Meri Masom Kali
26 Episodesتیسرا حصہ - 3rd Part
عروبہ جو نرگس کو بچپن میں 'نجو جی' بلاتی تھی بڑے ہو کر 'آنی' بلانے لگی۔ جبکہ نتاشا خالہ جی پکارتی۔
عروبہ ہاتھ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ اٹھائے خوشی سے چلاتی آ کر نرگس کے گلے لگ کر 'مائی آنی' کہتی، پیار کیا۔ جواب میں اس نے بھی وارفتگی کا مظاہرہ کیا۔ اور عروبہ کا باپ جو چابی اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا دونوں خالہ بھانجی کو وارفتگی سے ملتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ سعد اٹھ کر عروبہ کے باپ سے ملا۔ اس نے گرمجوشی سے اس کی پیٹھ پر تھپکی دی۔
نرگس اپنے گاؤں، سسرال اگر زیادہ دن کے لئے جاتی تو ہما سے اجازت لے کر نتاشا کو ادھر ہیلپ کے لیے ساتھ لے جاتی۔ ہما اس نظریے سے بھیج دیتی کہ چلو اس کا بھی چینج ہو جائے گا۔ اس نے نوٹ کیا کہ وہ گاؤں جانے کے نام سے خوش ہوتی ہے۔ ہما کو یہ بھی خیال آتا کہ اس کی زندگی ویسے بھی اس کا شوہر اور بیٹی اجیرن رکھتے ہیں تو پھر بھیجنے میں کیا حرج ہے۔
نرگس گاؤں لے جانے کے لیے اس کے چند نیو سوٹ سلوانے کا بولتی۔ اس طرح ہما کو اسے چند اچھے جوڑے سلوا کر دینے کا موقع ملتا۔ کیونکہ نرگس کا آرڈر ہوتا کہ میرے سسرال کا معاملہ ہے۔ وہ بچپن سے اسے وہاں لے کر جا رہی تھی۔ اور ادھر اس کے ساس سسر اس پر ترس کھاتے کیونکہ ہما نے اسے بچپن سے ہی ہر کام میں تاک کر دیا تھا۔ وہ وہاں جاتی تو اس کی ساس کو آرام ملتا خود نرگس کی بھی ہیلپ ہو جاتی۔
نرگس اور ہما دو بہنیں تھیں۔ نرگس دو سال بڑی تھی۔ وہ شروع سے ہی پتلی دبلی تھی۔ جبکہ اس کی بہن ہما ذرا اس سے موٹی تھی۔
نرگس کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہ تھا۔ وہ گھر رہنا اور گھر کے کاموں میں دلچسپی لینا اسے پسند تھا۔ جبکہ ہما کو پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ کالج جانے لگی جبکہ نرگس میٹرک بھی نہ کر سکی۔ تو والدین نے سوچا وقت پر اس کی شادی کر دی جائے جبکہ ہما نے صاف کہہ دیا کہ جب تک وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے وہ شادی نہیں کرے گی۔
ہما کی ماں نے آس پڑوس میں کہنا شروع کر دیا کہ بیٹی کا رشتہ درکار ہے۔ یہ لوگ سفید پوش تھے۔ ہما کا والد سرکاری ملازم تھا۔ محلے میں رہتے تھے پانچ مرلے کا گھر تھا۔ ہما کے باپ کے آفس میں ہی سعد کا باپ ملازم تھا۔ اور کنوارہ تھا۔ ہما کے باپ کو سعد کے باپ میں گھن نظر آئے تو اس نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ اسے پتا چلا کہ وہ قریبی گاؤں میں رہتا ہے۔ دو بہن بھائی ہیں۔ گاوں میں اپنا گھر زمینوں، جائیدادوں کے مالک ہیں۔ نرگس کا باپ جو نرگس کی غصے والی عادت سے واقف تھا اور نرگس نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ لڑکے کو دیکھے بغیر شادی نہیں کرے گی۔ اور جو رشتے آ رہے تھے وہ مناسب نہ لگ رہے تھے۔
نرگس کے باپ نے سعد کے باپ سے راہ و رسم بڑھا لیے۔ وہ کسی دوست کے ساتھ رہتا تھا۔ اکثر اسے گھر سے کھانا لا لا کر دینے لگے عذر یہ پیش کیا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں تم مجھے اپنے بیٹے جیسے دکھتے ہو۔ ہوٹل کا کھا کھا کر صحت خراب ہو گی اس لیے گھر کا لاتا ہوں۔ ایک دن بہانے سے گھر لے گئے۔ رضیہ کے کان میں ماں نے ڈال دیا تھا کہ تیرا باپ تیری اس سے شادی کروانا چاہتا ہے۔ رضیہ جو کچن کی کھڑکی سے اسے آتا دیکھ چکی تھی اور اسے پسند بھی آ گیا تھا۔ ماں جو اسے دیکھ چکی تھی اس سے رائے پوچھی تو اس نے شرما کر کہا ٹھیک ہے۔ ماں ایکدم خوش ہو گئی اور فوراً شوہر کو خوش خبری سنائی۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک رشتہ پکا نہ ہو جائے ہما کو سامنے نہ کیا جائے۔ ہما کو بھی اعتراض نہ ہوا۔
جب ٹرے اٹھائے سر پر دوپٹہ لیے سادہ لباس میں ملبوس ماں کے پیچھے شرماتی ہوئی نرگس آئی تو سعد کے باپ کو پسند آ گئی۔
سعد کے باپ کو رضیہ کے گھر بہت پروٹوکول ملا۔ اس نے َسوچا والدین شادی جلد کروانا چاہتے ہیں اور اس کے سامنے نرگس کے باپ نے اپنی بیٹی کے لئے کوئی اچھا رشتہ بتانے کا کہا تھا۔ تو وہ گاوں گیا اور بتایا کہ اس کے آفس کے سینئر ہیں اور ساری بات بتائی کہ لڑکی سمپل سی ہے۔ گاوں کے ماحول میں امید ہے رچ بس جائے گی۔ گھر والے جا کر دیکھنے پر راضی ہو گئے۔ گھر سے والدین اور چھوٹی بہن آئی۔ رضیہ بہت خوش مزاجی سے انہیں ڈیل کرتی رہی۔ آج وہ انگوری ریشمی سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہما امتحان کی تیاری کے بہانے اندر بٹھا دیا گیا۔ ان کو ڈر تھا کہ وہ زیادہ پڑھی اور خوبصورت ہے تو رضیہ کو ریجیکٹ نہ کر دیں۔
رضیہ نے نند اور ساس کو متاثر کیا۔ ان لوگوں نے شرط رکھی کہ لڑکی شادی کے بعد گاؤں میں رہے گی۔ والدین پریشان ہو گئے۔ جب رضیہ سے پوچھا گیا تو اس نے گاؤں میں رہنا قبول کر لیا۔ والد نے کہا کہ پھر سوچ لو تو اس نے کہا سوچ لیا ہے رہ لوں گی۔ اس کی بہن کو رضیہ پسند آئی۔ وہ پہلے ہی انگوٹھی اور مٹھائی لے کر آئے تھے۔ کہ اگر بات بن گئی تو رشتہ پکا کر کے شادی کی ڈیٹ لے لیں گے۔
جب نرگس کے ساس سسر نے سنا کہ گاؤں میں رہنے کے لیے لڑکی تیار ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور واری صدقے جانے لگے اور انگوٹھی پہنانے کی اجازت مانگی۔ پھر ہما کو بھی بلا لیا گیا۔ جو پہلے فقط سلام کر کے پڑھائی کا بہانہ بنا کر چلی گئی تھی۔ اس کو تیار ہونے سے منع کیا گیا تھا۔ ہما نے سنا کہ آپا کا رشتہ پکا ہو گیا ہے اور اب انگوٹھی پہنانے کی رسم ہونے لگی ہے تو وہ خوشی سے مسکراتی ہوئی بھاگی آئی۔
رضیہ کو سرخ دوپٹہ اوڑھا کر ساس نے انگوٹھی پہنا دی۔ ہما اور رضیہ کی نند نے موبائل پر مووی وغیرہ بنائی۔ سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ سعد کا باپ سامنے بیٹھا مسکراتے ہوئے خوشی سے شرماتا ہوا وارفتگی سے اسے دیکھتا رہا۔ بہن اسے چھیڑ رہی تھی۔
نرگس بیاہ کر گاؤں چلی گئی اور وہاں جا کر اسے احساس ہوا کہ ایک تو اس کے ساس سسر گاؤں کے تھے۔ صرف ایک پکا گزارے لائق کمرہ، آگے تھوڑا سا برامدہ تھا۔ واش روم کافی دور صحن کے کونے میں تھا۔
گاوں میں جانور وغیرہ موجود تھے اور مرغیاں، بکرے، گائے بھینسیں سب موجود تھے۔ وہ سلیقے والی تھی۔ شوہر ہر ویک اینڈ پر آ جاتا۔ وہ شکایتوں کا پلندہ کھول دیتی۔ وہ اس معاملے میں بےبسی ظاہر کرتا۔ تو وہ چڑ جاتی لڑتی۔ وہ لکڑیاں جلاتے تو اسے یہ سب کام نہیں کرنے آتے۔ جلد ہی نند کی شادی بھی ہو چکی تھی اور وہ بیاہ کر امریکہ چلی گئی۔ اس کے سسرال والے دور کے رشتے دار تھے پاکستان آئے۔ لڑکے نے کسی شادی پر دیکھا پسند کیا۔ رضیہ اس پر رشک کرتی کہ وہ گاؤں کی میرے جتنی پڑھی اور اس کی قسمت میں امریکہ لکھی ہوئی تھی۔ وہ بھی اتنی پڑھی لکھی فیملی شوہر بھی پڑھا لکھا اور دولت مند بھی۔ وہ ٹھاٹھ سے پاکستان آتی۔ سارے رشتے دار اس سے ملنے پر فخر محسوس کرتے۔
رضیہ گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی۔ اپنے پورشن کو صاف رکھتی۔ گاؤں میں رشتے داروں کے گھر قریب قریب ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اگر کمرے میں آ کر چیزیں خراب کرتے تو وہ تنگ پڑتی۔ ساس سسر َسے بھی الجھتی۔ شروع شروع میں انہوں نے اس کو پروٹوکول دیا مگر جب اس نے شہر رہنے کی ضد کی تو وہ بھی کوشش میں لگ گئے کہ بیٹا چلا نہ جائے۔ انہوں نے اسے بیوی کے خلاف کرنا شروع کر دیا۔
جاری ہے۔
دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
جزاک اللہ

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.