Sakoot-e-Ishq
6 Episodesتیسرا حصہ - Part 3
ماہرہ کے سسرال والوں کو شادی کی جلدی تھی. اس لیے انہوں نے شادی کی ڈیٹ جلدی رکھی تھی.
کرونا کی وجہ سے ماہرہ کے بھائی کو بمشکل سیٹ ملی اور وہ باپ کی ڈیڈ باڈی لیکر پہنچ گیا.
ماہرہ کی سوتیلی بہن کا پیپر تھا تو اس نے دو دن بعد آنا تھا. ماں نے بیٹی کے ساتھ آنا تھا. ان کی سیٹیں کنفرم نہ ہو سکیں اور انہیں وہیں رکنا پڑا.
گاؤں سے رشتے دار ایئرپورٹ پہنچ گئے تھے. ادھر سے یہ سب بھی ائرپورٹ پہنچ گئے. ناہرہ نے جانے سے انکار کر دیا تو ایک رشتے دار عورت کو اس کے پاس چھوڑنا پڑا. ماہرہ کو جہاں ماں کے نہ آنے پر دکھ تھا وہیں بھائی سے ملنے کی خوشی بھی بہت تھی. اس سے پل کاٹے نہیں جا رہے تھے.
گاوں سے کافی مرد آئے ہوئے تھے عورت کوئی نہ تھی. ناہرہ کی ماں نے شوہر سے کہا
"وہ ہمیں گھر بھجوا دیں، کوئی عورت نہیں آئی."
شوہر نے سرگوشی میں آہستہ سے کہا،
"ہم نے گاوں جانا ہے. خاموش رہو."
ناہرہ کی ماں ماہرہ کے سامنے بڑبڑانے لگی
"اس بندے نے ساری زندگی ہمیں پوچھا نہیں، نہ ہی کوئی تعلق رکھا۔ اپنی سوتیلی بیٹی سے بھی واسطہ نہیں رکھا، اب ہم اس کے جنازے پر کیوں اس کے گاؤں جا رہے ہیں."
ماہرہ سنکر خاموش رہی. اسے تو شدت سے بھائی سے ملنے کی جلدی تھی.
نو سال کا بچہ اتنا بڑا لگ رہا تھا جیسے بارہ تیرہ سال کا ہو. کافی سمجھدار بچہ تھا. باپ کے ایک دوست کے ساتھ آیا تھا جس کی فیملی بھی ساتھ تھی. بچہ سب سے مل رہا تھا کافی اداس تھا.
ماہرہ سے ملا تو ماہرہ نے روتے ہوئے شدت جزبات سے اسے زور سے بھینچ لیا. دونوں زاروقطار رونے لگے. ادھر ادھر سے لوگ دیکھنے لگے.
بچہ جن کے ساتھ آیا تھا وہ ماموں سے کہہ رہے تھے.
"اب ہم چلتے ہیں آپ کی امانت بچہ اور اسکے باپ کی ڈیڈ باڈی آپ کے حوالے."
بچے کے دھدیال والے بچے کو پیار سے تسلی دے رہے تھے. مامی اور ماہرہ لوگوں کو گاشں کے لوگ بہت عزت دے رہے تھے.
سارے راستے مامی منہ بنائے بیٹھی رہی. جبکہ ماہرہ بھائی کو تقریباً گود میں سر رکھے پیار کرتی رہی.
وہ بھی مطمئن ہو رہا تھا. ماں سے بھی فون پر لائیو وڈیو کال ہوتی رہی. گاؤں میں ان کو بہت عزت افزائی ملی. اس کے سوتیلے باپ کے سب کزنز تھے. سگا کوئی نہ تھا کیونکہ وہ اکلوتا تھا. والدین حیات نہ تھے.
ماہرہ کے بھائی کو بھی سب بہت پیار کر رہے تھے.
جنازے کے بعد اگلے دن ناشتے کے بعد دس بجے قل تھا. ساتھ ہی چالیسواں تھا. ختم کے بعد ماہرہ کا ماموں جانے لگا تو ماہرہ نے بھائی کو بھی ساتھ لے جانے کا کہا۔ سارا وقت وہ ماہرہ کے ساتھ ہی رہا.
مامی کا منہ بن گیا. ماموں نے ان لوگوں سے اسے لے جانے کی اجازت مانگی تو وہ بولے،
"جی آپ کا بھی حق ہے. ہم سب آپ سے ہمیشہ کا ناطہ رکھنا چاہتے ہیں. ہمارا بھائی کسی سے بھی زیادہ تعلق نہ رکھتا تھا."
ماہرہ کے ماموں نے بہت خوش دلی سے کہا،
"جی ضرور آخر ہم رشتے دار ہیں."
مامی کا پھر منہ بن گیا.
اس طرح سب سے ملنے کے بعد وہ لوگ رخصت ہوئے.
ماہرہ کا بھائی ماہرہ کی سنگت میں بہت خوش رہتا تھا. وہ اسکا بہت خیال رکھتی. ناہرہ اسے فالتو لفٹ نہ کراتی.
ماہرہ کی ماں کی کرونا کی وجہ سے سیٹیں کنفرم نہ ہو سکیں. اس نے بھائی سے کہا،
"اگر بچیوں کے سسرال والوں کو جلدی ہے تو انہیں رخصت کر دیں. میں پاکستان شفٹ ہونا چاہتی ہوں اور یہاں سے سب کام مکمل کر کے آؤں گی."
ناہرہ اپنی شادی کی شاپنگ میں مگن رہتی. جبکہ ساتھ ساتھ ماہرہ اور اس کے منگیتر کا بھی مزاق اڑاتی.
وہ طنزیہ مسکرا کر کہتی،
"دیکھا، میرے سسرال والوں نے کیسے جوڑیاں پسند کی ہیں میرے لیے میری طرح خوبصورت، ہینڈسم اور پڑھا لکھا لڑکا میچ کیا اور تمہارے لیے تمہاری طرح انپڑھ، اور بدصورت لڑکا میچ کیا."
ماہرہ جواب میں خاموش رہتی.
لڑکے والوں نے جب ماہرہ کی ماں کی بات سنی اور اس سے فون پر بات کی تو انہوں نے کہا
"ہم ولیمہ آپ کے آنے پر کر لیں گے."
مائرہ کی ماں، بیٹی کے منگیتر کو دیکھ کر کافی اداس اور مایوس ہوئی. اسے بیٹی کے کم پڑھنے کا بہت دکھ تھا. دوسرا لڑکا اسے بہت باادب اور سلجھا لگا. وہ اپنی بیٹی کی قسمت کا کس سے گلہ کرتی. کافی روتی رہی اور اس کی اچھی قسمت کی دعائیں کرتی رہی. اسے اپنی بھابھی کی بدنیتی کا اتنا اندازہ نہ تھا کیونکہ جب باپ فوت ہوا تو جو جائیداد کا بٹوارہ ہوا تو بھائی نے اپنا سارا پیسہ بزنس پر لگا دیا اور بہن بیوہ تھی تو اس نے گھر خرید کر بھائی کو رہائش کے لیے دے دیا اور اس کا نکاح بھابھی نے زور دے کر زبردستی سمجھا بجھا کر کروا دیا اور اس کے ساتھ میٹھی بنی رہی اور اس کی بیٹی کو پالنے کا ذمہ لے لیا.
وہ مجبور ہو گئی کیونکہ بھائی نے بھی شادی پر بہت زور دیا تھا.
ناہرہ کی ماں نے ماہرہ پر کھبی ظاہر نہ ہونے دیا کہ یہ گھر اس کی ماں کی ملکیت ہے. ماں نے ماہرہ کے نام لگوا دیا تھا اور اسے راز رکھنے کا کہا تھا کہ جب تک اس کی شادی نہ ہو کسی کو حتکہ اس کو بھی پتا نہ چلے تاکہ کوئی لالچ میں اس سے شادی نہ کرے.
بھائی کو بھی اس نے اجازت دی کہ وہ ادھر ہی رہیں.
شادی قدرے سادگی سے ہو رہی تھی۔ کرونا کی وجہ سے کم لوگوں کو بلایا گیا تھا. گھر سے ہی بارات کو رخصت ہونا تھا. مہندی کا فنکشن بھی گھر میں ہی رکھا گیا تھا.
ناہرہ تو کئی دن پہلے ہی سے پارلر جانے لگی تھی جبکہ ماہرہ نے سوائے شادی کے دن کے علاوہ، پارلر جانے سے منع کر دیا. اس پر بھی ناہرہ نے بہت تمسخر اڑایا
"تم کون سا تیار ہو کر حسین لگنے لگو گی. جیسی تم ویسا تمہارا دولہا، دیکھنا ناں میرے دولہے کو کیسا شہزادہ لگے گا خبردار میرے دولہے کی طرف مت دیکھنا ورنہ اپنا لنگور لگے گا. خیر تمہیں ساری زندگی اسی لنگور کے ساتھ گزارنی ہے."
ماہرہ جواب میں سنجیدہ اور خاموش رہتی.
ناہرہ اور ماہرہ پارلر سے تیار ہو رہی تھیں.
ماہرہ تو نہ مان رہی تھی مگر اس کی ماں کو دیکھانے کے لیے مامی نے اسے زبردستی پارلر سے تیار کروایا تھا. دولہن تیار کرتے ہوئے سب ماہرہ کی تعریفیں کر رہے تھے. ماہرہ بھی تیار ہو کر کافی پرکشش لگنے لگی کہ اس کی تعریفیں ہونے لگیں.
ناہرہ کو برا لگنے لگا.
ایک لڑکی نے پوچھا
"کیا آپ دونوں کے دولہے بھی اچھے ہیں کیا کرتے ہیں."
ناہرہ نے جھٹ اپنے موبائل سے ایان کی فوٹو دیکھا کر بڑے غرور سے کہا،
"یہ ہے میرا پڑھا لکھا انجینئر ہینڈسم دولہا."
سب پرشوق انداز سے دیکھ کر تعریفیں کرنے لگیں. انہوں نے ماہرہ سے کہا،
"آپ بھی دکھائیں، وہ کیا کرتے ہیں."
ماہرہ نے کہا،
"میں نے پکچر نہیں رکھی اپنے موبائل میں."
ناہرہ نے کہا،
"ارے میں دیکھا دیتی ہوں میں نے مقابلے کے لیے رکھی تھی کہ اسکا دولہا دیکھو اور میرا دیکھو زمین آسمان کا فرق ہے دونوں بھائیوں میں. اسکا میٹرک تک پڑھا ہوا ہے اور کپڑے کی شاپ پر بیٹھتا ہے."
پھر بولی،
"میرا ہینڈسم ہے ناں اس کے مقابلے میں. جیسی یہ ویسا اس کا دولہا لنگور."
ایک لڑکی بولی،
"کوئی بات نہیں، نیچر اچھی ہونی چاہیے."
ناہرہ منہ بنا کر بولی،
"ارے انپڑھ اجڈ اور بدتمیز ہی ہوتے ہیں زیادہ تر. میرا تعلیم یافتہ ہے. عورت کی عزت کرنے والا. اس کے والے کو تو بات کرنے کا سلیقہ نہیں."
لڑکی آہ بھر کر بولی،
"چلیں ہم دعا ہی کر سکتے ہیں ان کی اچھی قسمت کی."
ناہرہ فخر سے بولی،
"پر میرے جیسی قسمت نہیں ہونے والی اس کی."
دونوں تیار ہو کر گھر آ گئیں.
ناہرہ نے ماں کو پہلے ہی وارننگ دے دی تھی کہ ماہرہ کو میرے ساتھ مت بٹھانا. ناہرہ کو اس کے کمرے میں بٹھا دیا گیا اور ناہرہ کو الاونج میں. ناہرہ نے ماں کو کہا تھا کہ پہلے میرا نکاح ہو جانا چاہیے بعد میں ماہرہ کا.
ناہرہ ہیڈفون لگا کر اپنی ایک فرینڈ سے بات کرنے لگی جب نکاح خواں نکاح کے لئے اندر آئے. مہمان عورتیں پاس کھڑی تھیں.
جب نکاح کے لئے پوچھا گیا کہ تمہیں زیان والد نصیر احمد کے ساتھ وغیرہ وغیرہ قبول ہے تو وہ بولی قبول ہے.
ناہرہ نے ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے اس نے سوچا کیا فرق پڑے گا قبول ہے ہی کہنا ہے کہہ دیتی ہوں.
ناہرہ کا نکاح زیان سے ہو گیا.
جاری ہے.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.