Logo
Nirala Saajan
26 Episodes
Nirala Saajan EP 13
Episode 13

نرالہ ساجن 13

Nirala Saajan


تیرھواں حصہ - 13th Part


صبا سب سے پیار کرنے والی لڑکی تھی, اس میں اخلاص کی خوبی تھی۔ وہ اور علی بچپن کے ساتھی تھے صبا کی بہن کی علی کے بھائی سے شادی ہوئی تو پہلا بچہ معزور پیدا ہوا اور جلد ہی مر گیا اس کے بعد دوسرا پیدا ہوا تو کوئی مسئلہ زچگی میں ہوا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ اب دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔ وہ بچہ بھی معزور تھا کچھ عرصے بعد وہ بھی مر گیا تو صبا نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ کزن میرج نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر کزن میرج سے منع کرتے ہیں۔ علی اور صبا کے گھر والے تو دونوں کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر صبا نے سختی سے انکار کر دیا 

"اس کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ علی کو ہمیشہ بھائی ہی سمجھتی رہی ہے اور اس کے ساتھ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔" 

پھر اس نے کافی دلائل سے علی کے لیے اس کے مالک کی بیٹی کے ساتھ رشتے کے لیے سب کو راضی کر لیا۔ علی کو بھی اس نے ہر طرح سے سمجھا لیا۔ علی نے بھی صبا سے کہا

"اس نے بھی ہمیشہ اسے بہن ہی سمجھا ہے۔" 

گھر والوں کو بھی علی نے بتا دیا کہ وہ صبا کو ہمیشہ سے بہن تصور کرتا رہا ہے۔ صبا نے علی کو کرن کی ملاقات کا بھی بتایا اور یہ بھی بتایا 

"وہ اس کے رشتے دار ہم پلہ ہیں۔ وہ بہت خوش ہے۔ اور ساس کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس کا نکاح ہو چکا ہے اور اس کا منگیتر بھی دوبئی میں جاب کرتا ہے۔" 

علی سن کر خاموش ہو گیا اور صبا سے کہا 

"وہ اس کے منگیتر کا اتا پتا بتائے۔" 

صبا چڑ کر بولی 

"کیا ضرورت ہے اب وہ بھی خوش ہے تمھاری مالک کی بیٹی سے شادی ہونے والی ہے" 

تو وہ نہ مانا 

"سب کے کہنے پر میں شادی کر رہا ہوں نا۔" 

صبا بولی 

"اس سے مل کر کیا بولو گے کہ میں اس کا کون ہوں۔" 

تو وہ جواب میں بولا 

"میں نے ان لوگوں کا نمک کھایا ہے بہت اچھے اور سادے لوگ ہیں۔ میں اس پر صرف نظر رکھوں گا ملوں گا نہیں۔" 

مجبور صبا کو کرن کو کال کرنا پڑی۔ تو وہ بہت خوش ہوئی اور ساس کے روئیے کی معافی مانگی تو صبا سرد آہ بھر کر بولی 

"کیا برا منانا، ہم لوگ بچپن سے ہی بےعزتی سہنے کے عادی ہوتے ہیں شاید غریبی کا دوسرا نام ہی ذلت ہے۔" 

کرن نے اس سے کھبی حالات نہیں پوچھے وہ سمجھتی تھی کہ یہ بات پوچھ کر اس کی دکھتی رگ کو چھیڑنے والی بات ہے۔ وہ اس کی تعلیم کے بارے میں بھی نہ پوچھتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ شاید وہ انپڑھ ہے تھوڑا بہت پڑھی ہے۔ کرن کو یاد تھا کہ اس کی شادی پر کسی نے اس سے تعلیم پوچھی تو اس نے بتایا تھا کہ بس گزارہ چلا لیتی ہوں۔ صبا نے بہانے سے اس سے منگیتر کی معلومات لے لی تھیں اور فوٹو بھی منگوا لی تھی۔ اور علی کو بھجوا دی اور ساتھ اس کی بات پکی کرنے کے لیے اس کی مالکن کو فون کر دیا جو اس کے فون کی منتظر تھی۔ بہت خوش ہوئی اور ان لوگوں نے بغیر دیر کیے علی کو بتا کر امام دین کو فون کر دیا۔ امام دین صبا کے کہنے پر علی سے رضامندی لے چکا تھا اور مالکن بیٹی کی تصاویر بھی صبا کو بھیجتی رہتی تھی اور لائیو کال بھی بیٹی کی کروائی تھی صبا سمجھ رہی تھی کہ وہ کس مقصد کے لیے ایسا کر رہی ہیں اور اسی لیے اس نے سب سے بات کروا دی تھی۔ بھولی بھالی کم عمر پیاری سی بچی تھی سب کو اس کی شوخ طبیعت اور اخلاق پسند آیا تھا۔

جب علی کے مالک نے بات کی کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہمیشہ کا رشتہ جوڑنا چاہتا ہے تو امام دین نے ایک سرد آہ بھر کر کہا 

"میرے لئے تو آپ سے رشتہ جوڑنا خوش قسمتی ہو گا مگر آپ نے شاید دور کی نہیں سوچی۔ ہم جدی پشتی مراثی ہیں اور ہم جیسے امیر بھی ہو جائیں تو ہماری پہچان اور پیشے کی چھاپ سات پشتوں تک رہتی ہے اور آپ جیسے، خدا نہ کرے غریب بھی ہو جائیں تو ان کی امیری کی چھاپ سات پشتوں تک رہتی ہے۔ شادی ایک مقدس بندھن ہے جس میں لڑکی کو پورے خاندان کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے خاندان کی خوشی و غمی میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں آپ کے خاندان سے ملنا پڑے گا اور آپ کو ہمارے خاندان سے ملنا جلنا پڑے گا۔ بچی کا ماحول ہمارے ماحول سے فرق ہے۔ وہ نہ جلد گھبرا جائے اور خدانخواستہ اس کی زندگی برباد نہ ہو جائے یا لوگوں کے طعنوں سے پچھتائے نہ۔" 

مالک مایوس ہوتے ہوئے بولا 

"تو پھر میں آپ کی طرف سے انکار سمجھوں۔" 

امام دین تیزی سے بولا 

"نہ جناب آپ نے مجھے عزت بخشی ہے میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا آپ کی بچی سے لائیو بات ہوئی ہے بہت معصوم بچی ہے۔ ہم سب کو پسند آئی ہے، میں تو آپ کے بھلے کے لیے کہہ رہا تھا کہ لوگ آپ کو طعنے مار مار کر جینا دوبھر کر دیں گے اور آپ پچھتانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کہ ایک میراثی خاندان سے رشتہ جوڑا ہے۔ اور آپ کے رشتے دار تو ہمیں عزت سے پاس بٹھانا بھی پسند کریں گے نہ میرے بیٹے کو عزت دیں گے۔ ہم تو سب برداشت کر لیں گے کیونکہ ہم غریبوں کی بے عزتی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے۔ ہمیں غریبی کا قصور ہونے پر ہر جگہ زلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان کی عیاشی اور سہولت کے لیے معمولی اجرت پر سردی گرمی میں کھڑے ہو کر محل بناتے ہیں اور جواب میں وہ لوگ بات بھی زلت بھرے لہجے میں کرتے ہیں۔ اور اجرت بھی احسان کی طرح دیتے ہیں جیسے ان کی بےروزگاری پر احسان عظیم کر رہے ہیں۔ ان کے کھانے تو دور ان کے لیے پانی کا انتظام بھی نہیں کرتے۔ وہ بےچارے کسی قریبی ہوٹل سے سستا کھانا لے کر کھاتے ہیں اور قریبی گھروں سے دروازے کھٹکھٹا کر معزرت کرتے پانی کی ٹھنڈی بوتل مانگتے ہیں" 

پھر امام روندھی ہوئی آواز میں بولا 

'میں نے ساری سچائی آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔" 

مالک پرجوش لہجے میں بولا 

'بالکل اس دنیا میں ایسا ہی طبقاتی فرق لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہمیں اس معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرنی ہے۔ اگر سب ہی دنیا کے ڈر سے اس کوشش کو آگے بڑھانے میں ہچکچائیں گے تو ظلم ہوتا رہے گا اور امیر دوزخ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ یہ ان کے حق میں بھی بھلا ہو گا۔ رہی رشتہ داروں کے عزت کرنے کی بات تو ہم سب کو سچائی بتائیں گے معزرت کے ساتھ کہ ہم نے میراثی گھرانے میں رشتہ کیا ہے۔ اگر کسی نے اعتراض کیا تو وہ اپنے گھر خوش اور ہم اپنے۔ جو آپ لوگوں کی عزت نہیں کرے گا ہم بھی اس کی عزت نہیں کریں گے اب آپ بتائیں کیا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شرط ہے یا کچھ لکھوانا ہے تو وہ بھی مجھے منظور ہے۔"

امام دین ہنس کر بولا 

"جناب یہ شرطیں تو لڑکی والے رکھتے ہیں، اگر آپ پاس ہوتے تو میں آپ کو گلے لگا کر منہ میٹھا کراتا۔" 

مالک ایکدم خوش ہوتے ہوئے بولا 

'آپ نے ہاں کرنے میں دیر لگا دی۔ میری بیگم تو سانس روکے بیٹھی تھی۔" 

پھر مالک نے کہا کہ صبا بیٹی نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے اس نے آس لگا دی تھی کہ انشاءاللہ منہ میٹھا ہو گا تو ہم نے اون لائن مٹھائی آرڈر کر دی تھی، امید ہے جلد پہنچ جائے گی۔" 

پھر سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ امام دین نے مالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا

"میں نے دوسروں کا غصہ آپ پر نکال دیا۔" 

وہ بولا 

"اچھا کیا مجھے شعور دیا،ورنہ لاکھ اچھا ہونے کے باوجود کسی غریب کی بےعزتی بھی نہ کریں مگر غریبوں کے مسائل کا احساس نہیں ہوتا کہ جہاں گھر بنانے پر لاکھوں، کروڑوں لگا دیتے ہیں وہاں اپنی آخرت سنوارنے کے لیے غریبوں کی مدد کر دیں۔"

مٹھائی آ چکی تھی اور سب خوشی سے جشن منا رہے تھے اور ناچ رہے تھے۔ امام دین نے جوش سے کہا 

"ہم دوسروں کی خوشیوں میں ناچتے ہیں آج تو سب ناچو ہمارے بیٹے کی خوشی ہے۔" 

اس نے اپنا بجانے کا ساز و سامان نکال لیا اور گانے لگا۔ گھر والے سب تالی بجا رہے تھے اور صبا وڈیو بنا رہی تھی امام دین کی آواز بہت اچھی تھی، جب وہ گاتا تو سماع بندھ جاتا۔ کافی دیر وہ خوشی مناتے رہے۔ علی کا چھوٹا بھائی انڈین گانے لگا کر جدید ڈانس کرنے لگا آج صبا بھی انڈین گانے پر جوش سے ناچی۔ علی کا چھوٹا بھائی جو کالج داخلے کے بعد اب پینٹ شرٹ ہی پہنتا تھا۔ وہ صبا کی وڈیو بنانے لگا۔ صبا کا باپ ماں علی کی ماں سب ناچ رہے تھے۔ جب محفل تمام ہوئی تو صبا نے کہا 

"آج ہمارے ناچ گانے پر پیسے دیکر ہمیں ذلیل کرنے والا کوئی نہ تھا" 

اور آنکھوں میں آنسو بھر کر دوڑ کر کمرے میں چلی گئی۔ کسی نے اسے ڈسٹرب نہ کیا تھوڑی دیر کے بعد وہ باہر آ کر بولی 

"میں بھی پاگل ہوں جو اس خوشی کے موقع پر گھٹیا لوگوں کے دیے ہوئے غم کو یاد کر کے خوشی خراب کر رہی ہوں۔" 

اسکے بعد اس نے یہ وڈیو وٹس اییپ کر کے علی اور مالکن کو بھیج دی۔


جاری ہے


Continue Reading
Episode 14
نرالہ ساجن 14

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry