Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 11
Episode 11

میری معصوم کلی 11

Meri Masom Kali


گیارہواں حصہ - 11th Part


ہما کی نند، ہما کے جانے کے بعد اداس ہو گئی۔ اسے باپ کی یاد آ گئی۔ اس نے باپ سے فون پر معافی مانگ لی اور گھر آنے کی اجازت مانگی تو اس کے باپ نے کہا 

"وہ ہمیشہ تمھاری اور تمہاری ماں کی باتیں مانتا رہا اور بیٹے کی طرف توجہ نہ دی اب میں اس کے خلاف جا کر نہیں مل سکتا۔ میں تم سے اب کھبی نہیں ملوں گا نہ ہی مجھے اب فون کرنا۔ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ بس ہما کبھی کبھی تم سے مل لیا کرے گی۔ یہ بھی تمہارے بھائی کی مہربانی ہے جو تمہاری ماں کی زیادتیوں کے باوجود ہما کو تم سے ملنے بھیج دیا۔ وہ تمھارا دل سے بھلا چاہتا تھا۔ تم سے پیار بھی کرتا تھا۔ تمھارے اس اقدام کے بعد اب وہ تم سے نفرت کرے تو حق بجانب ہے۔ اب تم اپنی دنیا میں خوش رہو۔ توبہ تائف کرو اپنی ماں کی مغفرت کی دعا کرو۔ میری آنکھوں پر اس بری عورت کی محبت کی پٹی بندھی تھی جو ایسی سیاست کرتی تھی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اب مجھے اس کی ساری باتیں سمجھ میں آ رہی ہیں۔ میں اپنے رب تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کے کیے کی سزا میری بچی کو نہ ملے۔ میں نے اسے معاف کیا رب بھی اسے معاف کرے"

"آمین ثم آمین" 

جھٹ ہما کی نند نے جواب دیا اور روتے ہوئے کہا 

"مجھے بھائی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اب شادی کے بعد احساس ہوا ہے کہ میں خود ماں بننے والی ہوں۔ اور میرا بچہ ننھیال، ددھیال کے پیار اور توجہ کے بغیر پلے گا۔ بیٹیاں والدین کے گھر سے ان کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہو کر اپنا مقام پاتی ہیں۔ مجھے اب کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ شوہر کا پیار بھی حاصل ہے مگر اس کا پیار پانے کے لئے مجھے اپنوں کے پیار کی قربانی دینی پڑی ہے۔ شادی کے بعد عورت کو خاندان کی ضرورت ہوتی ہے یوں لاوارثوں کی طرح سنہری پنجرے میں قیدی جیسی زندگی لگتی ہے۔ اب تو نہ گھومنے پھرنے کا اور نہ ہی شاپنگ کرنے کا دل کرتا ہے۔ بس آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہُ تعالیٰ میری ماں کی مغفرت فرمائے اور مجھے بھی معاف کر دے۔"

باپ نے ڈھیروں دعائیں دیں اور دونوں نے روتے ہوئے فون بند کر دیا۔

ہما کی نند بیٹھی شوہر کا انتظار کر رہی تھی وہ آیا تو اس نے آتے ہی پوچھا 

"ڈاکٹر کے کلینک گئی تھی چیک اپ کروانے" 

وہ ہنسنے لگی 

"آپ میری اتنی فکر نہ کیا کریں آپ ہیں نہ میرے پاس۔" 

وہ نظریں چراتے ہوئے بولا 

"یہی تو فکر ہے کہ میں کچھ ٹائم کے لیے میں جا رہا ہوں۔"

"کک کیا مطلب" 

اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ اس سے آج کچھ نہیں چھپائے گا۔ اس نے بتایا کہ جب اس نے اسے پہلی بار دیکھا تو فیصلہ کر لیا کہ وہ اس سے ہی شادی کرے گا اس نے والدین سے بات کی تو انہوں نے انتہائی ایکشن لیا اور اسے خاندان میں لڑکی پسند کرنے کا اور اس کی جلد شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے بہت احتجاج کیا مگر باپ نے اپنے ساتھ مجھے بھی گولی مارنے اور ماں کو بھی مارنے کی دھمکی دے دی۔ میں نے بھی ضد میں سب سے کم پڑھی اور گاوں کی لڑکی کا انتخاب کیا۔ گھر والے سٹپٹائے مگر باپ نے فیصلہ دے دیا اور آناً فاناً میری دھوم دھام سے شادی کر دی۔

"کک کیا مطلب" 

وہ ہزیانی ہو کر چیخی 

'تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔ شادی شدہ ہو کر مجھ سے کنوارے بن کر ملتے رہے۔ ڈیڈھ سال سے مجھے مسلسل پیار کا چکر چلاتے رہے اب تک تو کوئی بچہ بھی ہو چکا ہو گا۔"

وہ سر جھکا کر بولا 

"ایک بیٹا بھی ہے۔" 

"کیا کیا یعنی میں ایک شادی شدہ اور ایک بیٹے کے باپ کی دوسری بیوی ہوں۔ مجھ میں کیا کمی تھی میں خوبصورت اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی۔ مجھے تو کوئی کنوارہ آرام سے مل سکتا تھا۔ میں تو کسی شادی شدہ مرد سے دوسری شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ کسی عورت کا گھر اجاڑنا اس کے شوہر کو اپنا بنا کر اس کے حق پر ڈاکہ ڈالنا۔ مجھے کسی دوسرے کے شوہر کو اپنا بنانا کھبی گوارا نہ تھا تم اگر ایک بار بھی بتاتے تو میں تمہیں چھوڑ دیتی۔ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔" 

وہ اسے مارنے پیٹنے لگی اپنے بال نوچنے لگی اور روتے ہوئے بولی 

"اگر مجھے کچھ ہو گیا تو کیا میرا بچہ بھی میرے بھائی کی طرح مظلومیت میں پلے گا، اس کی سوتیلی ماں اس پر ظلم کرے گی اس کے اپنے بچے راج کریں گے۔" 

وہ اسے سنبھالنے لگا اور بولا 

"تمہیں کچھ نہیں ہو گا میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا تھا کہ میں تم سے پیار کرتا تھا اور تمہیں کھونے سے ڈرتا تھا۔ اس لیے نہ بتایا تمھارا مزاج سمجھتا تھا کہ تم شراکت برداشت نہیں کرو گی۔"

وہ چلا کر بولی 

"تمہیں مجھ سے کوئی پیار ویار نہیں ہے بس تم صرف میری خوبصورتی کے پیچھے مرتے ہو۔ اگر اتنا ہی سچا پیار ہے تو میں بھی تمھاری بیوی ہوں۔ میرا اور میرے بچے کا بھی تم پر اتنا ہی حق ہے۔ میں اپنا حق لے کر رہوں گی۔ اگر میرے گھر والوں کو پتا ہوتا تو وہ کھبی تمہیں رشتہ نہ دیتے۔ ہم خاندانی لوگ ہیں۔"

وہ بولا 

"میں نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا۔ میں نے تمھارے بھائی کو یہ بتایا تھا کہ میں خاندان میں شادی کروں گا کیونکہ میرے والدین نہیں مان رہے ہیں اور میں تم سے پیار کرتا ہوں اور ہمیشہ اس شادی کو نبھاؤں گا مگر خفیہ رکھوں گا اور کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا مگر وہ اس بات پر نہ مانا اور بے عزت کر کے فون بند کر دیا۔"

وہ بولی 

"میرا بھائی میرا بھلا چاہتا تھا نا۔" 

اس کے دل میں بھائی کے لیے بے پناہ پیار بھر آیا۔ وہ روتے ہوئے بولی 

"تم نے سوچا ہو گا کہ میں اس خوبصورت لڑکی کو ایک سائیڈ پر رکھیل بنا کر رکھوں گا جو پوری طرح میرے دامن الفت میں گرفتار ہے۔ اس کے پچھلے بھی اس سے ناراض ہیں۔ اس کو پابند کرنے کے لیے نکاح کا ایک کاغذ دے کر زندگی کی آسائشیں دے کر بہلا لوں گا تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں اپنا اور بچے کا حق نہیں چھوڑوں گی۔ تمھارے گھر والوں کو سب بتا دوں گی۔ میں بچے کا جائیداد میں سے حصہ بھی لوں گی۔ میں چپ نہیں بیٹھوں گی۔ تم اپنے پلان میں فیل ہو گئے ہو بس بچہ ہو جائے پھر دیکھنا میں کیا کیا کرتی ہوں۔"


جاری ہے۔ 

دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں

پلیز لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔

جزاک اللہ۔



Continue Reading
Episode 12
میری معصوم کلی 12

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry