Nirala Saajan
Episodes
علی کی مالکن اور اس کے شوہر نے جب وڈیو دیکھی تو کافی امپریس ہوئے۔ امام دین کی آواز میں جادو تھا سب خوشیاں منا رہے تھے ناچ گا رہے تھے۔ صبا کی ڈانس والی وڈیو صبا نے صرف مالکن کی بیٹی کو بھیجی۔ بیٹی نے ماں کو دکھائی تو ماں جو صبا سے پہلے ہی متاثر تھی اس کی سلجھی گفتگو سے اور اس کے خلوص سے۔ اب وہ ہر فن مولا تھی اور بہت سوبر ڈانس کر رہی تھی وہ سوچنے لگی گھر میں ہیرا موجود ہے۔ لڑکی ڈاکٹر ہے پھر ان لوگوں نے
علی کی شادی اس سے کیوں نہ کی۔ شاید غربت وجہ تھی۔
صبا کی ابھی تک جاب نہ لگی تھی پھر ایک پرائیوٹ کلینک میں کم تنخواہ پر لگ گئی۔
علی رشتے کے بعد اپنے کمیشن سے گھر خریدنا چاہتا تھا مالک نے کہا کہ دو قریب قریب گھر خریدو ایک اس کیلئے۔ علی نے گھر والوں کے گھر ڈھونڈنے کی زمہ داری لگا دی۔ صبا اور علی کا چھوٹا بھائی صبا کے باپ کے ساتھ ٹیکسی میں جاتے اور گھروں کی وڈیو وغیرہ بنا کر علی کو بھجواتے۔ مگر ابھی تک علی کو کوئی پسند نہ آیا تھا علی نے اپنے کمیشن سے ماموں اور چھوٹے بھائی کو پاکستان میں بزنس کرنے کا فیصلہ دیا اور ادھر سے ہی گاہیڈ کرنے لگا ماموں نے تو صاف منع کر دیا کہ یہ کام اس کے بس کا نہیں۔ چھوٹا بھائی بھی تیز تھا اس نے جلد سمجھ لیا اور کافی نفع ہو نے لگا۔
امام دین نے کہا کہ جب تک علی نہ آ جاے ہم اپنا رہن سہن وہی رکھیں گے۔ کوئی فضول خرچی نہیں کریں گے۔
صبا نوکری پر جانے لگی اور تنخواہ ساری باپ کو دیتی خود اس سے ضرورت کے لیتی۔ وہ علی یا اس کے باپ سے کوئی امداد نہیں لیتا تھا امام دین اس سے ڈانٹ کر کھانے پینے کے اخراجات نہ لیتا وہ اسے کہتا جو تو نے میرے بیٹے کی پڑھائی میں ساتھ دیا ہے وہ میں کھبی نہیں بھول سکتا ہوں نہ وہ تمھارا احسان کبھی اتار سکتا ہوں جو تو نے میری نسل پر کیا ہے۔ علی نے تعلیم حاصل کی تو اس کی شخصیت نکھر گئی اور اتنے امیر آدمی نے اسے بہو بنانے میں فخر سمجھا ورنہ ہم جیسوں کو تو وہ منہ ہی لگانا پاس بٹھانا پسند نہ کرتے۔ تم نے صبا کو تعلیم دلائی۔ اس نے میرے چھوٹے بیٹے کو تعلیم کی طرف لگا دیا اور اس میں بھی شعور آ گیا اور وہ بھائی کے بزنس کو ادھر پھیلا رہا ہے۔ تم نے تو بڑی بیٹی کو بھی پڑھانا چاہا ہو گا اور شاید میرا ڈر غالب آ گیا ہو گا۔ تم دونوں بہن بھائی بہت سیانے ہو۔ میں ہی بےوقوف تھا۔ صبا کے باپ نے کہا کہ علی بتا رہا تھا کہ اس کے مالک نے آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ کہ تمھارے والد کی گفتگو سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ اتنا کھبی کسی پڑھے لکھے کی گفتگو سے نہیں ہوا۔
امام دین بولا ہم غریب لوگ اس بات سے سنجھوتہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح جینا ہے۔ بس ڈر ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ بس یہ امیر لوگ ہم سے ناراض نہ ہوں۔ اور نہ ہی آگے بڑھنے کی لگن ہوتی ہے نہ ہی اپنی زات پر اعتماد ہوتا ہے اگر انسان کا اپنے اوپر اعتماد بحال ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ہر کام شروع کرے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو تو وہ ضرور کامیاب ہوتا ہے۔
صبا جس کلینک میں کام کرتی تھی اس کلینک کا ڈاکٹر اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ کلینک میں اس کی بہن اس سے ملی۔ وہ بھی مل کر بہت خوش ہوئی۔ اس نے کہا بھائی نے کم تعریف کی تھی۔ تم میں اس سے بھی کئی گنا زیادہ خوبیاں موجود ہیں۔ صبا نے کہا میرے والدین کے پاس آپ کو جانا پڑے گا اگر وہ مانے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ وہ بولی وہ تو ہم نے جانا ہی تھا مگر پہلے آپ سے بات کر لیتے۔ اس نے کہا کہ جس دن آنا ہو گا بتا دوں گی۔
صبا نے بڑی بہن سے ماں کو بتانے کا بولا۔ ماں بہت خوش تھی۔ کیونکہ وہ لوگ کافی امیر لوگ تھے۔ صبا نے علی کو بتایا تو اس نے کہا کہ ہے تو بہت خوشی کی بات مگر پھر بھی ان کے بارے میں میں ماموں سے کہتا ہوں کہ وہ جانچ پڑتال کر لیں۔
کرن کے والدین نے دیکھا بیٹا کسی رشتے پر راضی نہیں ہو رہا ہے اور جب سے صبا سے مال میں ملاقات ہوئی تھی وہ اس سے پہلے ہی متاثر تھیں اب وہ اس کو غربت کے باوجود بہو بنانا چاہتے تھے۔ کرن نے ڈرتے ڈرتے بھائی سے صبا کے بارے میں شادی کی بات کی تو وہ نظریں جھکائے بولا ٹھیک ہے۔ کرن حیران ہوئی۔ خوشی سے اس کا چہرہ کھل گیا۔ پھر وہ اٹھا اور ہاتھ جوڑ کر بولا پلیز اب بس کر دو مجھے لڑکیوں کی تصاویر دیکھانی میں تنگ آ گیا ہوں۔ بس اب ادھر ہی فاہنل کر دو تاکہ تم لوگوں کی بھی اس روز روز کے ڈرامے سے جان چھوٹے اور میری بھی۔ منع کر دو اس رشتے والی کو۔ وہ بڑبڑایا روز لے آتی ہے کوئی فوٹو۔ کرن خوشی سے سرشار مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور اس کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی آپ کی بات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ رشتے والی کو آج ہی فارغ کر دیا جائے گا بلکہ اب اسے اس گھر میں کھبی گھسنے ہی نہیں دیا جاے گا اب اس کی اس گھر میں ضرورت نہیں ہے۔ اور جلد از جلد آپ کے سر پر سہرا سجایا جاے گا۔ اور وہ خوشی سے بھاگ کر والدین کو خوشخبری سنانے چلی گئی۔ وہ سن کر بہت خوش ہوے اور جلد از جلد اس کا رشتہ لینے جانا چاہتے تھے کہ وہ بہت سی خوبیوں کی مالک ہے تو اس کا رشتہ کوئی اور نہ لے جائے۔
کرن نے صبا سے کہا کہ وہ کل آپ کے گھر رشتہ لینے آنا چاہتے ہیں۔ وہ ہکا بکا رہ گئی۔ اور مختصر بات کی گھر کا ایڈریس سمجھا کر فون بند کر دیا۔ اب پریشان تھی کہ کیا کرے ادھر سے ڈاکٹر لوگ بھی آنے والے تھے۔ اس نے ماں کو بتایا تو اس نے سب سے بات کی مگر کوئی اس رشتے پر راضی نہ ہوا۔ اس نے علی سے بات کی تو وہ بھی تپ کر بولا وہ بےوقوف لڑکا جو پہلے چندہ کے پیار میں پاگل تھا وہ شادی شدہ اور تم کنواری۔ اس نے کہا کہ تم کرن کو فون کر کے بتا دو کہ میرا رشتہ ہو چکا ہے میں مروت میں بتا نہ سکی۔ صبا نے اچھا کہہ کر فون بند کر دیا۔
امام دین نے کہا کہ جہاں بیری ہو پتھر آتے ہی ہیں۔ ہمیں ان کو منع کرنے سے بہتر ہے ان کو ہمارے اس غربت بھرے آشیانے میں آنے دیا جائے مجھے نہیں لگتا کہ وہ دوبارہ آہیں گے۔ جب تک صبا کا رشتہ نہیں ہو جاتا نہ کسی کو بتاہیں گے کہ ہم امیر ہو چکے ہیں اس حالت میں جو ہماری بچی کو قبول کرے گا وہی قابل اعتبار ہو گا۔ اس لیے بہتر ہے انھیں آنے دیا جائے۔ اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی تیاری کرو۔
علی نے مالک سے کہا کہ صبا کے کچھ رشتے والے آ رہے ہیں اور کچھ گھر کو بھی فاہنل کرنا ہے میں گھر خرید کر اور انہیں شفٹ کروا کر اور صبا کے رشتے کا فاہنل کروا کر آتا ہوں۔ مالک جو اب پاکستان سیٹل ہونا چاہتا تھا وہ یہ کام پاکستان میں رہ کر بھی کر سکتا تھا وہاں سے کھبی کبھار دوبئی ٹور پر آ کر مسئلہ حل ہو سکتا تھا اور علی اس کام کو کر لے گا اس نے علی سے ہلکا سا زکر کیا تھا وہ خوش ہوا تھا کہ اپنے ملک میں رہنے کے لیے تھوڑا بھی کما کر گزارا کر لیں گے یہاں ڈھیروں کمانے کے چکر میں مشین بننے سے بہتر ہے کہ کم میں خوش رہیں اور اپنے پیاروں کے قریب رہیں۔ پیاروں کی قربت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
جس دن کرن لوگوں نے آنا تھا علی نے بھی اسی دن پہنچنا تھا۔ اس نے اپنے آنے کی خبر کسی کو نہ دی۔ کرن کے باپ نے امام دین سے فون پر بیٹے کے رشتے کے لیے آنے کی اجازت مانگی اس نے دے دی۔
گھر میں ان لوگوں کے آنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ صبا نے چھٹی نہ کی۔ ان لوگوں نے ویسے بھی شام کو آنا تھا اور صبا شام تک آ جاتی تھی۔ ویسے بھی گھر کا زیادہ کام اس کی بڑی بہن کرتی تھی۔ صبا تھکی آتی لیکن شام کو وہ بہن کو نہ کرنے دیتی۔ اور سب کے منع کرنے کے باوجود رات کا کھانا وہ تیار کرتی۔
علی جہاز میں بیٹھ چکا تھا صبا نے علی کی منگیتر کے لیے شگن کی چیزیں بھجوائ تھیں جو ان لوگوں کو بہت پسند آئی تھی۔ علی کو جب بھی موقع ملتا وہ گھر والوں کے لیے تحفے خرید کر رکھتا رہتا اب اچانک جانا پڑا تو اس نے جلدی سے ان سب کو پیک کیا تو مالکن نے بھی ایک بیگ اسے پکڑایا کہ یہ ہم نے رسم کے طور پر ان کو بھجوانے کے لیے خریدے تھے اور اب تم ہی لے جاو۔
کرن لوگ جانے کی تیاریاں کر رہے تھے اور کرن کو وہاں جانے کی ایک خوشی تھی کہ صبا اسے بہت پسند تھی۔ بھائی بھی آج اچھے سے تیار ہو رہا تھا۔ کرن کی ماں بولی کاش ادھر علی بھی ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ کرن نے ماں کو دیکھا جیسے ماں نے اس کے دل کی بات کہہ دی ہو پھر اس نے توبہ کی اور اپنے آپ کو لعنت ملامت کی۔ کہ اب اس کا نکاح ہو چکا ہے اور اب وہ کسی اور کی امانت ہے۔
علی جہاز میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ سب کتنے خوش ہوں گے وہ اتنے وقت کے بعد اپنوں سے ملنے جا رہا تھا۔ ماں تو خوشی سے پاگل ہو جائے گی اور ابا جی تو خوشی سے حیران ہوں گے۔ پھر کرن کا خیال آ گیا کیا پتا وہ لوگ اس کے جانے تک چلے نہ جائیں۔ دل نے ملنے کی خواہش کی۔ مگر پھر اس نے توبہ کی اور منگیتر کا خیال آ گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.