Sehme hua Khawab
8 Episodesپانچواں حصہ - Part 5
ادیان والدین کو لے کر چلا گیا.
رامین نے گھر والوں کو فون کیا اور جلدی سے اپنا سامان پیک کرنے لگی. جب کر چکی تو بھائی جو باہر ٹیکسی لے کر کھڑا ہوا تھا. وہ بھائی کو بلا لائی اور سامان رکھوانے لگی.
ملازمہ حیرت سے دیکھنے لگی. مگر کچھ بول نہ سکی.
ادیان وہاں پہنچا تو ساریہ کا بھائی مل گیا اس نے ان لوگوں کو پروٹوکول دیا. جنازہ ہونے والا تھا.
اس کی ماں کو ساریہ کی ماں اور بھابھی کمپنی دینے لگیں. ساریہ کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا.
ادیان کی ماں اسے تسلی دینے لگی. ادیان نے موقع پا کر رامین کو فون کیا مگر اس نے پک نہیں کیا. کاٹ رہی تھی بار بار.
ادیان نے چوکیدار کو فون کر کے خیریت دریافت کی تو اس نے رامین کا بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ کافی سامان کے ساتھ چلی گئی ہے. ادیان پریشان ہو گیا.
ساریہ کا بھائی زبردستی کھانا کھانے پر زور دینے لگا.
ادیان نے تھوڑا بہت کھایا. ساریہ کا بھائی اندر کچھ خاص مہمانوں سے ملانے لے گیا.سب ان لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور ان کی بہت تعریف کی. ادیان نے ساریہ کو ایک دکھی نظر سے دیکھا کہ وہ کتنی دکھی ہو رہی تھی. اس نے دل سے اس کی خوشیوں کی دعا کی. بھابھی نوٹ کر رہی تھی.
ساریہ نے اسے دیکھ کر ناگواری کی شکل بنائی. اور غصے سے اٹھ کر باہر چلی گئی.
ان لوگوں سے اجازت لے کر وہ لوگ نکلے. ادیان کو بھابھی نے کہا،
"ادیان بھائی آپ اپنا سیل نمبر بھی دے دیں کھبی انس بھائی سے بات نہ ہو سکے تو آپ سے کر لیں گھر والوں کے چند لوگوں کے نمبر ہمارے پاس ہونے چاہئیں."
پاس ہی ساریہ کا بھائی پاس ہی کھڑا تھا بولا،
"بلکل ہونا چاہیے مجھے بھی سینڈ کر دینا."
وہ بولی،
"جی اچھا."
ادیان سارے راستے خاموش سا رہا. اسے ایک تو رامین کے رویے سے خوف آ رہا تھا کہ وہ اسے کیا سمجھا تھا کہ وہ سب جانتی ہے تو اس معاملے میں اسکا ساتھ دے گی اور ساریہ کا نام بھی نہ لے گی اس کے ساتھ، نہ ہی کوئی طعنہ دے گی مگر وہ تو ساریہ کو اس کے ساتھ بدنام کر دے گی تو انس بھائی اور اس کے رشتے میں دراڑ نہ پڑ جائے. وہ کیا کرے گا یہ سوچ کر ہی اس کا دماغ چکرا رہا تھا.
وہ لوگ گھر پہنچے تو چوکیدار نے اور اس کی بیوی نے سب بتا دیا. حتکہ یہ بھی بتا دیا کہ رامین ساریہ کا طعنہ دے رہی تھی کہ تم اب بھی اسے پسند کرتے ہو. بھائی کو خوش کرنے کے لیے ایسا کیا ہے.
والدین تو سکتے کی سی کیفیت میں مبتلا ہو گئے.
ادیان چپ کر کے اپنے روم میں سونے کا بہانہ کر کے چلا گیا. اسے کچھ پتا نہ چلا کہ ملازمہ نے رامین اور اس کی باتیں سن لی ہیں اور والدین کو بتا دی ہیں.
اسے رامین کی لڑائی میں ہوش نہ تھا اور نہ ہی اندازہ کہ ملازمہ سن رہی ہے. وہ ان کی پرانی ملازمہ تھی. وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ ان کے سرونٹ کوارٹر میں رہتی تھی.
بیٹا ان کے آفس میں چوکیدار تھا. شوہر گھر میں چوکیداری کرتا تھا.
والد اور والدہ بہت پریشان ہوئے. اب سچائی وہ جان چکے تھے. انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ ہمارے بیٹے نے رامین کا انتخاب کیوں کیا تھا. اپنے آپ کو بھائی کی خوشی کے لیے تباہ کر لیا. وہ لوگ دیر تک اسی بارے میں گفتگو کرتے رہے.
اگلے دن باپ نے انس کو بتایا کہ ساریہ کے گھر والے اب کم از کم چالیس دن تک کوئی نکاح کا فنکشن نہیں کریں گے.
وہ بولا،
"ظاہر ہے ہمیں بھی اب جلدی نہیں کرنی چاہیے. ویسے بھی میں چھ ماہ کے بزنس ٹور پر دوبئی جا رہا ہوں. ایک ہفتے تک چلا جاؤں گا."
ادیان رامین کے گھر، اگلے دن منانے گیا تو ان لوگوں نے اسے بہت جھڑکا، برا بھلا کہا اور بھیجنے سے انکار کر دیا.
ادیان نے رامین کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتے ہوے بولا،
"چلو میرے ساتھ."
رامین نے نفرت سے ہاتھ چھڑا کر انکار کر دیا. ادیان مایوس ہو گیا. اور دکھی ہو کر چل پڑا. گھر آیا تو ماں نے پوچھا
"رامین کو لینے گئے تھے کیا اور لگتا ہے وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی. پھر کیا کریں ہم منانے کی ایک کوشش کر لیں. اس کا مزاج بھی سمجھ میں نہیں آتا."
ادیان نے کہا،
"میں آپ لوگوں کو ان کے ہاتھوں بےعزت نہیں کروا سکتا. اس نے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا ہے."
باپ نے پوچھا،
"پھر تم نے کیا سوچا ہے."
وہ اداسی سے بولا،
"کچھ بھی نہیں. بس انس بھائی کی شادی کے بعد دیکھتا ہوں کہ کیا کروں. انس بھائی کی شادی سے پہلے کچھ نہیں سوچوں گا."
وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے. ادیان روم میں چل پڑا. انس نے سب کام ادیان کے زمے لگا کر دوبئی چلا گیا.
ساریہ کے گھر والے انس کا انتظار کرتے رہے. نہ ہی وہ افسوس کے لیے خود آیا نہ ہی فون کیا.
انہوں نے ادیان کے باپ سے گلہ کیا کہ نہ مل کر گیا نہ جانے کا بتایا.
ادیان کے والد نے ان لوگوں سے بہت معزرت کی اور انس کو فون کرنے کا کہا، مگر وہ ٹال گیا.
گھر پر بھی فون کم کرتا. مختصر بات کرتا. بزی ہونے کا بہانہ کرتا. ادیان بہت پریشان تھا. ٹوٹل بزنس اس نے سنبھال لیا.
آنس نے لاپرواہی برتنی شروع کر دی اور بزنس کے متعلق کوئی بات نہ کرتا. اس نے ادیان سے کہا،
"اس نے بزنس اپنا شروع کر لیا ہے اور اب بزنس کی کوئی بات نہ کرے."
رامین کو منانے ساس سسر گئے تو انہوں نے بھیجنے سے انکار کردیا اور طلاق کا مطالبہ کر دیا. ادیان نے جواب میں خاموشی اختیار کر لی.
گھر والے انس پر شادی کا زور دینے لگے کہ لڑکی والے جلد شادی کرنا چاہتے ہیں. پھر والدین عمرہ کرنے جانا چاہتے ہیں.
انس نے اپنے نکاح کی پکچر ادیان کو اور گھر والوں کو سینڈ کر دیں. گھر والے شاکڈ رہ گئے. انس کو فون پر باپ نے بہت ڈانٹا اور جواب میں وہ خاموش رہا.
رامین نے خلع کا نوٹس بھیج دیا. گھر والوں نے ان سے فائنل بات کر کے نکاح کو ختم کروا دیا.
اب ادیان کے گھر والوں نے ساریہ کی شادی ادیان سے کرنے کا فیصلہ کر لیا.
ادیان بہت سنجیدہ اور پریشان رہنے لگا. اسے انس بھائی سے اس طرح کی امید نہ تھی. اچانک ایک دن انس بیوی سمیت گھر آ گیا. گھر والے مجبور ہو گئے اور انس کو برا بھلا سنا کر بہو کو اپنانے پر مجبور ہو گئے۔ جب یہ پتا چلا کہ وہ بیوہ ہے اور بچہ بھی نہیں ہے. والدین فوت ہو چکے ہیں. بھائی شادی شدہ ہیں. بھابیاں اس کی شادی کروانا چاہتی ہیں کہ وہ اسے بوجھ سمجھتی ہیں تب دایان کے والدین کو اس پر ترس آ گیا اور بہو کو گلے لگا لیا. بہو بہت اچھی نکلی.
سارے گھر کا انتظام اس نے بخوبی سنبھال لیا اور ساس سسر کی خدمت کرتی. گھر میں ماحول پرسکون ہو گیا.
انس نے جب یہ بتایا کہ وہ رات لیٹ نائٹ گھر آیا تو دبے پاؤں والدین کے روم میں دیکھنے آیا کہ وہ سو گئے ہیں شور سے جاگ نہ جائیں.
اس وقت وہ باتیں کر رہے تھے جس سے انس پر یہ بات آشکار ہوئی کہ انس اور ساریہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور تب سے اس نے بھائی کو ساریہ سے ملانے کا فیصلہ کر لیا.
اتفاق سے اس کی موجودہ بیوی جو اس کی پرانی کلاس فیلو تھی وہ باہر شاپنگ پلازہ میں مل گئی. انس وہاں پر کچھ سامان لینے گیا تھا. دونوں مل کر خوش ہوئے اور انس نے اسے اپنا مسئلہ بتایا.
وہ بھی بیوہ تھی. انس نے اسے نکاح کی آفر کر دی. اس طرح انس دوبئی چلا گیا اور اپنا نیا بزنس شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی اور کامیابی عطا فرمائی. انس نے بیوی کے بھائیوں سے رشتہ مانگا وہ گھر والوں کے بغیر رشتہ دینے پر راضی نہ ہوئے تو دونوں نے کورٹ میرج کر لی اور انس اسے لیکر گھر آ گیا.
انس کے گھر والے اس کے بھائیوں کے پاس گئے اور انہوں نے ان کی شرافت اور اچھا خاندان دیکھ کر رضامندی دے دی اور بہن سے راضی ہو گئے.
آج گھر والوں نے ساریہ کے گھر رشتہ لے کر جانے کا ارادہ کیا.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.