Meri Masom Kali
26 Episodes
سترواں حصہ - 17th Part
سعد کی طرف باپ نے دیکھا اور پوچھا
"بتاؤ بیٹا تم کیا کہتے ہو، نتاشا سے شادی کرو گے یا عروبہ سے۔"
عروبہ نے اسے کچھ غصے اور کچھ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو تو وہ اسے ترچھی نظر سے دیکھ کر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
"اس بھوتنی کو ہی آزما لیتے ہیں۔"
وہ تیزی سے اٹھی اور غصے سے اٹھی کشن اٹھایا اور بولی
'بھوتنی کسے بولا ہے خود ہو گے جن بھوت۔"
باپ نے ایکدم ڈانٹا اور کہا
'شوہر کی گاؤں میں بہت عزت کی جاتی ہے۔ تم نے وعدہ کیا ہے کہ اپنے آپ کو چینج کرو گی۔"
وہ وثوق سے بولی
"تو بدلوں گی نا۔"
نرگس بولی
"تمھارے انکل کو کیسے یقین آئے گا"
تو عروبہ اکتا کر بولی
"پھر کیسے یقین دلاؤں۔"
نرگس نے کہا
"چلو جا کر نتاشا کی شلوار قمیض پہنو دوپٹہ سر پر لو اور چائے اور پکوڑے بنا کر لاؤ۔"
وہ چلا کر بولی
"کیا میں نتاشا کے کپڑے پہنوں۔"
باپ نے کہا
"کیا ہوا تمھاری بہن ہے۔"
وہ بولی
"ڈیڈ میں اکلوتی ہوں میری کوئی بہن نہیں۔"
نرگس نے کہا
'تم سے نہیں ہو سکتا رہنے دو۔ یہ مجھے شوہر کے سامنے ابھی سے شرمندہ کروا رہی ہے۔ میرا خیال ہے نتاشا کو ہی۔"
ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی کہ عروبہ جلدی سے بولی
"اچھا آنی میں کرتی ہوں۔"
وہ تیزی سے کچن میں چلی گئی۔ ہما نے کہا
"بیٹا نتاشا سے سیکھ لو"
تو وہ جھٹ سے بولی
'نو تھینکس میں نیٹ پر سے دیکھ لوں گی۔"
ماں نے کہا
"بیٹا ہر چیز نیٹ سے نہیں سیکھی جا سکتی۔ مگر وہ نہ مانی۔"
نرگس نے ہما اور نتاشا کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ نتاشا خاموش اور اداس بیٹھی ہوئی تھی۔ ہما نے نتاشا کو دیکھ کر کہا
"نتاشا تمھاری طبیعت خراب ہے جا کر لیٹ جاؤ"
وہ تیزی سے اٹھ کر چلی گئی۔ نرگس نے پوچھا
'عروبہ کیا کر رہی ہے"
ہما نے بتایا نیٹ پر دیکھ کر پکوڑے بنا رہی ہے۔
عروبہ کو بہت مشکل پیش آ رہی تھی۔ کوئئ چیز آسانی سے نہ مل رہی تھی۔ ماں کو بھی نہیں بلا سکتی تھی کہ وہ لوگ سمجھتے کہ ماں نے بنائے ہیں۔ نتاشا سے وہ پوچھنا نہیں چاہتی تھی۔ بڑی مشکل سے چیزیں پوری کیں اور جلدی جلدی بنانے لگی۔
ساجد کو بیٹی کی فکر ہو رہی تھی اس نے ہما سے کہا
"وہ تیل گرم ہوتا ہے جلا نہ لے"
تو نرگس بولی
"بچی نہیں ہے کر لے گی۔"
ہما کو بھی اندر سے فکر ستا رہی تھی مگر مجبور تھی۔
نتاشا لیٹی چھت کو گھور رہی تھی آنسوؤں کا سلسلہ روانی سے جاری تھا۔ اپنی قسمت پر غور کر رہی تھی کہ کیا قسمت تھی اس کی۔ وہ سوچنے لگی اس نے تو کھبی کسی کا برا نہیں چاہا تھا برا چاہنے والوں کی بھی دل سے خدمت کی تھی پھر جب اس نے سنا کہ عروبہ کی جگہ اسے قبول کیا گیا ہے تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ کتنے خواب اس کی آنکھوں میں سج گئے۔ مگر تعبیر کتنی بھیانک نکلی۔ اس کو ہما ہمیشہ سمجھاتی کہ کھبی خواب نہ دیکھنا کیونکہ خواب انسان اپنی مرضی سے دیکھتا ہے اور تعبیر رب العزت کی مرضی سے ہوتی ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے۔ بس انسان اس کی رضا میں خوش رہے َاور رب العزت پر بھروسہ رکھے کہ جو بھی ہوا وہ اس کے بھلے کے لیے ہوا۔ تو اس صبر کا اس کو ایسا اجر ملتا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے پر شرط یہ ہے کہ رب العزت کے ہر فیصلے کو خوشی سے قبول کرے اور اس کے فیصلے پر شاکر رہے۔ اس نے رو کر اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پیارے رب میں جانتی ہوں کہ تو نے جو میرے ساتھ کیا وہ میرے بھلے کے لیے کیا تیری منطق میں نہیں سمجھ سکتی۔ تو مجھے اس فیصلے کو قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرما اور مجھے پرسکون زندگی عطا فرما اب مجھ میں اور سہنے کی سکت نہیں ہے۔ میں تیرے ہر حکم پر راضی اور خوش ہوں۔ مجھے معاف فرما۔ اور کروٹ لے کر آنکھیں موند کر لیٹ گئی۔
سب ڈرائنگ روم میں عروبہ کے چائے پکوڑوں کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ ٹرالی سجاے اندر آئی۔ ابھی تک اس نے ہاف بازو ٹی شرٹ اور چست ٹراوزر پہنا ہوا تھا۔ نرگس نے ٹوکا
"تم نے ابھی تک کپڑے چینج نہیں کیے کم از کم دوپٹہ ہی لے لیتی۔"
وہ بولی
"آنی میں نے ابھی نہا کر چینج کرنے ہیں میں نے سوچا چائے ٹھنڈی ہو جائے گی اور پکوڑے بھی۔ بس میں ابھی آئی۔"
وہ یہ کہہ کر تیزی سے نکل گئی۔
ساجد نے پہلی بار اس کے اس چست لباس کو دیکھ کر شرمساری محسوس کی ورنہ تو وہ خود اسے ساتھ لے جا کر ایسے لباس لے کر دیتا تھا۔
ہما اٹھی اور چائے اور پکوڑے سرو کرنے لگی۔ چائے ٹھیک تھی مگر پکوڑے کچھ عجیب شکل کے تھے۔ کھانے میں ٹیسٹی تھے۔
نرگس نے پوچھا
"یہ کس چیز کے بنے ہوئے ہیں۔"
اتنے میں عروبہ شلوار قمیض میں ملبوس آ گئی۔ آتے ہی لاڈ سے لمبا سا سانس لے کر بولی
"آنی! میں کیسی لگ رہی ہوں"
اس نے سر ہلایا اور کہا
"سر پر دوپٹہ لو"
تو وہ سر پر دوپٹہ لے کر بیٹھ گئی۔ سعد بہت خوش دکھائی دے رہا تھا، بڑے زوق وشوق سے پکوڑے کھا رہا تھا۔
عروبہ سب کو پکوڑے کھاتے بس دیکھ رہی تھی۔ وہ پوچھنے لگی
"کیسے بنے ہیں۔"
نرگس بولی
"لگتا ہے یہ بیسن کے نہیں ہیں۔"
عروبہ جلدی سے بولی
"آنی سچی بیسن کے ہیں۔"
ہما نے نظریں جھکائے بتایا
"لگتا ہے اس نے بیسن کی جگہ مکئ کا آٹا ڈال دیا ہے۔"
سب ہنسنے لگے۔ عروبہ شرمندگی سے بولی
"سوری"
نرگس کے شوہر نے کہا کہ
"پہلی بار ہے کوئی بات نہیں بہرحال کوشش اچھی ہے شاباش۔"
نرگس نے حکم دیا
"اب یہ برتن لے جاؤ۔"
وہ خاموشی سے برتن سمیٹنے لگی سعد دیکھ کر مسکرا رہا تھا دوپٹہ اس سے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ سعد کو غصے سے آنکھیں دکھانے لگی۔ اس نے اٹھ کر ساتھ برتن سمیٹنے میں مدد کی۔
نرگس کچن میں آئی اور عروبہ سے بولی
"یہ چائے بنانے میں پورا کچن بھر دیا ہے اسے سارا سمیٹو۔"
پیچھے باپ آ گیا اس نے کہا
"آپا میری بیٹی نے ہم سب کو چیلنج کیا ہے دیکھنا یہ اب کھبی ہارے گی نہیں اور اب نتاشا سے بھی اچھی بن کر دیکھائے گی"
نرگس بولی
"امید تو نہیں ہے آج بھی اس نے پکوڑے کس چیز کے بنا دیے۔ ابھی ہمارے نکلنے کی دیر ہے اس نے واپس اپنی ڈگر پر آ جانا ہے نہ کوئی کام کاج سیکھنا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ لوگ اب نتاشا کے سارے کام اسے سکھاؤ۔ اسے گھر کے سارے کام آئیں گے تب ہی میری ساس اسے قبول کرے گی۔ رشتہ اگر ہو بھی جائے تب بھی آخری دن تک مجھے اپنی نند سے خطرہ رہے گا۔ اس نے صاف کہا ہے کہ بھائی کے لیے شہر کی لائے تھے تو وہ رچ بس نہ سکی اور بھائی بھی چلا گیا اب گاوں کی یا ایسی لڑکی ہو جو ادھر رچ بس جائے۔ گھر میں نند کی چلتی ہے۔ اس نے نتاشا کا انتخاب کیا ہے کہ وہ اس گھر کے لیے مناسب ہے۔ میں اس کے آگے مجبور ہو گئی ہوں۔ سعد بھی ان سب کے ساتھ متفق ہے۔ اب اگر اس نے نتاشا جیسا بننا ہے تو تب ہی ادھر اس کی جگہ بن سکتی ہے۔ اب ایک منٹ ضائع کیے بغیر اس کی ٹریننگ شروع کر دیں، جب تک میری نند آتی ہے فائنل فیصلہ وہی کرے گی۔ شکر ہے میرے شوہر نیم رضامند ہو گئے ہیں ورنہ مجھے کوئی امید نہ تھی۔"
ساجد نے یقین دلایا کہ ایسا ہی ہو گا۔ نرگس نے کہا
"اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے مجبور ہو کر نتاشا کو ہی بہو بنانا پڑے گا کیونکہ اسے نتاشا بہت پسند ہے۔ اب جب تک وہ امریکہ سے آتی ہے آپ لوگ اسے تیار کر لیں ورنہ نتاشا تو ہے ہی۔"
عروبہ کو نتاشا کے نام سے آگ لگ گئی اس نے بھی دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ ہار نہیں مانے گی اور نتاشا کو جیتنے نہیں دے گی۔
نرگس کے جانے کے بعد ساجد نے کہا
"چلو بازار تمھارے لیے شلوار قمیض والے سوٹ خریدنے ہیں اب پرانے ڈریس کو بھول جاؤ۔"
پہلی بار عروبہ کو اس شاپنگ کی خوشی نہ ہوئی۔ اس کے دل میں ڈر بیٹھ گیا کہ یہ نہ ہو کہ نرگس کی نند اسے ریجیکٹ کر کے نتاشا کو قبول کر لے۔ اس نے دل میں عزم کر لیا کہ وہ نتاشا کو جیتنے نہیں دے گی۔
ساجد اسے لیکر بازار چل پڑا اور ساتھ والی پڑوسن خالہ آ گئی۔ وہ ہما سے پوچھنے لگی کہ کیا بات ہے تو ہما نے ساری بات خالہ پڑوسن کو بتا دی کہ وہ لوگ نتاشا کو بہو بنانا چاہتے تھے اور عروبہ نے ان کو سنا دیں۔
خالہ پڑوسن بولی
"تو کتنی بےوقوف ہے جب تیری اپنی بیٹی کی قسمت کھل رہی ہے تو تو اب بھی بےبسی دیکھا رہی ہے۔ تو نے بہت قربانیاں دے لیں۔"
ہما نے روتے ہوئے کہا
'وہ کیا کرے"
پھر وہ پچھلی باتیں دہرا کر رونے لگی کہ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے عروبہ کو اپنی بیٹی بتانا پڑا۔ شوہر نے صاف کہہ دیا تھا کہ لڑکا ہو یا لڑکی بس بچہ خوبصورت ہو ورنہ وہ اور شادی کر لے گا۔ اس جنونی انسان سے مجھے ڈر ہی لگتا تھا جس نے شادی کے بعد بھی چکر چلائے رکھے تھے۔ مجھے اس بےبس بوڑھے سسر پر ترس آتا جس کی جوان بیٹی فوت ہو گئی اور وہ اس کا منہ بھی نہ دیکھ سکا۔ پھر وہ میرا بہت احسان مند تھا کہ میں اس کی نواسی کو پالوں اور اسے اپنی بیٹی بتاؤں۔ اس نے کہا کہ وہ حسن پرست ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ وہ کچھ کر گزرے پھر وہ بہن سے نفرت کرتا ہے تو اگر بچی بدل دی تو اسے بہن کی بیٹی سے بھی پیار ہو جائے گا جب جوان ہو گی تو سچ بتا دینا۔ اس وقت تک اسے بہن کی بیٹی سے لگاؤ ہو چکا ہو گا، جو ویسے کھبی ممکن نہیں۔ پھر جب اپنی بیٹی کا پتا لگے گا تو اس وقت تک وہ سمجھدار ہو جائے گا اور خون جوش مارے گا تو وہ اپنی بیٹی کو بھی اپنا لے گا۔
خالہ پڑوسن بولی
"اب وقت آ چکا ہے بتانے کا ورنہ وہ جائیداد عروبہ کے نام لگوا دے گا۔ وہ جو کہتا ہے کہ وہ عروبہ کی شادی دھوم دھام سے کرے گا وہ سب کچھ اس پر لٹا دے گا۔ تیری بیٹی سانولی ہے، لوگ گورے رنگ پر مرتے ہیں۔ تیری بیٹی کی قسمت کھل رہی ہے تو خود کلہاڑی نہ مار اس کی قسمت پر۔ یہ نہ ہو وہ شادی سے پہلے جائیداد بھی اس کے نام لگوا دے۔"
جاری ہے۔
دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.