Sehme hua Khawab
8 Episodesچھٹا حصہ - Part 6
ساریہ کے گھر والے انس پر بہت غصہ تھے. ان کو انس کے گھر والے پسند تھے مگر انس کی شادی پر وہ برہم تھے. انس نے میسج کر کے معزرت کر لی تھی
"سچویشن ایسی بن گئی تھی کہ اسے بیوہ کو سہارا دینا پڑا. ساریہ اور ادیان تو کنوارے تھے اس لیے ان کو رشتے کا کوئی مسئلہ نہ تھا اب میں ساریہ کا رشتہ اپنے بھائی ادیان کے لیے ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے مانگتا ہوں. میرے والدین بھی اس رشتے سے خوش ہیں کیونکہ وہ ساریہ سے بہت پیار کرتے ہیں. میں میسج کر کے اس لیے بات کر رہا ہوں کہ مجھ سے آپ لوگ خفا اور نالاں ہیں تو شاید آپ میری بات سننا بھی گوارا نہ کرتے. میں گھر آ کر پاوں پکڑ کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں."
میسج پڑھ کر ساریہ کے گھر والے سوچ میں پڑ گئے. کیونکہ ساریہ کے لیے ایک اچھا رشتہ آیا تھا اور وہ لوگ اس پر غور کر رہے تھے ہاں کرنے کے لیے.
ساریہ کی بھابھی بہت خوش ہوئی. اسے پہلے ہی ساریہ اور ادیان کی محبت کا اندازہ تھا. ساریہ خاموش سی ہو گئی.
انس نے ادیان کو پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا،
"تم نے اتنی بڑی اپنی محبت کی قربانی کیوں دی."
ساریہ کے گھر والے ادیان کے گھر والوں کی آمد کی تیاری کر رہے تھے.
بھابھی ساریہ کو خوب چھیڑ رہی تھی. ساریہ چپ چاپ سی تیاری میں لگی ہوئی تھی.
ادیان کے گھر والے جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک فون آیا کہ بہو کی پھوپھو فوت ہو گئی ہیں. بہو بہت رونے دھونے لگی کیونکہ اسے پھوپھو سے بہت پیار تھا.
سب گھر والے اس کے ساتھ چل پڑے اور انس نے ساریہ کے بھائی کو فون پر آنے سے معزرت کر کے ساری سچویشن بتا دی۔
جب ساریہ کے بھائی نے گھر والوں کو بتایا تو ساریہ کے باپ کا غصے سے برا حال ہو گیا.
اس نے غصے سے کہا کہ ان لوگوں کو کسی کی بیٹی کی عزت کا خیال نہیں ہے.
پہلے بھی ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا. اب دوبارا ان لوگوں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننا. یہ قابل بھروسہ لوگ نہیں ہیں. بہو نے کچھ فیور لینا چاہی مگر اس کی نہ چل سکی. ساریہ کے باپ نے دوسرے رشتے والوں کو ہاں کرنے کا فون کر دیا.
وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور اسی دن آ کر منگنی کی رسم اور شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد کی فکس کر گئے.
َساریہ چپکے چپکے بھابھی کے آگے روتی رہی.
بھابھی نے ساریہ کے بھائی کو ساری سچائی بتا دی. وہ سنکر پریشان ہو گیا اور بولا،
"مجھے پہلے کیوں نہ بتایا. اب ابو کو منانا کتنا مشکل کام ہے جبکہ اس کی شادی بھی فکس ہو چکی ہے."
بھائی نے جا کر باپ کو ساری سچائی بتا دی تو وہ غصے میں بھڑک اٹھے اور ساریہ کو برا بھلا سنانے لگے
"تم کالج یہ سب کرنے جاتی تھی. تم نے میرا مان توڑا ہے. اگر تم باپ کو ذلیل کر کے اپنے اس کمبخت عاشق سے شادی کرنا چاہتی ہو تو میں آج اسے بلا کر تمہارا نکاح اس سے کروا دیتا ہوں مگر اس گھر سے اور تمام گھر والوں سے ہمیشہ کا ناتہ توڑنا پڑے گا. اب جو فیصلہ ہے بتا دو."
وہ سر جھکائے روتی رہی اور سنتی رہی. اور بولی،
"مجھے آپ لوگوں کی عزت اپنی محبت سے زیادہ پیاری ہے. پسند کرنا کوئی گناہ نہیں. ہم دونوں میں ایسی کوئی بات نہیں. نہ کھبی فون پر رابطہ کیا. ہم دونوں میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے. مجھے آپ لوگوں کی عزت ساری چیزوں سے پیاری رہی ہے. تب ہی میں نے انس کے لیے ہاں کی تھی. میں جانتی تھی وہ اپنے بھائی کے لیے قربانی دے رہا ہے. پھر بھی مجھے آپ لوگوں کا فیصلہ منظور ہے."
یہ کہہ کر وہ تیزی سے روم سے نکل گئی.
ماں بیٹی کے درد سے دکھی ہو گئی. شوہر کو سمجھانے لگی
"جس میں بیٹی کی خوشی ہو ہمیں وہ فیصلہ کرنا چاہیے. زندگی اس نے گزارنی ہے."
باپ نے گرج کر کہا،
"سارے جہاں کی بدنامی اپنے سر لے لوں. دنیا کیا کہے گی کہ دو بار لڑکی کا رشتہ ٹوٹا ہے. میرے لیے وہ لوگ قابل بھروسہ نہیں ہیں. دو بار دھوکہ دے چکے ہیں. میں اب پیچھے نہیں ہٹوں گا اور دوبارہ مجھ سے کوئی اس ٹاپک پر بات نہ کرے."
سب گھر والے بہت پریشان ہو گئے. باپ کے آگے کوئی بول نہ سکتا تھا. ساریہ نے چپ سادھ لی. ماں روتی رہتی.
بہو ساس کو تسلی دیتی
"شاید اسی میں ہماری ساریہ کی بھلائی ہے."
ادیان قدرے پرسکون سا ہو گیا کہ اب ساریہ سے اسکا رشتہ ہونے لگا ہے.
ادیان کے باپ نے کہا،
"چالیسویں کے بعد ہم سیدھا نکاح کر دیں گے. پھر شادی دھوم دھام سے کر دیں گے."
ادیان اب قدرے مسکرانے لگا.
انس نے جب ادیان کو مسکراتے دیکھا تو بہت خوش ہوا. دل میں اس کی خوشیوں کی دعائیں کرنے لگا.
ساریہ کے باپ نے کہا،
"خبردار ادیان کے گھر والوں کو ساریہ کی شادی کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے. ان لوگوں نے جو ہمارے ساتھ کیا ہم بھی ان کے ساتھ کریں گے."
اس نے شادی کی تیاریوں پرزوردیا.
ساریہ کا بھائی بولا
"ان لوگوں نے جہیز میں کوئی سازو سامان دینے سے منع کیا ہے کہ لڑکی باہر ملک چلی جائے گی تو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں. انہوں نے صرف چند جوڑے کپڑے بنانے کا کہا ہے وہ بھی عام روٹین کے."
ساریہ کا باپ بولا،
"ٹھیک ہے. ہم اس کو کچھ نقد دے دیں گے. اس کی جائیداد کے حصے کا پلاٹ لے دیتے ہیں."
بہو نے مشورہ دیا
"اگر آپ پلاٹ دیں گے بھی تو ان لوگوں کو بھنک نہیں پڑنی چاہیے. شادی ہو جانے کے کچھ عرصے بعد ساریہ کو مناسب لگا تو بتا دے گی. ہم اس کی امانت سمجھ کر سنبھال کر رکھیں گے. اس پر ساریہ کا حق ہے. کئی ایسے واقعات بھی سننے کو ملے ہیں کہ شوہر نے بیوی کی جائیداد بیچ کر عیاشی میں اڑا دی. یہ ساریہ اور اس کی اولاد کے کام آئے گا."
بھائی نے باپ سے کہا،
"ابو آپ کی بہو بہت سمجھداری کی بات کر رہی ہے ہمیں اس کی بات کو مان لینا چاہیے."
باپ نے دل میں قائل ہوتے ہوئے کہا،
"ہووں ٹھیک ہے دیکھتے ہیں."
ساریہ کے باپ نے لڑکی والوں کو اگلے دن نکاح کرنے کے لیے آنے کا کہا،

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.