Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 10
Episode 10

میری معصوم کلی 10

Meri Masom Kali


دسواں حصہ - 10th Part

 

ہما نے سسر کو نند کے فون کا بتا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اندر سے اس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بےچین ہو گا اور اس سے ملنے کی اجازت مانگی. وہ چپ ہو گیا تو ہما نے بھی سوال دوبارہ نہ دہرایا کہ ہاں کرنے میں ان کی اناء آڑے آئے گی۔

ہما نے پڑوسی ملک صاحب کی بیوی کو جو اس کی ماں جیسی اچھی اور ہمدرد عورت تھی نند کا واقعہ سب بتا دیا اس نے اسے تسلی دی 

"جو جوانی کے جوش میں ہونا تھا ہو گیا تم جا کر اس کی خبرگیری کرو آخر ہے تو نند نا۔ جو ایسے بھگا کر لے کر جاتے ہیں وہ اکثر قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ کچھ تو جعلی نکاح پڑھوا کر بےوقوف بناتے ہیں۔ عزت خراب کرتے ہیں۔ یا بیچ دیتے ہیں۔ تم فوراً اس کا پتا کرو۔" 

انہوں نے اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور خود ساتھ چل پڑی۔ ہما نے نند کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی وہ بہت خوش ہوئی۔ اور اس کا انتظار کرنے لگی۔ ہما مسز ملک کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے فلیٹ پر پہنچی تو دنگ رہ گئی۔ لگثری فرنیشڈ فلیٹ تھا۔

ہما کی نند روتے ہوئے, ہما کے گلے لگ کر رونے لگی۔ ہما نے اسے پیار کیا۔ مسز ملک نے بھی پیار کر کے اسے تسلی دی۔ ہما کی نند نے کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ ملازم سرو کرنے لگے۔

ہما اس کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر خوش اور حیران ہوئی۔

ہما کی نند اپنی داستان ہما کو سنانے لگی۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس چھوٹا موبائل فون تھا جو اس نے سائلنٹ کر کے پاس رکھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کو واش روم میں جاکر ساری بات بتا دی تو اس نے کہا کہ ہمیشہ کے لیے جدا ہونے سے بہتر ہے کہ ہم کورٹ میرج کر لیں بعد میں سب کو منا لیں گے۔ اسی نے بتایا کہ تم ایسے بن جانا جیسے تمہیں سمجھ آ چکی ہے کہ گھر والے درست کہتے ہیں اور ان کی بات ماننے میں ہی اس کی بھلائی ہے۔ جب ان کو اعتبار ا جائے گا اور وہ سو جائیں گے تو تم صبح فجر کی نماز کے تھوڑا بعد داؤ لگا کر خالی ہاتھ ہی چادر اوڑھ کر آ جانا، میں گھر کے قریب ہی چھپ کر کھڑا ہوں گا اور تمھارا انتظار کروں گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ 

ہما نے فجر کی نماز کے بعد آ کر اسے دیکھا اور مطمئین ہو کر کمرے میں چلی گئی۔ 

اس وقت وہ داؤ لگا کر آہستہ سے گیٹ کھول کر باہر آ گئی وہ قریب ہی انتظار میں کھڑا تھا اور اسے لیکر گاڑی میں بٹھا کر اپنے ہوٹل لے گیا جو اس نے پہلے ہی بک کروایا ہوا تھا۔ عدالت کھلتے ہی دونوں نے کورٹ میرج کر لی۔ اس نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ نکاح ان کو گواہ بنا کر شادی کی۔ دوستوں کو رات ہوٹل میں ڈنر پر انوائیٹ کر دیا۔ اسے ڈھیر ساری شاپنگ کرائی۔ دونوں بہت خوش تھے۔

شام کو تیار ہو کر دوستوں کی موجودگی میں کیک کاٹا۔ دوستوں میں چند ایک کی فیملیز بھی تھیں۔ شاندار ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وہ اپنی قسمت پر رشک کر رہی تھی وقفے وقفے سے اسے باپ اور بھائی کا بھی خیال آتا تھا۔ پھر جلد ہی اس نے اسے فرنیشڈ فلیٹ رینٹ پر لے دیا۔ ملازم خدمات کے لئے رکھ دیے۔ پھر وہ لوگ شمالی علاقہ جات ہنی مون پر گئے۔ واپس آ کر اس نے بھائی کو سوری کا میسج کیا۔ شوہر کی تعریف کی اور ساری بات لکھی۔ جواب میں اس نے فون کیا وہ خوش ہو گئی اس نے سپیکر آن کر دیا تاکہ اس کا شوہر جو اس کے پاس بیٹھا تھا وہ بھی سن لے۔ جب فون یس کیا تو بھائی نے خوب برا بھلا کہا اور کہا کہ وہ اس کے لیے مر چکی ہے۔ اور دوبارہ کھبی رابطہ کیا تو اچھا نہیں ہو گا۔ وہ شوہر کے سامنے شرمندہ تھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ اسے تسلی دینے لگا کہ وہ اس کا ساتھ کھبی نہیں چھوڑے گا۔

ہما مطمئین ہو کر آئی۔ سسر کو سب بتایا وہ بھی خوش ہوا۔ سسر نے بیٹے کو بتایا کہ ہما اس کی اجازت سے اسے ملنے گئی تھی اور وہ اسے اس سے ملنے سے نہ روکے گا۔ اور ہما کو بھی کچھ نہ کہے گا۔ وہ باپ کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے بولا 

"ٹھیک ہے مگر میرے سامنے وہ کھبی نہ آئے ورنہ میں لحاظ نہ کروں گا نہ ہی اسے گھر بلائیں گے۔ خود جانا ہے تو چلے جائیں۔" 

باپ نے کہا 

"ٹھیک ہے میں اسے کھبی گھر نہیں بلاؤں گا مگر ہما کو کھبی کبھار اس کی خبرگیری کے لیے بھیجتا رہوں گا" 

جواب میں وہ چپ ہو گیا۔

ہما نے ساری بات نند کو بتائی تو وہ رونے لگی کہ شادی کے بعد اسے بھائی جیسی نعمت کا احساس ہوا ہے۔ بھائی تو بہنوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔ ان کا بھلا ہی سوچتے ہیں۔ اس کی نند کہتی کہ اس کی ایک دوست کی کزن بھی اس کی طرح کسی کے ساتھ بھاگی تو وہ اسے کسی دوست کے مکان میں لے گیا دونوں نے اس کی عزت کو تار تار کیا اور پھر اسے کسی کے آگے بیچ دیا وہ اسے لے کر جا رہا تھا کہ وہ موقع پا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ گھر پہنچی تو باپ بھائی نے قبول نہ کیا آخر ماں کے دہائی دینے پر ڈرائیور جسے لالچ دیکر نکاح پر راضی کیا گیا اور اس کا نکاح ڈرائیور سے کروا کر سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کر دیا گیا۔ بھابھیاں اسے ملازمہ کی طرح ٹریٹ کرتی ہیں۔ بس ماں ہی اس سے چوری چھپے ہمدردی کرتی ہے کہ بہوؤں کو بھی ناراض نہیں کر سکتی۔ باپ مر گیا بھائی اپنی بیویوں کے کہنے پر اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ بھابھیاں ہر وقت اسے طعنے بھی دیتی رہتی ہیں۔ وہ اپنے ہی گھر میں نوکر کی حیثیت سے رہتی ہے۔ نیو لوگوں کو بھابھیاں اسے ملازمہ ہی بتاتی ہیں۔ رشتےدار بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اب وہ کہتی ہے کہ کاش کوئی لڑکی کسی کے ساتھ کھبی نہ بھاگے۔ معاشرہ اسے اس غلطی کی کھبی معافی نہیں دیتا۔ وہ غربت میں پل رہی ہے۔ اس کے بچے معمولی اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ ماں بھی مر چکی ہے۔ اب وہ اسی حال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کہاں جائے ادھر کم از کم محفوظ تو ہے نا۔ ورنہ باہر تو بھیڑیے بیٹھے ہیں۔ بھائی اسے کوستے ہیں کہ ماں کی وجہ سے اسے پناہ دی ہے ورنہ ہم ہر وقت رشتےداروں کے طعنے سننے پر مجبور ہیں۔ وہ ہزار بار معافیاں بھی مانگ چکی ہے مگر اس کا داغ دھل نہیں پا رہا۔ اس کا شوہر بھی اسے طعنے دیتا ہے اور مزاق اڑاتا ہےکہ میں غریب نہ ہوتا تو تجھ جیسی گندگی کو کھبی قبول نہ کرتا۔ نہ تو مجھ جیسے سے کھبی خواب میں بھی شادی کرنے کا سوچتی۔ نہ وہ اسے اس گھر سے اسے دور لے کر جاتاہے۔ کہتا ہے۔ نام کا ہی سہی ہوں تو اس گھر کا داماد۔ وہ اپنے بچوں کے لیے اب سب سہنے اور جینے پر مجبور ہے۔ اس کے برعکس ہما کی نند کہتی ہے کہ میں ان کم از کم ان لڑکیوں کی نسبت لکی ہوں کہ میرے شوہر نے مجھے عزت سے رکھا ہے۔ میری محبت کا دم بھرتا ہے۔

ہما نے شوہر سے پوچھا 

"تم اگر پہلے ہی اسے عزت سے رشتہ دے دیتے تو سب ٹھیک ہوتا۔ حالانکہ اس نے فون کر کے تم سے رشتے کی بات کی تھی۔" 

تو وہ بولا 

"میں جان بوجھ کر اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں کیسے ڈال دیتا۔ اس امیرزادے نے صاف کہا تھا کہ وہ اس سے شادی ہمیشہ خفیہ رکھے گا کیونکہ گھر والے اس کی شادی خاندان سے باہر نہیں کرنا چاہتے کہ نسل خراب ہوتی ہے۔ اور وہ خاندان میں شادی کرے گا اور اسے بھی ملتا جلتا رہے گا اور کوئی کمی نہ ہونے دے گا۔ اب بتاؤ بھلا میں اس کی بات کیسے مانتا۔ اب اس نے خاندان میں بھی شادی کر لی ہے۔"


جاری ہے۔

دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں۔

پلیز لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔


Continue Reading
Episode 11
میری معصوم کلی 11

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry