Logo
Sehme hua Khawab
8 Episodes
Sehme hua Khawab EP 8
Episode 8

سہمے ہوئے خواب8

Sehme hua Khawab

آٹھواں حصہ - Part 8


ساریہ کا بھائی ادیان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا گپ شپ کرتا رہا. اس نے اسے اندر چلنے کا بولا، مگر ادیان نے انکار کردیا.

ساریہ کی بھابھی نے شوہر کو فون کر کے کہا، 

"انس کی بیوی کا نمبر لے دیں."

اس نے پوچھا تو ادیان سوچ میں پڑ گیا اور معزرت سے بولا، 

"دراصل میں کسی کا بھی فون نمبر اس کی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتا. ابھی گھر والوں کو ہم نے ادھر کا نہیں بتایا. گھر جا کر میں ان کی اجازت سے بھیج دوں گا بلکہ بات کروا دوں گا."

ساریہ کا بھائی بولا، 

"اچھی بات ہے."

ساریہ کی بھابھی کو ادیان کی والدہ کا فون آیا. اس نے کہا 

"آنٹی آپ بھی ساتھ آ جاتی ناں انس اور ادیان بھائی کے ساتھ."

وہ حیرت سے بولی، 

"اچھا کیا یہ دونوں ادھر ہی ہیں."

ساریہ کی بھابھی نے ساریہ کے رشتے وغیرہ کی تمام تفصیلات انہیں بتا دیں. وہ  بہت دکھی اور پریشان ہو گئی.

پریشان لہجے میں مایوسی سے بولیں. 

"اب تو وہ کھبی ادھر نہیں کریں گے جب بات شادی کی تاریخ تک جا چکی ہے. ویسے بھی اس طرح کسی رشتے پر اپنا رشتہ بھیجنا مناسب نہیں ہے غلط ہے. اب کوئی امید باقی نہیں رہی. ان بچوں کی غلط پلاننگ نے ہمیں بہت شرمندہ کروایا ہے."

ادیان کی والدہ نے شوہر کو ساری بات بتائی.

وہ بولا،

"وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں. میرے بچوں نے شادی کو مزاق بنا دیا. میں اپنے دوست کے آگے شرمندہ ہوں. ہم کل ان کے گھر معزرت کرنے جائیں گے اور بیٹی کی شادی کی مبارک باد بھی دیں گے. جب بیٹی بولا ہے تو بیٹی ہی کی طرح سمجھنا چاہیے. اس کی شادی میں بھرپور شرکت کریں گے. بچوں کو بلاؤ واپس وہ ادھر منتیں کر رہا ہو گا."

بہو سے بولے، 

"انس کو فون کرو."

وہ بولی، 

"کیا تھا پک نہیں کر رہے."

ساریہ کی بھابھی نے انس کی بیوی کا نمبر لیا. دونوں میں اچھی گپ شپ ہو گئی.



انس کو ساریہ کے باپ نے معزرت کرتے ہوئے کہا 

"اگر یہ سب باتیں تم مجھے پہلے بتا دیتے تو میں یہ نہ کرتا. میں میں ان لوگوں سے وعدہ خلافی نہیں کر سکتا."

انس نم آنکھوں سے دیکھ کر ایک لمبی سرد آہ بھر کر اٹھتے ہوئے بولا. 

"ٹھیک ہے انکل جی. ہم شادی کے کاموں میں پورا ساتھ دیں گے اور آپ لوگوں سے ہمیشہ کا ناطہ رکھیں گے اور اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے. آپ لوگوں کا شکریہ کہ ہمیں عزت دی."

یہ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا. ساریہ کا بھائی اور ادیان گاڑی سے باہر کھڑے ہوئے تھے.

انس نے ادیان سے کہا، 

"گاڑی تم ڈرائیو کرو."

سخت سنجیدہ اور دکھی لگ رہا تھا. ساریہ کے بھائی نے دونوں کو اچھے طریقے سے خدا حافظ کہا.

سارے راستے دونوں خاموش رہے. گھر پہنچے تو باپ نے دونوں کو بری طرح ڈانٹا. انس کی بیوی نے سب بتا دیا.

انس روتے ہوئے بولا، 

"ادیان میری جان میں تمہارے لیے کچھ بھی نہ کر سکا."

