Sakoot-e-Ishq
6 Episodesسکوت عشق
زیان اور ایان کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں. ایان کو تعلیم کا بہت شوق تھا. دونوں بھائیوں کی عادات اور شکل میں فرق تھا. ایان بڑا اور اس سے ایک سال چھوٹا زیان تھا. دو ہی بھائی تھے.
باپ کی کپڑے کی دوکان تھی. اوپر دو دوکانیں کرائے پر دی ہوئی تھیں. گزر بسر اچھی چل رہی تھی.
اپنا بڑا سا گھر پرانے علاقے میں بنا ہوا تھا. ایک اوپر والا پورشن اسکا بھی کرائے پر دیا ہوا تھا. اس محلے اور خاندان میں بھی ان کی عزت تھی.
ایان خوبصورت اور پڑھا لکھا تھا. اسے باپ کے کاروبار کا کوئی شوق نہ تھا. وہ ابھی انجنیئر کی ڈگری پاس کر کے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر رہا تھا.
زیان کو شروع سے ہی پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی.
باپ کو شوق تھا کہ اس کے دونوں بچے پڑھ لکھ جائیں. زیان ایان کی طرح اتنا ہینڈسم نہ تھا. وہ بمشکل میٹرک پاس کر کے باپ کے ساتھ دوکان پر بیٹھنے لگا. اس کے بیٹھنے سے باپ کو بھی سہولت محسوس ہونے لگی.
ماں باپ نے ان دونوں کی شادی ایک ساتھ کرنے کا فیصلہ کر لیا. دونوں کے رشتے کے لیے رشتے کرانے والی کو رشتے کے لیے کہا گیا. ایان کے لیے اس کی تعلیم کے مطابق زیادہ پڑھی لکھی لڑکی اور زیان کے لیے اس کی تعلیم کے مطابق کم پڑھی لکھی لڑکی ڈھونڈنے لگے.
چند رشتے دیکھنے کے بعد رشتے والی نے ان کی ڈیمانڈ کے مطابق ایک ہی گھر سے دونوں رشتے میسر آ گئے اور بات پکی ہو گئی. دونوں کی شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر دی گئی اور شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں.
ناہرہ کا باپ ایک کامیاب پراپرٹی ڈیلر تھا. اس نے اپنی بیوہ بہن کی بیٹی ماہرہ کو اپنی بیٹی کی طرح پال پوس کر جوان کیا. دونوں ناہرہ اور ماہرہ ہم عمر تھیں.
ماہرہ کا باپ جب وفات پا گیا تو اس کی ماں کی بھائی نے دوسری شادی کر دی اور وہ بیرون ملک اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی. اسکا شوہر جس کی بیوی فوت ہو چکی تھی. اور وہ سوتیلی بیٹی کو پاس رکھنے کے حق میں نہ تھا. ماموں نے اسے پالنے کا ذمہ لے لیا.
ماہرہ بچپن سے ہی محرومیوں کا شکار تھی. مامی نے دیکھا وہ دس سال کی عمر سے ہی گھر کے کاموں میں دلچسپی لیتی تھی.
اس نے آتے ہی کافی کاموں میں مامی کی مدد کرنی شروع کر دی. مامی اس سے خوش ہو کر اسے اچھا سلوک کرنے لگی.
ماموں بھی بیوی کے اچھے برتاؤ سے مطمئین اور بیوی سے خوش ہو گیا اور اس کی ہر بات ماننے لگا. بیوی نے سوچا کہ اگر ماہرہ کے ساتھ پیار جتانے سے شوہر خوش ہو جاتا ہے تو وہ اسے سب کو اپنی بیٹی بتانے لگی کہ میری دو بیٹیاں ہیں.
اسکا سلوک دیکھ کر مائرہ کی سگی ماں بہت خوش ہو گئی. بعد میں اس کا اپنا بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئے تو وہ ان میں مگن ہو گئی. شوہر اسے ماہرہ کے ساتھ فون پر بات کرنے پر منع کرتا اور سمجھاتا
"اس طرح وہ ڈسٹرب رہے گی. اس کا دل وہاں لگنے دو. تاکہ وہ سکون سے رہ سکے. اور خود بھی سکون سے رہو."
وہ بھی دل پر پتھر رکھ کر مگن ہو گئی. کئی سال نہ وہ پاکستان آتی نہ ہی زیادہ فون کرتی. کھبی کبھار بھائی کو فون کر کے بیٹی کی خیریت دریافت کر لیتی. مگر بات کرنے کا حوصلہ نہ کرتی کہ اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ جائیں گے.
بیٹی سمجھتی اس کی ماں اسے بھول چکی ہے اس لیے وہ بھی اب کھبی ماں کا زکر نہ کرتی.
ماہرہ کو مانی پکارا جاتا، جبکہ ناہرہ کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے پری پکارا جاتا.
"مانی بیٹا چاے بن گئی ہے تو ماموں کو دے جاو."
"جی اچھا ماما."
وہ مامی کے کہنے پر ہی اسے ماما پکارتی تھی. ماموں بھی خوش ہو جاتے کہ وہ اسے ماما کہلواتی.
جب ماہرہ چائے لیکر دروازے کے قریب پہنچی تو ماموں مامی کو بتا رہے تھے کہ مانی کی ماں کا فون تھا.
اسے سامنے دیکھ کر وہ چپ ہو گئے. وہ اس کے سامنے اس کی ماں کا زکر نہ کرتے تھے کہ وہ محسوس نہ کرے ماں کی کمی کو.
ماہرہ نے سن کر بھی ان سنا کر دیا مگر اندر سے اسکا دل ماں سے ملنے کے لیے اکثر بےقرار رہتا.
اس کے پاس ماں کی اور اس کی بچپن کی ایک ہی پرانی تصویر تھی جسے وہ اکثر چھپ کر دیکھتی اور روتی رہتی تھی.
مامی اس کے کھانے پینے کا بھی، اس لیے خیال رکھتی کہ وہ اگر کمزور ہو گئی یا بیمار پڑ گئی تو گھر کے کام کون کرے گا.
وہ زرا سی بیمار ہوتی تو مامی فوراً اس کی دوائی دینے کی فکر میں لگ جاتی. وقت پر اسے دوائی دیتی اور قہوے وغیرہ بنا کر دیتی.
اور ناہرہ اور ماہرہ کا ایک ہی روم تھا. اور دونوں کے دو سنگل بیڈ بچھے ہوئے تھے دونوں کونوں میں. درمیان میں سنگل کرسیاں تھیں. ماہرہ کی اپنی الگ الماری تھی اور ناہرہ کی الگ.
ناہرہ کو ماہرہ کو اپنے روم میں سلانے پر کوئی اعتراض اس لیے بھی نہ تھا کہ وہ اس کو وقت بے وقت کام کرواتی رہتی، پانی بھی اٹھ کر خود نہ پیتی. ناہرہ اس کا اکثر مزاق اڑاتی رہتی.
اس کی کم تعلیم کا اس کی شکل و صورت کا، جو اس کے مقابلے میں حسین نہ تھی. ماہرہ پلٹ کر کھبی جواب نہ دیتی.
ناہرہ کو اپنی انجینئرنگ کی ڈگری اور اپنے حسن پر بہت گھمنڈ تھا. ماہرہ میٹرک درمیانے درجے کے نمبروں سے پاس ہوئی تھی کیونکہ اس کو پڑھنے کا موقع ہی نہ ملتا. جبکہ ناہرہ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئی تو مامی نے مشہور کر دیا کہ ماہرہ کو پڑھنے کا زرا بھی شوق نہیں ہے. میں سوچ رہی ہوں کہ اسے گھرداری میں تاک کر دوں کیونکہ اسے گھرداری کا بہت شوق ہے. پیپروں میں بھی اس نے کام نہ چھوڑا. یہ بھی میں نے پیچھے لگ کر اسے میٹرک کروا دی جس مشکل سے کروائی یہ میں ہی جانتی ہوں.
مامی کا سپاٹ لہجہ اور خاموش رعب اس پر بہت پڑ چکا تھا.
وہ مامی کی کسی بات کو جھٹلا نہیں سکتی تھی. کیونکہ مامی اسے ماموں کے سامنے یہ کہہ کر باور کروانے پر مجبور کر دیتی
"پوچھ لیں اس سے سامنے کھڑی ہے میں کوئی جھوٹ نہیں کہہ رہی."
"کیوں مانی بتاؤ ماموں کو کہ تم آگے نہیں پڑھنا چاہتی تمہیں گھرداری سیکھنے کا شوق ہے."
وہ مجبور ہو جاتی، ڈر جاتی اور مامی کی ہاں میں ہاں ملا دیتی. مامی اس سے خوش ہو جاتی تو مانی دل میں خوش ہو جاتی کہ چلو مامی تو خوش ہوئی.
ماہرہ رات کو لیٹتی تو اسے بچپن کے سہانے دن یاد آ جاتے. ماہرہ اپنے والدین کے ساتھ ایک گاؤں میں رہتی تھی. ماں باپ کی لاڈلی اور اکلوتی تھی.
اسکا سوتیلا باپ اس کے باپ کا جگری دوست تھا. ماہرہ گاؤں کے اسکول میں پڑھتی تھی. ماہرہ کی ماں گریجویٹ تھی اور اپنے کلاس فیلو کو پسند کرتی تھی دونوں کی شادی ہو گئی اور وہ گاؤں بیاہ کر چلی گئی.
اس نے کھبی اس بات پر اعتراض نہ کیا کہ وہ شہر کی پڑھی لکھی لڑکی ہے. گاؤں میں بھی خوش رہتی.
اسکا شوہر اور اسکا دوست جس کی بیوی دو سال پہلے فوت ہو چکی تھی اور ابھی تک اس نے اور شادی نہ کی تھی نہ ہی کوئی اولاد تھی.
دونوں دوست ایک دن اکھٹے بائیک پر جارہے تھے کہ ایکسیڈنٹ میں ماہرہ کا باپ جگہ پر ہی فوت ہو گیا اور اسکا دوست دور مٹی پر گرنے سے معمولی زخمی ہوا اور بچ گیا. کچھ وقت گزرا. بھائی بہن کو گھر لے آیا تو اسی دوست نے ماہرہ کی ماں کا رشتہ مانگا. جو اب کچھ عرصے سے یوکے میں مقیم تھا اور اسے فیملی ویزہ ملا ہوا تھا تو وہ ماہرہ کی ماں کا رشتہ اس کے بھائی سے مانگ کر شادی رچا لی.
شروع میں اس نے کہا
"وہ یوکے فی الحال بیوی کو لے کر جا سکتا ہے بعد میں کوشش کر کے ماہرہ کو بھی بلا لے گا."
مامی نے دیکھا، ماہرہ بہت سمجھدار اور مددگار لڑکی ہے دس سال کی عمر میں وہ بہت سلجھی ہوئی تھی تو مامی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی پرورش کا ذمہ اٹھا لیا.
ناہرہ تو اچھے مہنگے اسکول میں پڑھتی تھی. ماہرہ گاؤں سے آئی تھی اس لئے اسے قریبی سرکاری اسکول میں یہ کہہ کر داخل کروا دیا کہ جب وہ پڑھائی میں تیز ہو جائے گی تو اسے ناہرہ کے ساتھ اس کے اسکول میں داخل کروا دیں گے.
ماہرہ کی ماں یوکے چلی گئی تو شوہر نے اپنے رنگ ڈھنگ دیکھانے شروع کر دیے اور صاف لفظوں میں اسے کہہ دیا
"وہ اگر بیٹی کو پاس رکھنا چاہتی ہے تو وہ طلاق لے کر بیٹی کے پاس چلی جائے. وہ میرے لیے نامحرم ہے."
ماں مجبور ہو گئی کہ وہ اگر طلاق لیتی ہے تو بھابھی کا رویہ دیکھ چکی تھی.
اگر بیٹی ماموں کے پاس رہے تو سیف رہے گی کیونکہ مامی نے اسے تسلی دی تھی کہ اس کی فکر نہ کرو میں اسے اپنی بیٹی کی طرح پالوں گی.
ماہرہ کی ماں سمجھ گئی تھی کہ اسے مفت کی نوکرانی مل گئی ہے. وہ خود پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بیٹی کو نہ پاس رکھ سکتی تھی نہ ہی پڑھا سکتی تھی.
شوہر نے صاف کہا تھا
"اس سے تعلق نہیں رکھنا ورنہ تم بیٹی کے ساتھ لگی رہو گی تو جو اس کا آنے والا بچہ تھا اس پر پوری توجہ نہ دے سکو گی."
بڑے عرصے کے بعد اسے اولاد ملنے والی تھی. بھائی نے بھی کہا
"جیسا شوہر چاہتا ہے ویسا ہی کرو اب تم اس کے بچے کی ماں بننے والی ہو اسے چھوڑ بھی نہیں سکتی. ہمیں بھولنے کی کوشش کرو اور بیٹی کا ہم بہت خیال رکھیں گے."
وہ بولی،
"ٹھیک ہے بھائی میں کھبی کھبی صرف آپ کو فون کر کے خیریت دریافت کر لیا کروں گی."
ماہرہ کی ماں کو یہ اجازت بھی نہ تھی کہ وہ اپنے بچوں کو ماہرہ کے بارے میں یا اپنی پہلی شادی کے بارے میں بتائے.
اس نے تو بچوں سے اپنے بھائی یعنی ان کے ماموں، تک کا زکر بھی نہ کیا تھا چوری کھبی بھائی کو فون کر کے پوچھ لیتی.
ماہرہ کا شوہر ویسے اسکا بہت خیال رکھتا. بڑا بیٹا پھر دو سال بعد بیٹی کی پیدائش پر وہ ان میں مگن ہو گئی مگر ماہرہ کے لیے چھپ چھپ کر کھبی روتی.
مائرہ کا سوتیلا باپ شدید بیمار ہوا اور اب بیماری سے معزور ہو چکا تھا، زبان بند ہو گئی تھی. اشارے سے معافیاں مانگتا تھا. ماہرہ کی ماں کو اب اس پر ترس آتا تھا. وہ ماہرہ کا اس کی زندگی میں بچوں کو بتا کر ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی. اسے بھی اب عادت بھی ہو گئی تھی دکھ سہنے کی.
ناہرہ اپنی فرینڈز کے ساتھ اپنے روم میں بیٹھی ہوئی تھی اور ماہرہ کو چائے بنانے کا آرڈر دیا تھا.
ماہرہ کچن میں چائے بنا رہی تھی ساتھ ساتھ اس کے کانوں میں ناہرہ کی باتیں اس کے دل پر کچوکے لگا رہی تھیں.
جاری ہے.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.