Nirala Saajan
26 Episodesتیئسواں حصہ - 23rd Part
لالہ جی نے خوب بیٹے کی پٹائی کی۔ گھر والوں نے بڑی مشکل سے چھڑوایا۔ اس کی سب گھر والوں کے سامنے بہت بےعزتی ہو چکی تھی خاص طور پر علی کے باس ملک جاوید اور مسز جاوید کے سامنے۔ سوچتے ہوئے علی کے بھائی کو بہت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ ماں کھانے کا پوچھنے آئی تو اس نے انکار کر دیا اور کہا
"رضیہ کو بھیجیں۔"
ماں نے غصے سے کہا
"کیا وہ اب آئے گی۔"
"ہاں ضرور آئے گی۔"
علی آیا، بھائی نے شرمساری سے نظریں جھکا لیں۔ علی نے کھانے کا پوچھا تو اس نے انکار کر دیا۔
"رضیہ کو بھیج دو ضروری بات کرنی ہے۔"
علی نے ماں سے کہا
'جو ہوا سو ہوا۔ اب انشاءاللہ اگے ایسا نہیں ہو گا۔"
ھادی ادھر سے آیا اور بولا
"رجو آپی آپ فکر نہ کریں آج ان کو آپ کو مارنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ آج وہ خود مار کھائے ہوئے ہیں۔"
صبا نے کہا
'رجو آپی آپ کو ایک بات ضرور کہوں گی۔ مانا انہوں نے غلط کیا مگر اس وقت ان کو آپ کی ضرورت ہے اس مقدس رشتے کے ناطے اور انسانیت کے ناطے آپ چلی جاہیں۔"
اس کی ماں نے بھی جانے کا بولا، ماموں بھی حال احوال پوچھ کر آیا۔ لالہ جی بیوی سے اسکا حال پوچھا تو وہ مطمئن سی ہو کر بولی۔
'رجو اب کمرے میں چلی گئی ہے وہ سب سنبھال لے گی اور کھانا بھی کھلا لے گی۔ اس نے خود بھی کھانا نہیں کھایا بلکہ روتی بھی رہی ہے۔"
رضیہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے شوہر کو دیکھا جو اسے نڈھال اور مظلوم سا لگا۔ اس کے شوہر نے کہا
"رجو مجھے معاف کر دو"
تو وہ کافی حیران ہوئی اس کو تو لگتا تھا کہ وہ اپنی مار اور توہین کا بدلہ بھی اسی سے لے گا اور اپنا غصہ نکالے گا۔ مگر وہ تو آرام سے اس سے معافی مانگ رہا تھا۔ اور روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا تھا
"مجھے احساس ہی نہ ہوتا تھا جب میں تمھاری بےعزتی کرتا اور مارتا تھا۔"
جاری ہے۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.