ادیان نے کہا کہ، 

"آپ نے اپنی پوری کوشش کی، اب شاید قسمت کو منظور نہیں ہے. اب اس بارے میں کوئی کوشش نہ کرے."

یہ کہہ کر وہ تیزی سے اپنے روم میں چلا گیا. ادیان کمرے میں آ کر بوٹوں سمیت بیڈ پر لیٹ گیا.

ماں روم میں آئی تو اندھیرا تھا لائٹ جلا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا. ماں نے اس کے بال سہلاتے ہوے پیار سے کہا، 

"صبر کرو بیٹا، صبر کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے. تم دونوں بھائیوں نے اس ہیرے کو اس گھر میں لانے کی بہت کوشش کی مگر وہ شاید ہمارے نصیب میں نہ تھا."

وہ خاموشی سے آنسو بہاتا رہا. ماں بھی روتی رہی. ادھر انس اپنے روم میں روتے ہوئے کہہ رہا تھا. 

"کاش میں نے ان لوگوں کو سب سچ بتا کر ادیان کے لیے منتیں کر لی ہوتیں تو شاید بات بن جاتی."

بیوی نے بہت پیار سے تسلی دی اور کہا، 

"آپ نے تو نیک نیتی سے سب کیا تھا اللہ تعالیٰ نیت پر پھل دیتے ہیں. آپ لوگوں کی نیت صاف تھی اور پھل بھی ضرور ملے گا. اپنے آپ کو قصور وار مت گردانیں. اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں."

ساریہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں. کچھ قریبی رشتہ دار آنا شروع ہوگئے تھے اور ڈھولک رکھ دی گئی تھی.

کچھ کزنز ساریہ کو ابٹن لگا رہی تھیں، ساتھ ساتھ چھیڑ خانی بھی کر رہی تھیں. ساریہ جواب میں ہلکہ سا مسکرا دیتی.

ایک کزن بولی، 

"یار ویسے پہلے رشتے والا زیادہ ہینڈسم تھا. وہ اس کی دادی کی فوتگی پر آیا تھا نا."

دوسری بولی، 

"پتا نہیں ادھر انکل نے کیوں نہیں کیا."

"انکل بھی موڈی ہیں بس." دوسری بولی،

ایک شادی شدہ عورت انہیں ٹوکتے ہوے بولی. 

"کیسی باتیں کر رہی ہو تم اس کے ساتھ، کیوں اس کے ہونے والے دولہا کی برائیاں کر رہی ہو. اب جو اس کی قسمت میں ہے اسی کو فوکس کرو دو دن بعد اس کی بارات ہے. آج اس کی مہندی تھی."

ادیان بہت دکھی اور اداس رہتا تھا. کھویا کھویا رہتا.

انس اسے ساتھ روز آفس لے جاتا. وہاں بھی وہ کھویا ہی رہتا. سب پوچھتے.

انس نے کہا، 

"کچھ نہیں اس کی طلاق ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پریشان ہے."

کچھ تسلی دیتے 

'سر یہ اتنے اچھے ہیں جوان ہیں. ان کی بیوی بننے پر کوئی بھی لڑکی خوش قسمت سمجھے گی. بدبخت تھی جس نے ان جیسے ہیرے کی قدر نہ کی."

ایک بولا، 

"لگتا ہے سر ان سے بہت پیار کرتے تھے."

پہلا بولا، 

"اب تسلی دینے کا کیا فائدہ اب کیا ہو سکتا ہے."

انس نے سوچا چلو بہتر ہے لوگ یہی وجہ اداسی کی سمجھتے رہیں. ادیان کے والدین شادی پر جانے کے لیے تیار ہوئے.

ادیان جا نہیں رہا تھا مگر باپ نے گرج کر کہا، 

"تم بھی چلو گے."

وہ لوگ تمام گھر والوں کے لیے تحفے خرید کر لے گئے. انس کی بیوی نے ساری شاپنگ کی.

جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو ساریہ کے بھائی نے ان کو خوش ہو کر ویلکم کیا. رشتہ داروں نے بھی اب سے اچھی طرح سلام دعا کی، کچھ نے چہ میگوئیاں بھی کیں.

ادیان نے چوری چھپے سگریٹ بھی شروع کر دیے تھے. 

گھر کے لان میں مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا. ڈیک لگا ہوا تھا اور چند چھوٹی بچیاں ایک بڑی لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں.

ویٹر آنے والے مہمانوں کو جوس اور سافٹ ڈرنک وغیرہ پلا رہے تھے. ساریہ اور ادیان اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے.

ادیان بار بار پہلو بدل رہا تھا.

ساریہ کا دل گھبرایا تو وہ بھابھی کو سرگوشی میں بتا کر چھت پر چپکے سے چلی گئی. ادیان نے سموکنگ کرنی تھی.

اس نے ساریہ کے بھائی کے کان میں کہا، ساریہ کا بھائی اسے گھر کی پچھلی طرف سے سیڑھیوں کے قریب لے جا کر بولا، 

'جاؤ جلدی سے چھت پر پی کر آ جاؤ. ادیان چھت پر گیا اور ایک جگہ فرش پر بیٹھ کر سموکنگ کرنے لگا.

ساتھ میں آنسوؤں سے رونے بھی لگا، اس کو لگتا تھا کہ آج شدت غم سے اسکا کلیجہ پھٹ جائے گا.

اچانک ساریہ کی نظر اس پر پڑی. وہ اسے روتے اور سموکنگ کرتے دیکھتی رہی. اسکا دل بھی بھر آیا مگر اسے اس بات پر غصہ آیا کہ شاید وہ اس کے پیچھے ادھر آیا ہے.

اس نے بھابھی کو میسج کیا 

"ادیان چھت پر ہے. کسی نے ساتھ دیکھ لیا تو کیا ہو گا."

بھابھی نے شوہر کو پوچھا تو اس نے اسے بتایا کہ اس نے اسنے سموکنگ کے لیے اوپر بھیجا تھا. بھائی چپکے سے تیزی سے اوپر چلا گیا.

سامنے زرا فاصلے پر دونوں فاصلے میں کھڑے تھے.

ساریہ نے بھائی سے کہا، 

"بھائی یہ میرے پیچھے چھت پر آ گیا ہے."

بھائی نے کہا، 

"اسے میں نے سموکنگ کے لیے چھت پر بھیجا تھا."

وہ مرے مرے قدموں سے نیچے اتر کر جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا. انس اسے ادھر ادھر تلاش کرنے لگا.

اسے فون کیا تو وہ فون پک نہیں کر رہا تھا اسے فکر ہوئی. اس نے سوچا موبائل کی بیٹری بھی کم ہے گاڑی میں جا کر چارجر لے آئے.

وہ گاڑی کے قریب آیا تو اسے ادیان نظر آیا جو آنکھیں موندے بیٹھا تھا. آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں.

آنس نے جا کر اسکا کندھا ہلایا تو اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا.

انس نے کہا، 

"یہ کیا مجنوں والی حالت بنا رکھی ہے. کیوں اس کو بدنام کرنا چاہتے ہو. اپنے آپ کو مضبوط بناؤ.

ادیان دکھی آواز میں بولا، 

"میں گھر جانا چاہتا ہوں."

انس نے کہا، 

"وہ لوگ کتنے اچھے ہیں. سب سے زیادہ ہمیں پروٹوکول دے رہے ہیں. ابھی رسم بھی شروع نہیں ہوئی. والد صاحب بھی اپنے چند پرانے دوستوں کے مل جانے سے بہت خوش ہیں. ماما بھی کہہ رہی ہیں کہ رسم سے پہلے نہیں جائیں گے ورنہ وہ یہ نہ سمجھیں گے کہ ہم جل گئے ہیں. ادیان تم چلو گھر چلے جاو اور ڈرائیور کے ہاتھ گاڑی بھیج دینا. بلکہ ایسا کرتا ہوں کہ ڈرائیور سے دوسری گاڑی منگوا لیتا ہوں تمہیں آ کر لے جائے. تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے."

انس ڈرائیور کو فون کرنے لگا.

ساریہ کا بھائی انس کو فون کر کے پوچھنے لگا. اور بولا 

"ادیان فون نہیں اٹھا رہا کدھر ہے.

انس نے اسے ساری بات بتائی تو وہ پریشانی سے بولا 

"یار ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے."

انس نے پریشانی سے پوچھا 

"کیا ہوا."

تو اس نے بتایا کہ دولہے کے گھر سے فون آیا ہے کہ شادی ڈیلے کرنی پڑے گی لڑکے کا تایا فوت ہو گیا ہے. اب سب ادھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں.

انس نے کہا 

"ساریہ کا بھائی ہمیں بہت پروٹوکول دے رہا ہے اور میری بیوی اور ساریہ کی بھابھی کی بھی خوب دوستی ہو گئی ہے. میری بیوی اس کی مددگار بھی بنی ہوئی ہے. باقی سب مہمان بنے بیٹھے ہوئے ہیں کوئی ہیلپ نہیں کر رہا. اس لیے ہم فوتگی والے گھر ان کے ساتھ چلتے ہیں. تھوڑی دیر بعد تم والدین کو لے کر گھر چلے جانا. میں اور تمہاری بھابھی جنازے کے بعد آ جائیں گے تم ڈرائیور کے ہاتھ گاڑی بھیج دینا.

ادیان شادی ڈیلے سنکر کھل سا گیا اسے آس لگ گئی.

ساریہ کی بھابھی انس کی بیوی سے خوش ہو کر بولی،

"شاید اب ادیان کی بات ساریہ سے بن جائے."

آنس کی بیوی بولی، 

"آمین ثم آمین."

ساریہ سن رہی تھی. ایک سانس بھر کر دکھی دل سے چل پڑی. ساریہ کی بھابھی انس کی بیوی کو بتانے لگی کہ جب ادیان نے شادی کی. اس دن ساریہ ساری رات روتی تڑپتی رہی. اس کا درد صرف میں سمجھ سکتی تھی. گھر والوں کو بتایا کہ طبیعت خراب ہے. بڑی مشکل سے بےچاری سنبھلی تھی. پھر ادیان کی طلاق ہو گئی.

اس کی بیوی اسے بعد میں فون کر کے بتا رہی تھی کہ وہ نکاح کر کے تو لے گیا تھا مگر وہ صوفے پر سوتا تھا اور صرف دکھاوے کی شادی تھی. کہتا تھا میں تمہارے سارے خرچے پورے کروں گا. مگر وہ دل سے ساریہ کو نکال نہ سکا. پھر اس نے ساریہ کو یہ سچائی بھی بتا دی تھی کہ کوئی پرینک نہیں تھا وہ صرف بھائی کی خوشی کے لیے پیچھے ہٹ رہا تھا.

ساریہ نے اسے کہا تھا کہ میں سب جان گئی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے.

انس کی بیوی بولی، 

"کتنا دکھ سہا ہے اس نے. مگر اس کی قربانی کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے."

انس کی بیوی نے افسوس کرتے ہوئے کہا 

"ساریہ بہت اچھی لڑکی ہے."

ساریہ کی بھابھی نے کہا

" وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ سب جانتے ہوئے کہ اسکا شوہر کسی اور کو چاہتا ہے. ایک کزن اسکا دیوانہ بنا ہوا تھا اس کے پیچھے اس نے ادیان جیسے شوہر کو چھوڑ دیا. ساریہ کی شادی اگر ہو جاتی تب وہ بیوی کی طرف رجوع کرتا. بیوی بھی تو عقلمند ہوتی تو اسے اپنا بنا لیتی. وہ نیچر کا بہت اچھا ہے. ایسا شخص کھبی کسی کو دکھ نہیں دے سکتا. بس بدقسمت تھی وہ. 


رامین اب پچھتا رہی ہے اور ساریہ سے معافی مانگ رہی تھی. کزن سے شادی تو ہو گئی مگر وہ عام مردوں کی طرح ہی نکلا.



ساریہ کی بھابھی ساریہ کو تسلی دے کر چل پڑی.

ہر جمعرات اور ہر ختم پر یہ لوگ جاتے رہے. انس والدین کو لے جاتا. ادیان آفس دیکھتا.

دونوں بھائیوں نے ملکر بزنس کو کافی آگے بڑھایا تھا.

