Logo
Sakoot-e-Ishq
6 Episodes
Sakoot-e-Ishq EP 4
Episode 4

سکوت عشق4

Sakoot-e-Ishq


چوتھا حصہ - Part 4


ادھر جب ماہرہ کا نکاح ہونے لگا تو نکاح خواں نے جب پوچھا کہ آپ کا نکاح ایان والد نصیر احمد وغیرہ وغیرہ قبول ہے تو وہ حیران ہو کر دیکھنے لگی.

نکاح خواں نے بار بار دہرایا تو ناہرہ کی ماں جو اتنا دھیان نہیں دے رہی تھی اسے قریب جا کر قدرے ڈانٹ کر گھور کر بولی، 

"جلدی بولو قبول ہے."

وہ پھر کچھ بولنے لگی تو اس نے بازو پر زور سے چٹکی کاٹی تو وہ درد سے تڑپ کر بولی، 

"جی قبول ہے."

اتنے میں ایان کی ماں جو پیچھے کھڑی حیرت سے سن رہی تھی. اس نے شوہر کو بتایا کہ نکاح بدل گئے ہیں. وہ پریشان ہو کر ایان کو فون کر کے بولے، 

"تم اور زیان زرا کسی مناسب جگہ بات سنو."

ماہرہ کے والد نے پوچھا، 

"خیریت."

وہ بولے، 

"جی ابھی مشورہ کر کے بتاتے ہیں. خیریت نہیں ہے."

جب ایان کو والد نے بتایا کہ نکاح بدل گئے ہیں. تمہارا نکاح ناہرہ جو کم تعلیم یافتہ ہے اس سے ہو گیا اور زیان کا ناہرہ سے جو زیادہ پڑھی لکھی ہے. ایان نے حیرت سے زیان کو دیکھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور خوشی دیدنی تھی.

ایان نے بڑے تحمل سے کہا، 

"آپ کو دونوں لڑکیاں ہی پسند تھیں تو کوئی بات نہیں. میری قسمت میں وہ تھی، اگر کم پڑھی ہے تو تب بھی میں اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر دل سے قبول کرتا ہوں. مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے."

زیان جھٹ بولا، 

"مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے."

ایان کے والد نے ناہرہ کے والد کو سارا واقعہ بتایا تو وہ تھوڑا پریشان ہو کر بولے، 

"اب کیا ہو سکتا ہے."

ایان کے والد نے کہا،  

"آپ کے لیے دونوں بیٹیاں برابر ہیں۔ جب ہمارے بچوں کو کوئی اعتراض نہیں تو آپ کو بھی نہیں ہونا چاہیے."

وہ گلا کھنکار کر بولے، 

"جی با الکل."

ناہرہ کے والد نے کہا 

"ابھی سارا خاندان جمع ہے اور کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے آپ لوگ ادھر ابھی کچھ ظاہر نہ کرنا اور جلدی سے رخصتی کر لیں. گھر جا کر بچیوں کو بتا دینا. انہیں بھی یہ قسمت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرنا پڑے گا." 

کھانا کھانے کے بعد جلدی سے رخصتی کر دی گئی کہ دیر ہو رہی ہے. وہاں جا کر دونوں کو اکھٹے صوفے پر بٹھا دیا گیا اور ساس نے ان کو کھیر کھلا کر رسم ادا کی. لڑکے شیروانی اتار کر مصروف ہو گئے.

زیان بہت خوش لگ رہا تھا. مغرب ہو چکی تھی. ماہرہ کو ناہرہ سرگوشی میں کہہ رہی تھی

"دوسرے صوفے پر چلی جاؤ."


مگر وہ دنیا کیا سوچے گی یہ سوچ کر اس کی بات کو نظر انداز کر کے بیٹھی رہی. ان لوگوں کو جوس کے بعد کھانا دیا گیا.

دونوں نے تھوڑا بہت کھایا. 

ناہرہ دل میں وسوسے لیے بیٹھی تھیں کہ کیا نکاح خواں نے ایان بولا تھا یا زیان. وہ بڑبڑانے لگی،

"کیسے لوگ ہیں پینڈو کہیں کے. دولہے ہی نہیں بٹھاتے پاس."

دلہنوں کو ان کے کمروں میں پہنچا دیا گیا. رشتے دار عورتیں کمرے میں آنے جانے لگیں.

رخصتی کے بعد جب کیٹرنگ والے سب کھانے وغیرہ سے فارغ ہو گئے اور چند قریبی رشتے داروں کے علاوہ جب باقی سارے رشتے دار چلے گئے تو ناہرہ کے والد نے بہن کو پہلے ہی بتا دیا تھا جو سنکر بظاہر بھائی کو افسوس کرنے لگی مگر اندر سے بہت خوش ہو گئی تھی.

بھائی نے شرمندگی سے کہا، 

"میرے لیے دونوں بچیاں برابر ہیں."

بہن نے اطمینان کا سانس لیا.

جب ناہرہ کے والد نے اکیلے میں بیوی کو یہ خبر سنائی تو اس پر یہ خبر بجلی بن کر گری. وہ غم سے نڈھال ہو کر صوفے پر گری اور چیخ کر بولی، 

"یہ کیسے ہو گیا" 

پھر اسے سب یاد آ گیا جب ماہرہ ہاں نہیں کر رہی تھی اور کچھ کہنا چاہتی تھی. مگر اس نے اسے موقع ہی نہ دیا.

وہ چلا کر بولی، 

"میں ناہرہ کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہونے دوں گی میں اسے ابھی طلاق دینے کا کہتی ہوں تاکہ وہ دوبارہ صحیح نکاح کر سکیں."

رشتے دار شور سنکر کمرے میں آ گئے. جب انہیں حقیقت پتا چلی تو وہ بولے، 

"کیا فرق پڑتا ہے دونوں ایک ہی گھر میں ہیں. اچھے لوگ ہیں."

بیوی واویلا مچانے لگی. اور فون کرنے لگی.

شوہر نے فون چھین کر کہا. 

"میری بات کان کھول کر سن لو، اگر تم نے بیٹی کو شہہ دی یا اسے طلاق لینے کا کہا، تو وہ اس گھر میں تو اب دوبارہ قدم نہیں رکھ سکتی اگر طلاق لے گی تو اپنا ٹھکانہ بھی سوچ لے اس کے ساتھ میں تمہیں بھی اسی وقت تین طلاقیں دے دوں گا پھر ماں بیٹی جہاں مرضی رہنا اس گھر کے علاوہ. میں تمہیں ابھی  طلاق دے دوں گا آزمانا ہے تو کر کے دیکھ لو. میں دھمکی نہیں دے رہا."

سب اسے سمجھانے لگیں 

"اب اپنا گھر بھی بچاؤ اور بیٹی کو بھی سمجھاؤ کہ وہ بھی اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے اور اپنا اور تمہارا گھر برباد نہ کرے. کہاں جاؤ گی دونوں."

وہ بےبسی محسوس کرنے لگی. آنسوؤں کی برسات اس کی آنکھوں میں بھر آئی. رشتے دار یہ حالات دیکھ کر سب چلے گئے.

ناہرہ کی ماں کو شوہر نے سنانی شروع کی 

"یہ سب تمہاری بری نیت کا پھل ہے. تم نے ایک یتیم بچی کے ساتھ زیادتی کی.

اسے دکھاوے کے طور پر پیار جتاتی رہی. مجھے اس وقت تمہاری نیت کا اندازہ ہوا جب پانی سر سے گزر چکا تھا. تم نے اپنے فائدے کے لیے اسے آگے پڑھنے نہیں دیا. پھر اس کے لیے انپڑھ لڑکا سلیکٹ کیا اور اپنی بیٹی کے لئے پڑھا لکھا. تم بہت خوش تھی کہ تم اپنی چال میں کامیاب ہو گئی ہو. میری بیٹی کی تربیت بھی اپنے جیسی کی. جس کا مجھے بہت دکھ ہے. شاید مجھے بھی قدرت نے سزا دی ہے کہ میں نے بھی بہن کے گھر پر قبضہ کیے رکھا اور ماہرہ پر کھبی ظاہر نہ کیا کہ وہ گھر اس کے نام میری بہن نے کیا تھا اور مجھے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی کہ میں اس کی بیٹی کو پالتا رہوں. وہ مجھے اس کی تعلیم کے لئے ڈھیروں پیسے دے کر گئی تھی۔ اسکا میں نے ایک پلازہ خرید لیا جو بہت سستے داموں مل گیا تھا. پھر اتنا عرصہ اس کے کرائے کھاتا رہا. نام بھی اپنے کروایا. اب مجھے اپنی زیادتیوں کا احساس ہوا ہے کہ میری بیٹی جسے پڑھا لکھا کر بہتر مستقبل دینے کی کوشش کی. مگر اسے انپڑھ کے ساتھ ساری زندگی بسر کرنی پڑے گی اور جسے انپڑھ رکھا وہ ایک پڑھے لکھے سلجھے شخص کی بیوی بن گئی جو مجھے امید ہے کہ اسے پورے حقوق دے گا. میں اب بلکل برداشت نہیں کروں گا کوئی بھی زیادتی. میں پلازہ کل ہی بہن کے نام کر دوں گا وہ مستقل پاکستان شفٹ ہو رہی ہے. اس کا اور اس کے بچوں کا خرچہ نکل آئے گا. میں اس کا گھر بھی چھوڑ دوں گا تاکہ وہ آ کر اپنے گھر میں رہ سکے. خود میں کرائے پر گھر لے لوں گا."

وہ روتے ہوئے بولا، 

"میں اپنے اللہ تعالیٰ سے اپنے کیے کی معافی مانگتا رہوں گا. بہن سے بھی معافی مانگوں گا."

پھر وہ زاروقطار رونے لگا اور ہچکیوں سے روتے ہوئے بولا، 

"اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے. اس نے رسی ڈھیلی چھوڑ رکھی تھی جب اس نے رسی کھینچی تو اب ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکے. مجھے بھی بیٹی کا دکھ ہے مگر مجھے امید ہے کہ وہ لوگ اتنے اچھے ہیں کہ وہ جلد ادھر گزارہ کر لے گی. ہماری بیٹی کی جو عادات ہیں اگر وہ خوبصورت نہ ہوتی اور ماہرہ جیسی سلجھی لڑکی اس کی ساس کو پسند نہ آتی تو اس کا رشتہ کرنا بہت مشکل تھا. کتنے رشتے آئے کچھ وہ ناپسند کرتی کچھ وہ لوگ اس کے نخرے کی وجہ سے انکار کر دیتے. اس کی ساس جب بھی آتی ماہرہ کی ہی تعریف کرتی. کھبی اس نے ناہرہ کی تعریف نہیں کی. اب بھی تم چاہو تو اپنے اوپر جبر کر کے اس کی بہتری کے لیے اس کا کسی بات میں ساتھ مت دو. بلکہ اس سلسلے میں اس سے لاتعلق ہو جاؤ. میں اپنی بات پر قائم ہوں. تم جیسی عورت سے میں شادی کر کے پچھتا رہا ہوں اور تمہیں چھوڑنے میں مجھے کوئی دکھ نہیں ہو گا. کیونکہ تم کوئی بھی کام نیت سے نہیں کرتی. یہی دکھاوے کی محبت جو تم مجھے خوش کرنے کے لئے کرتی رہی ہو اگر اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے کرتی تو دونوں جہانوں میں صلہ پاتی. اب آگے کی دوزخ تو تم نے خرید لی ہے میرا اعتبار کھویا ہے. اگر سچے دل سے کرتی تو شاید دونوں بیٹوں کو اچھے پڑھے لکھے لڑکے ملتے. اب میں اپنے کیے پر نادم ہوں تم بھی ہوش کرو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو مجھے امید ہے کہ وہ قبول کرنے والا اور بڑا غفور رحیم ہے." 

بیوی کے دل پر شوہر کی باتیں اثر کرنے لگیں. اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ اگر شوہر نے اسے طلاق دے دی یا بیٹی نے طلاق لے لی تو واقعی وہ دونوں کدھر جائیں گی. دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گی.

اس نے سوچا. اس کے شوہر نے آج اسے آئینہ دیکھایا ہے. اسے دل میں شرمندگی اور دکھ محسوس ہونے لگا کہ اب وہ شوہر کی نظروں میں گر چکی ہے اعتماد کھو چکی ہے. کاش وہ شوہر کے دل میں جگہ بنا سکے.

اس نے کہا، 

"اب وہ بیٹی کو گھر برباد نہیں کرنے دے گی."

ناہرہ کو جب سب مہمانوں کو کمرے سے باہر نکال کر ساس نے بیٹے کو بلا کر حقیقت بتائی تو وہ چلانے لگی. ساس نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ جڑ کر غصے سے کہا

"یہ شریفوں کا گھر ہے سمجھی، ادھر چیج و پکار کرنے کی اجازت نہیں ہے. میں اچھوں کے ساتھ اچھی اور بروں کے ساتھ بہت بری ہوں. مٹ کر رہو ورنہ...."

زیان جلدی سے تڑپ کر بولا، 

"امی جی آپ پریشان نہ ہوں، میں اسے سمجھا دوں گا."

ماں نے غصے سے جاتے جاتے کہا 

"اسے تو میں پہلی بار ہی ناپسند کر آئی تھی. مجھے ماہرہ بہت پسند آئی تھی. مگر اس کی چالاک ماں نے کہا کہ وہ دونوں کا ایک ہی گھر میں کرے گی. اس کی نظر ایان پر تھی. تو میں نے سوچا چلو پڑھی لکھی ہے ایان بھی پڑھا لکھا ہے تو کرنے میں کوئی حرج نہیں. ورنہ میں اس جیسی مغرور لڑکی کو اپنے گھر کا سایہ بھی نہ پڑنے دیتی."

ناہرہ کو کھبی کسی نے ڈانٹا تک نہ تھا اور اچانک ساس نے مار دیا. وہ تو نکاح کے صدمے سے پہلے ہی شاکڈ تھی اوپر سے ساس کی باتیں. وہ گنگ سی بیٹھی رہ گئی.

ساس کے جانے کے بعد اس نے جلدی سے ماں کو فون ملایا کیونکہ اس کا شوہر بھی کمرے سے باہر جا چکا تھا. اس نے سوچا وہ ماں کو کہتی ہے کہ وہ اسے ابھی پاپا کو کہہ کر یہاں سے لے جائیں.

مگر اسے سخت صدمہ اور حیرت ہوئی کہ ساس کی بات سنکر بھی وہ دونوں اسے ادھر ہی بسنے اور ساس کی فرمانبرداری پر کہنے لگے. دونوں نے اسے صاف کہہ دیا کہ اب اس گھر کے دروازے اس پر اس وقت تک بند ہیں جب تک وہ ادھر خوشی سے بسنا نہ شروع کر دے.

ناہرہ کی اکڑ ساس نے ایکدم نکال دی. میکے کے دروازے بھی اس پر بند تھے. اس کا شوہر بھی بزدل بنا اسے ماں سے پٹتے دیکھتا رہا. ناہرہ غم سے نڈھال تھی.

والدین نے بھی اس کو فون پر بلاک کر دیا تھا. وہ ساس سے بہت ڈر گئی تھی. ساری اکڑ نکل چکی تھی.

اس کا شوہر کمرے میں پھل اور جوس لے کر آیا اور اسے تسلی دیتے ہوئے بولا، 

"اب ہم دونوں زندگی کے ساتھی ہیں قسمت میں یہی لکھا تھا. بہتر ہے کہ ہم آپس میں ہنسی خوشی وقت گزاریں. ورنہ امی جان کو پتا لگا تو وہ آپ کے ساتھ مجھے بھی مارنے سے دریغ نہیں کریں گی. وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی ہیں. سب کے سامنے مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتی ہیں. سارے خاندان میں انکا غصہ مشہور ہے. ان کے غصے کے ڈر سے خاندان والے ادھر رشتہ دینے سے ڈرتے تھے. تم بھی سنبھل کر رہنا."

وہ آپ سے تم پر آ گیا تھا.

اتنے میں زور زور سے دروازہ کھٹکا، زیان نے جلدی سے دروازہ کھولا.


ناہرہ پہلے ہی ڈری سہمی شاک میں بیٹھی رو کم اور حیران زیادہ تھی. وہ جو اپنے آپ کو بہت اکڑو اور بہادر سمجھتی تھی ہر وقت ماہرہ پر رعب ڈالتی رہتی تھی. ایک منٹ میں ساس کے رعب میں آ گئی.

ساس نے غصے سے کہا، 

"مہارانی اٹھو اور کپڑے بدل کر سونے کی تیاری کرو، صبح فجر کی ازان کے وقت اٹھنا ہے. اور ہاں میرے بیٹے کو تنگ مت کرنا، اسکا ہر حکم ماننا، ورنہ تم مجھے جانتی نہیں، میں کسی کے سامنے بھی سب کو مارنے سے گریز نہیں کرتی."

ناہرہ نے سر جھکا کر ہلکہ سا جی کہا.

ساس کمرے سے نکل گئی.

زیان نے اسے جیب سے منہ دیکھائی کی انگوٹھی، نکال کر پہنا دی. پھر اس کی تعریفیں کرنے لگا. اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب مرد کہنے لگا. اس کو زبردستی کھلانے پلانے لگا کہ تم نے ٹھیک سے کھایا پیا نہیں ہو گا.

ناہرہ دکھ سے سوچنے لگی سہاگ رات کے اس نے کیا کیا خواب دیکھے تھے کہ اسکا شوہر اس کی تعریفوں کے پل باندھے گا.

مگر اس شوہر کی تعریفیں اسے دکھ دے رہی تھیں. اسکا شوہر اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب انسان کہے گا اور وہ اترائے گی مگر اس کی خوش نصیبی پر اسے ماتم کرنے کا دل کر رہا تھا.

وہ سمجھی تھی ساس اس پر واری صدقے جائے گی اس کی تعریفیں کرے گی مگر وہ تو دنیا بھر کے کیڑے اس کی زات میں نکال کر گئی. وہ سوچ رہی تھی کہ وہ نخرے سے لیٹ اٹھے گی مگر ادھر تو پہلے ہی فجر کا آرڈر مل گیا تھا.

وہ روتی رہی. زیان اسے پیار سے چپ کراتا رہا. اس نے ساس کا گلہ کیا تو وہ بولا، 

"میں ماں کے معاملے میں بےبس ہوں. تم ان کو موقع ہی نہ دینا ورنہ گھر میں کوئی بھی ان کے آگے نہیں بول سکتا، ابو بھی نہیں. ہاں میں تمہیں دل و جان سے چاہوں گا. تم مجھے دیکھتے ہی بہت پسند آئی تھی اور میں نے تمہیں دعاؤں میں مانگنا شروع کر دیا تھا دیکھو میری لگن سچی تھی تم مجھے مل گئی."

وہ غصے سے بولی، 

"بھائی کی منگیتر کے بارے میں ایسا گھٹیا سوچ."

وہ بولا، 

"مانتا ہوں مگر دل پر کسے اختیار ہوتا ہے. اگر تمہاری شادی میرے بھائی سے ہو جاتی تو میں تمہیں اس کی بیوی کی نظر سے احترام سے دیکھتا. وہ تو ویسے ہی سنا تھا کہ دل کی مراد ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اگر بہتری ہو تو ضرور سنتا ہے. تم میرے بھائی کی نیچر کے بلکل خلاف تھی. جیسی تمہاری بہن ہے ناں...."

ناہرہ بات کاٹتے ہوے غصے سے بولی، 

"وہ میری بہن نہیں ہے."

وہ بولا 

'جانتا ہوں وہ کزن ہے تمہاری. اب اس پر رعب مت جمانا وہ اب اس گھر کی بڑی بہو اور امی جان کی پسندیدہ بہو ہے. جب بھی وہ تمہارے گھر سے آتیں اس کی تعریفیں اور۔۔۔" 

نظریں چراتے ہوئے بولا، 

"تمہاری برائی کرتی تھیں."

وہ اکڑ کر بولی، 

"پھر رشتہ کیوں کیا؟"

وہ بولا، 

"تمہارے ابو نے کہا تھا کہ پلیز رشتہ کر لیں. میں اس کے لیے بہت پریشان ہوں اس کا گزارا اگلے گھر کیسے ہو گا. آپ اسے سدھار لیں گی مجھے امید ہے ورنہ میں ماہرہ کا رشتہ نہیں دوں گا. اس لیے انہیں کرنا پڑا."

ناہرہ حیران رہ گئی کہ آخر ماہرہ میں ایسا کیا تھا وہ تو سمجھی تھی کہ اس کی وجہ سے ماہرہ کا رشتہ بھی ساتھ ہو گیا.

زیان نے بتایا کہ امی جان کہتی ہیں کہ مجھے صورت کی نہیں، سیرت کی اچھی لڑکی چاہیے. اور ماہرہ میں وہ سب خوبیاں ان کو نظر آئیں. میرے ایان بھائی کے بھی امی جان والے خیالات تھے اور مجھے تم پسند آ گئی تھی. بھائی نے میری پسند کے پیش نظر امی جان کو مشورہ دیا تھا کہ رشتے بدل لیں. تو امی جان نے کہا تھا کہ لڑکی نہیں مانے گی. جب بھائی کو پتا چلا کہ ان کا نکاح ماہرہ سے ہوا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے تھے.

ناہرہ سوچنے لگی بھلا ناہرہ سے شادی کرنے کے لیے ایان جیسا شخص بھی خوش ہو سکتا ہے. آخر ماہرہ میں ایسا کیا ہے.

کیا کردار انسان کو سب میں افضل بنا سکتا ہے اور حسن ذلیل کروا سکتا ہے.




جاری ہے.


Continue Reading
Episode 5
سکوت عشق5

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry