Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 16
Episode 16

میری معصوم کلی 16

Meri Masom Kali


سولواں حصہ - 16th Part


ہما شرمندہ بیٹھی ان لوگوں سے عروبہ کے روئیے کی معزرت کر رہی تھی جبکہ نرگس بھی شرمندہ بیٹھی شوہر کی باتیں سن رہی تھی۔

وہ ہما سے بولا 

"بہن جی آپ کو معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں کیا آپ کو جانتا نہیں ہوں۔ آپ نے تو نیک نیتی سے سسرال کی بچی کو اپنی بچی کی طرح پالا، گھر بیٹھ کر ہی اس کے ایم اے کروا دیا اور کتنی دقتوں سے اسے تعلیم دلائی۔ اگر کسی اور کی بچی ہمیں ایسا سناتی تو ہم دو منٹ بھی یہاں نہ رکتے۔"

اتنے میں ساجد اندر داخل ہوا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی تو سعد اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر بولا

"پلیز انکل بس نادان ہے۔" 

نرگس کا شوہر بھی اٹھ کر اس کا کندھا تھپتھپا کر بولا 

"کوئی بات نہیں اپنی بچی ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہاں رکے ہوئے ہیں۔ آپ پلیز بیٹھیں" 

وہ لوگ بیٹھ گئے ساجد کی آنکھوں میں آنسو تھے دروازے میں کھڑی عروبہ یہ سب دیکھ رہی تھی بھاگ کر ساجد کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روتی ہوئی بولی 

"سوری ڈیڈ آپ کو میری وجہ سے شرمندہ ہونا پڑا میں آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ میں سب سے َسوری کہتی ہوں۔" 

سب حیران رہ گئے۔ سعد کی آنکھوں میں خوشی کی چمک ابھر آئی۔ اس کے باپ نے بیٹے کو دیکھا جو بڑی محبت پاش نظروں سے عروبہ کو دیکھ رہا تھا پھر بیوی کو دیکھا وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔ پھر اس نے ساجد اور ہما کو دیکھا جو بےبس اور مظلوم نظر آ رہے تھے۔

عروبہ نرگس کے پاس آئی اور اس کے گلے میں باہیں ڈال کر بولی 

"سوری آنی میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔" 

نرگس نے شوہر کو دیکھا اور آرام سے اس کے بازو پیچھے کیے اور آہستہ سے بولی 

"انکل سے مانگو" 

وہ زور سے بولی 

'میں نے آتے ہی سب سے مانگ لی تھی نا۔" 

اس نے باپ کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہا تھا پھر سعد کو دیکھا جو سپاٹ سا اسے دیکھ رہا تھا۔ ہما اٹھی اور بڑے پیار سے اسے بولی 

'اپنی غلطی مان لینا بڑائی ہے بیٹا۔"

ہما نے سعد کے باپ کے پاس جا کر کہا 

"سوری انکل" 

وہ کھڑا ہوا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا 

'اوکے بیٹا۔" 

ماں نے سعد کی طرف اشارہ کیا تو وہ اسکے سامنے کھڑے دانت پسیج کر کر بولی 

"سوری۔" 

سعد کے ساتھ سب مسکرانے لگے۔

نرگس کا شوہر بولا 

"بیٹا آپ ہمارے سامنے بڑی ہوئی ہو، ہمیں تمہیں بہو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر مسئلہ ہمارے والدین کی خوشی کا ہے ہم خود بوڑھے ہو چکے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بیٹا ہمارے پاس رہے اسی طرح ہمارے والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ چلو نوکری اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہمیں گاؤں سے نکلنا پڑا اگر ہم وہیں رہتے اور بچے کو تعلیم کے لئے اکیلے شہر یا ہاسٹل ڈال دیتے تو وہ بھی درست نہیں تھا۔ میری نوکری شہر میں تھی پھر میری بیوی بھی بچے کے لیے ضروری تھی اور مجھے بھی اس کی ضرورت تھی آخر یہ میرے لیے آئی تھی شہر کی تھی۔ اب والدین کو ہماری خدمت کی ضرورت ہے اور بچے کو دو سال بعد اجازت دیں گے کہ جدھر اس کا مستقبل سنورتا ہے بیوی کو لے کر چلا جائے۔ میں تو اب جب تک والدین زندہ ہیں ان کے ساتھ رہوں گا بیوی کو دو سال کے بعد اجازت ہو گی چاہے گاوں رہے یا بیٹے کے ساتھ رہے یا دونوں جگہ آتی جاتی رہے۔"

نرگس کا شوہر معزرت کرتے ہوئے بولا 

'ہمیں بیٹے کے لیے نتاشا جیسی عادتوں والی سیدھی سادی گھریلو لڑکی چاہیے جس سے میری والدین راضی رہیں اور وہ اس ماحول میں رچ بس جائے ان کی خدمت کرے وہاں کے رسم ورواج کی پاسداری کرے۔ صرف دو سال کی ڈیمانڈ ہے۔ میری بیوی نے پانچ سال وہاں گزارے پھر میں نے سوچا اب بچے کے مستقبل کا سوال ہے۔ مگر میں نجو جی کو اس شرط پر لایا تھا کہ وہ گاؤں میں ہر عید گزارے گی۔ وہ اس نے نبھایا، ویسے کم جاتی لیکن عید پر لازمی جاتی ہے۔ اب بتائیں کیا میں نے غلط سوچا ہے نتاشا میں بھی کوئی پرائی نہیں آپ کی بھانجی ہے آپ کا خون ہے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ اس بن ماں کی بچی کو سگی بیٹی اور اپنی بیٹی میں کوئی فرق نہ رکھنے والی ماں ملی۔ ویسے بھی وہ آپ کی ہی زمہ داری ہے آپ نے ہی اس کی شادی کرنی ہے۔ کیونکہ عروبہ نہ ہی گاوں رہ سکتی ہے نہ وہاں جیسی زندگی گزار سکتی ہے۔"

عروبہ نے کہا

'انکل میں اپنی آنی اور سعد کی محبت کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ دو سال کی بات ہے نا گزار لوں گی۔"

نرگس بولی

"وہ یہاں سے بلکل مختلف لائف ہے۔ چند دن کا جوش ہو گا پھر مجھے بھی ذلیل کرواؤ گی۔ دو سال کیا تم وہاں دو دن بھی نہیں گزار سکتی۔" 

وہ بولی 

"میں چیلنج کرتی ہوں کہ میں گزار کر دیکھا دوں گی۔" 

"تم گھبرا جاؤ گی" وہ بولی 

"آنی آپ ساتھ جو ہوں گی۔"

نرگس کے شوہر نے بیٹے کو دیکھا۔


جاری ہے۔ 

دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں

پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ



Continue Reading
Episode 17
میری معصوم کلی 17

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry