Meri Masom Kali
26 Episodes
چوتھا حصہ - 4th Part
رضیہ کا بیٹا سعد پیدا ہوا۔ میکے میں ماں نے رکھا اور چھلے کے بعد اس کو بھیجا۔ اب تو بچے کا بھی مسئلہ تھا وہ اسے صاف ستھرا کر کے بھیجتی۔ واپس آتا تو گند و مٹی سے اٹا ہوا ہوتا۔ میاں آتا تو وہ اس سے لڑتی۔ ادھر والدین سے اس کی شکایت لگاتے۔ وہ اس سے تنگ پڑ گئے۔ ہما کے والد صلح جو تھے۔ وہ بیٹی کو سمجھاتے۔ داماد بھی تنگ پڑنے لگا۔ آخر ہما کے والد جو داماد کو بہت عزت دیتے تھے۔ وہ بھی ان کی عزت کرتا۔
ساس نے داماد کو سمجھانا شروع کیا کہ اگے بچے کے مستقبل کا مسئلہ ہے تو اس کو اچھے اسکول میں پڑھانے کے لیے تمہیں اسے ادھر شفٹ کرنا ہو گا۔ اس نے عزر پیش کیا کہ یہ اکیلی کیسے رہے گی۔ تو انہوں نے اسے اپنے پاس رہنے کی افر کر دی اور بچہ اسکول کے قابل ہوا تو وہ نرگس کے میکے شفٹ ہو گیا۔
نانا چونکہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے اور ہما نے پڑھائی کے بعد ٹیچنگ شروع کر دی تھی۔ داماد اسی شہر میں تھا اور روز آفس سے واپس آ جاتا تھا اور لڑائی جھگڑے سے جان چھوٹ چکی تھی۔ سسرال میں سب عزت کرتے۔ ساس کھانا مزے کا بناتی تھی۔ وہ ہر ویک اینڈ پر گاؤں جاتا اسے بھی لے کر جاتا۔ گاؤں زیادہ دور نہ تھا اس لیے شام کو واپس آ جاتے۔ ساس سسر اب راضی ہو گئے تھے شکر کرتے تھے کہ وہ ادھر آتی ہے اور شوہر کو آنے دیتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ شہر سے آئی ہے تو گاؤں کے ماحول میں رچ بس جائے گی۔ کچھ بس جاتی ہیں کچھ ایڈجسٹ نہیں ہو پاتی۔ مگر سسرال والے امید لگا لیتے ہیں۔
رضیہ کو لکڑیاں جلانی نہ آتی تھی۔ ساس نے رضیہ سے جلانے والے آبلہ مانگا جس کو وہ گھوبر کے بسکٹ کہتی تھی۔ اس کا دل خراب ہوا اس نے شکل بنا کر دو تنکوں سے پکڑ کر پکڑایا تو خوب مزاق بنا۔ کچھ گاوں کی عورتیں اس کے سلیقے کی تعریف کرتیں۔ پانچ سال اس نے گزارے تھے مگر اپنے پورشن میں رہتی۔ کسی سے گھلتی ملتی نہ تھی۔ نہ کسی سے فالتو بات کرتی تھی۔ اپنا کچن الگ رکھا ہوا تھا اپنی سلامیوں کے پیسے سے اس نے کھڑے ہو کر پکا نے اور برتن دھونے والا سسٹم گزارے لائق کر لیا تھا۔ سلنڈر پر پکاتی۔ ناشتہ، انڈے بریڈ، نوڈلز انہی چیزوں کو شوق سے کھاتی۔ باتھ روم کے باہر تین جوتوں کے جوڑے اپنا، بچے اور شوہر کا رکھا ہوتا۔ تین صابن دانیاں اپنی، بچے اور شوہر کی رکھی ہوتی۔
گاؤں والے حیران ہوتے اور اس کی کاپی بھی کرتے وہ کہتی اس کے سسر ہر جگہ تھوک دیتے ہیں تو اس کا دل خراب ہوتا ہے۔ گاؤں کی عورتیں جگہ جگہ بچوں کو پیشاب کروا دیتی تھیں۔ اس سے بھی رضیہ چڑتی تھی۔
گاوں میں رضیہ کی وجہ سے شرمندہ رہتے۔ اب وہ ہر ویک اینڈ پر کھبی جاتی کھبی نہ جاتی۔ میاں بھی شرمندہ ہوتا مگر وہ موڈی ہو گئی تھی بچے کو اکثر باپ کے ساتھ گاؤں بھیج دیتی۔ اور ریلیکس ہو جاتی۔
والدین کی فوتگی کے بعد پانچ مرلے کا گھر سیل کر کے دونوں بہنوں نے حصے لے لیے۔ اس حصے سے گھر تو نہیں آ سکتا تھا۔ ہما کی بھی شادی ہو چکی تھی۔ رضیہ کرائے کے گھر میں رہتی تھی بچے کو اچھے اسکول میں داخل کروایا تھا۔ جہاں سے بچے کا اسکول نزدیک پڑتا تھا۔ رضیہ نے استعمال کے لئے گاڑی لے لی اور فیملی کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی۔ اس نے ہما کو بھی بہت ساتھ چلنے کو کہا مگر بچیوں کا مسئلہ تھا۔ عروبہ کو ادھر سنبھالنے کے لیے تیار تھی اور نتاشا کو ساتھ لے جانے کے لیے تیار نہ تھی۔ کہتی اسے کسی پڑوس میں دے جاؤ۔ مگر ہما نہ مانی۔ وہ اسے کوستی چل پڑی۔
ہما کالج میں پڑھتی تھی تو اس کی دوستی شوہر کی سوتیلی بہن سے ہو گئی۔ ہما ان کے گھر بھی کھبی جوائن سٹڈی کے لیے جاتی تھی۔ وہاں اس کے بھائی کو ہما پسند آ گی۔ ان کے گھر میں ایک بوڑھا بیمار باپ اور ہما کی نند تھی۔ ہما کے سسر نے بیٹے کو شادی کرنے کا مشورہ دیا تاکہ بعد میں وہ بیٹی کی شادی کر کے سرخرو ہو سکے۔ تو اس نے شرماتے ہوئے ہما کا نام لیا۔ اس کی بہن خوش ہو گئی۔ نند نے ہما سے خوشی میں اسے فون کر کے رائے پوچھی۔ ہما کی نظر میں اس کے بھائی کا سراپا آ گیا۔ جو پڑھا لکھا ہینڈسم نوجوان تھا۔ اس نے اپنے لیے اس کی آنکھوں میں پسندیدگی کی جھلک دیکھ لی تھی اس کو بھلا کیا اعتراض تھا۔ اس نے شرماتے ہوئے ہاں کہہ دی۔
جاری ہے۔ دعاگو عابدہ زی شیریں

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.