Sehme hua Khawab
8 Episodesچوتھا حصہ - Part 4
رامین نے ادیان کو دیکھا اور گرج کر بولی،
"یہ کیا طریقہ ہے شادی کرنے کا. اب یہ بھی نہیں ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت تھی، جس کی وجہ سے تم رہ نہیں سکتے تھے میرے بغیر اور نہ مہندی نہ ہی بارات."
ادیان نے تحمل سے کہا،
"دیکھو رامین تم اپنا دل میلا نہ کرو، تم میری بیوی ہو میری عزت ہو. جو لڑکی میرے نکاح میں آ جائے وہ میرے لیے تمام عورتوں سے افضل ہو گی سمجھی."
وہ جھٹ بولی،
"ماں سے بھی زیادہ."
ادیان نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا،
"ماں کی بات نہیں، میں عورتوں کی بات کر رہا ہوں. ماں کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں. وہ سب سے افضل ہی رہتی ہے."
رامین بڑبڑائی،
"ماں کا پٹھو."
ادیان نے سوچا مجھے اس کے ساتھ ہر حال میں صلح صفائی سے رہنا ہے. گھر والے کیا سوچیں گے.
ساری رات وہ طنز کرتی رہی، طعنے دیتی رہی اور وہ اس کو پیار سے مناتا رہا. آخر وہ اس کی محبت بھری باتوں سے پگھل گئی اور خوش ہو گئی. صبح دیر تک وہ سوتی رہی.
ادیان نے جگانے نہ دیا اور آفس چلا گیا.
ان کے گھر فجر کی نماز کے وقت سب اٹھ جاتے تھے. نماز پڑھنے مرد مسجد اکثر چلے جاتے اور واک بھی کر کے آتے.
ماں فریش جوس بنا کر رکھتی. اب بارہ بج چکے تھے. ادیان کے والدین فکرمند ہو رہے تھے.
ادیان نے آفس سے فون کیا کہ رامین کے گھر والے آ رہے ہیں. وہ بھی آفس سے آ رہا ہے.
ادیان کی ماں نے جگانے کا ارادہ کیا تو شوہر نے کہا،
"اسے سونے دو تاکہ گھر والے بھی آ کر دیکھیں کہ وہ کتنی دیر سوتی ہے."
ادھر ادیان نے اسے کال کی
"کچھ گیسٹ آ رہے ہیں تیار ہو جاؤ."
وہ بےدلی سے بولی،
"میں کیا کروں. مجھے ابھی سونا ہے"
اور فون بند کر کے جان بوجھ کر آنکھیں موند کر لیٹ گئی. ادیان نے ایک سرد آہ بھر کر سوچا آج اسے زرا سختی سے سمجھانا پڑے گا. کل کو یہ بھائی کے سامنے ساریہ کا زکر نہ چھیڑ دے.
رامین کے گھر والے پہنچ گئے. انس کی امی نے ان کو عزت بخشی. ملازمہ سے کہہ کر چائے پانی پلایا اور رامین کو بلانے کا کہا،
ملازمہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو رامین نے چلا کر پوچھا
"کون ہے"
ملازمہ بولی،
"جی بڑی بیبی صاحبہ بلا رہی ہیں گیسٹ آئے ہیں."
وہ چلا کر بولی،
"انہیں کہہ دو، تیار ہو رہی ہوں ابھی آتی ہوں."
ادیان کو آفس میں کام پڑ گیا اسے آنے میں دیر ہو گئی.
رامین بڑ بڑاتی رہی. اور جان کر لیٹ ہوتی رہی. جب کافی دیر گزر گئی تو رامین کی بڑی بہن نے کہا،
"میں رامین کے کمرے میں جا کر بلا لاتی ہوں."
ادیان کی ماں نے ملازمہ کے ساتھ اسے اس کے روم میں بھیج دیا. رامین کے والدین بھائی، بہنوئی اور بچے سب دبے بیٹھے تھے ان پر ان کی امارت کا رعب پڑ گیا تھا.
اتنا شاندار گھر اور نوکر چاکر. گیٹ پر چوکیدار. گھر میں موجود مہنگی گاڑی.
ادیان انس کو بتا کر گھر آ رہا تھا. اس نے سوچا زندگی میں اسے اپنی فیملی کے علاوہ کسی کو دوست بنانے کی کھبی ضرورت پیش نہیں آئی تھی.
اس نے جب دیکھا ساریہ کے فرینڈز گروپ میں رامین اور اسکا بھائی پڑھتے ہیں تو اس نے رامین کے بھائی کو اپنا پیارا دوست بنا لیا اور اسے بہت اہمیت دیتا. پھر اس نے اسے ساریہ کو اس کی بہن کے زریعے دل کا پیغام دیا.
ساریہ بھی نہ مل سکی اور مفت میں ان لوگوں سے ناطہ جوڑنا پڑا. وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر والوں کو یہ لوگ پسند نہیں آئیں گے مگر انس اور ساریہ کو ملانے کے لیے جلدی میں اسے ان لوگوں کا انتخاب کرنا پڑا.
وہ ساریہ کو اس کے نکاح سے پہلے نکاح کر کے دکھانا چاہتا تھا کہ وہ رامین کو پسند کرتا ہے تاکہ اسے یقین ہو جائے اور وہ انس سے شادی کر لے. مگر رامین ساتھ نہیں دے رہی تھی حالانکہ نکاح سے پہلے اس نے فون پر وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے کھبی بھی ساریہ کا طعنہ نہیں دے گی.
مگر وہ تو پہلے دن ہی سے اسے طعنے دینے لگی. وہ چاہتا تھا کہ بس جلدی سے انس اور ساریہ کی خیریت سے شادی ہو جائے.
رامین کی بہن نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا تو رامین کو غصہ آ گیا، چلا کر بولی،
"کیا مصیبت ہے کون ہے."
جب بہن کی آواز سنی تو دروازہ کھول کر حیرت سے بولی،
"آپ کب آئیں."
وہ بولی،
"ہم اتنی دیر سے آئے ہوئے ہیں".
اتنے میں ادیان اندر داخل ہوا اور سب سے بڑے تپاک سے ملا. پھر وہ اپنے روم میں آیا اور رامین کو دیکھ کر بولا،
"گیسٹ سے ملی."
وہ قدرے خجل لہجے میں بولی،
"یہ گیسٹ تھے."
"جی جناب."
پھر وہ نیچے چلا گیا. ساس سسر کے قریب بیٹھ گیا.
دوست نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوے کہا،
"یار تم نے کھبی بتایا نہیں، تمہارا گھر تو بہت خوبصورت ہے واہ."
جواب میں ادیان صرف مسکرا دیا.
رامین کی بہن اس کے روم کو رشک سے دیکھتے ہوئے بولی،
"واہ کیا کمرہ سجا ہوا ہے. قیمتی فرنیچر سے."
رامین جلدی سے بولی،
"چلو آپا نیچے چلتے ہیں. سب انتظار کر رہے ہوں گے."
جب وہ آئی تو اسی وقت ادیان نے معزرت کرتے ہوئے کہا
"اسے آفس میں بہت ضروری کام پڑ گیا ہے. آپ لوگ آرام سے بیٹھیں."
رامین کا باپ بولا،
"سنا ہے تم دونوں کا ولیمہ مہینے کے بعد رکھا گیا ہے."
وہ جلدی میں تھا بولا
"جی انکل، آفس کی مصروفیات کی وجہ سے."
رامین کی ماں بولی،
"ہم رامین کو لینے آئے ہیں."
ادیان نے اپنی ماں کی طرف دیکھا.
ادیان کی ماں بولی،
"ٹھیک ہے کل اس کو شاپنگ پر بھی لے کر جانا ہے اس کے کپڑے وغیرہ لینے ہیں."
رامین خوش ہو کر بولی.
"ٹھیک ہے میں کل واپس آ جاؤں گی."
رامین کی بہن بولی،
"تم اسے پیسے دے دو ہم خود اسے شاپنگ پر لے جائیں گے."
ادیان نے ایک سانس بھر کر ماں کی طرف دیکھا تو ماں نے بیٹے سے کہا،
"تمہیں آفس سے دیر ہو رہی ہے. میں پیسے دے دوں گی."
اتنے میں پھر ادیان کو فون آ گیا اور وہ جلدی سے معزرت کرتا ہوا چل پڑا.
رامین کو ساس نے رقم دی کہ فی الحال گھر کے استعمال والے کپڑے لے لو. باقی ادیان کے ساتھ جا لے لینا.
جب رامین میکے پہنچی تو بڑی بہن اس کے سسرال کو دیکھ کر دل میں جل بھن گئی. اس نے گھر آ کر والدین اور رامین کو خوب ورغلایا. رامین کا دل بھی میلا ہونے لگا اور والدین کا بھی.
بھائی کچھ بولنے لگا تو بہن نے خوب سنائی
"کیا ہماری بہن اتنی بے وقعت ہے کہ وہ لوگ اپنی من مانی کرنے لگے. کیسے رخصتی کروا لی اور بڑے کی شادی دھوم دھام سے کریں گے۔ اپنے بڑے بیٹے کی. یہ کیا سوتیلا ہے."
اس نے سب کو اتنا بھر دیا کہ سب بدگمانی کا شکار ہو گئے.
بہن کو لگا اس کی اور اس کے شوہر کی اہمیت ان لوگوں کے آگے مانند پڑ جائے گی. ابھی وہ اس گھر کی کرتا دھرتا ہے. سب اس کو اہمیت دیتے ہیں. اسکا امیر گھرانے میں رشتہ نہ ہو سکا. اس کی رشتہ داروں میں شادی ہوئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ میکے میں رہتی تھی. ساس سسر فوت ہو چکے تھے.
اسکا شوہر اس کے آگے لگا ہوا تھا.
بہن نے شاپنگ کروائی اور کافی پیسے بچا کر بہانے سے پاس رکھ لیے. رامین فل اس کی باتوں میں آ گئی.
ادیان نے رامین کو فون کیا کہ وہ اسے لینے آ رہا ہے. جب ادیان آیا تو بہن نے خوب اس کی کلاس لی. گھر والے خاموش رہے.
رامین کمرے میں بہن کے کہنے پر نہ آئی. ادیان بہت مشکل سے ضبط کرتا رہا. واپسی پر اس نے رامین سے کہا،
"تم گھر کی باتیں میکے میں نہ جا کر کیا کرو."
اس نے منہ بنا لیا.
پھر ادیان نے کہا،
'میرے گھر والوں کو ساریہ والی کوئی بات پتا نہیں چلنی چاہیے."
گھر آ کر رامین نے کسی سے نہ بات کی نہ سلام کیا. ادیان اسے باہر ہی اتار کر چلا گیا تھا.
ساس سسر پریشان تھے مگر بیٹے کو بتا کر اسکا سکون تباہ نہیں کرنا چاہتے تھے.
سسر نے کہا، "اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور نارمل رہو."
ساریہ کے گھر اس کے نکاح کے لئے جانے کی تیاری ہو رہی تھی کل نکاح کے لئے جانا تھا. کہ خبر آ گئی کہ گاؤں میں 'ساریہ کی دادی' کی ڈیتھ ہو گئی ہے اور انہوں نے معزرت کے ساتھ نکاح کی ڈیٹ چالیسویں کے بعد رکھ دی.
ادیان نے گھر والوں کو کہا،
'آپ لوگوں کو ان کی فوتگی پر جانا چاہیے."
انس نے آفس کی مصروفیات کے باعث ادیان سے کہا
"وہ والدین کو لے کر چلا جائے."
ادیان نے مجبوراً حامی بھر لی.
رامین نے سنا تو چلانے لگی،
"تم بہانے سے اپنی پرانی گرل فرینڈ کے پاس جانا چاہتے ہو. اس لئے بھائی کو انکار نہیں کیا. تم آفس کا کام سنبھال سکتے تھے."
ادیان نے اسے ڈانٹ کر چپ کروانے کی کوشش کی. مگر وہ باز نہ آئی تو ادیان نے اسے ایک تھپڑ مار دیا.
ادیان نے سختی سے کہا
"دوبارہ ایسی بات منہ سے مت نکالنا. وہ میرے بھائی کی عزت ہے."
وہ رو رو کر بہن کو فون کرنے لگی اور کہنے لگی
"مجھے آ کر لے جائیں."
ادیان نے کہا،
"تم کہیں نہیں جاؤ گی. ہم شام تک واپس آ جائیں گے."
یہ کہہ کر وہ والدین کے پاس آیا اور بولا،
"جلدی چلیں تاکہ وقت پر پہنچ سکیں."
وہ تیاری کرنے لگے.
ادیان کی ماں اپنی پرانی ملازمہ کو گھر کے کام سمجھانے لگی.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.