ساریہ کی شادی دو ماہ کے لیے ڈیلے کر دی گئی تھی. بیچ میں عید آئی اور ساریہ کے لیے سسرال سے بھاری بھرکم عیدی آئی.

ساریہ کے باپ نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کہ شادی سے پہلے وہ منگنی کی انگوٹھی تک لانے کو پسند نہیں کرتے.

ان کا کہنا تھا کہ جب تک شادی نہ ہو کچھ بھی لین دین نہیں کرنا چاہیے. کیونکہ وقت اور حالات کا کچھ پتا نہیں ہوتا، پھر سامان واپس کرتے ہوئے بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

انہوں نے سامان واپس بھجوا دیا. جس بات کا انہوں نے کافی برا منایا.

مگر پھر بھی انہوں نے رشتہ نہیں توڑا.

ساریہ کے بھائی نے ساریہ کی بھابھی کے کہنے پر انہیں باتوں باتوں میں کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بہن کے لئے نکاح میں کافی کچھ لکوا سکتے ہیں. جائیداد ، نقد رقم وغیرہ.

وہ بولے، جو مرضی لکھوا لیں، ہم سب کچھ لکھ کر دینے کو تیار ہیں. ہمیں ساریہ بہت پسند ہے.

بھابھی نے انس کی بیوی کو بتایا کہ یہ حربہ بھی ناکام ہو گیا.

انہوں نے ساریہ کے والد کو فون کر کے ساری بات بتائی تو وہ کافی حیران ہوئے. انہوں نے بیٹے کو ڈانٹا.

بیٹے نے عزر پیش کیا کہ وہ صرف انہیں آزما رہا تھا. پھر بیٹے نے ان کو بھی معزرت کی کہ وہ صرف انہیں آزما رہا تھا ورنہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے.

وہ لوگ بولے، 

"ہمارا پہلے ہی ارادہ تھا بہو کو بہت کچھ دینے کا. آخر ہمارا اکلوتا بیٹا ہے."

ساریہ کی بھابھی بولی، یہ حیلہ بھی ناکام گیا.

ساریہ کی دوبارہ ڈیٹ فکس ہو گئی اور نیے سرے سے شادی کی تیاریاں ہونے لگیں.

سب مہمان دوبارہ ان کے گھر آنا شروع ہوگئے. اب انس پریشان تھا کہ پہلے بھی آفس سے کافی کام ڈیلے کرنا پڑا.

سارا بوجھ ادیان پر پڑ گیا. وہ لیٹ نائٹ کام مکمل کرتا رہتا. ادیان کے والد نے بیٹوں کو حکم دے دیا کہ پہلے کی طرح ہم سب ان کی شادی میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے.

ادیان نے کہا، 

"انس بھائی آپ آفس کی فکر نہ کریں میں سب دیکھ لوں گا."

وہ اب اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہا. تھوڑا بہت بھابھی کے زور دینے پر ناشتہ کیا اور آفس چلا گیا.

رات تک کام میں جان بوجھ کر بزی رہا. جب کافی تھک گیا تو گھر واپس آ گیا.

واش روم جانے لگا تو انس کا فون آ گیا کہ کھانا وغیرہ کھا لو.

مہندی کا فنکشن لیٹ نائٹ تک چلا. دولہن کے رشتے داروں نے خوب ناچ گانا کیا.

دیر سے گھر واپس آئے تو ادیان کے روم کی لائٹ آف تھی.

اگلے دن بارات تھی اور بارات دن کی تھی. سب لوگ مارکی میں پہنچ کر بارات کا انتظار کر رہے تھے.

ادیان آفس میں کام کر رہا تھا. اسکا دل نہیں لگ رہا تھا. دل اداس ہو رہا تھا. اس نے اپنے دل کو خود ہی تسلی دی.

بارات کافی لیٹ ہو رہی تھی. لوگ اکتانے لگے تھے.

بچوں اور عورتوں کو بھوک لگی تھی. جب ساریہ کے بھائی نے انہیں فون کیا تو لڑکے کی ماں رونے لگی اور معافی مانگنے لگی اور بتانے لگی کہ 

"ان کے بیٹے نے چھپ کر شادی کر رکھی تھی. اسی لیے وہ شادی کے لئے مان نہیں رہا تھا. پھر انہوں نے اسے اموشنل وغیرہ کر کے منا لیا. وہ اپنی پسند سے کرنا چاہتا تھا. گھر والوں کو وہ لڑکی کچھ خاص پسند نہ آئی. وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے بہت سی لڑکیاں دیکھ چکے تھے اور ساریہ انہیں سب سے زیادہ پسند آئی تھی. انہوں نے بیٹے کے احتجاج پر دھیان نہ دیا. اس کا دو سال کا بچہ بھی ہے. کالج کے زمانے میں ہی اس نے اپنی کلاس فیلو سے شادی کر لی تھی. لڑکی والدین کے ساتھ ہی رہتی تھی اور بچہ نھنیال والے سنبھالتے تھے. لڑکے نے جب بیوی بچے کو گھر لا کر سامنے کیا تو سسر نے پوتے کو دیکھ کر بہو کو قبول کر لیا" 


لڑکے کے والد نے ساریہ کے والد سے فون پر معافی مانگ لی.

ساریہ کے بھائی نے کہا، 

"میری بہن کی شادی آج ہی ہو گی. میں انس کو کہتا ہوں کہ ادیان کو بلائے اور آج ہی نکاح کر کے رخصت کر دوں گا."

باپ نے آہستہ سے کہا، 

"جیسے تمہاری مرضی."

ادیان کو جب انس نے فون پر سب بتایا تو وہ اسی وقت بھاگتا چلا آیا. ساریہ کو بھابھی نے خوشی سے گلے لگاتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تو وہ دنگ رہ گیا.

نکاح فوراً پڑھوا دیا گیا کہ کھانے کی دیر ہو رہی تھی. ساتھ ہی کھانا کھول دیا گیا.

ادیان کے گھر والوں کو سب مبارکباد دے رہے تھے. انس نے زور سے گلے لگا کر پرجوش انداز میں مبارک باد دی.

دونوں آنسو پونچھنے لگے.

ساریہ کی بھابھی خوشی سے چلا کر بولی، "بس اب رونا دھونا نہیں. خوشی سے کھانا کھاؤ"

ساریہ کا باپ ادیان کے باپ کے پاس بیٹھا اونچے اونچے قہقہے لگا رہا تھا.

کچھ رشتے دار کہہ رہے تھے 

"یہ دولہا اور اس کے گھر والے زیادہ اچھے تھے. اچھا ہوا جو ادھر شادی ہوئی. دونوں کی جوڑی بہت پیاری لگ رہی ہے."

ادیان ساریہ کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا. خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی. ساری اداسی غائب ہو چکی تھی.

ادیان کی ماں اور ساریہ کی ماں اکھٹی بیٹھی سب سے مبارک باد وصول کر رہی تھیں.

ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں.

انس اور اس کی بیوی فوٹو کھنچوا رہے تھے.

ساریہ کا باپ بیٹی کو اور اپنی فیملی کو بہت خوش دیکھ کر دل میں پچھتا رہا تھا کہ ہم مرد اپنی جھوٹی انا کو بنیاد بنا کر اپنے ہی بچوں اپنی فیملی کی خوشیاں برباد کرنے پر تل جاتے ہیں.

میری بیٹی نے کسی سے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا. اس میں کونسا بڑا جرم عائد ہوتا تھا.

ساریہ ادیان کو پاگلوں کی طرح کھاتے دیکھ کر بولی، 

"صبر سے کھاؤ. کیا کر رہے ہو. سب کیا کہیں گے."

وہ کھاتے کھاتے بولا، 

"ایمان سے کتنے وقت سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا. اب اپنی شادی کا کھانا تو میں خوب کھاوں گا. مجھے اب کسی کی پروا نہیں. اللہ تعالیٰ کو ہم پر رحم آ گیا ہے تو ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں. صبر کیا تھا واقعی صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے. کھل کر کھاؤ، کھل کر خوشی مناؤ شاباش."

وہ شرارت سے آہستہ سے بولی، 

"یہ پرینک تو نہیں."

وہ مسکرا کر بولا، 

"پرینک ہی ہے"

دونوں مسکرانے لگے.



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry