Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
جویریہ بہت دکھی ہوئی اسے اپنے پاپا کی سوچ پر حیرت ہوئی۔ اس نے آ کر شاہ رُخ اور اس کی ماں سے اپنے پاپا کے رویے کی معافی مانگی اور سر جھکا کر بولی، میرے لیے آپ لوگوں سے رشتہ جوڑنا خوش قسمتی اور فخر کا مقام ہے۔ میرا پہلا اور آخری انتخاب آپ لوگ ہی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے آنکھوں میں آنسو لیے باہر نکل گئی اور ماں سے غصے اور دکھ سے بولی، ماما پاپا نے شاہ رُخ اور اس کی ماں کی دل شکنی اور انسلٹ کر کے اچھا نہیں کیا۔ اگر میں شادی کروں گی تو صرف شاہ رُخ سے کروں گی ورنہ کسی سے نہیں، کیونکہ میں اسے پسند کرتی ہوں۔
واش روم سے زویا کا چچا نکلا اور ایک تھپڑ مار کر اسے بولا تم اس نوکر کے بیٹے سے شادی کرو گی ہرگز نہیں۔ وہ ہمارے پاوں کی جوتی ہیں۔ شور سنکر ابا جان اور سب آ گئے۔
شاہ رُخ اور اس کی ماں نے بھی ساری بات سن لی۔
جویریہ روتی ہوئی اپنے روم میں بند ہو کر سسکیوں سے رونے لگی۔
جویریہ کی ماں کی طبیعت ایکدم خراب ہو گئی۔
شاہ رُخ جو دکھی ہو کر ماں سے گھر چھوڑنے کا کہہ رہا تھا تو ابا جان نے اسے آواز دی اور جلدی سے ایمبولینس بلانے کا کہا۔
جویریہ بھی سنکر روتے ہوئے ماں سے لپٹ گئی۔
زویا کی چچی کو ہاسپٹل ایڈمٹ کر دیا گیا جویریہ کے والدین بھی آ گئے۔
زویا کی ماں نے انہیں سب بتا دیا تو وہ کافی حیران ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ رُخ تو بہت سلجھا پڑھا لکھا اور اس کی ماں بھی سلجھی ہوئی عورت ہے اور غریبی کوئی جرم نہیں ہے۔ ہمیں تو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔
زویا کی چچی کے بھائی نے کہا کہ ہم اپنی بہن اور بیٹی کو اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ مگر دادا نے ان سے اچھے طریقے سے سمجھا کر معزرت کر لی۔ اور کہا کہ ہم بیٹے کو سمجھا دیں گے اور جویریہ کا رشتہ شاہ رُخ سے کرنے کو تیار ہیں۔
ابا جان بڑی مشکل سے بیٹے کو بیمار بیوی کا واسطہ دے کر منا لیا۔
زویا کا چچا رضامند تو ہو گیا مگر وہ شاہ رُخ سے بات نہ کرتا اور اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا۔
زویا نے سنا تو کافی حیران ہوئی۔
زویا کے چچا نے کہا کہ منگنی بہت سادگی سے ہو گی۔ گھر والوں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں بلایا جائے گا۔
شاہ رُخ سنکر بہت خوش ہوا کیونکہ وہ جویریہ کو پسند کرتا تھا۔
ابا جان نے اسے اور اس کی ماں اور نانا کو سب کے سامنے بٹھا کر رشتے کی بات کی اور ان کی رضامندی سے منگنی شام کو رکھ دی۔
شاہ رُخ ماں کے ساتھ بائیک پر گیا اور منگنی کی اپنی پسند سے خوبصورت انگوٹھی خرید کر لایا اور ایک خوبصورت سوٹ بھی۔ اپنی ماں کو بھی اچھا جوڑا اور ایک ساس کے لیے لایا۔
زویا کی چچی بہتر ہو کر گھر آ چکی تھی وہ جوڑا دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اسے بہت پیار کیا۔ زویا کا چچا اپنے کمرے میں لیب ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا گرج کر بولا، تم شام کو یہ جوڑا نہیں پہنو گی۔
شاہ رُخ سے بولا، تم یہ نہ سمجھنا کہ میں نے تمہیں دل سے قبول کیا ہے اگر میری سگی بیٹی ہوتی اور مجھے اختیار ہوتا تو میں تم سے کھبی شادی نہ کرنے دیتا۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ اس کے سگے باپ اور اپنے ابا جان کے آگے میں مجبور ہو گیا ہوں۔ اور اب دوبارہ میری بیوی کے قریب بھی نہ پھٹکنا جاو دفع ہو جاو میرے کمرے سے۔
شاہ رُخ دکھی دل سے نم آنکھیں لیے باہر آ گیا جویریہ ہاتھ باندھے اس سے آنکھوں میں آنسو لیے معافی مانگنے لگی کیونکہ اس نے سب سن لیا تھا۔ بلکہ سب نے سنا تھا۔
شاہ رُخ نے جویریہ کو دیکھا اور قریب آ کر بولا، سنو شادی کے بعد ہم ادھر نہیں رہیں گے منظور ہے۔
وہ بولی مجھے ہر شرط منظور ہے۔
شاہ رُخ کے دل کو جویریہ کی باتوں سے سکون آ گیا اور وہ زویا کے چچا کی باتوں کو بھولنے کی کوشش کرنے لگا۔
زویا اپنے روم میں اپنی کلوز فرینڈ کو کال پر بتا رہی تھی کہ جویریہ کی منگنی شاہ رُخ کے ساتھ ہو رہی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ شاہ رُخ نے اس میں کیا دیکھا، نہ وہ گوری چٹی ہے نہ کوئی حسین جمیل ہے۔ وہ خود تو ٹھیک ہی ہے اس کو تو کوئی میری طرح حسین لڑکی بھی مل سکتی تھی۔
فرینڈ نے چھیڑا کہیں تم تو نہیں اس ہینڈسم کو دل دے بیٹھی۔
زویا برا مناتے ہوئے بولی، توبہ کرو میرا ٹیسٹ اتنا خراب نہیں ہو سکتا کہ ایک نوکر کے بیٹے کے بارے میں سوچوں۔
فرینڈ بولی، سوچتی تو تم ہر وقت اسی کے بارے میں ہی ہو۔ تمہاری نوے فیصد باتیں تو اس کے ٹاپک پر ہوتی ہیں۔
زویا بولی، میں تو اس سے نفرت کرتی ہوں۔
فرینڈ نے وثوق سے کہا، میری جان مجھے لگتا ہے تم نفرت نہیں اس سے محبت کرتی ہو اور اب تم سے برداشت نہیں ہو رہا کہ وہ تمہیں چھوڑ کر معمولی شکل والی پر فدا ہے اور منگنی کر رہا ہے۔
زویا بولی، تم اپنی بکواس بند کرو، فضول میں اندازے نہ لگایا کرو۔ میں تو ہر چیز برینڈیڈ لیتی ہوں، بھلا ایک ملازم کو پسند کروں گی impossible سمجھی۔
فرینڈ بولی، میری بنو، پیار اندھا ہوتا ہے۔ تم ہر وقت میرے کان اسی کی باتیں کر کر کے کھاتی رہتی ہو۔
شام کو منگنی پر خود نوٹس کر لینا کہ تم اسے کسی اور کے ساتھ برداشت کر سکتی ہو۔ جب وہ بڑے پیار سے اسے رنگ پہناے گا۔
زویا تنگ آ کر بولی، تم فضول باتیں چھوڑو گی کہ نہیں۔
فرینڈ نے کہا، اچھا سوری، یہ بتاو کہ شام کو کونسا ڈریس پہن رہی ہو، یعنی غضب ڈھا رہی ہو، پر کیا فائدہ وہ تو کسی اور کا دیوانہ ہے تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں۔
زویا نے غصے سے کہا، تم سامنے ہوتی ناں تو میں تمہیں شوٹ کر دیتی۔
میری انسلٹ کری جارہی ہو، ایک نوکر کے ساتھ مجھے چھیڑ رہی ہو۔
فرینڈ ہنستے ہوئے بولی، میں تمہارے دل کا حال جانتی جو ہوں، تم اس حقیقت سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رہی ہو۔ ارے اسے بچا لو اپنا بنا لو، ابھی صرف منگنی ہو رہی ہے۔ میں سچ کہتی ہوں تم اس کے بغیر نہیں رہ پاو گی۔
زویا کی ماں جو اسے جوس دینے آئی تھی اور جوس رکھ کر ادھر ہی بیٹھ گئی تھی اور ان کی باتیں سن رہی تھی۔
زویا باتوں میں مگن تھی۔ جب فون بند کیا تو ماں کو دیکھ کر بولی، موم دیکھا وہ کیا فضول باتیں کر رہی تھی بھلا ایک نوکر ہوؤں۔ وہ نحوت سے بولی۔
ماں اسے دکھی نظروں سے دیکھ کر ایک آہ بھر کر بولی، شاید وہ صیح کہہ رہی ہو۔
زویا ماں کی بات سنکر حیران ہوئی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
گر نہ میں تیرا دیوانہ ہوتا
تیرے رنگ و روپ کا کیا پیمانہ ہوتا
میری محبت نے جلا بخشی ہے
ورنہ تیرے غرور کا کیا ٹھکانہ ہوتا۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.