Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 21
Episode 21

میری معصوم کلی 21

Meri Masom Kali


اکیسواں حصہ - 21st Part


گھر میں نرگس لوگوں کی آمد کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی تھی۔ ساجد نے عروبہ کو سمجھا سمجھا کر اس کی جان کھا لی تھی کہ یہ تمہارے پاس پہلا اور آخری موقع ہے، ان لوگوں کو امپریس کرنے کا۔ سعد اور تمھاری آنی بھی ان کے آگے مجبور ہیں، کوئی زرا سی بھی بھول چوک نہ کرنا۔ نرگس آپا کی ساس ابھی پوری طرح مانی نہیں ہے۔ تم نے اب اسے ماننے پر مجبور کرنا ہے اپنے behavior سے۔

ہما نے اس کا شلوار قمیض استری کر کے اس کے کمرے میں رکھ دیا تھا اور ہما اسے تیار ہونے کا بول رہی تھی۔ مگر وہ جوش میں ہاف بازو ٹی شرٹ اور گھٹنوں سے زرا نیچے ٹراوزر پہنے پانی کا پائپ ہاتھ میں لے باہر گیراج دھو رہی تھی۔ ہما کچن میں تھی اور نتاشا واش روم میں تھی۔ ساجد بازار سے دہی لینے گیا ہوا تھا۔

ہما کچن سے عروبہ پر چلا رہی تھی کہ جاؤ جا کر لباس بدلو وہ لوگ آ نہ جائیں۔ عروبہ نے اونچی آواز میں جواب دیا 

"موم آنی جو صبح سے فون پر پل پل بتا رہی ہیں وہ کہہ رہی تھی کہ نکلتے وقت فون کر دوں گی۔ ادھر وہ فون کریں گی ادھر میں واش روم گھس جاؤں گی۔ ان کے آنے تک میں بلکل ریڈی ہو جاؤں گی آپ فکر نہ کریں۔"

ہما نے فکرمندی سے کہا 

"کافی دیر ہو چکی ہے اب تو ان لوگوں کو نکلنا چاہیے۔ تم زرا آنی کو فون کرو" 

وہ بولی 

"بس تھوڑا سا رہ گیا ہے ابھی کرتی ہوں۔"

اتنے میں ڈور بیل بجی تو ہما نے آواز لگائی 

"عروبہ دروازہ کھولو تمھارے پاپا آئے ہوں گے۔"

اس نے جوں ہی دروازہ کھولا سامنے نرگس ساس کو تھامے اندر داخل ہوئی۔ عروبہ نے دیکھا تو حواس باختہ ہو گئی اور گھبرا کر پائپ کا رخ ان کی جانب کر دیا وہ بھیگنے لگیں سعد نے چیخ کر اس کے ہاتھ سے پائپ لیا اور اسے چلا کر بولا 

"یہ کیا کر رہی ہو" 

ساجد بھی پہنچ چکا تھا اور عروبہ کا یہ منظر دیکھ چکا تھا شور سے ہما بھی آ چکی تھی اور عروبہ کی حرکت پر سخت شرمندہ اور خجل تھی۔ عروبہ پاہپ پھینک کر بھاگ چکی تھی۔ ہما نے اپنے حواس قابو میں کیے اور آگے بڑھ کر انہیں سلام کے بعد معزرت کی اور نرگس کی ساس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئی۔ نرگس اور اس کی ساس کے کپڑے جوتے بری طرح بھیگ چکے تھے۔ ہما نے جلدی سے اپنے کپڑے نکال کر ان کو چینج کروائے۔ اپنے جوتے ان کو دیے۔ ان کے جوتے سوکھنے ٹیڑھے کر کے رکھے پھر نرگس کو بھی اپنے کپڑے جوتے دیے۔ اتفاق سے دونوں نیو سوٹ تھے جو ساجد ہما اور نتاشا کے گاؤں جانے کے لیے لایا تھا۔ جوتے البتہ پرانے تھے۔

ہما نے ان کو تکیہ پیچھے رکھ کر بیڈ پر آرام سے بٹھایا۔ نرگس بھی ساس سسر سے سخت شرمندہ ہو رہی تھی، ان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی وہ بھی کپڑے بدل کر ساس کے پاس بیٹھ گئی، شرم سے اس کی زبان گنگ ہو چکی تھی۔

ہما معزرت کرنے لگی۔ ساس جواب میں کچھ نہ بولی، منہ ادھر کر لیا۔ ہما چائے کا بتا کر اٹھ گئی۔

ہما کے جاتے ہی، نرگس کی ساس نے نرگس کی کلاس لینی شروع کر دی۔ 

"یہی کڑی تھی جس کا تو بتا رہی تھی یہ پاکستانی انگریزنی۔ توبہ توبہ نہ شرم نہ حیا۔ کیسے بےشرم کپڑے پہنے ہوئے تھے۔" 

نرگس نے صفائی دی 

"وہ صرف کام کرنے کے لیے ایسے کپڑے پہنتی ہے۔"

ساس نے پھنکارا 

"دفع مار، ایسے کپڑوں پر۔ کیسے پائپ سیدھا ہمارے اوپر چھوڑ دیا، توبہ اس نے تو پورا نہلا ہی دیا مجھے تو سردی لگ رہی ہے۔" 

نرگس نے کھیس ڈھونڈ کر ان پر ڈال دیا اور لٹا دیا۔

اتنے میں سعد کمرے میں داخل ہوا تو دادی اس پر چلانے لگی 

"بےغیرت یہ کڑی چنی ہے تم ماں بیٹے نے انگریزنی۔ اس نے تو مجھے سارا گیلا ہی کر دیا ہے۔ مجھے ٹھنڈ لگوا دی ہے۔" 

سعد دادی کی ٹانگیں دبانے لگا تو سب مرد بھی اسی کمرے میں آ گئے سعد ڈائننگ روم سے کرسیاں لے آیا۔ سب وہاں بیٹھ گئے۔

عروبہ چائے کی ٹرالی لیے شلوار قمیض میں ملبوس سر پر دوپٹہ لیے اندر داخل ہوئی اور سلام کیا۔ نرگس کے سسر نے مسکرا کر اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔ سعد کے باپ نے بھی وعلیکم السلام کہا پھر وہ نرگس کی ساس کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور سلام کیا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ 

ہما پیچھے کھڑی سب کے تاثرات نوٹ کر رہی تھی۔ ہما نے کہا 

"عروبہ سب کو چائے بنا کر دو"

وہ بڑے اعتماد سے سب کو چائے بنا کر دیتی رہی۔ اور چیزیں پیش کرتی رہی دوپٹہ بار بار پھسل رہا تھا سعد اس کی ساتھ مدد کر رہا تھا۔ دادی نوٹ کر رہی تھی۔ وہ مسلسل عروبہ کے منہ کو تکتی جارہی تھی۔ ہما سب کے آگے بچھی جا رہی تھی۔ ساجد نرگس کے ساس سسر کو بہت پروٹوکول دے رہا تھا۔ عروبہ چائے سرو کر کے کمرے سے باہر چلی گئی تھی جبکہ ہما اور ساجد ان کے آگے بچھے جا رہے تھے۔ دادی موڈ بنا کر چاے پیتی رہی۔ چاے ختم ہوئی تو ہما اور ساجد بہانے سے باہر نکل گئے۔ عروبہ کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی جبکہ نتاشا فاصلے پر کھڑی اسے تسلی دے رہی تھی کہ رو مت اللہُ تعالیٰ سے مدد مانگو وہی بات بنانے والا ہے۔ وہ دل میں نتاشا کی تسلی بھرے الفاظ سے سکون محسوس کر رہی تھی اور اس کے بتانے پر دل میں رب العزت سے خوب دعائیں مانگ رہی تھی۔ دل میں ڈر بھی رہی تھی نتاشا کی موجودگی اسے ڈھارس بندھا رہی تھی وہ خاموشی سے اس کی باتوں کے دوران روتے روتے اسے ایک نظر دیکھ لیتی تھی اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اس کے کندھے پر سر رکھ دے مگر اناء آڑے آ رہی تھی۔ وہ دل میں مصمم ارادہ کر چکی تھی کہ وہ اب نتاشا بن کر رہے گی، بس اس کی دادی کا دل پسیج جائے۔

سعد دادی کے قریب بیٹھا اور شرارت سے پوچھنے لگا 

"کیسی لگی پاکستانی انگریزنی۔" 

وہ جھٹ اس کی کمر پر دو کس کس کے تھپڑ مارتے ہوئے بولی 

"اے کڑی تجھے پسند ہے جو گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ ماں پیو اچھے ہیں بس اک اے کڑی نہیں جچی۔"

سعد نے صفائی دیتے ہوئے کہا 

"دادو وہ گاؤں رہ لے گی اس نے خود کہا ہے بےشک بلا کر پوچھ لیں۔"

سسر نے بیوی سے کہا 

"پلیے لوکی شہرن کڑی ہے پھر ہمارے پوتے کو پسند ہے، پڑھی لکھی ہے۔ پوتا بھی پڑھا لکھا ہے اب اس کے لیے شہری کڑی ہی لانی ہے نا۔ اس کے ساتھ گاؤں کی کڑی تو نہیں لگانی نا۔" 

نرگس کے شوہر نے بھی باپ کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملائی مگر ساس حجت پیش کرتی رہی۔


جاری ہے۔ 

دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں

پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔

جزاک اللہ



Continue Reading
Episode 22
میری معصوم کلی 22

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry