Logo
Nirala Saajan
26 Episodes
Nirala Saajan EP 7
Episode 7

نرالہ ساجن 7

Nirala Saajan


ساتواں حصہ - 7th Part


صبا کی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس نے جھٹلانا چاہا تو صبا چلا کر بولی۔ 

"کل سارا دن کچھ نہیں کھایا۔ شکل ایسی بنائی ہے جیسے مریض عشق ہو۔ وہ تمھاری کیا لگتی ہے جو اس کی شادی کا اتنا غم منا رہے ہو۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو پھر نارمل رہو کھاؤ پیو۔ مجھے بھی کرن کا بہت دکھ ہے۔ مگر ہم بےبس ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے تو میں خود تمھارا ساتھ دیتی۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو اٹھو ناشتہ کرو نارمل ہو جاؤ۔" 

"میں نارمل ہوں۔" 

اس نے ناشتہ کیا۔ اس نے باپ سے کہا کہ میں اب دوبارہ ناخن بڑھا لوں گا اور زنانہ کپڑے پہنوں گا ابھی شیو کر کے آتا ہوں۔ اتنے میں بھائی نے بتایا کہ آج ایک شادی کی بکنگ ہے تیار رہنا۔ 

باپ نے کہا 

"یہ کہیں نہیں جائے گا اور تمھیں اب زنانہ بننے کی ضرورت نہیں۔ اب تم مرد بن کر جیو گے" 

ماں نے خوشی سے جھوم جھوم کر اس کی بلائیں لیں۔ سب حیران ہو رہے تھے کہ یہ کایا کیسے پلٹی۔ باپ نے کہا 

"مجھے اس کا ماموں دوبئی بھیجنے پر زور دے رہا تھا اس کو کوئی سواری والا ملا جس کا ادھر بڑا سٹور ہے اسے کسی چست اور اچھے لڑکے کی تلاش ہے۔ رہائش، کھانا پینا فری اور تنخوا بھی اچھی دے گا۔ میرے بڑے دو تو اس قابل نہیں ہیں میرا یہی بیٹا جس میں سارے گھن ہیں جو والدین کا فرمانبردار بھی ہے۔ اسے میں دوبئی بھیجوں گا۔ اس نے میری فرمانبرداری میں اپنی ذات کو بھی بھلائے رکھا۔"

امام دین کا خاندان جدی پشتی میراثی تھا وہ اپنے آباؤ اجداد کی محبت میں اس کام سے محبت کرتا تھا۔ اس کی بیوی اور سالا بھی اس کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ امام دین کو بیٹی کی خواہش تھی جس سے وہ زیادہ پیسے کما سکتا تھا۔ مگر تیسرا بھی بیٹا ہوا تو وہ بیوی پر برس پڑا پھر اس کے زہن میں خیال آیا کہ اسے کھسرا بنا کر پیسے کماؤں گا۔ اس نے بیوی سے کہا 

"سب جگہ مشہور کر دو کہ کھسرا پیدا ہوا ہے۔ اگر اس راز کو اوپن کیا تو میں خودکشی کر لوں گا" 

بیوی نے احتجاج کیا تو خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ نیند کی گولیاں کھا لیں وقت پر اسے ہسپتال لے گئے اور اس کی جان بچ گئی۔ بیوی کے بھائی کی فیملی کے سوا کسی کو علم نہ ہوا۔ سالے کا گھر قریب تھا اور وہ فنکشن میں ساتھ جاتا تھا۔ اس کی صرف دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی امام دین کے بیٹے سے بیاہ دی تھی۔ جس کا کزن بقول ڈاکٹر کے معزور پیدا ہوا اور جلدی مر گیا۔ اب کوئی بچہ نہ تھا۔ کھسرے کا نام باپ نے علینا رکھا مگر ماں اسے علی پکارتی۔ امام دین کے سامنے سب اسے علینا پکارتے مگر اکیلے میں علی کہتے۔

ماں کو اپنے اس خوبصورت بیٹے کو پڑھانے کا شوق تھا دوسرے میٹرک بھی نہ کر سکے۔ علی کے ماموں نے ٹیکسی لی تو داماد کو ساتھ لگا لیا۔ دونوں الگ الگ ڈیوٹی دیتے، جب کوئی فنکشن ہوتا تو سب مل کر جاتے۔ علی کا چھوٹا بھائی کسی دوکان پر معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ علی مختلف کام کرتا رہتا۔ زیادہ تر دوکانوں پر مال سپلائی کا کام کرتا تھا۔ آمدنی کم تھی گزارہ مشکل تھا محلے کی دوکانوں میں مال سپلائی کرتا تو گاہک اسے کھسرا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نے بچپن سے ہی کھبی مردانہ لباس نہیں پہنا تھا کیونکہ باپ خاندان میں بڑا اور رعب والا تھا سب اس سے ڈرتے تھے۔

بیوی نے شوہر سے ڈرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور تھی۔ علی جب دس سال کا ہوا تو اس نے احتجاج کیا کہ اسے لڑکیوں والے کپڑے پہننے اور کھسرا کہلوانے میں شرم آتی ہے اور سکول میں بچے چھیڑ تے ہیں۔ اس پر باپ نے مارا پیٹا اور اسکول چھڑوانے کی دھمکی دی۔ بیوی پر بھی سختی کی۔ اور خودکشی کی دھمکی بھی دی۔

علی باپ کی مار سے زیادہ ماں کے آنسوؤں سے ڈر گیا جو رو رو کر اسے التجائیں کر رہی تھی 

"تو بھاہیوں کی طرح انپڑ رہ جائے گا اور معاشرے میں کوئی مقام نہ پا سکے گا۔ جب تک باپ زندہ ہے اپنی ہستی کو بھول جا اس کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے۔ بس پڑھائی نہ چھوڑنا۔ نہ ہی کبھی باپ کی نافرمانی کرکے دوزخ کمانا۔ جیسا بھی ہے باپ ہے۔ میرا سہاگ ہے پہلے بھی خودکشی سے مشکل سے بچے ہیں۔ بہت ضدی ہیں جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ بس باپ کو حرام موت سے بچا لو۔ اپنے کانوں کو لوگوں کی باتوں کی عادت ڈال لو۔ تعلیم حاصل کر لینا چاہے چوری کرنی پڑے۔ اس میں میں اور ماموں تمھارا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے مجھے صرف میٹرک تک تمھیں پڑھانے کی اجازت دی ہے۔ اب تم ایسا کرنا۔ کہ میٹرک سے آگے بھی پڑھو تو انہیں میٹرک بتاؤ تاکہ تم زیادہ پڑھ سکو۔ تب سے علی نے اپنی زات کو فراموش کر دیا۔

صبا علی کے ماموں کی چھوٹی بیٹی تھی۔ بڑی بہن کو پڑھائی کا زرا شوق نہ تھا وہ چند کلاسیں پڑھنے کے بعد گھر بیٹھ گئی۔ اور گھر داری سنبھال لی۔ کیونکہ ماں محلے کے کپڑے سلائی کرتی محلے داروں سے زیادہ اجرت بھی وصول نہ ہوتی۔ صبا کو پڑھائی کا جنون کی حد تک شوق تھا وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ علی کے گھر والے اور ماموں کے گھر والے ان دونوں کی تعلیم حاصل کرنے بھرپور کوشش اور تعاون کرتے۔ علی بھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور صبا بھی بہت لائق تھی۔ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات خود بھی پورا کرنے کی کوشش کرتی۔ کالج میں لڑکیوں کے اجرت پر نوٹس وغیرہ تیار کرتی۔ بہن اور ماں فارغ وقت میں گلے، چادریں وغیرہ کاڑھتیں تو صبا کالج میں کلاس فیلوز کے آگے سیل کر دیتی۔ کھبی بازار سے جیولری منگوا کر سیل کرتی۔ پرس وغیرہ پن غرض چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پیسے کماتی۔ کھبی گھر سے کچھ پکا کر چھوٹے پیکٹ بنا کر لے چاتی۔ لڑکیاں بہت شوق سے کھاتی۔ وہ مناسب ریٹ پر دیتی۔ جس سے لڑکیاں خوشی خوشی لے لیتیں۔ اور اس کو پاکٹ منی مل جاتیں۔


جاری ہے


Continue Reading
Episode 8
نرالہ ساجن 8

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry