Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 5
Episode 5

میری معصوم کلی 5

Meri Masom Kali


پانچواں حصہ - 5th Part

 

ہما بیاہ کر شوہر کے گھر آ گئی۔ نرگس کو ہما کی قسمت پر رشک آتا۔ جس کو اس سےزیادہ پڑھا لکھا امیر اور ہینڈسم نوجوان ملا تھا سسرال میں بھی کوئی جھنجھٹ نہ تھا۔ ایک نند تھی وہ بھی سہیلی۔ دوسرا اس کی قسمت شہر میں لکھی تھی۔ پھر اس کے ساس سسر گاوں کے انپڑھ تھے۔ اسے انہیں کسی سے ملواتے بھی شرم آتی تھی۔ مگر پھر بھی وہ بہن سے پیار کرتی تھی۔ ہما بھی اس کا بہت ادب کرتی۔ ہما کی شادی سے تھوڑا پہلے ہی نرگس شہر شفٹ ہونے میں کامیاب ہو گئی۔

ہما بیاہ کر دوسرے شہر آ گئی۔ بیمار سسر اور ایک نند تھی۔ ہما کا شوہر ساجد اپنی سوتیلی بہن سے نفرت کرتا۔ ساجد چھ برس کا تھا تو اس کی ماں کو اچانک سر میں درد اٹھا ہاسپٹل پہنچنے تک وہ فوت ہو گئی۔ باپ نے رشتے داروں کے اصرار پر ان کی ہی کوششوں سے چالیسویں کے فوراً بعد دوسری شادی کر لی۔ ایک سال بعد ہی اس کی بہن پیدا ہو گئی اور سوتیلی ماں ساجد کے ساتھ برا سلوک کرنے لگی۔ باپ بھی مجبور تھا ایک تو وہ بیٹی کا باپ بن گیا تھا، دوسرے اس نے گھر کو اچھے طریقے سے سنبھال لیا تھا۔ تیسرے وہ شوہر سے پیار جتاتی۔ خود طلاق یافتہ تھی۔ اب اسے خدا نے بیٹی عطاء کر دی تھی وہ ساری توجہ اور پیار بیٹی پر لٹانے لگی۔ اب ساجد کی حیثیت گھر میں فالتو چیز جیسی ہو گئی تھی۔ اسے پڑھنے کا شوق تھا۔ اس نے پڑھائی کو اپنا مشن بنا لیا۔ جب اس کے ماں اور باپ دونوں اس کی بہن پر توجہ دیتے تو وہ احساس کمتری اور احساس محرومی کا شکار ہو جاتا۔ وہ دونوں کی لاڈلی تھی۔ جو فرمائش کرتی پوری کی جاتی۔ گھر میں خوشحالی تھی۔ ساجد کو خرچے کے لیے عزر پیش کرنے پڑتے تب جا کر سوتیلی ماں اسے دیتی۔ اس کے دل میں بہن کے لیے نفرت بڑھتی گئی۔

ساجد پڑھ لکھ کر جلد جاب پر لگ گیا۔ باپ نے پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کی اچھا کمایا۔ اب وہ بیمار رہنے لگا تھا ریٹائرمنٹ کے بعد اس کو جو پیسہ ملا اس نے دس مرلے کا گھر بنایا۔ ایریا بھی اچھا تھا۔ گاڑی بھی موجود تھی جو اب ساجد کی دسترس میں تھی۔ ایک دن، اس کی سوتیلی ماں سیڑھیوں سے اچانک پاوں پھسلنے سے مر گئی۔ اس کی بہن ماں کے مرنے پر تڑپ تڑپ کر روئی تو ساجد کے دل میں اس کے لئے تھوڑا بہت نرم جزبہ پیدا ہو گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ بہن اور آزاد ہو گئی وہ ہٹ دھرم اور ضدی پہلے ہی تھی۔ اب اس نے ایک امیر لڑکے سے دوستی بھی کر لی۔ اور آزادانہ اس کے گھومنے پھرنے لگی۔ ساجد نے باپ کو اسے روکنے کو کہا خود بھی کچھ کہتا مگر وہ نہ سنتی۔ باپ نے اسے سمجھایا مگر اس نے کان نہ دھرے۔ باپ پچھتانے لگا۔ کہ اس کے بےجا لاڈ نے اس سرکش بنا دیا ہے۔ وہ تھی بھی بہت خوبصورت بلکل اپنی ماں کی طرح۔ جبکہ ساجد کا باپ سانولا تھا۔

ساجد نے بہن کو اس امیرزادے سے ملنے سے منع کیا تو اس نے کورٹ میرج کی دھمکی دے دی۔

ساجد اپنے آفس سے واپس آ رہا تھا کہ اسے بہن اس لڑکے کے ساتھ ہاتھ پکڑے کیفے سے باہر نکلتی نظر آئی۔ اس نے اتر کر اس لڑکے کو ڈانٹا اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ اس وقت ساجد کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ 

ہما بھی اس کو دبے الفاظ میں سمجھانے لگی مگر اس نے دوستی کا بھی پاس نہ رکھا اور صاف کہہ دیا کہ وہ اپنے پیار کو نہیں جھوڑ سکتی۔ اور بولی 

'ہو سکتا ہے تو اپنے شوہر کو سمجھاؤ کہ سیدھی طرح میری اس سے شادی کروا دے۔ میں اس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔ جو میرے باپ اور بھائی نے خاندان کا جو رشتہ میرے لیے پسند کیا ہے وہ مجھے قطعی قبول نہیں ہے۔ ان لوگوں کو جواب دے دیں ورنہ بعد میں شرمندہ ہونا پڑے گا۔" 

ہما نے شوہر کو ساری بات بتا دی مگر اس نے دھیان نہ دیا۔ ساجد نے اس کے باہر جانے اور فون رکھنے پر پابندی لگا دی۔ اس نے اسے کمرے میں بند کر دیا۔ اور اسے ڈانٹا کہ سدھر جاؤ ورنہ میں اور زیادہ سختی کروں گا۔ بوڑھا باپ بھی التجا کرتا کہ بیٹی سدھر جا اور بھائی کی بات مان لے ورنہ بعد میں پچھتائے گی۔ بند کمرے میں اسے کھڑکی سے ہما نے اسے اس کی پسند کے پیزا، برگر اور جوس پکڑائے۔ اس نے جھٹ پکڑ کر مزے سے کھا لیے۔ پھر وہ باتھ روم چلی گئی۔ نہ وہ گھبرا رہی تھی نہ ہی اداس تھی۔ بلکہ نارمل تھی۔ 

سارا دن گزر گیا۔ ساجد بہت پریشان تھا آفس میں بھی صحیح طور پر کام نہ کر سکا۔ مگر گھر آنے کا دل بھی نہ کر رہا تھا۔ آخر مغرب ہو گئ۔ ہما اسے میسج کر کے سب بتا رہی تھی۔ ہما نے سسر کو زبردستی کھانا کھلایا اور ان کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے سب کچھ کھا لیا ہے جو انہوں نے آرڈر کر کے منگوایا تھا انہوں نے خود آ کر دیکھا تو قدرے تسلی ہوئی۔ وہ الٹی لیٹی ہوئی تھی۔ باپ کو گردن اٹھا کر ایک نظر دیکھا اور پھر منہ دوسری طرف کر لیا۔ باپ کو قدرے تسلی مل گئی اور اس نے ہما کے بہت اصرار پر تھوڑا سا کھا لیا کیونکہ اس نے دوائی کھانی تھی۔ 

ہما کے سر میں درد تھا تو اس نے بسکٹ اور چائے پی کر پین کلر لے لی تھی۔ وہ سو بھی نہ سکتی تھی کیونکہ میاں کے آرڈر کے مطابق اس کی چوکیداری کرنی تھی۔

ساجد نے صبح کا کچھ نہیں کھایا تھا۔ ہما بار بار اسے میسج پر اصرار کر رہی تھی۔ اس نے اس کے اصرار پر ایک بار جوس پی لیا پھر اس کا سر دکھنے لگا تو اس نے چائے پی لی۔ اور پریشان حال گھر آ گیا۔ وہ بہن کو دیکھنے کھڑکی میں آیا تو بہن اسے دیکھ کر تیزی سے کھڑکی میں آئی اور ساجد سے بولی 

"میں نے بہت سوچا تو مجھے یہی صحیح لگا کہ مجھے آپ لوگوں کی بات مان لینی چاہیے۔" 

ساجد حیران رہ گیا۔ اس نے کہا 

"تم سچ کہہ رہی ہو۔" 

وہ بولی 

"جس کی قسم مرضی لے لو۔"  

"نہ نہ قسم نہ کھانا۔" 

پھر وہ خوشی سے بولی 

"جب وہ کہہ رہی ہے تو سچ ہی ہو گا نا۔" 

اس نے ہما کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ ہما نے دروازہ کھول کر اسے پیار کیا اس نے سوری بولا۔ باپ کے پاس گئی۔ باپ نے خوشی سے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اور کہا کہ رشتے والوں کو ہاں بول دیں تاکہ وہ آ کر رسم کر جائیں۔ وہ بولی 

"جو مرضی کریں۔" 

باپ کے اصرار پر بھائی نے اسی وقت فون کر دیا۔ اور اگلے دن ہی آنے کا بتانے لگے۔ ساجد بیوی کو ان کی خاطرمدارت کی ہدایات دینے لگا۔ ہما نے کہا 

"آپ فکر نہ کریں میں فجر سے ہی تیاری شروع کر دوں گی۔ میں صبح سارے گھر کی اچھی سی صفائی کر لوں گی۔"

وہ بولا 

"مجھے بھی جلدی جگا دینا میں سامان لا دوں گا۔" 

نند بولی 

"مجھے بھی جلدی اٹھا دینا میں بھی تمھاری ہیلپ کر دوں گی۔" 

وہ جوش سے بولی 

"نہیں تم اپنے ٹائم پر، دوپہر کو اٹھنا میں کر لوں گی ویسے بھی ان لوگوں نے شام کو آنا ہے۔"

ساجد اس کا باپ اور ہما ملکر لسٹ بنانے لگے۔ ہما نے کہا اب اس کا فون اسے دے دیں۔ وہ بولا 

"ابھی نہیں۔" 

وہ اندر آ رہی تھی اس نے سن لیا اور 

"ہما ڈارلنگ مجھے نہیں چاہیے اب فون۔ میں نے کسے کرنا ہے۔ جو بیسٹ فرینڈ تھی وہ بھابی بن کر گھر میں آ گئغ ہے۔ باپ اور بھائی گھر میں ہیں پھر کسے کرنا ہے۔"

ہما کا شوہر رات لیٹ نائٹ تک اسے کمرے میں جاکر دیکھنے کی ہدایات کرتا رہا۔ مگر ہر بار وہ آنکھیں موندے ریلیکس سوئی ہوئی ہوتی۔ آخر گھر اچھی طرح لاک کر کے وہ لوگ سو گئے۔ رات تین بجے ہما واش روم کے لیے اٹھی تو ساجد نے بھی نیند بھری ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھ کر پریشانی سے پوچھا 

"کیا ہوا" 

وہ بولی 

'میں واش روم کے لیے اٹھی تھی سوچا دیکھ آؤں وہ سو رہی ہے۔"

وہ سن کر مطمئن ہو کر سو گیا۔

فجر کے الارم سے ہما کی آنکھ کھلی تو پہلے جا کر نند کو دیکھا وہ چادر اوڑھ کر سو رہی تھی وہ جوش اور خوشی سے کام نمٹانے لگی۔ آج سسر بھی لیٹ اٹھے۔ اس نے شوہر کو سونے دیا کہ وہ جلدی تیار کر لے گی سب کچھ۔ نہ ہوا تو بازار سے لے آئیں گے۔ اس لئے شوہر لیٹ اٹھا تو اس نے کہا 

"مجھے کیوں نہیں جگایا۔" 

وہ بولی 

"بازار سے آ جائے گا اور دیکھ کر آئی ہو۔" 

ہما وثوق سے بولی 

"ہاں بابا سو رہی ہے۔ کتنی بار دیکھوں۔" 

اس نے جمائی لی تو ساجد نے کہا 

"تم بھی آرام کرو" 

اس کی بھی آنکھیں بند ہونے لگی۔ تو اس نے کہا 

'اچھا میں تھوڑی دیر آرام کر لیتی ہوں آپ کا ناشتہ بنا ہوا ہے وہ بولا میں لے لوں گا۔

ساجد چائے کا کپ پکڑے باپ کے پاس آ کر باتیں کرنے لگ گیا۔


جاری ہے۔ 

دعاگو عابدہ زی شیریں

پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا مت بھولیں۔

جزاک اللہ


Continue Reading
Episode 6
میری معصوم کلی 6

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry