Sehme hua Khawab
8 Episodesساریہ کالج کے گراونڈ میں بیٹھی اپنی فرینڈز سے باتیں کر رہی تھی. اس کی متلاشی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں. فرینڈز اس کو چھیڑ رہی تھیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے. اس کی نظریں کسی اور کو تلاش کر رہی ہیں.
ساریہ شرما کر اداسی سے بولی،
"یار فضول باتیں نہ کرو. آج کالج میں آخری دن ہے اس کے بعد ہم لوگ جدا ہو جائیں گے پھر نہ جانے قسمت ہمیں کہاں کہاں لے جائے."
اتنے میں دور سے اسے ادیان آتا نظر آیا.
فرینڈز ساریہ کو چھیڑنے لگیں اور اٹھتے ہوئے بولیں،
"چلو چلیں وقت کم ہے اور دو پریمیوں کو آخری دن کچھ مستقبل کے پلان بنانے دیں."
ایک فرینڈ جاتے ہوئے بولی.
"شادی میں ضرور بلانا."
ادیان آیا اور قریب گھاس پر بیٹھ گیا.
ادیان نے ساریہ سے کہا،
"دیکھو ساریہ اب تو تم میرا فون نمبر لے لو. میں جلد رشتہ بھیجوں گا. کافی جگہ نوکری کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے. جوں ہی نوکری لگی میں فوراً رشتہ بھیج دوں گا بس کھبی کبھار مجھے میسج کر لیا کرنا."
وہ بولی،
"کھبی نہیں. جب تک میں تمہارے نکاح میں نہیں آ جاتی میں کوئی کال کوئی میسج نہیں کروں گی. میں تو آج فون بھی گھر بھول آئی ہوں. مجھے نمبر یاد نہیں رہتے. تم ایک کاغذ پر لکھ کر نمبر دے دو."
دونوں اداسی سے ایک دوسرے سے جدا ہوئے.
ساریہ کے ابو ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے ابھی فارغ ہوئے تھے. بیٹا بھی اسی کمپنی میں جاب کرتا تھا.
ساریہ سے بڑا ایک بھائی تھا. جس کی تھوڑا عرصہ پہلے اپنی کزن سے شادی ہوئی تھی. جو ساریہ کی ہم عمر تھی اور دونوں میں دوستی بھی تھی.
ساریہ نے ادیان کے بارے میں بھابھی کو بتایا ہوا تھا کہ وہ دو سال سے اسے جج کر رہا تھا اور بڑی مشکل سے وہ اپنے دوست کی بہن جو اس کی کلاس فیلو اور دوست تھی اس کو اپنے دل کا پیغام پہنچایا تھا اور بڑی مشکل سے وہ دوست کے سمجھانے پر کہ وہ اس قسم کا لڑکا نہیں ہے وہ تم سے فلرٹ نہیں بلکہ شادی کرنا چاہتا ہے. اور تمہاری رضامندی سے تمہارے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے.
بھابھی نے کہا
"اگر وہ تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ فلرٹ نہیں کر رہا بلکہ سیریس ہے. جب وہ رشتہ بھیجے گا تو میں تمہارے بھائی جان کو بتا کر تمہارا ساتھ دوں گی."
ساریہ خوش ہو گئی اور اس کے رشتے کا انتظار کرنے لگی.
اس کا فون نمبر اس سے کھو گیا. دوست کا نمبر بھی بند مل رہا تھا. وہ بہت پریشان تھی کہ گھر میں اس کی شادی کے تذکرے ہونے لگے تھے اور ابھی تک ادیان کا رشتہ نہیں آیا تھا حالانکہ اس نے اسے گھر کا ایڈریس بھی بتایا تھا.
ادیان اور انس دو ہی بھائی تھے. باپ ایک کامیاب بزنس مین تھا. انس بزنس میں باپ کا ساتھ دے رہا تھا اور اب اس نے ادیان کو بھی اپنے ساتھ بزنس میں لگا دیا تھا اور باپ کو گھر بٹھا دیا تھا.
آجکل ادیان بھائی کے ساتھ بزنس کو سمجھنے میں بہت بزی تھا پھر ایک نیا پروجکٹ بھی انہوں نے شروع کیا تھا جس میں رات گئے بزی رہتے تھے.
انس کی منگیتر فوت ہو چکی تھی جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا. اور شادی کے لئے ٹال مٹول کر رہا تھا. اسے کوئی لڑکی پسند نہ آتی تھی.
ادیان نے ماں سے اپنی پسند کا زکر کیا تھا کہ وہ کسی کو بہت پسند کرتا ہے اور اسی سے ہی شادی کرے گا. والدین انس کی بھی شادی کرنا چاہتے تھے.
ساریہ اور اس کی بھابھی شاپنگ مال میں چیزیں دیکھ رہی تھیں. انس کی ماں نے انس سے کہا کہ وہ آج وقت نکال کر شاپنگ پر لے جائے.
انس اور اس کی ماں اسی شاپنگ مال میں شاپنگ کر رہی تھیں کہ انس کی ماں اپنا پرس شاپ پر بھول گئی.
ساریہ نے دیکھا تو بھابھی سے بولی،
"وہ آنٹی اپنا پرس بھول گئی ہیں. آپ ادھر ٹھہرو. میں جا کر دیکھتی ہوں زیادہ دور نہیں گئی ہوں گی."
وہ تیزی سے ہانپتی کانپتی تیز تیز چلتی ان کے پیچھے گئی اور آواز دینے لگی
'آنٹی جی آپ یہ پرس ادھر بھول آئی تھیں."
انس نے دیکھا تو اس کے دل کو وہ چھو گئی وہ اسے پیار سے دیکھنے لگا. ماں نے بھی بیٹے کی نظروں کو بھانپ لیا. اسے یہ یہ بھولی بھالی اور ایماندار لڑکی بہت پسند آئی.
اس نے اسے پیار کیا اور بہت شکریہ ادا کیا اور کہا،
"ہم تمہارے گھر تمہارے والدین کا شکریہ ادا کرنے آئیں گے جنہوں نے اتنی اچھی تربیت کی."
ساریہ مروت سے بولی.
"جی آنٹی ضرور تشریف لائیں. موسٹ ویلکم."
ساریہ نے انہیں ان کے کہنے پر پاپا کا نمبر دے دیا. اس نے اپنا نمبر دینے سے معزرت کر لی. اور گھر کا ایڈریس بھی بتا دیا.
انس کھڑا دلچسپی سے کن انکھیوں سے دیکھتا رہا. ساریہ ان کو خدا حافظ کہہ کر، بھابھی کے پاس آ کر ساری ڈیٹیل بتانے لگی.
بھابھی کو کچھ اندازہ ہونے لگا مگر اس وقت کچھ نہ بولی. اس نے سوچا کہ وہ لوگ بہت سلجھے ہوے لگ رہے تھے. اور ابھی تک ادیان کا رشتہ نہیں آیا. اتنا وقت گزر گیا. کیا پتا وہ سیریس ہی نہ ہو اور اتنے اچھے لوگوں کا رشتہ ہاتھ سے جاتا رہے. ساریہ تو بہت بھولی ہے. اس لیے اس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی.
اگلے دن ہی انس کے والد کا فون آ گیا تو وہ اتفاق سے ان کا پرانا کلاس فیلو نکل آیا. دونوں بہت خوش ہوئے اور اگلے دن ہی وہ لوگ انس کو لے کر گھر چلے آئے.
جب ساریہ کو ساری بات کا پتا چلا تو وہ بہت سٹپٹائی. اس نے بھابھی کے آگے رونا شروع کر دیا
"وہ ادیان کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کرے گی."
بھابھی اسے سمجھاتے ہوئے بولی،
"تم پاگل مت بنو. تم سن رہی تھی ناں جب تمہارے پاپا نے انس کے پاپا سے کہا کہ رشتہ پکا کرنے سے پہلے اپنی بیٹی کی رضامندی بھی جان لیں. اس وقت انہوں نے کتنے پر اعتماد لہجے میں کہا تھا کہ ہماری پسند پر ہماری بیٹی کو کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا. ہم نے اپنے بچوں کی تربیت اس طرح سے نہیں کی کہ وہ ہمارے مان کو توڑ دے. ورنہ ہم غیرت سے مر جائیں گے شاید ہماری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے. آپ ہماری بیٹی کی کالج سے جانچ پڑتال بھی کر سکتے ہیں. کوئی افیر نہیں ہے. ہماری بیٹی کالج پڑھنے جاتی تھی."
وہ بولے،
"استغفار اللہ یار کیسی باتیں کرتے ہو. ہم تو شرعی طور پر کہہ رہے تھے کہ آپ بیٹی کی رائے بھی جان لیں."
باپ نے بڑے وثوق سے کہا،
"چلیں ہم یہ رسم بھی پوری کر دیتے ہیں. بیگم جائیں ہماری بیٹی کو بلا کر لائیں ہم آپ کے سامنے یہ شرعی فرض بھی ادا کر دیتے ہیں."
ساریہ گھبرا کر بھابھی کو دیکھنے لگی اور کچن میں بھاگ کر آ گئی.
بھابھی نے سمجھایا
"اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے باپ کا مان رکھ کر ہاں کر دو. اللہ تعالیٰ اس کا تمہیں بہت اجر دیں گے اور تمہارے حق میں بہت بہتر ہو گا."
ساریہ نے بےبسی سے بھابھی کو دیکھا. ساریہ کی ماں نے بہو کو سب بات بتائی اور اسے ساریہ کو ساتھ لانے کا بولا.
وہ بولی،
"جی میں ساریہ کو لاتی ہوں آپ چلیں."
ساریہ رونے لگی. بھابھی نے گلے لگا کر تسلی دی.
اس کے دوپٹے کا تھوڑا گھونٹ نکال کر اسے ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں آ گئی.
انس کی ماں نے اسے پیار سے اٹھ کر پاس بیٹھنے کا کہا. وہ سر جھکا کر پاس بیٹھ گئی.
انس کے والد نے ساریہ کے والد کو اشارہ کیا.
ساریہ کے پاپا نے ایک گہری سانس لی اور بولے،
"بیٹی میں تمہارا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے انس سے کرنا چاہتا ہوں کیا تمہیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں."
بھابھی پاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر حوصلہ دینے لگی.
ساریہ کو کچھ ہمت ملی اور اس نے بمشکل اثبات میں گردن ہلا دی. انس کی ماں نے خوشی سے اسے گلے لگا کر چوما اور پرس سے رنگ نکال کر بولی،
"اگر آپ لوگوں کی اجازت ہو تو میں یہ رسم ادا کر دوں کہ یہ آج سے ہماری بیٹی ہے."
ساریہ کا بھائی، باپ کی طرف دیکھ کر سوالیہ نظروں سے اجازت طلب کرنے لگا. ساریہ کے پاپا نے خوشی اور جوش سے بھرپور انداز میں اونچی آواز میں کہا،
"ضرور جی."
انس کی ماں نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہنا دی.
انس کے بھائی کو باپ نے کہا،
"انس کا اور سب کا منہ میٹھا کراؤ."
ساریہ فوراً اٹھ کر تیزی سے باہر بھاگ گئی.
بھابھی بولی،
"دراصل وہ اکلوتی اور لاڈلی ہے. شادی کے نام سے ہی جزباتی ہو کر رونے لگ جاتی ہے کہ میں آپ لوگوں کے بغیر کیسے رہوں گی."
انس کی ماں اطمینان سے بولی،
"ہمیں اس کی یہی معصومیت ہی تو پسند آئی ہے ورنہ لڑکیوں کو تو شادی کے ایسے موقع پر خوشی ہوتی ہے."
سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے. ساریہ کا بھائی سب کا منہ میٹھا کرانے لگا. ساریہ کے والدین نے انس کو شگن کے طور پر سلامی دی.
وہ لوگ بولے،
"ہم اب وقت ضائع کیے بغیر شادی کی ڈیٹ بھی آج ہی فکس کر دیتے ہیں. ویسے بھی کرونا کی وجہ سے زیادہ دھوم دھام اب ممکن نہیں رہی. مارکیوں کی بکنگ بھی زرا مشکل سے مل رہی ہے. کیوں نا ہم ایک ہی مارکی بک کروا لیں اور اکھٹی مہندی رکھ لیں. اسی دن نکاح کر لیں اور اسی میں بارات اور اگلے دن اسی میں ولیمہ کر لیں اور اخراجات آپس میں بانٹ لیں."
سب کو اس تجویز پر خوشی ملی. اور اتفاق رائے بھی ہو گیا.
انس کی ماں نے کہا کہ شادی کی شاپنگ بھی اکھٹی کر لیتے ہیں.
ساریہ کی ماں بولی،
"ایسا کرتے ہیں کہ دولہا دولہن کے صرف شادی کے جوڑے لے لیتے ہیں باقی ہم شادی کی شاپنگ کی رقم بیٹی کے اکاونٹ میں ڈال دیں گے، بعد میں وہ خود اپنی پسند سے شوہر کے ساتھ جا کر اپنی پسند سے کر لے گی. کیونکہ ہماری بہو بھی پریگننٹ ہے. زیادہ بازار وہ بھی نہیں جا سکتی."
انس کے والد نے کہا،
"بھابھی ہمیں جہیز کی قطعی ضرورت نہیں ہے. آپ صرف شادی کا ایک جوڑا بارات پر دیں اور فرنیچر وغیرہ بھی بنوانے کی ضرورت نہیں ہے. ہم لوگ ابھی نئے گھر میں شفٹ ہوئے ہیں اور سب کمروں میں نیا فرنیچر ڈالا ہے. اگر ساریہ بیٹی کو وہ پسند نہ ہوا تو بعد میں چینج کروا دیں گے. بس ہمیں ہماری بیٹی جلدی سے دے دیں تاکہ ہمارے گھر میں رونق لگ جائے."
سارے معاملات طے پا گئے. ساریہ کمرے میں روتی رہی. بھابھی اسے مسلسل سمجھاتی اور دلاسے دیتی رہی.
انس کی ماں نے ساریہ کی بھابھی سے ساریہ کی تصویر لینے کا کہا. بھابھی نے اپنے موبائل سے ایک اس کی پرانی تصویر دے دی.
انہوں نے کہا
"اس کے دیور کو دیکھانی ہے جو بہت خوش ہے اور بہت بےچین بھی بھابھی سے ملنے کے لیے. وہ کہہ رہا ہے بھابھی کی تصویر بھیجیں."
انس نے فوراً اس کو سینڈ کر دی.
تصویر دیکھ کر ادیان سکتے میں آ گیا.

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.