Logo
Sehme hua Khawab
8 Episodes
Sehme hua Khawab EP 3
Episode 3

سہمے ہوئے خواب3

Sehme hua Khawab

تیسرا حصہ - Part 3.


ادیان کے دوست نے ان کو بٹھایا۔ اس کی ایک شادی شدہ بہن اپنے دو بچوں سمیت ادھر موجود تھی. اسکا شوہر زیادہ پڑھا لکھا نہیں لگ رہا تھا. ادیان کی ماں کو کوفت محسوس ہو رہی تھی اسے وہ لوگ پسند نہیں آ رہے تھے. اس کی بہن ان کی لائی ہوئی چیزوں کی فوٹو کھینچ رہی تھی.

ادیان کی ماں کو برا لگ رہا تھا. پھر وہ ساری چیزیں اٹھا کر لے گئے. ادھر سے ادیان فون کر کے پوچھنے لگا تو باپ نے تسلی دی اور ادیان کی ماں کو سرگوشی کی 

"ہمیں بیٹے کی خوشی دیکھنی ہے. وہ فون کر کے پوچھ رہا ہے."

ماں بےبسی سے ایک سرد آہ بھر کر خاموش ہو گئی. دوست نے بہن کو پکارا 

"رامین جلدی سے چائے وغیرہ لاؤ."

وہ بھی اونچی آواز میں جواب دے کر بولی، 

"جی بھائی لاتی ہوں."

چاے پانی سے فارغ ہو کر رشتے کی بات چیت شروع ہوئی اور رشتہ طے پا گیا. نکاح اگلے دن مقرر ہو گیا.

ادیان کی ماں نے لڑکی کو بلایا اور وہ تیزی سے آ کر دوپٹہ گلے میں ہی ڈالے ان کے پاس بیٹھ گئی. ادیان کی ماں نے اسے سلامی دی جو اس نے جھٹ پکڑ لی.

اس کے بھائی نے بڑے جوش سے سب کو مبارک باد دی. ادیان کے والدین قدرے سنجیدہ ہی رہے. وہ لوگ جوش دکھا رہے تھے.

لڑکی نے تیز لپ اسٹک بھی لگائی ہوئی تھی. بہن مسلسل فوٹو کھینچ رہی تھی. بچے کھانے پینے کی چیزوں کو اٹھا کر کھا رہے تھے. ادیان کی ماں نے جلد ہی جانے کی اجازت طلب کی کہ ادیان کی طبیعت خراب ہے.

سارے راستے ادیان کی ماں ان کی برائیاں کرتی رہی. شوہر نے کہا، 

"جو بھڑاس نکالنی ہے ادھر نکال لو. گھر جا کر ایسی ویسی کوئی بات نہ کرنا جس سے بچوں کا دل خفا ہو. بچہ ادھر چاہتا ہے شادی کرنا تو ہم کیا کر سکتے ہیں. دیکھا نہیں وہ کتنا جوش دیکھا رہا ہے اس رشتے کے لیے."

ادیان کی ماں بولی، 

"بیٹے کو سمجھایا بھی تو جا سکتا ہے ناں. ابھی بھی ہم اسے بچا سکتے ہیں. ابھی تو صرف بات چیت ہوئی ہے."

ادیان کے باپ نے افسوس کرتے ہوئے کہا 

"بیگم مجھے آپ سے اس بات کی توقع نہیں تھی. آپ کی کوئی بیٹی نہیں ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم بیٹی والوں کی عزت کا خیال نہ کریں. ہم کیسے ایک وعدہ کر کے اس سے مکر سکتے ہیں بھلا. اب جو بھی ہو شادی ادھر ہی ہو گی."

بیوی نے کہا، 

"میرا یہ مقصد نہیں تھا. سوری."

میاں نے ایک سانس بھر کر ہوؤں کہا.

بیگم نے کہا، 

"ویسے آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ وہ بیٹی والے ہیں. مجھے لگتا ہے بعد میں ہم سب کو بیٹے کی تباہی دیکھ کر یہ افسوس نہ ہو کہ کاش اس وقت اسکا کوئی حل نکال لیا ہوتا."

شوہر سے بولی، 

"بس ان کی ناجائز کوئی بات نہیں ماننی."

شوہر بولا، 

"اچھا بس کرو گھر آ گیا موڈ ٹھیک کر لو."



ساریہ کو رامین اپنی منگنی کی پکچرز وٹس ایپ کرنے لگی خوب بڑھا چڑھا کر 

"میرا ادیان سے رشتہ پکا ہو گیا ہے امید ہے کہ تمہیں اچھا نہیں لگ رہا ہو گا کیونکہ تم اس کے سپنے دیکھنے لگی تھی. سن لو یہی سچائی ہے کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور مجھ سے ہی شادی کرے گا."

رامین نے بھابھی کے کہنے پر اسے مبارک باد کا میسج کیا. جواب میں اس نے ہا ہا ہا لکھا.

بھابھی نے سمجھایا 

"وہ اب تمہاری دیورانی بن رہی ہے تو تم بھی اسی طرح لکھ دو کہ تم بھی اس کے ساتھ پرینک کر رہی تھی ورنہ تم اپنے رشتے سے بہت خوش ہو."

جواب میں رامین نے لکھا. 

"میں سب سمجھتی ہوں، انگور کھٹے ہیں."

ساریہ کو بہت دکھ ہوا. اس نے کہا، 

"ضروری ہے کہ میرا اسی گھر میں رشتہ ہو. وہ تو میرا وہاں جینا حرام کر دے گی. مجھے بدنام کر دے گی."

بھابھی نے کہا، 

"تم اپنے شوہر کو کہنا یہ دونوں میرے ساتھ پرینک کر رہے تھے جبکہ میں حقیقت جانتی تھی مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ میں جانتی ہوں. میں نے بھی جواب میں پرینک کیا."

ادیان کے والدین جب گھر پہنچے تو کچھ خاموش سے تھے. انس نے ان سے وجہ دریافت کی اور بھابھی کے بارے میں پوچھا اور پکچر دکھانے کا کہا،

اس کی ماں نے کہا 

"بیٹا ہمیں ادیان کی بیماری کی فکر لگی ہوئی تھی ہم تصاویر لانا بھول گئے. اب اسے سرپرائز ہی رہنے دو. گھر آئے گی تو دیکھ لینا."

وہ ادب سے بولا، 

"جی بہتر."

ماں نے دل میں سوچا کہ فوٹو دیکھ کر اس پر کیا امپریشن پڑے گا گلے میں رسی کی طرح دوپٹہ ڈالے دیدے پھاڑ کر سب کو دیکھ رہی تھی نہ کوئی شرم نہ حیا.



رامین کے گھر والے بھی اس کو کچھ نہیں کہہ رہے تھے. بلکہ ماں بار بار جتلا رہی تھی 

"یہ گھر بھر کی لاڈلی ہے." 

رامین نے اپنی بڑی بہن کو ان کے جانے کے بعد بتایا کہ وہ تو پہلے ہی اس سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر بیچ میں ساریہ آ گئی تو میں مایوس ہو گئی.

پورے کالج میں سب سے ہیندسم تھا. اکثر اپنے دوست میرے بھائی کے ساتھ ہی زیادہ رہتا تھا. اس پر سب سے زیادہ میرا حق تھا. میرے بھائی کا دوست تھا. میں دل میں بہت جیلس ہوتی تھی. اب اس کو جیلس کیا کروں گی بڑا مزہ آئے گا.



ادیان نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو تسلی خود ہی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب اگر کسی کو اس گھر میں عزت بنا کر لائے گا تو اس کے حقوق و فرائض بھی پوری ایمانداری سے پورے کرے گا. اس سلسلے میں اسے پہلے رامین کو فون پر بات کر کے تسلی دینا چاہتا ہے.

اس نے ساری بات دوست کو بتائی اس نے کہا، 

"میں ابھی رامین سے تمہاری بات کرواتا ہوں."

جب اس نے ساری بات رامین سے کہی 

"جب تم میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی تو پھر کوئی اور لڑکی میری زندگی میں معانی نہیں رکھتی. تم مجھ پر کھبی شک نہ کرنا."

وہ جواب میں بولی، 

"اوکے مجھے اچھا لگا آپ سے بات کر کے. آپ مجھے روز میسج کیا کریں گے ناں."

وہ بولا 

"میں بہت بزی رہتا ہوں اور جلد ہم نکاح کرنے والے ہیں اس کے بعد ہی یہ کام کر سکوں گا اس سے پہلے میسج اور فون ممکن نہیں." 

یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا.

رامین کو سخت غصہ آیا.

اس کی شادی شدہ بہن جو اسی گھر میں رہتی تھی. اس سے پوچھنے لگی 

"کیا ہوا؟"

رامین نے ساری بات بتائی تو وہ بولی، 

"سمپل اس نے تمہیں ستایا ہے تم اسے نخرے دکھانا، آخر تم اس گھر کی لاڈلی ہو. کوئی اہمیت ہے تمہاری بھی."

وہ بولی 

"ٹھیک ہے آپا، اب دیکھنا میں اسے کیسے سیدھا کرتی ہوں."



ادیان نے کہا، پرسوں جمعہ ہے اور پہلے میرا نکاح ہو گا پھر اتوار کو انس بھائی کا. گھر والے ماننے پر مجبور ہو گئے.

ساریہ کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ انہیں بھی نکاح پر ساتھ چلنے کا کہا گیا.

جمعہ کا دن تھا جمعے کے بعد نکاح رکھا گیا.

صرف ادیان کے گھر والے اور ساریہ کے گھر والے مدعو تھے. رامین کا جوڑا انہیں سے کہا گیا کہ آپ اپنی پسند سے خرید لیں ہم پے منٹ کر دیں گے ساری شاپنگ کی. پارلر وغیرہ بھی.

زیور ہم خود لے آئیں گے. وہ لوگ خوش ہو گئے اور انہوں نے اپنے کھانے پلانے وغیرہ کا سب خرچہ بھی ڈال کر بتا دیا جو ادیان نے دوست کے اکاؤنٹ میں خاموشی سے بھیج دیا.

ساریہ کی بھابھی، بھائی اور والدین ان کے ساتھ نکاح پر گئے. پہلے وہ لوگ ادیان کے گھر پہنچے تو ان کو بہت عزت بخشی گئی. بھابھی ان کا محل جیسا گھر دیکھ کر نہال ہو گئی.

ادیان کے باپ نے انہیں سارا گھر دیکھایا اور انس کا روم جو جدید مہنگے فرنیچر سے آراستہ تھا دکھا کر کہا، 

"تم اپنی بیٹی کو جہیز مت دینا. دیکھ لو گھر میں ہر چیز موجود ہیں پھر کس چیز کی کمی ہے. جو تم اپنے پیسے کا ضیاع کرو گے."

وہ قائل ہوتے ہوئے بولا، 

"ٹھیک ہے یار."

جب نکاح کے لئے پہنچے تو رامین ایک درمیانی قیمت کے سوٹ میں ملبوس تیار ہو کر بیٹھی ہوئی تھی. میک اپ بھی پارٹی میک اپ تھا.

ساریہ کی بھابھی اور ساریہ کی ماں ان لوگوں کو دیکھ کر کچھ اداس سی ہو گئیں کہ ان لوگوں میں ان کے بیٹے کو کیا نظر آیا. ساریہ کی بھابھی نے جب ادیان کو دیکھا تو وہ اسے کافی سلجھا ہوا لگا.

وہ سنجیدہ سا لگ رہا تھا. اس کے چہرے پر خوشی کے کوئی آثار موجود نہ تھے نہ ہی اس کے گھر والوں پر.

انس ان لوگوں کو دیکھ کر بھونچکا رہ گیا کہ یہ میرا بھائی کن لوگوں میں پھنس رہا ہے. ادیان نے ساریہ کے گھر والوں کو بھی بہت عزت دی.

ساریہ کی بھابھی کو شک ہو گیا اور وہ کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ساریہ کو پسند کرتا ہو مگر بھائی کے لیے قربانی دے رہا ہو اور جلدی سے ادھر نکاح کر رہا ہو کہ ساریہ اس سے مایوس ہو کر اس کے بھائی کے لیے ہاں کر دے.

ساریہ آج بہت دکھی تھی ابھی بھی اس کے دل کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی جھوٹے پیار کی ایسی پرفیکٹ ایکٹنگ کیسے کر سکتا ہے. اسکا دل چیخ چیخ کر رونے کے لیے مچل رہا تھا. گھر میں وہ آج اکیلی تھی خوب جی بھر کر روئی.

پھر نڈھال ہو گئی. سر بھاری ہونے لگا. اتنے میں اس کی بھابھی کا فون آ گیا اور اس نے بتایا کہ نکاح ہونے والا ہے.

اس کی آواز بھاری لگ رہی تھی بھابھی کو اندازہ تھا کہ وہ رو رہی ہو گی. بھابھی نے اسے تسلی دی اور کہا، 

"چائے بنا کر پی لو ساتھ کچھ اسنیک کھا کر سر درد کی گولی کھا کر لیٹ جاؤ بلکہ آج تو ایک نیند کی بھی کھا لو اور سو جاؤ."

اس نے کہا 

"اچھا"

ساریہ کی بھابھی نے ساریہ کی ماں کو تسلی دی 

"ابھی فون کیا ہے وہ ٹھیک ہے."

رامین کے کچھ قریبی رشتے دار بھی آئے ہوے تھے. سب انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے اور کچھ عورتیں آپس میں سرگوشیاں بھی کر رہی تھیں. بچوں نے شور شرابہ مچایا ہوا تھا.

ساریہ اور انس کی ماں شور سے تنگ ہو رہی تھیں. ایک سمجھدار مہمان عورت نے بچوں کو ڈانٹ کر باہر بھیج دیا.

رامین سب کے درمیان بیٹھی شرما کم اور ادھر ادھر زیادہ دیکھ رہی تھی. ساتھ باتیں بھی کر رہی تھی.

ایک مہمان نے اسے ٹوکا 

"دولہن خاموش رہتی ہے." 

تو وہ شرمندہ ہو کر چپ ہو گئی. ساریہ کی بھابھی ساس اور انس کی ماں کا خیال رکھ رہی تھی.

ان کو باتھ روم ساتھ لے کر جانا اور نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے موزوں جگہ تلاش کر کے دینا. ادیان کی ماں ساریہ کی بھابھی کی تعریف اس کی ساس کے آگے کر رہی تھی. وہ بھی خوش ہو کر تائید کر رہی تھی 

"اس کی بہو واقعی بہت اچھی ہے."

نکاح مسجد میں ہوا.

وہ لوگ کافی کچھ لکھوا رہے تھے مگر کچھ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر مناسب کروایا. جب نکاح ہو گیا تو دولہن نے میچنگ آرٹیفیشل جیولری پہنی ہوی تھی. سب ادیان کی ماں کو مبارک باد دینے لگے.

ساریہ کی بھابھی اور ماں نے بھی مبارک باد دی اور سلامی دی. ادیان کو بلایا گیا ساری فیملی کو ساتھ بٹھا کر فوٹو کھینچے گیے.

ادیان کی ماں نے سلامی اور سونے کا سیٹ دیا. انس نے بھی سلامی دی. ادیان مسلسل سنجیدہ رہا.

ادیان کے باپ نے بھی سلامی دی.

کچھ وقت گزرنے کے بعد ادیان کی ماں نے کہا کہ اب چلنا چاہیے.

ادیان نے کہا، 

"معزرت کے ساتھ مگر میں دولہن کو آج ہی رخصت کر کے لے کر جاؤں گا."

سب چونک کر اسے دیکھنے لگے. کافی بحث و مباحثہ کے بعد کچھ رشتے داروں کے سمجھانے پر رامین کے گھر والے رخصتی دینے پر آمادہ ہو گئے.

ادیان کی ماں بیٹے کے اس پلان سے ناواقف تھی. اس نے انس سے پوچھا 

"کیا اس نے رخصتی کروانے کا ارادہ تمہیں بتایا تھا" 

وہ بولا، 

"نہیں بلکل بھی نہیں. میں خود حیران ہوں. میں تو اپنے چھوٹے بھائی کی شادی بہت دھوم دھام سے کرنا چاہتا تھا. مگر یہ اتنا دیوانہ ہو گیا کہ اب نکاح کر کے اس سے جدائی برداشت نہیں ہو رہی. اتنی دیوانگی."

رخصتی کے ساتھ رامین کی بڑی بہن، بہنوئی، ان کے بچے اور رامین کا بھائی اور چند رشتے دار عورتیں ساتھ چل پڑیں.

رامین نے رخصتی پر بہن سے احتجاج کیا 

"یہ کیا اتنی سادگی سے شادی."

بہن نے سمجھایا 

"تم ادھر جا کر اپنی منوا لینا."

رامین کے گھر والے اور رشتے دار جب ان کے گھر پہنچے تو ان کا شاندار بڑا سا گھر دیکھ کر دم بخود رہ گئے.

خود رامین بھی اپنے بیڈروم کو دیکھ کر حیران رہ گئی. ساریہ کی بھابھی کچن میں ان کی ملازمہ کے ساتھ چائے پانی کے انتظام میں مدد کرنے لگی. جب سب مہمان رخصت ہوئے تو ساریہ کے گھر والوں نے بھی اجازت چاہی.

انس تو خوشی سے ساریہ کے گھر والوں کے آگے پیچھے پھر رہا تھا. ادیان رامین کے گھر والوں کو عزت دے رہا تھا. رامین کی بہن کے بچوں کو ادیان کی ماں نے پیسے دیے. جو اس کی ماں نے خوشی سے پکڑ لیے.

ان لوگوں کو رخصت کرتے وقت ادیان کی ماں نے سب کو جوڑے دیے.جس سے وہ بہت خوش ہوئے اور خوشی سے رخصت ہوئے.

جب ساریہ لوگ جانے لگے تو ادیان کی ماں نے کہا 

"ان سب کے جوڑے بھی گاڑی میں رکھ دو."

ساریہ کے گھر والوں نے بہت منع کیا مگر وہ بولے، 

"ساریہ کی بھابھی نے ہماری بہت ہیلپ کی اور آپ لوگوں نے ساتھ دیا. آپ سب کا بہت شکریہ خاص طور پر ساریہ کی بھابھی کا."

ہنسی خوشی وہ لوگ رخصت ہوئے اور سنڈے کو نکاح کی ڈیٹ فکس کر دی.


ساریہ کے باپ نے ہنستے ہوئے کہا 

"کہیں آپ لوگ بھی رخصتی کا تو ارادہ نہیں رکھتے."

انس بولا، 

"نہیں انکل میں دھوم دھام سے اپنی شادی کروں گا."

رامین یہ سنکر دل میں جلنے لگی. ادیان کو رات کے کھانے کے بعد روم میں بھیجا گیا. رامین کو پہلے ہی ملازمہ کے ساتھ اسے روم میں بھیج دیا گیا تھا.

ادیان اپنے روم میں گیا تو رامین صوفے پر بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی.



Continue Reading
Episode 4
سہمے ہوئے خواب4

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry