Sehme hua Khawab
8 Episodesساتواں حصہ - Part 7
ادیان نے ماں سے کہا
"وہ ساریہ کی بھابھی کو فون کر کے بتا دیں گے کہ ہم لوگ چالیسویں کے بعد رشتے کے لیے آئیں گے."
ادیان کی ماں نے ساریہ کی بھابھی کو فون کیا. ساریہ کی بھابھی ادیان کی ماں کی کال دیکھ کر پریشان ہو گئی کہ اب کیا کہے. فون اٹھا کر تیزی سے شوہر کو بتانے گئی. بیل مسلسل بج رہی تھی.
ساریہ کے بھائی نے پریشان ہو کر کہا،
"کال نہ اٹھاؤ."
ساریہ پاس آ کر بولی،
"بھابھی آپ کال پک کریں اور جو پاپا نے کہا ہے وہی کریں."
ساریہ کے بھائی نے بھی اشارہ کیا.
بھابھی نے کال پک کی اور سلام دعا کے بعد بہو کی پھوپھو کا افسوس کیا.
ادیان کی ماں نے کہا کہ ابھی وہ ادھر ہی ہے. چند دن بعد آئے گی. پھر ادیان کی ماں نے اپنا آنے کا پروگرام بتایا.
ساریہ کی بھابھی سے صیح طرح سے بات نہیں ہو پا رہی تھی. اس نے مختصر بات کی اور جواب میں اچھا کہا.
ادیان کی ماں مطمئن ہو گئی. ساریہ کی بھابھی نے جلدی سے خدا حافظ کہا.
ادیان کی ماں تھوڑی حیران سی ہوئی پھر اپنا وہم سمجھ کر اگنور کر گئی.
ساریہ نے اپنے آپ کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا.
اس کے سسرال والے آتے اور وہ سنجیدگی سے ان کو سلام کرتی اور روبوٹ کی طرح ان کے آگے سوالات کا جواب دیتی.
لڑکا ایک بار ہی آیا اور دوبارہ نہ آیا.
بھابھی کو لڑکا پسند نہ آیا. اس نے شوہر سے زکر کیا تو شوہر نے سنجیدگی سے دکھی لہجے میں کہا،
"اسے بھی پسند نہیں ہے پر کیا کر سکتے ہیں."
شادی کی تیاریاں شروع ہو گئی.
مارکی کی بکنگ کے لیے ساریہ کا بھائی گیا تو انس اور ادیان دونوں وہاں کسی کام سے آئے ہوے تھے.
وہ ساریہ کے بھائی کو دیکھ کر کافی حیران ہوئے. چھپ کر اوٹ میں سے دیکھنے لگے.
جب وہ چلا گیا تو وہاں پر موجود ایک عملے کے بندے ورکر کو ہزار کا نوٹ دیتے ہوئے انس نے پوچھا
"وہ صاحب یہاں کس سلسلے میں آے تھے."
پہلے وہ تھوڑا حیران ہوا پھر ہزار کا نوٹ دیکھ کر بتانے لگا، نوٹ بھی جلدی سے جیب میں ڈال کر بولا،
"وہ اپنی بہن کی شادی کے لئے مارکی بک کروانے آے تھے."
پھر اس نے تمام تفصیلات بھی بتا دیں. انس کافی حیران ہوا.
ادیان کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں چھلک رہی تھیں. اور وہ آنسو صاف کرتا منہ دوسری طرف کر کے گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا. انس اس کے پیچھے چلا آیا.
انس نے گاڑی ساریہ کے گھر کی طرف موڑ دی. ادیان خاموش کھویا کھویا بیٹھا رہا.
اتنے میں انس کے والد کا فون آیا تو انس نے کہا،
"پاپا ہم دونوں ایک ضروری کلائنٹ سے ملنے جا رہے ہیں دیر بھی ہو سکتی ہے."
ساریہ کے سسرال والوں نے ساریہ کے والد سے کہا
"وہ نکاح شادی والے دن ہی کرنا چاہتے ہیں."
ساریہ کے والد نے دلیل دے کر سمجھانے کی کوشش کی تو وہ نہ مانے. مجبور ہو کر کال بند کر کے خاموش ہو کر بیٹھ گئے.
بیوی نے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں اس میں بھی کوئی خدا کی بہتری ہو گی.
ساریہ کی بھابھی خوش ہو گئی مگر اس نے اب ادیان کے ٹاپک پر اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی وہ اب اسے کوئی جھوٹی آس دلا کر اسکا مائنڈ ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی. اللہ تعالیٰ سے اس کی اچھی قسمت کی دعائیں کرتی رہتی تھی. اسے اس پر بہت ترس آتا تھا.
باپ اب سیدھے منہ بیٹی سے بات نہیں کرتا تھا.
ساریہ ان کے رویے سے بہت دکھی ہو جاتی اور چھپ چھپ کر روتی رہتی.
بھابھی نے اس کی حالت دیکھی اور باپ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا.
ساریہ نے کہا،
"بھابھی میں نے باپ کا مان توڑا، میں نے پیار کرنے کا جرم کیا جبکہ پاپا نے منع بھی کیا تھا. میں نے بہت پھونک پھونک کر قدم رکھا اور کوشش کی کہ ایسا کھبی کچھ نہ ہو. مگر ہزار کوشش کے باوجود ادیان نے میرا پیچھا نہ چھوڑا، میں نے کھبی رسپانس نہیں دیا تو اس نے رامین کے بھائی سے دوستی میرے لیے ہی کی تھی کہ اس کی بہن ہمارے سٹڈی گروپ میں تھی. مجھے اس کی پسندیدگی کا اندازہ تھا کہ وہ عام لڑکوں کی طرح فلرٹ نہیں کرنا چاہتا وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا.
میں نے اسے اکتا کر پوچھا کہ میں نہ ہی کھبی فون نمبر دوں گی نہ کھبی فون کروں گی. اگر تم سچے ہو تو میرے گھر والوں کو راضی کرو. اگر وہ مان گئے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں. تو جواب میں اس نے کہا کہ میں اسی مقصد کے لئے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ نہ مجھے آپ کا فون نمبر چاہیے نہ کال کرنے کی ضرورت ہے. میں پڑھائی سے فارغ ہو کر آپ کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں.
میں نے کافی جگہ نوکری کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے جوں ہی نوکری لگی سب سے پہلے رشتہ بھیجوں گا تاکہ آپ کے گھر والوں کو کچھ بتا سکوں کہ میں آپ کے خرچے خود اٹھا سکتا ہوں. گھر والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا. بس اتنا میرا جرم ہے کہ کھبی کبھار میں اس سے کوئی بات کر لیتی تھی. ہماری باتیں بھی ہماری محبت کی طرح پاکیزہ تھیں. مگر میں اب پچھتاتی ہوں کہ میں نے اس سے یہ بھی کیوں کہا کہ وہ رشتہ بھیجے. بات ہی کیوں کی.
میں نے پاپا کا دل دکھایا اب سزا بھی بھگت رہی ہوں. شاید میں اپنے پاپا کا دل کھبی اپنے لیے پہلے جیسا صاف نہ کر سکوں. اس لیے معافی مانگنے کا فائیدہ ہی نہیں."
ماں قریب آئی اور روتے ہوئے بولی،
'ہماری بیٹی ہمارا خون ہے جو کھبی ہمیں دھوکہ نہیں دے سکتی. تم پر مجھے بھروسہ ہے. پسند کرنا کوئی جرم نہیں، مگر پھر اس پسند میں پہلے ہی ایک دوسرے کو نکاح کے بغیر ہی اپنا سمجھ لینا خراب ہے. قسمت کا کچھ پتا نہیں ہوتا. جس سے نکاح ہو وہی اپنا سب کچھ ہے. مجھے امید ہے کہ جس سے تمہارا نکاح ہو گا وہی تمہارا سب کچھ ہو گا اور تم اسے ہی اپنا سب کچھ سمجھو گی."
"انشاءاللہ ماما ایسا ہی ہو گا آپ بھروسہ رکھیں."
اتنے میں ساریہ کے باپ نے بیوی کو آواز دی. وہ اچھا کہہ کر چل پڑی.
بھابھی بھی اسے پیار سے کمر تھپکا کر چل پڑی. بھابھی اپنے کمرے میں گئی اور مسکرا کر موبائل پر کچھ کرنے لگی.
ساریہ کا بھائی لیب ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا. اس نے نظر اٹھا کر بیوی کو دیکھا اور پوچھا کیا ہوا.
وہ ایک نظر اسے مسکرا کر دیکھ کر بولی،
"میں نے ساریہ کی باتیں ریکارڈ کر لی تھیں وہ انکل کو سینڈ کر رہی ہوں شاید وہ اسے معاف کر سکیں."
وہ بولا،
"وہ سامنے روتی رہی تو نہیں پگلے تو میسج پر کیا پگلیں گے."
ساریہ کی بھابھی بولی،
"ہمیں ساریہ کی خوشیوں کے لیے کوشش تو کرنی چاہیے ناں. بےشک جو رشتے والے ہیں وہ بہت اچھے لوگ ہیں مگر جس کے ساتھ شادی ہو رہی ہے وہ مجھے زرا پسند نہیں آیا. اکڑا سا موڈی سا."
ساریہ کے بھائی نے ایک گہری سانس لی اور بولا،
"اب کیا ہو سکتا ہے."
ساریہ کی بھابھی بولی،
"ابھی کونسا شادی ہو گئی ہے. میں تو نکاح کے آخری وقت تک امید نہیں چھوڑوں گی اور کوشش جاری رکھوں گی."
ساریہ کا بھائی بولا،
"یہ کوئی فلمی سین نہیں ہے کہ عین وقت پر نکاح ہیرو سے ہو جائے. تم خواہ مخواہ ساریہ کا دماغ اس رشتے سے خراب نہ کرو. کچھ نہیں ہونے والا."
وہ خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی،
"کیا میں آپ کو اتنی پاگل لگتی ہوں کہ ساریہ کو ہونے والی شادی سے ورغلاؤں گی. میں تو اسے بھنک بھی نہیں پڑنے دوں گی."
ساس نے اسے آواز دی تو وہ جی کہہ کر باہر نکل گئی.
ساس نے کہا،
"تمہیں تمہارے سسر بلا رہے ہیں."
وہ ان کے بیڈروم میں سہمی سی گئی تو وہ اسے دیکھتے ہی برس پڑے
"یہ سب کیا ہے. تم یہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں یہ میسج سنکر اپنی بیٹی کی عزت کا تماشا بناؤں گا. اس کا رشتہ بار بار توڑ کر اسے بدنام کر دوں. زمانے بھر کی باتیں سنوں کہ بیٹی کو اس کے پریمی کے ساتھ رخصت کر دیا. یہ کوئی فلمی سین نہیں ہو رہا کہ تم دو پیار کرنے والوں کو ملانے کی کوشش کر رہی ہو. یہ جوانی کے وقتی جزبے ہوتے ہیں. اس لڑکے نے اسے چھوڑ کر آرام سے شادی کر لی تھی اور وہ لڑکی اس کے ساتھ رہنے پر راضی نہ ہوئی اور خلع لے لیا. اگر وہ اتنا اچھا ہوتا تو بیوی کو خوش نہ رکھتا. میں تمہارے جزبے کی قدر کرتا ہوں کہ تم اپنی نند کے لیے نیک جزبات رکھتی ہو. میرا مقصد تمہیں ذلیل کرنا نہیں ہے. بس وقتی غصہ آ گیا معزرت چاہتا ہوں."
وہ تیزی سے بولی،
"نہیں انکل جی آپ ایسا مت بولیں. میں معزرت چاہتی ہوں. میں نے ساریہ کو کھبی اس موجودہ رشتے سے بدزن کرنے کی کوشش نہیں کی. بلکہ اس ٹاپک کو کھبی نہیں چھیڑا. یہ تو میں خفیہ طور پر کر رہی تھی. دراصل میں اس لڑکے سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں. بلاشبہ اس کے گھر والے بہت اچھے ہیں.
ساریہ کے باپ نے سرد آہ بھر کر کہا،
"مرد کی زبان ہوتی ہے. مجھے اپنے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے کہ وہ میری بیٹی کا نصیب اچھا فرمائے گا."
ماں نے دکھی لہجے میں کہا،
"آمین ثم آمین."
ساریہ کی بھابھی بولی،
"آمین انشاءاللہ."
جب وہ اپنے روم میں گئی تو شوہر نے طنزیہ انداز میں کہا،
"کروا آئی اپنی بےعزتی اپنے محترم سسر صاحب جی سے. ابھی بھی کوئی لیسن ملا ہے کہ نہیں."
ساریہ کی بھابھی کھوئی سی بولی،
"میں اپنی سی کوشش کرتی رہوں گی تاکہ مجھے بعد میں یہ افسوس نہ ہو کہ میں نے کچھ حیلہ نہیں کیا. ویسے میں نے میسج کر کے ساریہ کے دل کا حال کھل کر بتا دیا ہے. وہ کسی وقت تو سوچیں گے ناں کہ بیٹی نے ان کے لئے اپنے جزبات کا گلا گھونٹ دیا ہے."
ساریہ اب زیادہ وقت عبادت میں گزارتی. اپنے کمرے میں زیادہ رہتی. کیونکہ اس سے باپ کا سرد رویہ برداشت نہ ہوتا.
ادیان اور انس جب ساریہ کے گھر کے باہر تھوڑے فاصلے پر پہنچے تو انس نے ادیان کو کہا،
"تم ادھر ہی بیٹھو میں آتا ہوں."
جب بیل کی تو ساریہ کے بھائی نے دروازہ کھولا اور انس کو دیکھ کر حیران رہ گیا. انس نے کہا،
"پلیز مجھے انکل سے ملنا ہے."
وہ کچھ کنفیوژن کا شکار ہو کر پیچھے دیکھنے لگا. پیچھے ساریہ کی بھابھی کھڑی خوشی اور حیرت ہے دیکھ کر بولی،
'انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں. میں انکل کو بتاتی ہوں."
ساریہ کا بھائی اسے ڈرائنگ روم میں جلدی سے بٹھا کر باپ کے ڈر سے تیزی سے باہر نکل گیا.
ساریہ اوپر والے پورشن میں کچھ تلاش کر رہی تھی. پردہ ٹھیک کرنے لگی تو سامنے گاڑی میں اسے ادیان بیٹھا نظر آیا. جلدی سے پردہ ڈال کر سوچنے لگی وہ یہاں کیا کر رہا ہے. جلدی سے نیچے آئی تاکہ بھابھی سے پوچھ سکے کہ کہ ان کے گھر سے تو کوئی آیا ہے کیا.؟
ساریہ کی بھابھی جوس ٹرے میں رکھ کر ڈرائینگ روم میں لے گئی.
ساریہ کے والدین انس سے باتیں کر رہے تھے. ساریہ کی بھابھی نے جوس پیش کیا. ساس نے کہا،
"بیٹا جوس پی لو"
مگر وہ باتوں میں مگن رہا. وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا رہا اور ساریہ کے باپ کے پاؤں پڑنے لگا تو انہوں نے روک دیا.
انس نے تمام باتیں ساریہ کے باپ کے آگے کوش گزار کر دیں اور اپنی مجبوری ظاہر کر دی کہ وہ جان بوجھ کر ادھر نہیں آیا تھا تاکہ آپ لوگ اس سے بدزن ہو کر ادیان کو رشتہ دے دیں.
ساریہ کے باپ نے کہا،
"تم نے یہ کیسے سوچ لیا تھا کہ ایک بھائی ایسا کرے گا تو اسی گھر میں اس کے شادی شدہ بھائی کو اپنی کنواری بیٹی کا رشتہ دے کر خاندان بھر کی باتیں سنوں گا."
انس نے کہا،
"یہاں میری سوچ واقعی بےوقوفانہ تھی. برحال اب میں نے ساری باتیں کلیئر کر دی ہیں کہ ہم دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی محبت میں ایسا کیا. اتفاق سے مجھے بیوی اچھی مل گئی ہے. اور ادیان کی بھی طلاق ہو چکی ہے. آپ کی بات میں لاجک ہے کہ آپ کی بیٹی ہے جہاں مرضی اس کی شادی کریں. ہم تو آپ سے التجائیں ہی کر سکتے ہیں."
ساریہ کی بھابھی نے ساریہ کے پھولے سانس میں بات کرتے دیکھا تو مسکرا کر بولی،
"انس آیا ہے ادیان گاڑی میں ہے."
وہ ساری باتیں کلیئر کرنے اور معزرت کرنے آیا ہے.
ساریہ نے کہا،
"اب ان باتوں کا کیا فائدہ. میں اپنے روم میں جارہی ہوں."
ساریہ کی بھابھی نے شوہر سے کہا،
"یہ جوس لے کر ادیان کے پاس چلے جائیں. کیا پتا کل وہ ہمارے گھر کا فرد بن جائے تو برا برتاؤ مناسب نہیں. بعد میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے."
وہ ٹال مٹول کرنے لگا تو ساریہ کی بھابھی نے تسلی دینے والے انداز میں کہا
"فکر نہ کریں انکل انس بھائی سے بڑے اچھے طریقے سے بات چیت کر رہے ہیں. پہلے زرا غصے میں تھے. اب نرم پڑ گئے ہیں."
اس کو کچھ حوصلہ ملا اور وہ جوس لیکر چل پڑا. ادیان اپنے خیالوں میں اتنا مگن تھا کہ اسے اس کی آمد کا پتا نہ چلا. جب وہ قریب آیا تو ادیان جلدی سے گاڑی سے نکلا اور ملا. ساریہ کے بھائی نے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے تپاک سے ملا.
دونوں پہلے کچھ جھجکتے رہے پھر ادیان نے ساری باتیں اس کے گوش گزار کر دیں اور دونوں اب کھل کر باتیں کرنے لگے.
ساریہ کے بھائی نے کہا
"وہ باپ کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا."
ادیان نے کہا
"میں سمجھ سکتا ہوں."

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.