Logo
Sakoot-e-Ishq
6 Episodes
Sakoot-e-Ishq EP 6
Episode 6

سکوت عشق6

Sakoot-e-Ishq


چھٹا حصہ - Part 6


ناہرہ کو ساس نے وارننگ دی تھی کہ اگر تم میرے بیٹے کو اہمیت نہیں دو گی یا اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو میں فوراً تمہیں طلاق دلوا کر اس گھر سے باہر نکال دوں گی.

اس نے یہ بات ماہرہ کو بتائی کہ وہ اپنے انپڑھ شوہر کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی.

ماہرہ نے اسے صاف کہہ دیا 

"وہ اس صورت میں اس کی کوئی مدد نہیں کرے گی نہ شوہر کو کرنے دے گی."

ناہرہ جو اس کی بات سنکر بھڑک اٹھی 

"ایان اس کا ہونا تھا. زرا سی غلطی سے اس نے قبضہ ہی کر لیا. وہ اس کو بےنقد سنانے لگی."

ماہرہ چپ کر کے اس کے لعن طعن سنتی رہی اور اسے وارننگ دے کر بولی،

"ایان اب میرا شوہر ہے اور میں کسی اور عورت کے منہ سے اسکا نام بھی سننا پسند نہیں کرتی، آئندہ سے احتیاط کرنا."

وہ اس سے ناراض ہو کر چل پڑی. ناہرہ دل میں حیران ہونے لگی کہ کھبی ماہرہ بھی اسے جواب دے سکتی ہے.

یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ایان اسکا شوہر ہے.

اتفاقی طور پر زیان نے بھی سن لیا، اسے بہت دکھ ہوا. اس نے اسے بہت سنائی اور کہا، "بھائی صحیح کہتے تھے ظاہری حسن کوئی معنی نہیں رکھتا." 

اس نے ماں سے کہا کہ وہ ناہرہ کے ساتھ اپنی بقایا زندگی برباد نہیں کر سکتا، اس نے ماں کو سب باتیں بتا دیں.

ماں نے غصے سے کہا 

"وہ کون ہوتی ہے تمہیں کمتر سمجھنے والی."

ماں نے بیٹے سے کہا

"جب سے وہ اس گھر میں آئی ہے، میں اسے دیکھ کر ہی ٹینشن میں ہو جاتی ہوں. یہ ہمارے گھر میں مجبوری اور احسان چڑھا کر رہتی ہے. یہ کسی وقت بھی ہمیں دھوکہ دے کر چھوڑ سکتی ہے تم اسے فوراً طلاق دے دو."

ناہرہ نے سنا تو چلا کر بولی، 

"کمبخت بڑھیا، تم نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے. میں پڑھی لکھی ہوں نوکری کر کے سکون سے زندگی گزار سکتی ہوں. دو ابھی طلاق تاکہ میں اس جہنم سے آزاد ہو جاؤں."

شوہر نے غصے سے کہا، 

"شاید میں کھبی طلاق نہ دیتا مگر تم نے میری ماں کی انسلٹ کی. تم بہت خطرناک عورت ہو، میری ماں کو کچھ کر بھی سکتی ہو."

اس نے موبائل آن کیا. اسے تین بار طلاق دے کر ریکارڈ کر لیا اور کہا، 

"اب تم اس گھر سے فوراً جانے کی تیاری کرو."

تھوڑی دیر کے لیے ناہرہ گم سم سی ہو گئی. اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسکا پیارا شوہر اس کو جھٹ طلاق دے دے گا. ناہرہ کو سامان سمیت اس کے میکے بھجوا دیا گیا.


سوتیلی ماں نے گھر میں پناہ تو دے دی وقتی طور پر چپ ہو گئی.

باپ نے کہا، 

'مجھے اسی بات کا ڈر تھا. مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں. سب میری پہلی بیوی کا قصور ہے. اب بیٹی ہے گھر سے نکال بھی نہیں سکتا کہ کہاں جائے گی."


ساری بات زیان نے سسر کو فون پر بتادی تھی. وہ معزرت کرنے لگا.

ماہرہ کے شوہر کو ناہرہ پر غصہ تھا کہ وہ اس کی ماں کی بےعزتی کر رہی تھی. اس نے کھبی بھی بسنا نہیں تھا.

ماہرہ کی ماں کو بھی غصہ تھا کہ اس نے اس کی بیٹی کو تنگ رکھا اور اب ایان پر حق جتا رہی تھی.

بھائی بہن کے آگے معزرت کرنے لگا.


ناہرہ نے جاب اپلائی کر دی تھی اور اسے اب چھوٹے بھائی کو سنبھالنا پڑتا تھا.

سوتیلی ماں بظاہر کچھ نہ کہتی مگر باپ ہر وقت سناتا رہتا اور اسے کام کرنے پر لگا دیا. وہ بیوی کی طرفداری کرتا.

وہ کہتا، 

"نہ تمہاری ماں نے سکھ دیا. اب تم سکھ برباد کرنے آ گئی ہو. میں اپنی بیوی بچے کے ساتھ سکون سے رہ رہا تھا."

سب ناہرہ سے ناراض تھے.

ناہرہ کے شوہر کی بھی جلد شادی ہو گئی اور وہ اپنی بیوی سے خوش رہنے لگا کیونکہ اس کی ماں اس سے خوش تھی.

سوتیلی ماں اب رفتہ رفتہ اسے تنگ کرنے لگی. ساس سے زیادہ اسے طعنے دینے لگی.

ناہرہ نے جاب کر لی، مگر گھر آ کر اسے سارے کام کرنے پڑتے اور اپنی تنخواہ میں سے بھی وہ خرچہ اس سے لینے لگی کہ ناہرہ کے پاس کچھ نہ بچتا.

اس نے سوچا تھا کہ وہ شوہر سے طلاق لے کر کسی ینگ پڑھے لکھے شخص سے شادی کر کے ماہرہ کو بتا دے گی کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں.

 سوتیلی ماں رشتے والی کو کہہ کر جلد اسے اس گھر سے رخصت کرنا چاہتی تھی. مگر کنوارہ تو کوئی تیار نہ تھا، نہ، ایک شادی شدہ زبان دراز سے خاندان بھر میں اسے اپنانے کو تیار تھے.

رشتے والی نے صاف کہہ دیا تھا کہ کوئی رنڈوا ہی مل سکتا ہے. وہ اتنی تنگ آ چکی تھی اور سوتیلی ماں نے ایک شادی شدہ سے بات پکی کر دی جو تین بیٹیوں کا باپ تھا امیر تھا. بیٹے کے لیے دوسری شادی کرنا چاہتا تھا.

اس نے وعدہ کیا تھا کہ اسے الگ رکھے گا. اس نے ایک فرنیشد اپارٹمنٹ رینٹ پر لے کر ناہرہ سے نکاح کر لیا. شروع میں اسے بہت شاپنگ وغیرہ کروائی. مگر کچھ عرصے کے بعد بچہ نہ ہونے پر اس کے ٹیسٹ کروائے تو پتا چلا کہ وہ بانجھ ہے.

َاس نے اسے طلاق دے دی کہ میں نے جس مقصد کے لیے نکاح کیا تھا وہ پورا نہ ہوا.

ناہرہ پھر میکے آ گئی.

اب وہ اپنے پیار کرنے والے شوہر زیان کو چھوڑ کر بری طرح پچھتانے لگی.

سچ ہے اپنا گھر اپنا ہوتا ہے. سسرال کی جوتیوں میں بھی عزت ہے اور میکے کی جوتیوں میں زلت.

اب ناہرہ کا کوئی سہارا نہ تھا.

اس نے سوچا کہ اگر باپ کو کچھ ہو گیا تو سوتیلی ماں تو اسے نکال دے گی اب عقل پکڑے اور سوتیلی ماں کو خوش رکھے.

وہ بھائی کو اولاد کی طرح چاہنے لگی. اس کی ممتا جاگ گئی تھی. اس نے جان لیا کہ اسکا حسن کسی کام نہیں آیا.

دفتر میں بھی سب فلرٹ کرنا چاہتے تھے اپنانے کو کوئی تیار نہ تھا.


ماہرہ سسرال کی وجہ سے اس سے نہ ملتی تھی. اس کی ماں کھبی کبھار بھائی سے ملنے آ جاتی مگر اسے لفٹ نہ دیتی.

وہ جان چکی تھی کہ اسکا سلوک اس کی بیٹی سے کیسا تھا.

خاندان والوں نے بھی سچائی بتا دی تھی. بھائی بہن سے شرمندہ تھا اور معافی مانگتا رہتا تھا.

ماہرہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا دے دیا تھا. زیان کی بیٹی تھی.

ماہرہ سب کو اپنے ساتھ اپنے اوپر والے پورشن میں لے آئی تھی. کیونکہ سسر وفات پا چکا تھا.

ایان نے زیان کو اپنے ساتھ کام پر تنخواہ پر رکھ لیا تھا. اس کی بیوی سمجھدار تھی. اس نے وہیں ایک پلاٹ لے لیا تھا کہ ہم کب تک ان کے ساتھ رہیں گے.

وہ میکے سے بھی جائیداد کا حصہ لائی تھی اور اپنا گھر تعمیر کروا رہی تھی. ناہرہ یہ سب جان کر کڑھتی کہ اس نے جلدی کی.

اب زیان ایک سوسائٹی میں رہ رہا تھا. اب اس کی پرسنیلٹی بھی بن گئی تھی. ناہرہ اسی طرح ایک محلے میں ہی زندگی بسر کر رہی تھی. باپ فوت ہو چکا تھا.

اب سوتیلی ماں بھی اس کے ساتھ اچھی ہو چکی تھی کیونکہ اب وہ ان دونوں کا سہارا بنی ہوئی تھی.

ماہرہ کی ماں کھبی کبھار آ جاتی اور بھابھی کی امداد کر جاتی. بھابھی کے میکے والے بھی غریب تھے.

ناہرہ بھائی کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے بہت محنت کرنے لگی. وہی اب اس کے بڑھاپے کا سہارا تھا.

سوتیلی ماں کی وہ شکرگزار تھی کہ اس نے اسے میکے رہنے دیا تھا. ورنہ اس کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا.

سوتیلی ماں بیمار رہنے لگی تھی. ایک دن وہ بھی چل بسی. ماہرہ ساس کی وفات کے بعد اس سے ملنے جانے لگی تھی.

پڑھائی میں اس کے بھائی کی مدد کرتی. اسے اپنے بچوں کے اسکول میں داخلے میں مدد کی. کیونکہ لاکھ محنت کے باوجود وہ اس مہنگائی کے دور میں پڑھائی کے خرچے پورے کرنے سے قاصر تھی.

ایان ماہرہ کو کہتا، اس کی مدد کرتی رہا کرو. اب سب اس سے راضی تھے.

زیان کی بیوی اچھی تھی، شوہر پر بھروسہ کرتی تھی.

اگر کھبی کسی موقع پر زیان سے سامنا ہو بھی جائے تو وہ اسے یکسر نظر انداز کر دیتا تھا.

اپنی بیوی پر فدا تھا. جو کم پڑھی اور معمولی شکل و صورت کی تھی.

ناہرہ اپنے بھائی کو بیٹے کی طرح چاہتی تھی. وہ اسے ماں ہی کہتا، اور وہ اسے بیٹا کہتی.

ناہرہ اب وہ پہلے والی ناہرہ نہ رہی تھی. بلکل بدل چکی تھی.

سب اکڑ و غرور نکل چکا تھا. اب اس کی زندگی کا مقصد صرف بھائی کو پروان چڑھانا تھا.

اس نے کئی بار ماہرہ سے بھی معافی مانگی تھی. اور بیماری کے دنوں میں ساس سے بھی معافی مانگی تھی.

ساس نے بھی اس سے معافی مانگ کر گلے لگا کر پیار کیا تھا. جس کے لیے وہ ترستی تھی.

ایان بھی اب کھبی اسے سلام کر دیتا تھا. ساس کے معاف کرنے پر سب کے رویے اس سے بہتر ہو گئے تھے. اسے ماں کی نصیحت یاد آتی کہ اس نے کہا تھا کہ گھر نہ چھوڑنا.

اب وہ روتی اور پچھتاتی. 

بھائی پڑھ لکھ کر اچھی جاب پر لگ گیا تھا. وہ ریٹائرڈ ہو چکی تھی.

بھائی نے اپنی پسند سے ایک امیر لڑکی سے شادی کر لی تھی. اس کی بیوی نے کچھ عرصہ اسے برداشت کیا پھر باتیں بنانے لگی کہ یہ تمہاری سگی ماں تو نہیں ہے ناں.

بھائی بھی بیوی کا دیوانہ تھا. ناہرہ کو ایک اچھے ایسے اولڈ ہوم میں بھیج دیا جہاں پر وہ بوڑھوں کو رکھنے کا اچھا خاصا خرچہ لیتے تھے اور ساری سہولیات فراہم کرتے تھے.

ڈاکٹر کی سہولت بھی موجود تھی. بھائی کی بیوی کو اسے وہاں رکھنے اور خرچہ کرنے پر اعتراض نہ تھا صرف پاس رکھنے پر اعتراض تھا.

ناہرہ نے اسے پاس رکھنے کی آفر کی مگر ناہرہ نے انکار کر دیا. بھائی کھبی ملنے آ جاتا. بیوی نہ آتی.

ماہرہ اکثر ملنے آتی. اس کے بچے بھی آتے. 



ناہرہ سوچ رہی تھی. ادھر اسے زندگی کی ہر سہولت موجود ہے مگر گھر والا سکھ اور سکون نہیں ہے.

بھائی کا بچہ پیدا ہوا تو وہ تڑپ رہی تھی. مگر اسے کتنی خواہش تھی کہ دادی کی طرح اسے گود میں کھلائے.

مگر بڑی مشکل سے وہ اسے ایک بار ہاسپٹل ملنے جا سکی تھی. گھر جانے کی اجازت نہ تھی.

آخر اس نے سوچا کہ کسی بھی صورت میں اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہیے.


🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry