Meri Masom Kali
26 Episodes
میری معصوم کلی
ہما اپنے شوہر کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ امریکہ سے آ رہے تھے۔ اس نے دونوں نھنی کلیوں کو تیار کر دیا تھا، اس کی بیٹی گوری چٹی بالکل 'باربی-ڈال' تھی، جبکہ دوسری بچی موٹے نقوش والی سانولی بچی تھی۔
ہما کی سوتیلی نند بچی کو جنم دیتے ہی چل بسی تھی۔ وہ اس کی فرینڈ بھی رہ چکی تھی۔ بیوی کے مرتے ہی اس کے شوہر نے بچی اس کے حوالے کر دی۔ اس نے بھی شوہر کی بہن ہونے کے ناطے اور دوستی کا حق نبھانے کے لیے اس ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ اس نے دو بچیوں کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔ شوہر نے کوئی خاص اعتراض نہ کیا کیونکہ بہن سوتیلی ہی سہی بہن تو تھی۔ شوہر کو بہن سے خاص لگاؤ نہ تھا مگر اسے پالنے پر اعتراض نہ کیا۔ وہ اپنے شہر میں اکیلی رہتی تھی۔ شوہر بھی باہر تھے۔ اب وہ پاکستان میں آ کر بزنس کرنا چاہتے تھے۔ شوہر کے آنے سے چند دن پہلے ہما کی بہن نے اسی شہر میں گھر بنا لیا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ ساس سسر گاوں میں رہنا پسند کرتے تھے۔
ہما کی بہن نرگس اپنی بھانجی پر جان چھڑکتی۔ وہ ہما سے دو سال بڑی تھی مگر دبلی پتلی پتلے نقوش والی تھی۔ جبکہ ہما گوری چٹی اور قدرے موٹی تھی۔ اس کے شوہر نے ابھی تک بیٹی سے ملے نہ تھے مگر اپنی پری جیسی خوبصورت بیٹی سے ملنے کو بےقرار تھے، ڈھیروں تحائف اس کے لیے خریدے تھے۔
آج اس نے آنا تھا۔ وہ بچیوں کو تیار کر کے ان کی پسندیدہ ڈشیں بنانے کے لیے نرگس کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔ نرگس اس کی ہیلپ کے لیے آ گئی تھی۔ اس کا بیٹا ہما کی بیٹی سے دو سال بڑا تھا۔
بچوں کو کارٹون لگا کر دے کر ساتھ میں کھلونے دیکر کام والی ماسی کو ان کے پاس بٹھا دیا تھا۔ کیونکہ بچوں کی کھلونوں پر لڑائی ہو جاتی تھی اور ہما یا نرگس کام کے دوران آ کر لڑائی نبٹھاتی تھی۔
نرگس بہن کو اکثر سناتی رہتی
"آجکل اپنے بچے پالنا مشکل ہے اوپر سے تم اس مصیبت کو گھر لے آئی ہو۔ کیا ضرورت ہے۔ میں تو کہتی ہوں اسے اب بھی وقت ہے واپس اس کے باپ کو دے آؤ۔ خود شادی کر کے عیش کی زندگی بسر کر رہا ہو گا۔"
نرگس کہتی
"اس کا پتا کرواؤ۔"
ہما جواب دیتی
"اس نے اس کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی۔ اس لیے گھر والوں نے اس سے ناتہ توڑ لیا تھا۔ اس کے شوہر سے بھی ملنا گوارا نہ کیا۔"
ہما نے بچی لیتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ وہ اب دوبارہ اس سے رابطہ نہیں کرے گا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو اس شادی کے بارے میں کچھ بتایا نہیں تھا۔ بیوی مر گئی اور اس نے چند ماہ بعد ہما سے فون پر بچی کا پوچھا تو ہما نے بہت افسوس سے بتایا کہ بچی کو نمونیہ ہو گیا تھا اور وہ جانبر نہ ہو سکی اور فوت ہو گئی۔ میں سوری آپ کی امانت کو سنبھال نہ سکی۔ آپ کو بدلے میں اپنی بچی دینے کو تیار ہوں۔
اس نے کہا
"نہیں، مجھے بچی کا افسوس تو ہے اور آپ پر بھی بھروسہ ہے۔ مگر مجھے بچی کی طرف سے فکر لگی رہتی تھی۔اب کم از کم اس کی فکر سے آزاد ہو گیا ہوں وہ اللہُ تعالیٰ کے حکم سے ماں کے پاس چلی گئی ہے۔ آپ کے تعاون کا شکریہ۔"
ہما نے کہا
"مجھے امید ہے کہ اب آپ کو مجھ سے کھبی بھی رابطے کی ضرورت پڑے گی۔ پلیز آپ اب دوبارہ کال کھبی مت کیجئے گا۔ میں بچی کی فوتگی کی کال کرتی۔ مگر مجھ سے آپ کا نمبر ڈلیٹ ہو گیا تھا۔ اچھا ہوا آپ نے خود کر لی ورنہ میں بہت ٹینشن میں تھی۔"
اس نے بہت شکریہ ادا کیا اور دوبارہ کھبی کال نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
ہما کے شوہر آئے اور اپنی پری سے ملکر نحال ہو گے۔ بولے
"ہما تم نے مجھے اس پری کا تحفہ دے کر خوش کر دیا ہے۔ تمھیں پتہ ہے میں حسن پرست ہوں۔ بیٹا ہو یا بیٹی بس خوبصورت ہو۔ اگر میری اپنی بیٹی میری بہن کی بیٹی جیسی ہوتی تو میں دیکھتا بھی نہ۔ شکر ہے کہ یہ خوبصورت ہے۔ بلکہ پری ہے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ تو نے میرے دل کی مراد پوری کی۔"
نرگس اکثر اسے پرائی بچی پا لنے پر طنز کا نشانہ بناتی رہتی۔ وہ اس بچی کو ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی اور اپنی بھانجی پر جان وارتی۔
جب اسکول میں داخلے کا وقت آیا۔ عروبہ اس کی بیٹی اور نتاشا اس کی نند کی بیٹی کو داخل کروانا تھا تو نرگس نے اس کے شوہر کے سامنے اتنے کچھ بولی کہ اسے بھی convince کر دیا کہ وہ بھی اسے اسکول داخل کروانے کے خلاف ہو گیا۔
"اسے گھر کی نوکرانی بنا کر رکھو اور ہر کام سکھاؤ۔ یہ میری عروبہ کی خدمت کرے گی۔"
نرگس کی شخصیت بہت رعب دار تھی۔ ہما کا شوہر اس کی بہت عزت کرتا۔ اس کو آپا پکارتا۔ نرگس کا شوہر اس کے لئے موم کا گڈا تھا جدھر موڑو مڑ جاتا۔ جبکہ ہما کا شوہر ضدی ہٹ دھرم اور رعب جمانے اور اپنی بات منوانے والا تھا۔ بیوی کو غصہ دیکھاتا مگر دوسروں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ وہ نرگس اور ان کے شوہر کی بہت عزت کرتا اور پروٹو کول دیتا۔ جس کی وجہ سے ہما کے گھر پر اس کا پورا hold رہتا۔
ہما اپنے شوہر کی وجہ سے بہن کو کچھ کہہ نہ سکتی کیونکہ وہ عروبہ کے لئے چیزیں لاتی، اس پر جان چھڑکتی اس وجہ سے وہ ہما کے شوہر کی نظر میں عزت پاتی۔ کیونکہ عروبہ میں باپ کی جان تھی۔
نرگس کا بیٹا سعد بھی عروبہ کا خیال رکھتا۔ جس کی وجہ سے عروبہ کا باپ سعد سے پیار کرتا اور اس کے لیے بھی تحفے لاتا۔ وہ خوش ہوتا اور نرگس بھی خوش ہوتی۔
ہما سوچتی کہ اس نے اس کی بہتر تربیت اور پڑھانے لکھانے اور دوسروں کے عتاب سے بچانے کے لیے اس کے باپ سے جھوٹ بولا کہ وہ مر گئی ہے تاکہ وہ یکسوئی سے اس کی تربیت کر سکے۔ مگر یہاں تو اسے اسکول داخل کروانا دشوار تھا۔ وہ اس بن ماں کی بچی کو سینے سے لگا کر پیار کرتی۔ وہ بہت سمجھدار بچی تھی اور صبر والی بھی۔ ہما کا شوہر اسے غصے سے گھورتا اور ڈانٹتا رہتا۔ وہ کوئی شرارت نہ کرتی۔ نہ ہی عروبہ سے لڑتی یا کھلونے مانگتی۔ ہما اس کے لیے سستے کھلونے لا کر دیتی۔ شوہر کا حکم تھا کہ اس پر پیسے ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود پڑھی لکھی تھی مگر شوہر نے جاب کی اجازت نہ دی۔
ہما جب عروبہ کو پڑھانے بیٹھتی تو ساتھ نتاشا کو بھی پڑھاتی۔ اس طرح اس نے میٹرک کا اسے امتحان دلوا دیا وہ درمیانے نمبروں سے پاس ہوئی جبکہ عروبہ پڑھائی میں بہت لائق تھی۔
ایف ایس سی کے بعد عروبہ نے مہنگے کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ میرٹ پر آئی تھی۔ نتاشا کو ہما نے آرٹس کی بکس لا دیں۔ وہ اس میں محنت کرنے لگی۔
ہما اور اس کا شوہر لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ عروبہ کے کمرے سے بہت زور زور سے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ سب اس کے کمرے کی طرف بھاگے۔
جاری ہے۔ دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے like share اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔
جزاک اللہ۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.