Sehme hua Khawab
8 Episodesدوسرا حصہ - Part 2
ادیان ساریہ کی فوٹو دیکھ کر پریشان ہو گیا. یہ قسمت اس کے ساتھ کیسا مزاق کر رہی تھی. آج اس نے پکا دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ ساریہ کے بارے میں گھر والوں کو بتا کر ادھر جلد رشتہ بھیجے گا.
پہلے ہی کاروبار کی مصروفیت کی وجہ سے وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا. اس کے دوست کی بہن اس کی دوست تھی. وہ دوست سے ساریہ کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا.
دوست نے بتایا تھا کہ وہ رابطے میں ہے۔ ابھی تک ساریہ کا رشتہ کہیں طے نہیں ہوا تھا اور ساریہ نے بھابھی کو سب بتا دیا ہے.
ادیان مطمئن ہو گیا تھا.
ابھی دوست کا فون آیا تھا کہ ساریہ اس کی بہن کو رو رو کر بتا رہی تھی
"اس کی شادی فکس ہو گئی ہے مگر وہ ادیان سے ہی شادی کرے گی."
یہ سنکر ادیان بہت پریشان پریشان ہو گیا کہ وہ بھائی کی محبت کو دیکھے یا اپنی محبت کو. اس نے سوچا کہ اسکا بھائی منگیتر کی وفات کے بعد کسی اور سے شادی پر راضی نہ ہوتا تھا. والدین بہت پریشان رہتے تھے. جب سے انہوں نے ساریہ سے ملاقات کی تھی تب سے بھائی بہت خوش تھے اور جلدی شادی پر زور دے رہے تھے.
بھائی نے جب سے تصویر بھیجی تھی تب سے بار بار میسج کر کے پوچھ رہے تھے کہ کیسی لگی بھابھی.
ادیان نے فیصلہ کر لیا
"وہ بھائی کی خوشی کے لیے اپنی محبت کی قربانی دے گا مگر اس کے لیے اسے پہلے ساریہ کو اپنی جھوٹی محبت کا یقین دلانا تھا مگر کیسے."
اس نے بھائی کو تصویر دیکھ کر کمنٹ کیا
"ہیرے نے ہیرے کو چن لیا."
بھائی نے بہت شکریہ کہا.
ادیان نے دوست کو ساری صورتحال بتائی تو اس نے مشورہ دیا
"ایک راستہ ہے. ہم اپنی بہن کے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں اگر تم چاہو تو میں بہن کے رشتے کے لیے گھر والوں سے بات کر سکتا ہوں."
ادیان نے کہا
"یار تمہاری بہن سب جانتی ہے. اگر فوری طور پر ایسا ممکن ہو جائے تو میں گھر والوں کو کہہ سکتا ہوں کہ میں اسے پسند کرتا تھا. اگر تمہاری بہن ساریہ کو بھی یہ یقین دلا دے کہ وہ اسے نہیں مجھ سے پیار کرتا تھا. ہم تمہارے ساتھ پرینک کر رہے تھے. اس کے علاوہ اگر وہ میرا ساتھ دے تو میں اپنی پوری ایمانداری سے اس رشتے کو نبھاؤں گا اور اس کے حقوق وفرائض پوری کرنے میں کوتاہی نہیں کروں گا انشاءاللہ."
دوست نے کہا،
"میں گھر والوں سے بات کر کے تمہیں رات کو جو بھی رائے ہوئی بتا دوں گا تم پریشان مت ہونا."
ادیان اپنے روم میں بیٹھا ہچکیوں سے رونے لگا. کافی زیادہ رونے کے بعد وہ نڈھال سا ہو کر لیٹ گیا.
تھوڑی دیر بعد دوست کی کال آئی اور اس نے کہا،
"میرے گھر والے اس رشتے پر راضی ہیں اور میری بہن بھی رضامند ہو گئی ہے. اس نے ساریہ کو یہ بتا بھی دیا ہے جو تم نے بولا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ پرینک کر رہے تھے اور جلد اسے شادی کا کارڈ مل جائے گا. ساریہ نے اسے بہت سنایا اور کافی ناراض ہو کر کال بند کر دی."
ادیان نے سنا تو تھوڑا تسلی میں ہو گیا.
ساریہ دوبارہ اپنے پرس میں ادیان کا نمبر ڈھونڈنے لگی. پھر اچانک اسے پرس میں نظر آ گیا.
ساریہ نے فون کیا تو ادیان نے سمجھا بھائی کی کال ہو گی مگر ساریہ کی آواز وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا.
ایکدم بولا
"ساریہ تم
ساریہ نے غصے سے کہا،
"یہ کیا ڈرامہ ہے. تم مجھ سے پیار کرتے تھے یا نہیں."
ادیان نے مری ہوئی اواز میں کہا،
"سوری ساریہ تم میری محبت کی بیسٹ فرینڈ تھی اس لحاظ سے میری سالی تھی. اس لیے ہم دونوں نے تمہارے ساتھ مزاق کیا، جس کے لئے بہت معزرت ہے. ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا. بہت جلد تمہیں شادی کارڈ بھی مل جائے گا. ہم نے نکاح بھی کیا ہوا تھا مگر ابھی کسی کو بتایا نہیں تھا. تم…"
ساریہ نے غصے سے کہا،
"ایسا بھونڈا مزاق کیا ہے میرے ساتھ نکاح تک کر کے بیٹھے ہو. آئندہ کھبی مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا"
اور فون بند کر کے ہچکیوں سے رونے لگی. بھابھی نے آ کر پوچھا تو اس نے بھابھی کو سب بتا دیا.
بھابھی نے کہا،
"آجکل کے لڑکوں پر اعتبار ہی نہیں کرنا چاہیے. یہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں. شکرالحمدوللہ کہ تم نے اس کے پیچھے اتنا اچھا رشتہ گنوا نہیں دیا."
ادیان پریشان ہو کر لیٹ گیا اور دوست نے جب دوبارہ فون کر کے پوچھا
"وہ اپنے گھر والوں کو کب بھیجے گا"
تو وہ بولا،
"چند دنوں تک کوشش کروں گا اور ساتھ ہی نکاح بھی اسی دن ہو گا."
دوست نے کہا،
"ٹھیک ہے ہم انتظار کریں گے."
ادیان نے دل میں سوچا کہ گھر والے آنے ہی والے ہوں گے. وہ مجھے اس روتی صورت میں نہ دیکھیں تو بہتر ہے کہ میں لائٹ آف کر کے سونے کی ایکٹنگ کروں. مجھے اب اپنے دل کو مضبوط کرنا ہو گا. اس وقت وہ اپنے آپ کو بہت بےبس ولاچار محسوس کر رہا تھا.
دل غم سے چور تھا. ایک طرف بھائی کی شادی کی خوشی تھی دوسری ساریہ کا خیال آتا کہ اس نے کس طرح اسے دکھ پہنچایا ہے. اتنے عرصے کے بعد بھائی کو کوئی لڑکی پسند آئی ہے والدین اس وجہ سے کتنی ٹینشن میں رہتے تھے. وہ بھائی کے اس فیصلے سے کتنے خوش اور مطمئن ہو گئے تھے. گھر میں خوشیوں کے ڈیرے تھے.
اسے باہر ان لوگوں کے آنے کی آوازیں سنائی دیں. وہ منہ لپیٹ کر سوتا بن گیا. بھائی اسے آوازیں دیتا ہوا آیا. پیچھے ماں بھی آئی پھر اسے سوتا دیکھ کر دونوں نے سرگوشی میں کہا،
"اسے سونے دو."
وہ دبے پاؤں باہر نکل گئے. ماں کی آواز آئی
"نہ جانے کھانا کھا کے سویا ہے یا ایسے ہی سو گیا ہے. میں کھانا بنا کر گئی تھی."
باپ نے کہا،
"جا کر کچن میں چیک کر لو ناں."
ادیان نے شکر کیا کہ وہ آفس سے آتے ہی کھانا کھا بیٹھا تھا. اس کے بعد بھائی نے اسے فوٹو سینڈ کی تھی. وہ دل میں شکر ادا کرنے لگا کہ وہ کھانا پہلے کھا چکا تھا.
جب وہ لوگ بھی سونے چلے گئے تو ادیان نے ایک دکھ بھری سانس لی اور کروٹیں بدلنے لگا. نہ جانے کس پہر اس کی آنکھ لگی.
فجر کی نماز کے بعد ادیان کی ماں فکرمند ہو کر ادیان کے روم میں آئی تو وہ سو رہا تھا. وہ اس کے قریب آ کر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھنے لگی، کیونکہ وہ شکل سے بہتر نہیں لگ رہا تھا.
اسکا ماتھا گرم تھا. وہ بہت پریشان ہو گئی. تیزی سے انس کے کمرے میں گئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا.
ماں واپس آ گئی اور شوہر کو بتانے لگی جو ابھی ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تھا. وہ بھی پریشان ہو گیا. انس بھی ماں کے کمرے میں آیا تو ماں نے پریشانی سے اسے بتانے لگی. وہ بھی بہت پریشان ہوا اور تیزی سے ادیان کے کمرے کی طرف دوڑا.
سب ادیان کے روم میں پریشان کھڑے اس کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ڈاکٹر کے پاس لے چلیں.
اتنے میں ادیان نے نیند سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سب کھڑے ہوئے تھے وہ بہت پریشان ہوا.
انس نے کہا،
"میرے لاڈلے بھائی کو کیا ہو گیا ہے. اتنی طبیعت خراب تھی تو بتایا کیوں نہیں. ہم فوراً واپس آ کر تجھے ہاسپٹل لے جاتے."
ادیان نے جب سب کو پریشان دیکھا تو سوچا میرا بھائی کتنا خوش تھا. میں اس کی خوشی میں بھنگ ڈال رہا ہوں. مجھے ہمت سے کام لینا ہوگا.
اس نے نقاہت سے کہا،
"بھائی آپ پریشان نہ ہوں آپ کو بہت بہت مبارک ہو."
بھائی نے جوش اور خوشی کے جزبے سے اس کے ماتھے پر کافی پیار کیے. اور کہا
"یار جلدی ٹھیک ہو جا، دو دن بعد میرا نکاح ہے اور تو نے بھنگڑے ڈالنے ہیں"
ادیان نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے کہا،
"اپنے پیارے بھائی کی شادی میں بھائی بھنگڑے نہیں ڈالے گا تو اور کون ڈالے گا بھلا."
ماں نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوے کہا،
"پر تو رو کیوں رہا ہے."
وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولا،
"ماما بہت شدت سے اس دن کا انتظار تھا اب یقین نہیں آ رہا کہ کیا واقعی وہ دن آ چکا ہے. یہ تو خوشی کے آنسو ہیں."
باپ نے کہا،
"اب تم بھی راز سے پردہ ہٹا دو، تمہاری ماں نے مجھے بتایا ہے کہ تمہیں بھی کوئی پسند ہے. میں تم دونوں کی شادی ایک ساتھ کرنا چاہتا ہوں."
ادیان نے کہا،
"پاپا بھائی کے نکاح سے پہلے میرا نکاح کر دیں، پھر بھائی کا کرنا تاکہ میں بھائی کی شادی کو اچھی طرح سے انجوائے کر سکوں."
ماں نے کہا،
"یہ سب بعد کی باتیں ہیں ابھی ان لڑکی والوں کے گھر جانا ہے نہ جانے وہ بھی اس بات پر راضی ہوتے ہیں یا نہیں."
ادیان نے کہا،
"اسکا بھائی میرا دوست ہے میری اس سلسلے میں اس سے بات ہو چکی ہے وہ رشتہ دینے پر راضی ہیں."
باپ نے جوش سے کہا،
"پھر دیر کس بات کی، پہلے ہی دن گنے چنے ہیں بیگم ہم آج ہی ان کے گھر چلتے ہیں."
ماں بولی،
"مگر اس کی طبیعت بھی تو کچھ سنبھلے ناں."
انس بولا،
"پاپا آپ فکر نہ کریں شادی کے نام سے ہی اس کی طبیعت بہتر ہو جائے گی. اس کی آپ فکر نہ کریں میں اس کے ساتھ ہوں. آپ دونوں ہی جا کر بات پکی کر لیں. میں ناشتے کے بعد اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں اور آپ کو ڈرائیور کے ساتھ ان کے گھر بھیج دیتا ہوں."
جب ادیان نے دوست کو فون پر بتایا تو وہ بولا،
"ہم گھر والوں کا انتظار کریں گے پہلے تمہارے والد فون پر میرے والد سے بات کر لیں اور تمہاری والدہ میری امی سے."
ادیان کے والد نے کہا،
"بالکل مناسب بات ہے ہم اپنے آنے کی اجازت طلب کریں گے پھر آنے کا مدعا بیان کریں گے."
جب ان لوگوں کی بات چیت مکمل ہو چکی تو ادیان کی والدہ نے شوہر سے پوچھا،
"آپ کو وہ لوگ کیسے لگے."
جواب میں وہ خاموش ہو گئے. پھر والدہ بولی،
"مجھے تو ان کی باتوں سے کچھ خوشی نہ ہوئی. عجیب سی باتیں کر رہے تھے. لکھنے لکھانے کی بھی. یہ بیٹا ہمارا کدھر پھنس رہا ہے."
ادیان کے والد نے بیوی سے کہا،
"ہمیں بیٹے کی خوشی دیکھنی ہے ہمارا بیٹا بہت سمجھدار ہے. یقیناً اس نے لڑکی میں کچھ خوبیاں ضرور دیکھی ہوں گی. ہمیں بیٹے کی پسند پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس کی خوشی کی خاطر ان کی ڈیمانڈ ماننی پڑے گی تم ابھی بچوں سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کرنا. کہہ دینا خوش ہو اور اچھے لوگ ہیں."
وہ لوگ ان کے گھر مٹھائی اور پھل فروٹس لے کر چل پڑے. انہوں نے بڑی گرم جوشی دکھائی. لڑکی بھی جیسے انتظار میں تھی سب کے ساتھ بڑے جوش میں وہ بھی آ کر ملی.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.