Nirala Saajan
26 Episodesگیارھواں حصہ - 11th Part
صبا جب علی کے گھر شفٹ ہوئی تو علی کے چھوٹے بھائی کو ہر وقت پڑھائی پر لیکچر دیتی اس نے اثر بھی لینا شروع کر دیا. اس کو تھوڑا بہت شوق بھی تھا مگر وہ گھر کے حالات سے واقف تھا کہ کیسے علی نے گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور فیس کیسے پوری کرتا تھا. ماموں کا گھرانہ اور ان کا گھرانہ صبا اور علی کی پڑھائی کے اخراجات وہ لوگ کیسے پورے کرتے تھے۔ امام دین کو کھانا دے کر سارا گھر تعاون کرتا کہ علی پڑھ رہا ہے۔ ان لوگوں کی فیس بھرنے کے لیے کھبی بھوکے سوتے اور کھبی چنے اور دانے کھا کر گزارا کر لیتے۔
امام دین صبا کی پڑھائی کے بارے میں جانتا تھا اور کچھ نہ بول سکتا تھا کیونکہ اس کے باپ کو اسے پڑھانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس معاملے میں وہ کسی کی نہیں سنتا تھا۔ علی اس کی آڑ میں پیپرز دینے چلا جاتا کہ صبا اکیلی کیسے جائے گی۔ امام دین اس کو نہ روک سکتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی اور علی صبا کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس کے علاوہ امام دین کے بڑے بیٹے کی بیوی صبا کی بڑی بہن تھی جو سسرال والوں کی خدمت کرتی، جس سے گھر والوں کو کافی سکھ چین ملا ہوا تھا۔
علی کا چھوٹا بھائی صبا کے آ جانے سے بہت خوش تھا۔ اس کی کمپنی سب کو پسند تھی۔ اس کی سب مانتے تھے اب تو امام دین کو جب سے تعلیم کی اہمیت کا شعور آیا تھا وہ صبا کو بہت اہمیت دینے لگا تھا۔ وہ صبا سے خوش تھا کہ وہ اس کے چھوٹے بیٹے کو پڑھاتی ہے اور وہ بھی شوق رکھنے لگا ہے۔ حتکہ اس نے کالج میں داخلہ بھی لے لیا ہے کیونکہ علی نے جاتے ہی مالک کی فیملی کو امپریس کر دیا۔ مالک نے اس کی شرافت، محنت اور ایمانداری کی وجہ سے اسے گھر کے ایک کمرے میں رہائش دے دی۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی۔ علی کے آنے سے اس کے کاروبار میں بہت فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اسے گھر کا فیملی ممبر نبا لیا تھا۔ اس نے اسے اپنا پارٹنر بنا لیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ امام دین کی ایک بار طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ ایک بار وہ اچانک بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو گیا۔ چھوٹے بھائی نے گھبرا کر علی کو فون کر دیا تو وہ پریشان ہو کر اسی وقت آنے لگا تو مالک بہت پریشان ہوا اسے لگا جیسے کوئی اپنا سگا بیٹا اس سے دور جا رہا ہے۔
علی نے سارا کام خود سنبھال لیا تھا اور وہ اب ریلیکس ہو گیا تھا، وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بیوی کے مشورے اور بیٹی کی رضامندی ظاہر ہونے سے اسے داماد بنانے کا سوچ رہا تھا۔ علی نے اس سے اپنی زات پیشہ کچھ نہ چھپایا تھا اس کے باوجود وہ اسے طبقاتی فرق کی فرسودہ رسم کے عوض گوانا نہ چاہتا تھا۔ وہ اسے گدڑی میں لال سمجھتا تھا، وہ سوچتا کہ اگر امیر خاندانی لڑکا بھی اس کی خوبیوں کے برابر نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ایسے لڑکے کے محض اس لیے ٹھکرانا کہ وہ ایک میراثی کا بیٹا ہے، کفر نعمت خداوندی ہے۔ اس نے جب بیوی سے جب اس بارے میں رائے لی تو وہ وہ تیزی سے بولی
"توبہ کریں جی میں بھلا اس ہیرے جیسے لڑکے کو اس معمولی سی وجہ سے کھبی نہیں گنوا سکتی۔ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی۔"
مالک نے ایک بار شادی کے بارے میں رائے پوچھی
وہ بولا
"ابھی تو میں اس بارے میں نہیں سوچنا چاہتا۔ ابھی میں اپنی فیملی کو سکھ بھری زندگی گزارنے کے لیے خوب محنت کرنا چاہتا ہوں اور اگر کھبی شادی کرنی بھی پڑی تو اس بات کا فیصلہ میرے والدین کریں گے۔
تب سے مالک نے اس پر مہربانیوں کی بارش کر دی۔ نہ صرف اسے بزنس پارٹنر کی آفر کر دی بلکہ اسے جانے سے روکنے کے لیے اس کے باپ کے بہترین علاج کے لیے بھاری رقم بھی آفر کردی۔ علی نے وہ رقم بطور قرض لی اور رقم گھر بھجوا دی۔ صبا کے کہنے پر اس نے جانے کا پروگرام کینسل کر دیا۔ کیونکہ اس وقت، صبا ڈاکٹر بن کر ہاوس جاب کر رہی تھی۔ صبا نے بتایا
"گھر والے ایسے ہی پریشان ہو گئے ہیں ان کا بلڈ پریشر لو ہو گیا تھا ڈرپ لگی ہے علاج اچھا ہو رہا ہے اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔"
علی کے مالک کی ایک ہی بیٹی تھی۔ جو والدین کی بہت لاڈلی اور بچگانہ ذہن کی مالک تھی۔ والدین نے اس سے علی کے بارے میں رائے جاننے کے علاوہ اس کو علی کے بارے میں اونچ نیچ بھی سمجھائی کہ ایک تو وہ خوبصورت ہے شریف ہے۔ پڑھا لکھا ہے، ذمہ داریوں کو نبھانے کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے اور ان کو احسن طریقے سے نبھاتا بھی ہے۔ اس نے پارٹنر شپ دینے کے بعد بیٹی کے رشتے کی آفر کر دی۔ اس نے گھر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس کی بیوی کو جلدی تھی کہ یہ اپنی کزن صبا کو بہت اہمیت دیتا ہے اس سے شادی نہ کر لے۔
مالک نے اس کے باپ کی طبیعت پوچھنے کے لیے اس کے باپ کو علی سے نمبر لے کر فون کیا۔ علی اس کے باپ کو اہمیت دینے پر خوش ہو گیا۔ اس نے نہ صرف علی کے والد سے بات کی بلکہ اس کی ماں سے بھی، بھابی جی کہہ کر تسلیاں دیں اور بیوی کی بھی بات کروائی۔ بیوی نے بھی علی کے والد سے بھائی صاحب کہہ کر بات کی اور علی کی ماں کو بھی بھابی جی کہہ کر مخاطب کرتی رہی۔ پھر اس نے صبا سے بھی ایسے انداز میں بات کی جیسے اسے جتلا دیا ہو کہہ تم علی کی بہن ہی ہو
اس نے کہا
بھئی علی تو تمھارا بہت زکر کرتا رہتا ہے۔ لگتا ہے تم دونوں بہن بھائی میں خوب دوستی ہے۔"
صبا جو سپیکر آن کر کے گھر والوں کی بات کروا رہی تھی بولی
"جی آنٹی جی۔"
مالک کی بیوی نے مکھن لگاتے ہوئے کہا
"ویسے تو مجھے سب سے بات کر کے اچھا لگا مگر تم سے بات کر کے ذیادہ اچھا لگا۔ ارے میری ایک معصوم سی مزاج کی بیٹی ہے اس سے دوستی کر لو تاکہ وہ تمھاری دوستی سے کچھ سمجھداری سیکھ لے۔"
پھر اس نے بیٹی سے بات کی اور اسے اپنا دوست بنالیا۔
جاری ہے

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.