو وہ میرے پاس ہیں، میں نے دراز میں سے نکالے ہیں جب تم نے ہوٹل کی بکنگ کروانے کے لیے طلاق کے کاغذات پر بھی سائن کروانے کے لیے مجھے بڑے پریم سے جوس پینے کا بولا۔ تم لوگوں نے ہوٹل والے کو بھی ساتھ ملایا ہوا تھا، مجھے تمھاری حرکتیں یہلے ہی مشکوک لگنی شروع ہو گئی تھی، جب سے تم نے کرن کا رشتہ کروایا تھا میں تمھارے پیار میں اندھا تھا مگر مجھے بہن کا مستقبل بھی عزیز تھا حالانکہ تم مجھے بہن کے خلاف ہر وقت کرتی رہتی تھی اور میں ہو بھی جاتا تھا، جب تم اس شخص(اس نے دولہے کی طرف اشارہ کیا) سے بہت فری ہوتی تو میں حیران ہوتا کہ کوئی اپنے کزن سے اتنا فری کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر میں نے نوٹ کرنا شروع کیا تو مجھے تمہاری حرکتیں مشکوک لگیں۔ تم نے طلاق کے کاغذات پر اس لیے دھوکے سے سائن کروائے کہ اگر تم خود مانگتی تو 5 لاکھ نہ ملتے۔ میں دیتا تو مجھے دینے پڑتے۔ تمہیں یقین تھا کہ میں تمہیں طلاق کھبی نہیں دوں گا۔ تم نے مجھے جوس پلایا میں نے پی لیا اور اور سائن کر دیے۔ اس کے بعد مجھے نیند آ گئی جب آنکھ کھلی تو تمہیں کمرے میں پایا اور تم نے بتایا کہ میں سو گیا تھا۔ پھر میں نے تمھاری فون ریکارڈنگ چیک کروائی۔ تو میں سکتے میں رہ گیا کہ تم نے اس شخص سے ناجائز تعلق جوڑ رکھا تھا اور مجھ پر انکشافات ہوئے کہ تم نے میری بہن کی منگنیاں خود تڑوا کر اس سے رشتہ کروایا۔ ان کا پلان تھا کہ میری بہن سے شادی کر کے بہت دولت کما کر وہ اسے طلاق دے دے گا اور یہ دھوکے سے مجھ سے لے لے گی پھر یہ دونوں شادی کر کے اس پیسے پر عیش کریں گے۔ اس کے بعد میں نے کسی کو نہیں بتایا اور شادی شروع کر دی۔ جو منگنیاں ٹوٹنے کی بدنامی میری بہن کو ملی۔ وہ میں اس طرح سب کے سامنے سچ لانا چاہتا تھا۔ میرے پاس ریکارڈنگ بھی موجود ہے اگر کوئی شک ہو تو۔ کوئی بھی غیرت مند شخص اس طرح کی بیوی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا جو سدھارنا چاہتی ہی نہیں۔ جب سے طلاق کا علم ہوا میں مہمانوں کا بہانہ کر کے اپنے کمرے سے نکل گیا۔ اگر یہ مجھ سے طلاق کے کاغذات پر سائن نہ کراتی تو میں اسے سمجھاتا اور معاف بھی کر دیتا اگر یہ سچے دل سے سدھر جاتی اور زندگی میں کھبی طعنہ بھی نہ دیتا۔ مگر اس نے خود طلاق لے کر اپنے راستے بند کر دیے۔"

چندہ کو پھر دولہے نے غصے سے کہا 

"جلدی رقم لو تو چلیں۔" 

مہمان ان کو نفرت سے دیکھ رہے تھے اور چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔

چندہ نے حتمی انداز میں کہا 

"مجھے رقم دو دیر نہ کرو تاکہ میں اپنے محبوب کے پاس جا سکوں۔ یہ ہمارا پڑوسی تھا میں لڑکپن سے ہی اس سے پیار کرتی ہوں مگر اس کی شرط تھی کسی امیر سے شادی کرو اور اس سے دولت حاصل کر کے دونوں شادی کر کے عیش کی زندگی گزاریں گے۔ سو میں صرف میٹرک پاس تھی۔" 

دولہے کی طرف اشارہ کر کے بولی 

"ساجد اور میں اکھٹے پلان بناتے تھے۔ کچھ دفتروں میں دھوکے سے نوکری لی۔ انٹرویو والے دن روتی دھوتی کہ میرے ڈاکومنٹ رکشے میں رہ گئے۔ کچھ سوری کہہ کر بھیج دیتے کچھ نوکری دے کر فائیدے اٹھانا چاہتے مگر شادی کوئی نہ کرتا۔ آخر کرن کا بھائی میرے جال میں پھنس گیا۔ میں نے اسے اعلیٰ تعلیم یافتہ بتایا اور اس نے یقین کر لیا اور جلد شادی پر راضی ہو گیا۔ میں شادی کر کے بھی مسلسل رابطے میں تھی۔ ساس کو مٹھی میں کر کے اس گھر میں جگہ بنائی۔ نند کا استعمال کیا اور اب مجھے اپنے پیار سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس کو پانے کے لئے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہوں۔" 

ایک مہمان عورت نے کہا کہ اس دھوکہ دہی کے الزام میں تم سب کو جیل بھی ہو سکتی ہے" 

وہ ڈھیٹ پن سے بولی

"یہ شریف لوگ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔"

کرن کے باپ نے بیٹے سے کہا 

"اگر پانچ لاکھ میں یہ گندگی دھل سکتی ہے۔ تو جلدی سے پانچ لاکھ روپے دو اور ان لوگوں کو گھر سے باہر کرو"

کرن کے بھائی نے وکیل کو بلایا، جو پیچھے بیٹھا سب سن رہا تھا اس کو کرن کے بھائی نے ہی بلایا تھا۔ اس نے چندہ کے سائن لیے۔

چندہ نے ساجد کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے خوشی خوشی جلدی سے سائن کر دیے۔ کرن کے بھائی نے بریف کیس سے پیسے نکال کر ان لوگوں کی طرف پھینکنے شروع کر دیے اور چلایا 

"یہ لو یہ لو" 

وہ لوگ فرش سے جوش میں چننے میں مصروف تھے۔ رقم اٹھا کر جانے لگی تو کرن کے بھائی نے کمرے میں سے اس کا سامان اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنا شروع کر دیا آور چلاتے ہوئے بتانے لگا 

"یہ لوگ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور محلے میں رہتے ہیں۔ کوئی امریکہ سے نہیں آئے۔ ادھر سے آتے تو بڑی گاڈی رینٹ پر لاتے۔"


جاری ہے


Continue Reading
Episode 10
نرالہ ساجن 10

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry