Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 7
Episode 7

میری معصوم کلی 7

Meri Masom Kali


ساتواں حصہ - 7th Part

 

نرگس کے سسر نے بہو کے ساتھ جانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ نرگس جلدی سے تیار ہونے چل پڑی۔

نرگس کو سامنے پا کر ہما گلے لگ کر رونے لگی تو بڑی مشکل سے اس نے اسے تسلی دے کر چپ کرایا۔ نرگس کے سسر نےشفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔ اسے ان کے آنے سے کافی ڈھارس بندی۔

ساجد کو ہوش آ چکا تھا, ساتھ والے بیڈ پر باپ آنکھیں موندے پڑا تھا. ڈاکٹر ابھی ابھی گیا تھا اور بتایا تھا کہ باپ کو شاک لگا ہے۔ بروقت پہنچ جانے سے اس کا علاج ہو گیا، ان کے سامنے کوئی پریشانی والی بات نہ دھرائی جائے۔ یہ بات ڈاکٹر نے نرگس وغیرہ کے سامنے بولی تو نرگس نے سسر اور شوہر کو سرگوشی میں منع کر دیا۔

نرگس کے شوہر اور سسر کو دیکھ کر ان سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ انہوں نے اس کا حال پوچھا تو وہ صرف ہونٹ ہلا کر رہ گیا۔ ڈاکٹر صاحب ساجد کے دوست تھے انہوں نے کہہ دیا 

"کسی کو رات کو ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں میں نے عملے کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔"

رات کافی ہو چکی تھی ساجد نے ہما سے کہا 

"اب سب گھر جا کر آرام کرو۔" 

ہاسپٹل کی کینٹین سے سسر اور شوہر کو نرگس نے کھانا کھانے بھیج دیا تھا۔ اس نے اور ہما کو برگر اور جوس کھلا دیا تھا۔ نرگس نے کہا 

"چلو اب ہما گھر چل کر آرام کرو ورنہ ایک بیڈ تمھارا بھی لگانا پڑے گا۔" 

پھر اس نے سسر کو گاڑی میں لے جانے کا اشارہ کیا اور ہما دروازے کے باہر کھڑی تھی تو نرگس نے ساجد کو ڈانٹ پلانے والے انداز میں، سمجھاتے ہوئے کہا 

"تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے تمہیں کچھ ہو گیا تو ہما کا کیا ہو گا، تمھارے بوڑھے باپ کا کیا ہو گا۔ کچھ ان کا ہی خیال کر لو۔ اس بے وقوف لڑکی کی بےوقوفی سے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔ کچھ ایسا نہیں ہوا ہے جس کا تم نے اتنا اثر لیا ہے۔ زیادہ قصور تمھارا ہے جہاں وہ کہتی، نہیں مان رہی تھی تو، اس کی شادی کر دیتے۔ اگر تم لوگ سمجھتے تھے کہ اس سے شادی کر کے اس کے ساتھ کچھ برا ہو جائے گا تو اس برے سے بہتر تھا وہ برا۔ اب بھی وہی ہوا۔ اب بھی وہی بھگتے گی۔ کم از کم اتنی بدنامی کا باعث تو نہ ہوتا۔ اب جلدی سے اٹھو اور اپنے آپ کو نارمل کرو اگر باپ کا خیال نہیں ہے تو پڑے رہو ادھر اور باپ کو آگے بھیجنے کی تیاری کرو۔ اگر انکی زندگی، صحت کا خیال ہے تو جلدی سے اپنے آپ کو نارمل کرو ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ تاکہ باپ بھی نارمل ہو جائے۔ تمھیں پتا بھی ہے ہما کی کیا حالت ہے۔ وہ کتنی پریشان ہے۔ اب میں کل تمھیں چلتا پھرتا دیکھوں اور کل تم نے ساتھ گھر چلنا ہے اپنے ابو کے ساتھ اور وہاں ان کو خوش اور نارمل رکھنا ہے۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ سب انتظار کر رہے ہیں۔"

ساجد نے کمزور سی آواز میں آہستہ آہستہ بولتے ہوئے کہا 

"آپا آپ سب کا بہت شکریہ۔ اس مشکل وقت میں ساتھ دینے کا۔ میں آپ کی باتوں پر عمل کروں گا آپ سچ کہتی ہیں۔ مجھے اس کی پسند سے شادی کر دینی چاہیے تھی۔ ورنہ آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔"

نرگس نے بہن کو اس کے گھر کو سنبھالا۔ صبح سب کے لیے ناشتہ بنا کر کروایا۔ ہاسپٹل کے لیے سوپ بنایا اور چند دن وہاں رکنے کی اجازت چاہی۔ سسر واپس چلا گیا۔ نرگس کے شوہر نے دو چھٹیاں لے لیں۔

ساجد اور اس کا باپ گھر آ گئے۔ محلے والوں کو نرگس نے ان لوگوں سے سختی سے ملنے سے روکے رکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے ملنے جلنے والوں سے منع کر رکھا ہے۔ اگر کوئی ہما کی نند کے ٹاپک پر بات کرتا تو اس کی طبیعت صاف کر دیتی کہتی۔ دو بندے اس وجہ سے مرتے مرتے بچے ہیں اور آپ لوگ زخموں پر نمک چھڑک کر پوچھتے ہیں اب طبیعت کیسی ہے۔ اس نے اتنی سختی کی کہ پھر کسی کو کم از کم سامنے بولنے کی جرات نہ ہوئی۔

ہما اور ساجد اس کے شکر گزار تھے کہ اس نے سب کے منہ بند کر دیئے۔ ساجد نے ان دونوں کا بہت شکریہ ادا کیا۔ چند دن تک ساجد سنبھل گیا اور آفس جانے لگا۔ ساتھ ہی وہ گھر بیچ کر دوسری جگہ شفٹ ہو گیا، وہاں بنا بنایا گھر خرید لیا۔ باپ بھی اب سنبھل چکا تھا کچھ ہما کی بے لوث خدمت اور نرگس کے سمجھانے بجھانے پر وہ ریلیکس ہو گیا تھا کیونکہ ہما نے جھوٹ بول دیا تھا کہ وہ بہت خوش ہے۔ آپ سے بات نہیں کرتی کہ شرمندہ ہے۔ وہ اس کے سامنے نرگس سے بات کرتی ایسے ظاہر کرتی جیسے وہ اپنی نند سے بات کر رہی ہے۔

اگر کوئی رشتہ دار بھی آتا تو ہما نرگس کی پڑھائی پٹی کے مطابق ان کی خبر لے لیتی کہ بمشکل ان کو موت کے منہ سے بچایا ہے آپ انہیں مارنا چاہتے ہیں۔

ساجد نے رشتہ داروں سے ملنا جلنا کافی حد تک کم کر دیا تھا۔ کچھ کو تو اس کے نیو گھر کا ایڈریس بھی معلوم نہ تھا۔

زندگی معمول پر آ چکی تھی۔ ساجد کو آفس کی طرف سے ایک سال کے لئے بیرون ملک جانا پڑا۔ ساجد کے پیچھے ہی اس کی بیٹی اور بھانجی نے جنم لیا دونوں میں دو ماہ کا فرق تھا۔

اس دوران نرگس آ نہ سکی۔ ہما نارمل ڈلیوری کی وجہ سے جلد اٹھنے کے قابل ہو گئی۔ سسر بیٹی کی موت سے ادھ منہ ہو چکا تھا۔ ساجد تک خبر پہنچ چکی تھی مگر اس نے اس وقت بچی کو گود لینے پر کوئی احتراز نہ کیا۔ اس نے دونوں کی فوٹو اس کو بھیج دی۔ وہ اپنی خوبصورت بیٹی کو پا کر بہت خوش تھا اور اس سے ملنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔

نرگس کے سسر کی ان دنوں طبیعت سخت خراب تھی جس کی وجہ سے وہ بہن کی طرف نہ جا سکی۔ سسر کے بعد ساس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ جوں ہی وہ ٹھیک ہوئے، چاروں عمرے پر چلے گئے۔ عمرے سے واپسی پراس کی نند آ گئی اور اسے بہن سے ملے چار ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ پھر اس نے کوشش کر کے اسی کے شہر رہائش اختیار کر لی۔ وہ اپنی خوبصورت بھانجی سے ملنے کو بےچین تھی۔ فوٹو دیکھ کر فدا تھی۔

ہما کے لیے دو بچیوں کو پالنا کافی مشکل تھا مگر اس نے اللہُ تعالیٰ سے مدد مانگی تھی اور اسے دن رات کے لیے ملازمہ دستیاب رہی۔

سسر بھی بچیوں کو دیکھ کر خوش بھی ہوتے اور بہو کے بھی شکرگزار تھے۔ وہ روتے کے آخری وقت بیٹی کا دیدار بھی نصیب نہ ہوا۔ بیٹا بھی آنے والا تھا۔ ہما اکیلی تھی آس پڑوس اچھے تھے اس کا ساتھ دیتے۔ جس سے اس کا مشکل وقت آسانی میں بدل گیا۔

اب نرگس قریب بیس منٹ کی ڈرائیو پر شفٹ ہو گئی تھی۔ اور آتی جاتی رہتی۔ بھانجی پر جان چھڑکتی مگر نند کی بیٹی کو کوستی رہتی۔

ساجد پاکستان آ چکا تھا۔ اس کے آنے کے ایک ماہ بعد اس کا باپ چل بسا۔ ساجد نے آ کر بھانجی کو اس کے باپ کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ مگر ہما نے اسے سچ بتا دیا کہ اس نے اپنی اور نند کے ساتھ شادی کو والدین سے چھپائے رکھا اور اب بیوی مر گئی ہے تو وہ بچی کو نہیں پال سکتا اسے پالنے کی رکوسٹ کی ہے۔

بچی کی بہتری کے لئے اس نے باقی باتیں شوہر سے چھپا لیں کہ اس نے جھوٹ بولا کہ بچی مر گی ہے اور اب وہ چلا گیا ہے اور اسے اس کا اب کوئی علم نہیں۔ یہ بات سچ تھی کہ ہما کو اس کا کچھ علم نہ تھا کہ وہ کہاں رہتا ہے نہ ہی دوبارہ اس نے کھبی رابطہ کیا تھا۔

ساجد جب بھانجی کو دیکھتا تو اسے کے زخم ہرے ہو جاتے۔ وہ اسے گھر سے نکالنے کا ضرور کہتا مگر یہ بات وہ دل سے نہ چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہما اسے کھبی نہ چھوڑے گی۔ ایک دن کی اس نے پالی تھی۔ اپنی بیٹی اور اس میں فرق نہ رکھتی تھی۔ وہ اس کے خلوص پر حیران ہوتا۔ دل سے اس کا قائل بھی ہوتا مگر اپنی اکڑ والی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے اس بچی کی بابت کوستا رہتا۔ جو بیوی کو غلام دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی مرضی پر چلانا چاہتے ہیں۔ ہما نے اس کی ہر بات مانی تھی سوائے اس بچی کے۔ جس کی وجہ سے ساجد چڑچڑا رہتا اسے یہ بات ہضم نہ ہوتی کہ کیسے اس کی بیوی اتنا بڑا فیصلہ اس کی غیر موجودگی میں اکیلی کر سکتی ہے۔ جب باپ زندہ تھا تب وہ اسے لینے پر کچھ نہ بولا تھا جب ہما فیصلہ کر چکی تب آ کر باپ کے مرنے کے بعد اسے اعتراض یاد آیا۔ اس کی اناء کو ٹھیس لگی تھی۔ ہما اس سے دبی رہتی اس کی ہر بات مانتی مگر بچی کو پالنا نہ چھوڑ سکتی تھی۔ ساجد کچھ بہن کے دیے زخم اور کچھ ہما کی اس معاملے میں نافرمانی برداشت نہ تھی جس کی تسکین وہ اسے طعنے دے کر پوری کرتا۔


جاری ہے۔ 

دعاگو عابدہ زی شیریں

پلیز like, share اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ



Continue Reading
Episode 8
میری معصوم کلی 8

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry