Logo
Sakoot-e-Ishq
6 Episodes
Sakoot-e-Ishq EP 2
Episode 2

سکوت عشق2

Sakoot-e-Ishq


دوسرا حصہ - Part 2


ناہرہ کی ایک فرینڈ نے کہا، یار تمہاری بہن بہت اچھی ہے.

ناہرہ سنکر تپ کر بولی، 

"تمہیں وہ کس اینگل سے میری سسٹر لگتی ہے. وہ ملازمہ ہے ہماری سمجھی. وہ معمولی شکل و صورت والی، انپڑھ گاؤں کی لڑکی."

دوسری نے کہا، 

"مگر یار آنٹی کو تو وہ ماما پکار رہی تھی اور تم دونوں کا رشتہ بھی تو ایک ہی گھر میں دو سگے بھائیوں کے ساتھ ہوا ہے."

ناہرہ تمسخر بھرے انداز میں بولی، 

"ارے وہ میری غریب، گاؤں کی کزن ہے. اس لیے اسے ملازمہ سے زرا زیادہ پروٹوکول دینا پڑتا ہے۔ کیا کریں مجبوری ہے. آجکل ملازم اتنے کام کاج والے ملتے کدھر ہیں اور رہی شادی اس کی، اس گھر میں کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میری ماما اتنی بےوقوف نہیں ہیں کہ اسے میرے ساتھ برابری کا درجہ دیں. دراصل بات یہ ہے کہ میرا منگیتر تو میری طرح خوب صورت پڑھا لکھا لڑکا ہے بلکل میرے معیار کے مطابق. اب یہ ٹھہری گاؤں کی انپڑھ گنوار اور بد صورت. اب اس کے لیے بھی اسی جیسا معمولی شکل وصورت والا کم پڑھا ہی چاہیے تھا۔ اتفاق سے میرے منگیتر کا چھوٹا بھائی بلکل اس کے میچ کا ہے. کم پڑھا لکھا، معمولی شکل و صورت والا اور باپ کے ساتھ کپڑے کی شاپ پر بیٹھتا ہے نہ کہ میرے منگیتر کی طرح آفس میں افسر بن کر بیٹھتا ہے."

پھر وہ شوخی سے بولی، 

"اس کو اپنے ساتھ بیاہنے کی وجہ ایک اور بھی ہے کہ یہ میرے پاپا کی بھانجی ہے تو اس کی شادی بھی ہم لوگوں نے ہی کرنی ہے. ایک میری شادی میں اس کی بھی بھگت جائے گی اور جہیز بھی نہیں دینا پڑے گا کیونکہ لڑکے والوں نے جہیز دینے سے سختی سے منع کیا ہے اور بھلا ہمیں کیا چاہیے تھا. پھر جس طرح میں اس سے ادھر اپنے سارے کام کرواتی ہوں. جہیز میں یہ مفت کی نوکرانی بھی ساتھ جائے گی اور جیسے مجھے یہاں آرام، ویسے وہاں بھی اس پر حکم چلاؤں گی۔ ویسے بھی میں وہاں ان کی بڑی بہو کی حیثیت سے جاؤں گی."

ایک دوست بولی، 

"واہ بھائی واہ کیا قسمت پائی ہے. شوہر بھی اپنی طرح کا ملنے والا ہے اور ساتھ میں یہ مفت کی ملازمہ کی سہولت بھی. اکثر لوگ اپنے غریب گاؤں وغیرہ کے رشتے داروں کو کام کاج کے لیے لے آتے ہیں ایک تو وہ رشتے دار بھی ہوتے ہیں اور دوسرے بھروسے والے بھی. ان کو یہ خوشی ملتی ہے کہ ہمارے امیر رشتے دار انہیں گھر میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں وہ اسی زعم میں خوش رہتے ہیں کہ ہم ان کے رشتے دار ہیں."


ایک فرینڈ نے ناہرہ سے پوچھا 

"ویسے اس کے والدین کدھر ہوتے ہیں."

ناہرہ جھٹ بولی 

"باپ فوت ہو گیا ہے" 

پھر اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر اس کی ماں کا بتایا کہ وہ یوکے میں رہتی ہے تو اس کی ویلیو مجھ سے بڑھ نہ جائے تو جھٹ ٹالنے والے انداز میں انہیں ڈانٹ کر بولی، 

"تم لوگ بھی کیا نوکروں کی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو. وہ لوگ اتنے اہم بھی نہیں کہ ہم ان کی باتوں میں وقت برباد کریں."

دوسری بولی، 

"میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی."

ناہرہ کو سب پتا تھا کہ ماہرہ کی ماں کا اور اس کے دو بہن بھائی کا بھی. مگر وہ اس کے سامنے اس بات کا غرور میں ذکر نہیں کرتی تھی.

ماہرہ کو بھی سب علم تھا کہ اس کا ایک بھائی اور ایک بہن بھی ہے. اسے ان سے ملنے کا بھی بہت اشتیاق تھا مگر وہ کہہ نہیں سکتی تھی.

ناہرہ اس کے منگیتر کا اس کے سامنے مزاق اڑاتی اور اپنے منگیتر کی تعریفیں کر کے اسے جلانے کی کوشش کرتی. اپنے منگیتر کی تصویر دیکھا کر اسے کہتی، 

"تمہارا دل تو للچا رہا ہو گا کہ کاش یہ میرا ہوتا تو کان کھول کر سن لو، یہ خواب یا خواہش کھبی تمہاری پوری ہونے والی نہیں. اس لیے بہتر ہے کہ اپنے اس لنگور کے ساتھ ہی سپنے دیکھو جو جلد پورے ہونے والے ہیں اور میرے سپنوں کا راج کمار مجھے ملنے والا ہے. تم تو ادھر بھی ساری زندگی میرے منگیتر کو دیکھ دیکھ کر جلا کرو گی، جب اپنے لنگور پر نظر پڑے گی."

اس نے اسکا نام ہی لنگور ڈالا ہوا تھا.

ماہرہ کی عادت تھی کہ وہ اس کے اس جلے کٹے جملوں پر نہ کوئی جواب دیتی نہ ہی کوئی صفائی پیش کرتی. اسے علم تھا کہ اگر ایک بات کا بھی جواب دیا تو اس کے جواب میں اسے اس کی مزید دکھ دینے والی باتیں سننے کو ملیں گی. بہتر یہی ہے کہ چپ رہا جائے تو وہ خود ہی مایوس ہو کر چپ کر جائے گی.

ماں کی ہدایت کے مطابق، نائرہ اپنے باپ کے سامنے اس کو جلی کٹی سنانے سے گریز کرتی. دونوں ماں بیٹی اس کے ماموں کے سامنے اس سے ایسے پیار جتاتیں جیسے وہ اس کی دیوانی ہیں.

باپ ہر چیز ایک جیسی لانا چاہتا تھا مگر ادھر بھی وہ چالاکی کر جاتیں. اس کی سستی چیز لا کر مہنگی بتاتیں اور کہتیں کہ یہ اس کی اپنی پسند ہے. اسے شاپنگ پر ساتھ لے کر جاتیں. 

ماہرہ ایک روبوٹ کی طرح ہر چیز میں ہاں کی گردن ہلا دیتی. اس نے دل میں اپنے اللہ تعالیٰ سے اچھی امید لگا رکھی تھی کہ وہ اس کے صبر کا پھل ضرور دے گا انشاءاللہ. اسے ماں سے ملنے کی شدید خواہش تھی.

وہ ماں کی مجبوری سمجھ سکتی تھی. جب ماں یوکے جا رہی تھی تو تڑپ تڑپ کر اس کے لیے روتی روتی گئی تھی.



ایان اور زیان شام کی چائے پی رہے تھے.

باپ نے ایان سے کہا، 

"برخوردار شادی کے لئے چھٹیاں اپلائی کر دی ہیں ناں."

ایان بولا، 

"جی ابو جی کر دی ہیں."

زیان ماں سے پیار سے گلہ کرتے ہوئے بولا، 

"امی یہ کیا ظلم ہے بھلا، بھائی کے لیے چاند جیسی لڑکی ڈھونڈی اور میرے لیے بدصورت. میرے لیے بھی کوئی خوبصورت لڑکی ڈھونڈیں، مجھے نہیں کرنی اس کالو سے شادی."

ایان نے سنجیدگی سے کہا، 

"امی اس کے لیے بھی کوئی خوبصورت لڑکی ڈھونڈتے یا میری اس بقول کالو سے منگنی کر دیتے اور خوبصورت والی کی اس سے. مجھے خوبصورتی سے کوئی مطلب نہیں بس نیچر اچھی ہو."

زیان بولا، 

"لو جی ادھر الٹا ہی حساب ہے. مجھے تو حسن سے مطلب ہے."

باپ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا 

"اگر تم بھی پڑھائی کی طرف توجہ دیتے تو خوبصورت پڑھی لکھی کا رشتہ ہی تمہارے لیے بھی تلاش کیا جاتا. اب نہ تمہاری تعلیم ہے تو کون تمہیں اپنی پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی دے گا. شکر کرو کہ بھائی کے طفیل ایک اچھے گھرانے میں سے رشتہ مل رہا ہے. تمہاری ماں تو تمہاری والی کی زیادہ تعریفیں کرتی ہے."

وہ شرمندہ ہو کر بولا، 

"میں تو مزاق کر رہا تھا" 

پھر ایک سرد آہ بھر کر بولا، 

"مجھے اپنی حیثیت کا بھی علم ہے."

ماں نے کہا، 

"واقعی تمہارے والی بہت اچھی ہے."

شوہر نے پوچھا، 

"بیگم ان کے کیا بھلے نام تھے."

بیوی نے کہا، 

"بس آپ یہ یاد رکھ لیں کہ ایک کا نام پری ہے جو خوبصورت ہے اور جو دوسری ہے وہ مانی ہے. باقی ان کے نام زرا مجھے مشکل لگتے ہیں اس لیے یاد نہیں رہے."



ماہرہ نے سنا، ماموں بیوی کو بتا رہے تھے کہ اس کے سوتیلے باپ کی ڈیتھ ہو گئی ہے اور اس کی ڈیڈ باڈی اس کے آبائی گاؤں لائی جا رہی ہے.

ماموں نے سب کو بتایا 

"مانی کی ماں اپنے شوہر کی ڈیڈ باڈی لے کر پاکستان آ رہی ہے اپنے بچوں کے ساتھ. اس نے بچوں کو ہمارے بارے میں سب بتا دیا ہے اور وہ بہت بےچین ہو رہے ہیں ہم سب سے ملنے کے لیے."


ماہرہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی مگر ناہرہ اندر سے جل بھن گئی کہ اس کی لندن پلٹ ماں آئے گی تو اس کی ویلیو بڑھ نہ جائے.


ماہرہ اپنی ماں کا شدت سے انتظار کرنے لگی. اسکا ماموں بھی بہت خوش اور بےتاب تھا بہن سے ملنے کے لیے. ان کے لیے اوپر والے پورشن کو صاف کروانے لگے. ماہرہ بہت لگن سے ان کی آمد کی تیاریاں کرنے لگی.




جاری ہے.


Continue Reading
Episode 3
سکوت عشق3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry