Sakoot-e-Ishq
6 Episodesپانچواں حصہ - Part 5
ماہرہ بہت زیادہ پریشان ہو رہی تھی. ساس اسے ایان کے کمرے میں لے آئیں تھیں. ساس نے رشتے داروں کو بھی باہر بھیج دیا تھا. سامنے ایان کی تصویر لگی ہوئی تھی.
ماہرہ نے ساس سے جھجھکتے ہوے کہا
"اسکا نکاح غلطی سے ایان سے ہو گیا ہے."
ساس اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی،
"شکر الحمد للہ کہ پیاری غلطی ہوگئی ہے. زیان کو بھی ناہرہ جیسی لڑکی چاہیے تھی. اور ایان کو تمہارے جیسی."
ماہرہ حیرت سے بولی،
'میرے جیسی."
ساس نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا،
"با لکل تمہارے جیسی. اب تم ٹینشن نہ لو."
پھر ساس نے اسے ساری تفصیل بتا دی. اسے بہت حیرت ہوئی کہ مامی اور ناہرہ کا کیا بنا. ساس اسے تسلی دے کر بولی،
'ایان آنے والا ہے."
اور یہ کہہ کر وہ مسکرا کر اسے پیار سے دیکھتی باہر نکل گئی.
اتنے میں اسے ماں کا فون آ گیا. ماں اسے بہت سمجھانے لگی کہ جو ہوا اچھا ہوا مگر وہ ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی.
پھر اس نے جھٹ ماموں کو فون ملایا اور بتانا چاہا تو وہ مبارک باد دیتے ہوئے بولے،
"تم دل پر کچھ مت لو، یہی تمہارا نصیب ہے وہ ناہرہ کا نصیب تھا."
پھر انہوں نے مامی کو فون دیتے ہوئے کہا،
"لو بات کرو."
اس نے ڈرتے ڈرتے سلام کیا. جواب میں خلاف توقع اسے روندھی ہوئی آواز میں مبارک باد دی اور اپنے سابقہ رویے کی معافی مانگی،
اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے.
وہ اسے دیر تک دعائیں دیتی رہی اور کہتی رہی
"تم نے بیٹی سے بڑھ کر ہماری دل سے خدمتیں کی ہیں جس کا صلہ تمہیں ایان کی صورت میں ملا ہے اور ہمیں اپنی نیت کا پھل ملا ہے. جو تمہارے لیے کی تھی."
وہ فوراً بولی،
"نہیں مامی جان آپ نے مجھے ماں کی طرح پالا پوسا"
وہ روتے ہوئے بولی،
"کاش ایسا ہی کیا ہوتا."
اتنے میں ایان کمرے میں داخل ہوا. دروازے کی آواز آئی اور وہ اندر داخل ہوا.
مامی کو آواز آئی تو بولی،
"ایان کو فون دو."
ایان نے فون لے کر اسپیکر آن کر دیا. مامی روتے ہوئے ایان کے سامنے بہت زیادہ تعریفیں ماہرہ کی کرنے لگی.
ماہرہ سنکر شاکڈ ہو رہی تھی. اسے مامی سے ایسی باتوں کی ہرگز امید نہ تھی.
وہ ماموں کو مس کر رہی تھی اس لیے اس نے ساتھ ریکارڈنگ کا بٹن بھی دبا لیا تھا تاکہ جب کھبی ان کی یاد آئے تو وہ ان کی آواز سن لیا کرے گی. اسنے تو سوچا تھا کہ مامی اسے بہت زیادہ ڈانٹ پھٹکار کریں گی.
ایان بھی ان کی مہزب طریقے سے ہاں میں ہاں ملا رہا تھا. آخر میں اسے مامی نے ہدایت کی کہ اسکا بہت خیال رکھنا. ناہرہ کا زکر ایک بار بھی نہ کیا.
پھر مامی نے ماہرہ سے بات کرنے کا کہا،
ماہرہ نے اسپیکر آن ہی رہنے دیا. مامی نے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ اسے بہت زیادہ مبارکباد دی.
پھر اس سے معافی مانگی اور ناہرہ کو بھی معاف کرنے کی درخواست کی. ماہرہ نے تڑپ کر کہا،
"مامی جان آپ ایسی باتیں مت کریں."
پھر اس نے بھائی کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رخصتی کے فوراً بعد وہ سو گیا تھا. ماہرہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے. فون بند کر کے وہ کھڑی سوچوں میں گم تھی کہ ایان جو ہاتھ میں منہ دکھائی کی ڈ بیہ پکڑے کھڑا تھا.
اسے مخاطب کرتے ہوئے پیار سے بولا،
"ہمیں کب تک کھڑا رہنے کی سزا ملتی رہے گی."
پھر آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں رنگ پہنا دی. وہ آنسو صاف کرنے لگی.
پھر اس نے ایان کو منانے کی کوشش کی
"ناہرہ آپ کو بہت پسند کرتی ہے. اس کے خواب میں توڑنا نہیں چاہتی."
ایان نے اسے پیار سے ڈانٹ کر کہا،
"یہ قسمت کے فیصلے ہیں اور میرا خواب تم تھیں. میں تمہاری نیچر سے متاثر ہوا تھا اور میرے بھائی کو ظاہری خوبصورتی پسند تھی. میں نے امی جان کو منانے کی ہلکی پھلکی کوشش کی مگر وہ بولیں، ہم تو کر لیں مگر لڑکی والے نہیں مانیں گے. پھر میں نے سوچا میرے بھائی کی قسمت سنور رہی ہے تو چلو کوئی بات نہیں."
ماہرہ کو اس نے اعتماد دلایا
"اب میں تمہارا ہوں. اگر ناہرہ طلاق بھی لے تو پھر بھی نہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہ اس سے شادی کروں گا. اب بھی اگر وہ عقل پکڑے تو اپنا گھر بچا سکتی ہے."
ماہرہ نے اپنے آپ کو سمجھا لیا کہ اب ایان ہی اس کی قسمت ہے. ایان کی محبت پا کر وہ اپنے سارے دکھ بھول کر سکون کی نیند سو گئی.
ناہرہ کو زیان پیار سے تسلیاں دیتا رہا پیار جتاتا رہا، اپنی ماں کے رویے کی معافی مانگتا رہا.
ناہرہ کو اب دنیا میں واحد سہارا اب زیان کا ہی لگا اور وہ اسے ہی غنیمت سمجھ کر خاموش ہو گئی.
صبح فجر کی نماز کے وقت ساس نے ان کے دروازے بجانے شروع کر دیے.
ناہرہ کو زیان نے جگایا کہ امی جان جگانے کے لیے آئی تھیں. وہ ڈر کر اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی.
ماہرہ کی آنکھ بھی کھل چکی تھی. مرد تیار ہو کر مسجد میں نماز ادا کرنے چل پڑے. ساس جائے نماز پر بیٹھی تسبیحات پڑھنے لگی.
ماہرہ کی دیکھا دیکھی ناہرہ نے بھی جا کر سلام کیا. ساس نے اشارے سے جواب دیا.
ماہرہ کچن میں چل پڑی.
اسے ناہرہ سے کچھ ڈر لگ رہا تھا کہ وہ اسے برا بھلا سنائے گی مگر وہ خود ہی ڈری سہمی لگ رہی تھی.
وہ اس کے رویے سے حیران ہو رہی تھی جب ناہرہ نے عاجزانہ لہجے میں اسے کہا
"وہ اسے ہر کام ساتھ ساتھ بتاتی جایا کرے تاکہ آنٹی غصہ نہ کریں."
ماہرہ نے آٹا گوندھ کر رکھا، اسے کوئی کام نہ بتایا. خود ہی کرنے لگی. اتنے میں ساس کچن میں آ کر ناہرہ پر برس پڑی کہ تم مہارانی بن کر کھڑی ہو اور تمہاری بڑی جٹھانی بغیر کہے کام میں لگ گئی ہے.
ناہرہ کپکپاتی آواز میں بولی،
"جی میں کرتی ہوں."
ماہرہ حیران ہو کر دیکھنے لگی. ساس نے ماہرہ سے بہت پیار سے بات کی اور اسے شاباش دی کہ وہ اتنا اچھا ناشتہ بنا رہی ہے. وہ گرم گرم پراٹھے پکا رہی تھی.
ساس نے کہا،
"میں جانتی ہوں کہ ناہرہ مہارانی کو کوئی کام نہیں آتا مگر اسے اب ادھر سب سیکھنا اور کرنا پڑے گا. اب تم باقی پراٹھے پکاؤ."
ماہرہ اسے سکھانے لگی.
ساس نے کہا،
"میں نے کام والی ہٹا دی ہے جب گھر میں دو دو بہویں موجود ہوں تو پھر کام والی کا کیا کام. دونوں نے ملکر سارے کام کرنے ہیں."
گھر میں ایک ہفتے میں ساس نے پورے گھر کی زمہ داری بہوؤں کے سپرد کر دی. وہ ماہرہ سے بہت خوش تھی اسے بیٹی کہہ کر پکارتی. اسے کھبی نہ ڈانٹتی. اس پر واری صدقے جاتی.
جبکہ ناہرہ پر عتاب نازل ہوتا، اسے کام کی عادت نہ تھی. ہر وقت وہ اسے سب کے سامنے ذلیل کرتی. ناہرہ کو سخت شرمندگی کا احساس ہوتا.
وہ سوچتی کہ کیا کسی کی سب کے سامنے بےعزتی کی جائے تو کس قدر سبکی محسوس ہوتی ہے. وہ کیسے ماہرہ کی کرتی تھی. سب کے سامنے ہو یا اکیلے میں دل پھر بھی دکھتا ہے. ایسے ہی ماہرہ کو بھی محسوس ہوتا ہو گا. یہ مکافات عمل ہے. اس کو اپنے رویے پر پچھتاوا ہونے لگا.
وہ سوچتی تھی کہ اس گھر میں وہ اس پر حکم چلائے گی مگر یہاں وہ ساس کی چہیتی ہے. وہ کہتی ہے یہ گھر کی بڑی بہو ہے اس کی عزت کرنی ہے ہر صلاح مشورہ اس سے کرتی. اسے بہت عزت و اہمیت دیتی. جس کے خواب ناہرہ نے دیکھے تھے.
ناہرہ کو شرمندگی محسوس ہونے لگی کہ ماہرہ اس کی بہت ساس سے نظر بچا کر ہیلپ کر دیتی. وہ سوچتی ،ماہرہ نے کھبی اس پر طنز نہیں کیا. اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا.
بلکہ وہ تو ایان سے اس کی شادی نہ ہونے پر بہت افسوس کر رہی تھی. اسے چھپا کر ماں سے بات بھی کرا دیتی تھی. ناہرہ کی ماں نے پچھتاتے ہوئے اسے ساری بات بتائی تھی کہ ماہرہ ایان کے لیے ہاں نہیں کر رہی تھی. اسی کے چٹکی کاٹنے اور زبردستی ڈانٹنے پر اسے زبردستی ہاں کروا کر بیٹی کی قسمت پھوڑ دی تھی.
ناہرہ کی ماں ٹوٹل بدل چکی تھی.
وہ اسے اب ہر وقت صبر کرنے اور شوہر کے ساتھ سلوک و اتفاق سے رہنے کی تلقین کرتی. ساس کی زیادتیوں پر اسے ہی نصیحت کرتی کہ اپنے آپ کو بدلو اور ماہرہ سے سیکھو، یقیناً ساس کا رویہ ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ. وہ اسے اپنی اور اس کی ماہرہ پر کی گئی زیادتیوں کا احساس دلانے کی بھی کوشش کرتی.اور اسے اچھا برتاؤ کرنے کا کہتی.
وہ کہتی
"یہ سب اسی کی آہوں کا نتیجہ ہے. اس کے لیے برا سوچا تو اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آیا. اب اسے ہی اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لو. اب تمہارا، شوہر کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے."
ناہرہ کو بھی اب اندازہ ہو چکا تھا کہ اب ایان اسے نہیں مل سکتا. وہ تو ماہرہ کی اس طرح عزت کرتا تھا جیسے کسی پیر کی کی جاتی ہے. اس کی وجہ سے اور کچھ ماہرہ کے حسن سلوک کی وجہ سے ساس سسر اور شوہر اس کی عزت بھی کرتے اور کرواتے.
ماہرہ کے بھائی کو گاؤں والے لے گئے تھے اور اس کو بہت پیار دے رہے تھے. سب بہت اچھے اور پرخلوص لوگ تھے.
ماہرہ کی ماں پاکستان آ چکی تھی. وہ سیدھی گاوں شوہر کی قبر پر پہلے گئی. پھر گاوں میں ہی وقت گزارنے اور شوہر کی زمین جائیداد کی جانچ پڑتال کرنے لگی. جس سے اسے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی بقایا زندگی آرام سے گزار سکتی ہے.
گاؤں والوں نے اسکا بہت ساتھ دیا. اس کی زمینوں کو ٹھیکے پر لے کر اس کا منافع مقرر کر دیا اور سب کچھ اسٹامپ پیپر پر ہوا.
انہوں نے ماہرہ اور اس کے سسرال والوں کی دعوت کی. ماہرہ نے ماموں کو منا کر ناہرہ سے راضی نامہ کروا دیا.
انہوں نے بھی یہ شرط رکھ دی کہ اسے اب شوہر کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہے. ناہرہ نے ماں کے سمجھانے پر حامی بھر لی.
ماہرہ ماں سے ملنے کو بےتاب تھی. ایان نے کہا
"وہ آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا کہ آپ لوگ آ جائیں تو ولیمہ کرنا ہے بعد میں دعوت پکا لینا."
وہ بولے،
"ماں بیٹی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہے."
سب لوگ گاؤں گئے. ماموں مامی بھی ساتھ گئے ان کو بھی انوائیٹ کیا تھا. ایان نے ماں کی اجازت سے چند دن کے لیے ماہرہ کو ماں کے پاس گاؤں رہنے کی اجازت دے دی.
سب نے بہت انجوائے کیا.
ماں بار بار بیٹی کو گلے لگا کر چوم رہی تھی. چھوٹی بہن ماہرہ سے بہت پیار کرنے لگی. ماہرہ بھی اپنے بہن بھائی پر جان دیتی.
ناہرہ دیکھ کر دکھی ہوتی رہی کہ ماہرہ کو تمام گاؤں والے رشتے دار بہت اہمیت دے رہے ہیں.
ایان کی بھی بہت عزت ہو رہی تھی.
ایان اپنی سمجھداری سے سب کو پسند آ رہا تھا جبکہ زیان بیوی کا دیوانہ بنا پھر رہا تھا. ساس ساتھ تھی.
مامی اپنی بیٹی کو دکھی دیکھ کر دکھی اور لاغر سی لگ رہی تھی. پھر اس نے بیٹی کو سمجھایا کہ اپنے شوہر کو نہ چھوڑنا، کوئی ٹھکانہ نہیں بچے گا. اچھا سسرال ہے قدر کرو.
بیٹی نے رندھی ہوی آواز میں کہا،
"ساس ظلم کرتی ہے."
ماں نے کہا،
"صبر کرو ایک دن اچھا وقت بھی آ جائے گا ضرور. حالات سے سمجھوتہ کر لو. اب کچھ نہیں ہو سکتا. شکر کرو شوہر پیار کرنے والا ملا ہے."
وہ بولی،
"مگر ماں کے آگے نہیں بول سکتا."
ماں نے کہا
"ساس کو خوش کرنے کی کوشش کرو. ساس خوش تو سب مسئلے حل ہو جائیں گے. تھوڑا سہنا پڑے گا."
گھر آ کر بھی ناہرہ ماں کی باتوں پر غور کرنے لگی.
ساس نے گھر آ کر ایان کو سمجھایا
"تمہاری ساس کو اس وقت تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے. اگر نوکری چھوڑنی بھی پڑے تو چھوڑ کر ان کا سہارا بنو."
شوہر نے بیٹے کے جانے کے بعد حیرت سے بیوی کو دیکھا اور بولا،
"تمہارا یہ کونسا روپ ہے."
وہ نظریں جھکا کر بولی،
"ارے اتنی پیسے والی ساس ملی ہے اسے. وہ بہت نرم دل عورت ہے. کھلے دل کی بھی بہت ہے.ساری زندگی بھائی کی امداد کرتی رہی. وہ گھر بھی اسی کا تھا. جس میں رہ رہے ہیں. بیٹی کی کفالت کا اتنا خرچہ دیتی تھی کہ سارے گھر کا نظام بخوبی چل سکے. اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلواتے رہے اور اسے کام کاج میں لگائی رکھا. شادی پر رشتےدار عورتیں باتیں بنا رہی تھیں توبہ توبہ."
اتنے میں ناہرہ چائے کی ٹرے لے کر آ گئی. پیچھے ماہرہ سموسے اٹھائے چلی آئی. سسر نے کہا
"بیٹا میں باہر کے سموسہ نہیں کھاتا."
ماہرہ نے فخریہ کہا
"یہ ناہرہ نے نیٹ سے دیکھ کر بناۓ ہیں."
سسر نے کھا کر تعریف کی مگر ساس خاموش رہی. حالانکہ ماہرہ کچھ پکاتی تو ساس تعریفیں کرتی.
ناہرہ ہرٹ ہونے لگی.
ایان نے واقعی بیٹا بن کر دیکھایا اور ان کا بزنس سنبھال لیا. گاؤں کی زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی سے کام کروایا اور اچھا منافع ملنے لگا.
ساس نے اسے اپنا بزنس پارٹنر بنا لیا کہ محنت تم کر رہے ہو. ایان نے نوکری چھوڑ دی. وہ ان کے ساتھ ماں کے کہنے پر شفٹ ہو گیا.
ماہرہ کو اب ماں، بہن بھائی اور پیار کرنے والا شوہر مل گیا. اس نے گھر کا سارا نظام سنبھال لیا.
ماں نے اسے آگے پڑھنے پر بھی راغب کر لیا اور پراہیویٹ گھر میں ٹیچرز کا انتظام کر دیا.
وہ ذہین تھی جلد عبور حاصل کرنے لگی.
خدا نے ایک بیٹی سے بھی نواز دیا. شوہر بیٹی پاکر بھی بہت خوش تھا. کہتا
"میرے نزدیک دونوں برابر ہیں."
ناہرہ رشک کرتی. ناہرہ کی ماں بیمار رہنے لگی اور جلد فوت ہو گئی.
ناہرہ بہت تڑپی روئی. ماہرہ نے اسے بہت سنبھالا.
ماہرہ کی بہن نے بھائی کی اپنے گاؤں کے سسرال سے ایک بیوہ سے شادی کروا دی. اس نے گھر اور شوہر کو سنبھال لیا. ناہرہ کا باپ اپنی بیوی کا دیوانہ بن گیا. وہ جوان تھی، اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا بھی دے دیا. شوہر کو بہت خوشی ملی.
ناہرہ میکے جاتی تو دل نہ لگتا.
خالی خالی لگتا. کیونکہ ماہرہ کی ماں سوسائٹی میں گھر لے کر شفٹ ہو گئی تھی.
ناہرہ محلے میں زندگی گزار رہی تھی. جس سٹیٹس کے خواب ناہرہ نے دیکھے تھے وہ ماہرہ کو آسانی سے مل گئے تھے.
ساس اس سے خوش تھی کہ وہ اب امیرزادی تھی. اور ایان کو کامیاب کرنے میں اسکا ہاتھ تھا.
ناہرہ کا شوہر دوکان ہی چلا رہا تھا.
ماہرہ ملنے آتی تو ناہرہ کی پسندیدہ چیزیں پیزے برگر وغیرہ لے آتی. وہ تو ان چیزوں کے لیے ترس گئی تھی. وہ سوچتی کہ وہ سگی بہن کی طرح اسکا خیال رکھتی ہے. کاش وہ بھی شروع سے اس کو بہن، دوست بنا کر رکھتی تو ایک تو وقت بھی اچھا کٹ جاتا اور اسکا ضمیر بھی ملامت نہ کرتا.
ایک تو دو سال سے اسکا بچہ بھی لیٹ تھا ساس اسے طعنے دیتی. حالانکہ اب اس نے سارا کام سیکھ لیا تھا اور بخوبی گھرداری چلا رہی تھی. سارا کام اسے خود کرنا پڑتا.
شوہر کے آگے روتی تو وہ ٹانگیں دبانے لگتا اور تسلی دیتا. وہ اب جان چکی تھی کہ اس کا شوہر ماں کے آگے بےبس تھا اب اس نے گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا تھا.
ماہرہ آوٹنگ کا پروگرام کھبی بنا لیتی کہ ناہرہ کو ضرورت ہے اس چیز کی.
مگر ساس ضرور ساتھ جاتی اور ہمیشہ بیٹے کے ساتھ آگے بیٹھتی. جہاں وہ جاتے ڈاکٹر کے یا گراسری لینے تو وہ ساتھ جاتی.
ناہرہ کو دل میں حسرت ہوتی کہ وہ اکیلی شوہر کے ساتھ آگے بیٹھ کر جائے.
سسر اور شوہر دوکان پر زیادہ وقت گزارتے. عید کے دنوں میں وہ بہت لیٹ آتے.
ماہرہ نے ایان کو کہہ کر ایک لیدیز شاپ کھولنے کا کہا، اور سرمایہ بھی خود لگایا اور اسے چلانے لگی.
ماں نے بھی حوصلہ افزائی کی اور خوش ہوئی. ناہرہ کا اب دل شوہر کی طرف مائل ہونے لگا تھا. اب وہ اسکا انتظار کرتی۔
جاری ہے.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.