Meri Masom Kali
26 Episodes
چودواں حصہ - 14th Part
ہما نرگس کی بات سن کر پریشان ہو گئی اور ڈر بھی گئی کہ اس کا شوہر اس فیصلے کو سنے گا تو قیامت لا دے گا۔ اس نے کہا
"آپا آپ خود آ کر ساجد سے بات کریں مجھے تو ڈر لگتا ہے اس سے۔"
نرگس نے حوصلہ دیا اور کہا کہ تم بات تو کرو پھر میں خود ا کر اس سے بات کر لوں گی۔ ہما کھوئی کھوئی اور پریشان تھی اس نے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا اور شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
نتاشا نے پوچھا
"ماما آپ پریشان لگ رہی ہیں"
مگر وہ اسے پیار کر کے ٹال گئی کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔
شوہر آیا کھانا کھا چکا تو ہما نے بات کرنی شروع کی۔ اس نے شوہر کو بتایا کہ اس نے آپا کو شادی کی بابت فون کیا تھا وہ بولا
"گڈ پھر کب آ رہی ہیں وہ شادی کی تاریخ لینے۔"
وہ کچھ پریشان سی ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے بولی
"آپا کا گاؤں والا گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور ان کے شوہر اب ریٹائرڈ ہیں اور اب وہ گاؤں والے گھر میں شفٹ ہونا چاہتے ہیں سنا ہے کافی بڑا اور جدید طرز کا گھر بنایا ہے۔"
ساجد کچھ سوچتے ہوئے بولا
"وہ تو گاوں شفٹ ہو جائیں گے تو عروبہ اور سعد اکیلے کیسے رہیں گے۔ آپا ساتھ ہوتی تو مجھے فکر لاحق نہ تھی مگر عروبہ کو تو گھر داری آتی ہی نہیں ہے اور سعد کے افس جانے کے بعد وہ اکیلی کیسے گھر کو مینج کرے گی۔"
ہما نے جھجکتے ہوئے کہا
"سعد بھی ساتھ گاوں شفٹ ہو رہا ہے۔"
ساجد نے کہا
"وہ وہاں سے آفس کیسے جائے گا"
تو ہما نے آہستہ سے جواب دیا
'وہ شادی کر کے دو سال کے لئے باہر ملک جا رہا ہے آفس کی طرف سے اور فیملی کو کم از کم دو سال تک نہیں لے جا سکتا ہے۔"
ساجد چلا کر بولا
'مگر میری بیٹی گاؤں میں نہیں رہ سکتی وہ بھی شوہر کے بغیر۔"
عروبہ لاؤنج میں لیب ٹاپ لے کر بیٹھی سب سن رہی تھی، ساتھ ہی نتاشا کھڑی اس کے موبائل کا چارجر لگا رہی تھی، دونوں تک آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
ہما نے کہا
"اسی لیے آپا کی ساس، سسر اور شوہر نے نتاشا چونکہ گاؤں رہ لیتی تھی اس لیے انہوں نے نتاشا کو بہو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔"
ساجد گلا پھاڑ کر چیخا
"وہ کیسے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ آپا سے کہو وہ بولیں"
تو ہما بولی
"اس نے بہت کہا مگر وہ لوگ اسے عاق کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔"
ساجد غصے سے بولا
'سعد کیا کہتا ہے۔"
تو ہما بولی
'سعد نے کہا کہ جیسے سب کی مرضی اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔"
عروبہ نے اتنا سنا کہ سعد نے بھی نتاشا کو اس پر فوقیت دے دی ہے تو وہ لیب ٹاپ پٹخ کر چلاتی ہوئی باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
"وہ اپنی انسلٹ برداشت نہیں کر سکتی۔ ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والی کو آنی اور سعد بیاہ کر لے جائیں میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔"
وہ روتی چلاتی رہی نتاشا کو کوستی رہی۔ وہ نتاشا کو مارنے دوڑی تو ہما نے نتاشا سے چیخ کر کہا
"وہ اپنے کمرے میں جا کر لاک لگا لے۔"
عروبہ اس کے بند دروازے پر کھڑے ہو کر دیر تک پیٹتی رہی چلاتی رہی کہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔ ساجد نے بیٹی کو پیار سے یقین دلایا
"تم فکر نہ کرو میں اس کی شادی سعد سے کھبی نہیں ہونے دوں گا۔"
وہ روتے ہوئے بولی
"ڈیڈ میں سعد کے بغیر مر جاؤں گی۔ میں اسے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔"
ساجد نے بیٹی کی حالت دیکھی تو بیوی کو وارننگ دے دی
"جیسے بھی ہو اس کی شادی سعد سے کرواؤ ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور تم دونوں کو گھر سے نکال دوں گا۔"
ہما نتاشا کو کھٹکھٹا کر اس کے کمرے میں آئی۔ نتاشا رو رہی تھی اس نے اسے گلے لگا کر پیار کیا۔ نتاشا آج ماں کے سامنے دل کھول رہی تھی
"ماں میں شروع سے ہی بدقسمت ہوں نا۔ ساری زندگی میں نے سعد کو عروبہ کی امانت سمجھا مگر اب سعد سمیت ان لوگوں نے میرا انتخاب کر کے مجھے حیران کردیا۔ میں بھی کھبی اتنی خوش قسمت ہو سکتی ہوں کہ اتنا پڑھا لکھا، ہینڈسم اور باشعور لڑکا عروبہ جیسی حسین ترین لڑکی کو چھوڑ کر مجھ جیسی سانولی اور معمولی شکل و صورت کی لڑکی کے لئے اوکے کر دے۔ یہ جو ساری زندگی کا بندھن ہے اور وہ نبھانا بھی جانتا ہے۔"
ماں نے کہا
"میری بیٹی تو بہت حسین ہے۔ تجھ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ سعد کا خیال دل میں نہ لانا، عروبہ اسے کھبی تمھارا نہیں ہونے دے گی۔ تمھیں اس سے بھی کئی گنا اچھا مل جائے گا انشاءاللہ۔"
عروبہ جو کان لگا کر ان کی باتیں سن رہی تھی چلا کر بولی
"تم کسی خوش فہمی میں مبتلا مت رہنا میں نے آنی اور سعد کو، کلائی کاٹ کر مرنے اور ان کے ذمے لگنے کی دھمکی دے کر بلایا ہے۔ سعد آئے ذرا میں اس کی طبیعت صاف کرتی ہوں۔ اس نے جرآت کیسے کی تمھارا نام لینے کی۔"
ہما نے نرگس کو رو رو کر ساری بات بتا دی
"اب تم ہی اس کا گھر بچا سکتی ہو۔ ساجد واقعی جو کہہ رہا ہے وہ کر گزرے گا۔"
اس نے اسے تسلی دی اور کہا
"میں پوری کوشش کروں گی کہ ساس اور سسر اس کے لیے مان جائیں۔ وہ بھی ان کے آگے مجبور ہے۔ ادھر میرے شوہر نے بھی دھمکی دی کہ میرے والدین کی بات نہ مانی تو میں تمھیں چھوڑ کر گاؤں چلا جاؤں گا۔"
نرگس نے بتایا
"بیٹا بھی باپ اور دادا دادی کی طرف داری کر رہا ہے۔ بیٹا کہتا ہے کہ دادا دادی کی ڈیمانڈ جائز ہے۔ جس طرح آپ کا اپنے بیٹے کے ساتھ رہنے کا دل کرتا ہے اس طرح ان کا بھی کرتا ہے۔ اتنے سال وہ آپ کی خوشی کے لیے بیٹے سے دور رہے۔ اب وہ عمر کے آخری حصے میں ہیں تو میں ان کی خواہش رد نہیں کر سکتا وہ جس بھی لڑکی سے شادی کا بولیں گے میں کر لوں گا۔"
نرگس روتے ہوئے بولی
"شوہر شاید مان جاتا مگر اسے بھی بیٹے کی شہ مل گئی ہے اور سب ڈٹ کر ایک ہو گئے ہیں اور میں اکیلی رہ گئی ہوں اب میرے شوہر بھی ساتھ آ رہے ہیں ساجد سے فاہنل بات کرنے۔ ساس سسر کو منانے کی کوشش کی ہے تو ان کی ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ سعد کی بیوی دوسال تو لازماً گاؤں میں رہے گی جب دو سال بعد سعد آئے گا تو تب دیکھا جائے گا۔
ہما سے عروبہ کی حالت بھی برداشت نہیں ہو رپی تھی اس نے ایک دن کا اسے پالا تھا وہ اسے پیار کرنے جاتی تو وہ اسے ڈانٹ کر پیچھے کر دیتی۔
سب اب نرگس کا انتظار کر رہے تھے
جاری ہے۔
دعا گو رائٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔
جزاک اللہ۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.